BRITAIN BOWS BEFORE OIL CALIPH
Al-Risala, May 1977, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
مشرق وسطیٰ کے تیل نے دنیا کی سیاست کا نقشہ جس طرح بدلا ہے، اس میں ایک سبق یہ بھی ہے کہ اس نے اس مفروضہ کو بے بنیاد ثابت کر دیا کہ "اسلام کا زمانہ ختم ہو چکا۔ اسلام کی مغلوبیت حقیقتہً کسی نظریاتی کمزوری کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئی تھی بلکہ صرف اس عملی واقعہ کا نتیجہ تھی کہ مغربی قومیں اقتصادی قوتوں پر چھا گئیں اور مسلم قومیں اس دوڑ میں پیچھے رہ گئیں۔ اب جیسے ہی شرقِ اوسط کے زیر ترقی ممالک کے لئے قرضوں کی ادائیگی کا مسئلہ، اس موقع پر ممبران کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ ترقی یافتہ ممالک زیر ترقی ممالک کو بلا سود (انٹرسٹ فری) قرضے دیں۔ قرضے مقروض ملکوں کے لئے زیادہ با معنی بن سکیں۔ نے کہا کہ موجودہ شکل میں یہ قرضے عملاً بے معنی ثابت ہو رہے ہیں، کیونکہ سود کے ساتھ قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے زیر ترقی ممالک کے وسائل دوبارہ ترقی یافتہ ملکوں کی طرف چلے جا رہے ہیں۔ جب کہ معاملہ اس کے برعکس ہونا چاہئے تھا۔ ہندستان کے پارلیمینٹری نمائندہ وی۔ بتایا کہ ہندوستان کے اوپر جو بیرونی قرضے ہیں، ان کی مقدار موجودہ مالی سال کے خاتمہ تک سات ہزار کروڑ ہو جائے گی۔ قرضے بالا قساط ادا کئے جاتے ہیں۔ مگر جہاں تک سود کا تعلق ہے، وہ پوری رقم پر ہر سال دینا ہوتا ہے۔ اور یہ ادائیگی بھی ظاہر ہے کہ بیرونی سکہ میں ہوتی ہے۔ چنانچہ ہندوستان کی برآمدی کمائی کا ۲۵ فی صد بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔ مسٹر راجو نے کہا کہ بیرونی تجارت کا توازن اس وقت ایک ہزار کروڑ روپیہ کے بقدر ہندوستان کے خلاف ایسی حالت میں وہ کس طرح اپنے اقتصادی وجود کو برقرار ٹرول نے مسلم قوموں کی اقتصادی پس ماندگی کی تلافی کی، صورتِ حال بدلنے لگی ۔ اور "اسلام" کا لفظ ماضی کے بجائے حال کا نشان بن گیا۔