چین کا سفر | کے. کے. سود
Al-Risala, May 1977, pp. 45–48
By Maulana Wahiduddin Khan
مضمون نگار آل انڈیا ریڈیو کے نامہ نگار وہ نومبر 1971 میں ٹیبل ٹینس کے ہندوستانی کھلاڑیوں کی ایک ٹیم کے ساتھ چین گئے تھے۔
شہر پیکنگ کو پہلی بار دیکھنے والا آدمی دھوکے میں پڑ جاتا ہے۔ چین کی یہ راجدھانی چین میں کسی ٹیکنکل اور صنعتی ترقی کا پتہ نہیں دیتی۔ یہاں اسکائی اسکریپر(کثیر (کثیر منزلہ عمارتیں) نہیں ۔ سڑکوں پر زیادہ تر سائیکلیں نظر آتی ہیں یا پیدل چلنے والے۔ کہا جاتا ہے کہ چار ملین آبادی کے اس شہر میں ایک ملین سائیکلیں ہیں۔ دنیا کی دوسری راجدھانیوں کی طرح یہاں سڑکوں پر کاروں کا منظر دکھائی نہیں دیتا۔ یہاں بہت ہی کم نہ بھی یا تو غیر ملکیوں کی ہیں یا حکومت کی ۔ چین کے ترقیاتی منصوبے کی فہرست میں ”کار“ کا مقام بہت پیچھے ہے۔ اسی طرح چین میں اسکوٹر اور موٹر سائیکلیں البتہ عام شہریوں کے لئے چین میں مختصر بس سروس کا انتظام کیا گیا ہے۔ یہاں سڑکیں عموماً اچھی اور چوڑی ہیں ۔
اوپر سے پیکنگ قدیم طرز کا ایک شہر معلوم ہوتا مگر اس کے نیچے انتہائی جدید قسم کا زمین دوز ریلوے کا نظام ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً ۲۳ کلو میٹر ہے۔ تعمیر ۱۹۶۹ میں ہوئی تھی۔ چینیوں کا کہنا ہے کہ یہ تمام تر چینی انجینئروں نے بنایا تھا۔
یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ چین نے بڑی حد تک غریبی کو ختم کر دیا ہے۔ اگر چہ جاپان جیسے کسی ملک سے چین کا عام معیار ایک پچھڑا ہوا ملک صرف ۲۵ سال میں اپنے مسائل حل کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ ذاتی وسائل پر انحصار، محنت اور ایمان داری کا طریقہ اختیار کرے ۔
ایسا نہ ہو تو سو سال کی مدت بھی کسی ملک کے سنبھلنے کے لئے کافی نہیں۔
زندگی کمتر نظر آتا ہے مگر وہاں بھوک کے مارے انسان کہیں دکھائی نہیں دیتے، وہ سادہ غذائیں کھاتے ہیں، جسمانی تربیت بہت عام ہے۔ سڑکوں پر ہزاروں لڑکے ورزش کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے چین نے اپنے شہریوں کی جسمانی صحت کا معیار بہت بہتر بنا لیا ہے۔ چینی حکومت نے رہائش کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے شہروں میں کئی منزلہ کوارٹر بنائے ہیں۔ مگر عام طور پر لوگ ان میں جانا پسند نہیں کرتے۔ وہ اپنے قدیم طرز کے مکان میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں جہاں وہ اپنے مختصر صحن میں کچھ سبزیاں بھی اگا سکیں۔
چین میں تقریباً نصف درجن نو آبادیاتی طاقتیں پچھلی صدیوں میں استحصال کرتی رہی ہیں۔ مگر آزادی کے بعد صرف ۲۵ برسوں میں چین نے خود کفیل معیشت تعمیر کر لی ہے اور اپنے عوام کا معیارِ زندگی بھی بلند کر لیا ہے۔ چین میں ہر آدمی کام میں مصروف نظر آتا ہے خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ مرد ہو یا عورتیں ۔
ہماری زمین کا ۲۰ ملین مربع کلومیٹر رقبہ یا تو ریگستان ہے یا ناقابل زراعت ۔ یہ مقدار زمین کے زیر کاشت رقبہ کے مقابلہ میں پانچ ملین مربع کلومیٹر زیادہ ہے۔ قدرتی اور انسانی اسباب سے اس ریگستانی رقبہ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شمالی افریقہ کا صحرا ہر سال تقریباً ایک لاکھ ہیکٹرز زمین کو ریگستان بنا رہا ہندوستان میں راجستھان کے رتیلے میدانوں کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ ہر سال ایک کلومیٹر کی رفتار سے بڑھ رہے ہیں۔ پچھلے پچاس برس سے مسلسل یہ صورت حال جاری ہے۔ اکو نومک اینڈ سائنٹفک ریسرچ فاؤنڈیشن کی تحقیق کے مطابق ہندوستان اپنی قابل کاشت زمین کا ایک فی صد حصہ ہر سال کھو رہا ہے۔ مسلسل ریگ زار کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ پانی کا نہ ہونا کسی علاقہ کے ریگستان ہو جانے کا بنیادی سبب ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان علاقوں کے پے جاتے ہیں۔ پپیاں جو دور دسر سردریہ ہوتی ہیں جو ایک مقام سے دوسرے مقام کو پانی کے ذخائر منتقل ریگستان کے کنارے کے علاقوں میں درخت لگانا بھی اس کا ایک جزوی حل ہے۔
اسرائیل نے اپنے ریگستانوں کو کارآمد بنانے کے لئے مختلف طریقے اختیار کئے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ دریائے اردن سے نہریں نکال کر اس کا فاضل پانی ریگستانوں میں لے جایا جاتا ہے۔ وہ پانی جو بالآخر بہہ کر بحر مردار میں گر جاتا، اس کو ریگستانی علاقوں کو سرسبز کرنے میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
ہندوستان میں تین لاکھ ۲۰ ہزار مربع کلومیٹر رقبہ پر ریگستان ہے، جس کا بڑا حصہ راجستھان میں ہے۔ (۶۲ فی صد) اگر اس کو قابل کاشت بنایا جا سکے تو نہ صرف ہمارا غذا کا مسئلہ حل ہو جائے بلکہ ہم غذائی اشیاء کو برآمد کرنے کے قابل ہو جائیں۔
گنگا اور جمنا کے سیلابی پانی کے رخ کو مصنوعی طور پر موڑ کر راجستھان اور گجرات کے ریگستانوں میں پہنچایا جا سکتا ہے۔ سیلاب کے پانی میں زرخیز مٹی بڑی مقدار میں ملی ہوئی ہوتی ہے، اس لئے اگر یہ عمل جاری رکھا جا سکے تو دس سال میں ریگستان کی مٹی کو بدلا جا سکتا ہے۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ ان ریگستانوں کے نیچے "خاموش دریا پائے جاتے ہیں اور ان کے پانی کو اوپر لا کر بھی ان علاقوں کو سیراب کیا جا سکتا ہے۔ عرب ملکوں اور دوسرے ریگستانی علاقوں میں اس مسئلہ کی تحقیق پر کثیر رقم خرچ کی جا رہی ہے۔
کے کھاری پانی کو آب پاشی کے لئے استعمال کرنے کے طریقے دریافت کئے جا رہے ہیں ۔ مصنوعی بارش اور مصنوعی شبنم پیدا کرنے کے تجربے ہو رہے ہیں ۔ امریکہ کی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن نے اپنے سہ ماہی جریدل کا خصوصی نمبر اس کے بارے میں شائع کیا ہے جو اس موضوع پر اب تک کی تحقیقات و نتائج کا نہایت قیمتی مجموعہ ہے۔ قدرت نے زمین کو عجیب ڈھنگ سے بنایا ہے ۔
یہاں کہیں زرخیز مٹی ہے ، کہیں ریگستان ، کہیں پہاڑ ہے کہیں سمندر ، کہیں جنگل ہے کہیں بیابان ۔ ان میں سے ہر ایک کا ایک مصرف ہے۔ انسان کو عقل اسی لیے دی گئی ہے کہ وہ ان میں سے ہر ایک کے امکانات کو جانے اور ان کو انسانی مفاد کے لئے استعمال کرے ۔ مگر یہ بھی تاریخ کا عجیب المیہ ہے کہ انسان نے ہمیشہ اپنی عقل کو تعمیر سے سے زیادہ تخریب کے کاموں میں استعمال کیا ہے ۔ آخرت کا تصور نہ ہو تو انسانی زندگی جنگل کی زندگی بن جاتی ہے واشنگٹن میں دلیسن اسکول فار ٹیچرس کے نام سے معلمین کی تربیت کے لئے ایک ادارہ قائم ہے۔ ادارہ میں غیر ملکیوں کو انگلش سکھانے والے شعبہ کی ایک خاتون استاد، لاطینی امریکہ کے طلبہ کو امریکی معاشرہ کی روایات کے بارہ میں لیکچر دے رہی تھیں لیکچر کے خاتمہ پر، گوئٹے مالا کی ایک خاتون طالب علم نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ یہاں چودہ سال کی لڑکیاں اور پندرہ سال کے لڑکے مکمل جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں۔ اور یہ اس قسم کے تعلقات کے لئے بہت زیادہ قبل از وقت ہے“ امریکی خاتون استاد نے نہایت جوش سے جواب دیا: " زمین پر ہماری زندگیاں انتہائی مختصر ہیں یہاں اتنا موقع نہیں کہ ہم چودہ سال سے زیادہ اپنا وقت ضائع کریں “ (امریکہ التي رایت ، از سید قطب) یہ حقیقت ہے کہ اگر آخرت کے تصور کو نکال دیا جائے تو ہر قسم کی اخلاقی پابندیاں اور انسانی احتیاط بالکل بے معنی ہو جاتی ہیں۔ اگر زندگی یہی دنیا کی زندگی ہو اور اس کے بعد آدمی ہمیشہ کے لئے مٹ جانے والا ہو تو کیوں وہ دنیا لی لذتوں اور آسائشوں کے بارہ میں کسی قسم کی پابندی اس کے برعکس اگر انسان کے ذہن میں یہ بات بٹھادی جائے کہ موت کے بعد بھی زندگی کا تسلسل جاری موت کے بعد لذت اور الم ہے تو موجودہ مختصر دنیا اس کے لئے بے حقیقت ہو جائے گی، اور وہ اگلی طویل زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ہر قسم کی اخلاقی بندشوں کو خوشی سے قبول کرلے گا۔ ونو ڈ ریڈی نے لکھا ہے: "کیا اس دنیا کے علاوہ کوئی اور دنیا ہے جہاں ہمارے عمل کے مطابق ہم کو بدلہ دیا جائے گا۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس سے ہمارا مفاد بہت زیادہ وابستہ ہے۔ زندگی بہت مختصر ہے اور اس کی خوشیاں بے معمولی جب ہم وہ کچھ حاصل کر لیتے ہیں جو ہم چاہتے ہیں تو موت کا وقت قریب آچکا ہوتا ہے، اگر یہ واضح ہوسکے کہ ایک خاص طریقہ پر زندگی گزارنے سے دائمی خوشی حاصل ہو سکتی ہے تو بیوقوف یا پاگل کے علاوہ کوئی بھی بھی شخص اس طرح زندگی گزارنے سے انکار نہیں کرے گا، مارٹائر ڈم آف مین، سم ۴۱۴
جس کی نحو کمزور تھی وہ تاریخ کا سب سے بڑا نحوی بن گیا وقتی مقبولیت یا نامقبولیت تاریخ کے فیصلے کو متاثر نہیں کرتی مشہور نحوی سیبویہ (م ۱۷۷ھ) ایران میں پیدا ہوا اور بصرہ میں پرورش پائی۔ اس کی نوجوانی کا واقعہ ہے جب کہ وہ حدیث و فقہ کا طالب علم تھا۔ ایک دن وہ حماد بن سلمہ کی مجلس میں تھا۔ وہ حدیث کی املا کرا رہے تھے۔ ایک حدیث آئی :
ليس من اصحابي احد الا لوشئت لاخذت عليه ليس ابا الدرداء سیبویہ یہ سن کر بول اٹھا : ليس ابو الدرداء۔ حماد نے چلا کر کہا: سیبویہ تم غلطی پر ہو۔ یہ استثناء ہے (اس لئے ابو کے بجائے ابا ہے)۔ سیبویہ کو اپنی غلطی کا احساس اس نے اپنے جی میں کہا کہ میری نحو کمزور ہے اور مجھے اس میں مہارت پیدا کرنی چاہئے ۔ اب اس نے نحو سیکھنا شروع کر دیا۔ وہ بصرہ و کوفہ کے نحوی علماءء خلیل، یونس اور عیسیٰ بن عمر کی مجلسوں میں جانے لگا۔ اس نے اس فن میں اتنی محنت کی کہ بالآخر وہ اس کا امام بن گیا۔ نحو و ادب کے شاذ مسائل میں اس کا کوئی ثانی نہ رہا۔ اس کے بعد اس نے نحو پر ایک ایسی کتاب لکھی جو اپنی اہمیت اور بلندی کی وجہ سے " الکتاب" کے نام سے مشہور ہے۔ اس فن کے علما کا کہنا ہے کہ فن نحو پر اس کے برابر کی کوئی کتاب آج تک لکھی نہ جا سکی ۔ کسائی کے متعلق بھی اسی قسم کا ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے ۔
آخری دور میں سیبویہ بغداد چلا گیا۔ نحوی عالم کسائی (م ۱۸۹ھ) تھا۔ وہ ہارون رشید کے لڑکے امین کا اتالیق تھا۔ ایک بار یحییٰ بن خالد برمکی وزیر کے زیر اہتمام دونوں کے درمیان مناظرہ ہوا۔ اس مجلس میں کسائی نے سیبویہ کے سامنے عربی کا یہ جملہ دہرایا : كنت اظن ان العقرب اشد لسعة من الزنبور فاذا هو اياها کسائی نے پوچھا : اس جملہ میں فصیح زبان کا طریقہ کیا ہے ۔ سیبویہ نے جواب دیا کہ جملہ کے آخر میں "ایاھا" کی منصوب ضمیر لانا جائز نہیں ہے۔ صحیح جملہ یوں ہوگا : فاذا هو هھی ۔ کسائی نے کہا ، نہیں۔ عرب اس کو دونوں طریقے سے بولتے بحث بڑھی تو دونوں نے مسئلہ کا فیصلہ کرانے کے لئے ایک فصیح اللہجہ دیہاتی عرب کو حکم بنایا۔ اس سے جب پوچھا گیا تو اس نے سیبویہ کو صحیح بتایا ۔ مگر کسائی شہزادہ امین کا اتالیق تھا۔ مزید یہ کہ وہ کوفی تھا اور سیبویہ ایرانی۔ اور جیسا کہ معلوم ہے ، خلفار عباسیہ کوفہ والوں کی طرف داری کرتے تھے۔ امین نے اپنے کوفی استاد کی حمایت میں تعصب سے کام لیا۔ یہ صورت حال دیکھ کر دیہاتی بھی ڈر گیا اور اس نے بعد کو کسائی کی اب معاملہ سنگین ہوگیا حتی کہ سیبویہ کو اندیشہ ہوا کہ اس کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ وہ بغداد کو چھوڑ کر ایران بھاگ گیا۔ وہاں شیراز کے قریب ایک گاؤں " بیضا ء " میں اپنی زندگی کے بقیہ دن گزار دیئے۔ یہاں چالیس سال سے کچھ زیادہ کی عمر پا کر اس کا انتقال ہوگیا ۔