غلط استدلال
Al-Risala, May 1977, pp. 58–61
By Maulana Wahiduddin Khan
سورہ انفال (آیت ۴۱) میں یہ حکم ہے کہ اموال غنیمت کا خمس ریاست کا حصہ ہے اور بقیہ فوجیوں ابتدائی دور میں اسی کے مطابق عمل ہوتا رہا۔ جلولاء، حمص، حلب وغیرہ فتح ہوئے تو ان کے اموال غنیمت کو پانچ حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ ریاست کو بھیج دیا گیا اور بقیہ چار حصے فوجیوں میں تقسیم کر دیئے گئے۔ واضح ہو کہ اس زمانہ میں فوجی با تنخواہ نہیں ہوتے تھے، بلکہ ا کارانہ طور پر لڑنے کے لئے جایا کرتے تھے۔ حضرت عمر کے زمانہ میں سواد عراق کی زمینیں فتح ہوئیں تو فاتح فوجیوں نے چاہا کہ ان زمینوں کو بھی اسی طرح تقسیم کیا جائے، جس طرح اس سے پہلے اموال تقسیم ہوتے رہے ہیں۔ حضرت عمر نے اس سے اختلاف کیا۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ یہ زمینیں تم لوگوں کو دے دوں تو دوسرے مسلمانوں کے لئے کیا رہے گا۔ اور حکومت کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے۔ (فہمانا تسدّ به الثغور وما يكون للذرية والأرامل) اس مسئلہ پر کئی روز تک بحث ہوتی رہی۔ فوجیوں کا کہنا تھا کہ یہ ہماری ملکیت اس لئے ہم کو ملنا چاہئے (اتفقٹ ما أفاء اللہ علينا با سيا فنا على قوم لم يحضروا) بالآخر فیصلہ حضرت عمر کی رائے پر ہوا۔
جو لوگ اجتماعی ملکیت کے نظریہ پر یقین رکھتے ہیں؛ وہ اس واقعہ سے دلیل لاتے ہیں کہ انفرادی ملکیت کو منسوخ کر کے اجتماعی ملکیت قائم کرنا اسلام میں جائز ہے مگر اس واقعہ سے یہ بات قطعاً ثابت نہیں ہوتی۔ عمر اور ان کے ہم خیال (عثمان علی طلحہ رض وغیرہ) کی جو گفتگوئیں اور تقریریں منقول ہوئی ہیں، ان سے بالکل یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ان زمینوں کو فی الواقع فوجیوں کی ملکیت سمجھتے تھے اور اس کے باوجود ان کو چھین کر ریاستی ملکیت بنانا انھوں نے جائز سمجھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ زمینیں تو ابھی نئی نئی فتح ہوئی تھیں اور ان پر ملکیت کے تحقق کا سوال تھا نہ کہ فرد کی ملکیت سے نکال کر اجتماع کی ملکیت میں دینے کا۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے اپنی تقریر میں واضح لفظوں میں کہا کہ یہ زمینیں تمھاری ملکیت نہیں ہیں۔ وہ تمھاری ملکیت ہوتیں تو میں ان کو چھیننا اپنے لئے جائز نہ سمجھتا۔
قد سمعتم كلام هؤلاء القوم الذين زعموا انی اظلمهم حقوقهم وانی اعوذ بالله ان اركب ظلما۔ لئن كنت ظلمتهم شيئا هو لهم واعطيته غيرهم الفاروق عمر، از محمد حسنین هیکل الجزء الثانی صفحه ۲۹۶ تم لوگوں نے ان فوجیوں کی گفتگو سنی جن کا خیال ہے کہ میں ان کے حقوق غصب کر رہا ہوں۔ میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ کسی کا حق غصب کروں۔ اگر میں ایسا کروں کہ ایک چیز جوان کی ہو، اس کو لے کر کسی دوسرے کو دے دوں تو میں شقی ہوں گا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ اجتماعی ملکیت کے نظریہ کی تردید ہے، کیونکہ اس میں خلیفہ دوم صاف لفظوں میں فرما رہے ہیں کہ مجھ کو (با لفاظ دیگر حکومت کو) تمھاری کسی ملکیت کو منسوخ کرنے کا حق نہیں ہے۔ اگر میں ایسا کروں، تو میں شقاوت کا مرتکب ہوں گا۔ یہ واقعہ اس کے برعکس بات ثابت کر رہا ہے جس کے لئے اسے پیش کیا جاتا ہے ۔
حافظ حامدمتن علوی (۱۸۶۲-۱۹۵۶) اعظم گڑھ کے ایک بزرگ تھے۔ نہایت ذہین اور معاملہ فہم۔ عزیزوں میں ایک شخص اکثر گھر کے اندر عورتوں اور بچوں میں بیٹھا کرتے تھے۔ حافظ صاحب مرحوم نے جب کئی بار ان کو اس طرح دیکھا تو ایک روز برہج کر فرمایا: عورتوں میں مت بیٹھو، اس سے عقل کم ہوجاتی ہے یہ مقولہ حال میں مجھے اس وقت یاد آیا جب میں نے ایک نوجوان کو دیکھا۔ وہ اس سے پہلے ایک معمولی ملازمت میں تھے۔ کچھ عرصے دو برس سے انھوں نے ملازمت چھوڑ کر ایک کاروبار کر لیا ہے۔ ان سے ملا تو مجھے محسوس ہوا کہ ان کے کل اور آج میں بہت بڑا فرق ہو چکا ہے۔ ملازمت کے زمانے میں وہ دبے اور کھینچے ہوئے شخص دکھائی دیتے تھے۔ کوئی سمجھ داری کا جملہ ان سے سننے میں آتا تھا۔ جو میں نے دیکھا تو ان کے اندر ایک اعتماد ابِل رہا تھا۔ اور بات بات میں سمجھ داری کی باتیں ان کی زبان سے نکل رہی تھیں ۔
یہ ایک واقعہ ہے کہ آدمی جیسی زندگی گزارتا ہے، اسی کے لحاظ سے اس کی عقل کی تربیت بھی ہوتی جو شخص عورتوں اور بچوں میں اپنا وقت گزارے ظاہر ہے کہ اس کی گفتگو کے موضوعات بالکل معمولی ہونگے۔ گھریلو قصے، فیشن، ہنسی مذاق، کھانا کپڑا وغیرہ۔ اس قسم کی باتوں میں مشغول رہنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کا ذہن اونچے اور گہرے مسائل میں غور و فکر کی تربیت نہیں پا سکے گا۔ اسی طرح ملازم کی زندگی ایک لگی بندھی زندگی ہوتی ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح مہینہ پورا کرنے تو اس کو مقررہ تنخواہ بہر حال مل جائے گی۔ اس زندگی کی وجہ سوچ کر زندگی سے اس کے اندر ایک قسم کا ذہنی ٹھہراؤ پیدا ہو جاتا اس کے برعکس تجارت ایک ایسا کام ہے جس میں ہر وقت آدمی کی محنت اور صلاحیت کا امتحان ہوتا رہتا ہر دن اس کو نئے نئے حالات سے نمٹنا پڑتا ہے یہ چیز حالات سے لڑنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے، اس کی عقل کو جلا دیتی ہے اس کو بار بار زندگی کی خوراک دیتی رہتی ہے۔
آدمی کو چاہیے کہ اپنی زندگی کا مشغلہ طے کرتے وقت یہ ضرور سوچے کہ وہ اسکی زندگی کی تربیت کس طرح کرے گا۔ وہی مشغلہ ایک انسان کے لیے صحیح مشغلہ ہے جس میں اس کی چھپی ہوئی صلاحیتیں ابھریں، اس کے ذہن کا افق وسیع ہو، اس کے اندر خود اعتمادی کی پرورش ہو سکے، وہ دنیا میں وہ تمام "رزق" پا سکے جو خدا نے یہاں اس کے لیے مہیا کر رکھا ہے۔
انسانی ذہن حیران کن حد تک بے پناہ صلاحیتیں اگر ہم درست مشغلہ اختیار کریں تو ہمارے ذہن کی ترقی ہماری زندگی کی آخری سانس تک جاری رہیگی، اس کے امکانات کبھی ختم نہ ہوں گے۔ اس کے برعکس اگر ہم اس کو کسی محدود یا ناقص مشغلہ میں بند کردیں تو وہ ٹھہر کر رہ جائے گا۔ پانی ایک گڑھے میں ہو تو وہ گھٹ کر رہ جاتا ہے، مگر وہی پانی جب دریا میں رواں ہوتا ہے تو سیلاب بن جاتا ہے۔
ہے، سماج اس میں جو در نار کا بور ا، مرسر محمد فاروق ایم اے:۔ مددگاروں خان ایم اے میں اپنے ایک رفیق کے والد کے انتقال پر تعزیتی خط لکھنے بیٹھا تو ایسا محسوس ہوا جیسے میں خود اپنے آپ سے کچھ کہنے چلا ہوں ۔ جب ہم کسی سے کچھ کہتے ہیں تو اس شخص سے کہیں زیادہ اس کا مخاطب خود ہم ہوتے ہیں ۔ مکتوب الیہ کے والد کا انتقال ہی سما جائیں ۔ جو دنیا کے بعد ہے اسے ہم اپنی ذات سے الگ نہ دیکھیں ۔ ساری کلفتوں اور غموں کا سبب یہ ہے کہ ہم اپنے دل کو اتنا تنگ و تاریک رکھتے ہیں کہ اس میں ہمیں دنیا تو دکھائی دیتی ہے۔ اس کے آگے جو ہے ، نظر نہیں آتا۔ وہ اس سے چھوٹ جاتا ہے ، باہر رہ جاتا ہے ۔ دیار غیر معلوم ہوتا ہے ، حالانکہ وہ اپنا دیار ہے ، اس دنیا سے کہیں زیادہ اپنا ہے ۔ میں تو ہم بہت تھوڑا ظاہر ہو پاتے ہیں ۔ تو وہاں ہی ممکن ہے۔ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ لینے کی ۲۳ اور ۲۴ دسمبر 1976ء کی درمیانی شب میں ہوا۔ آپ کے والد محترم کے انتقال کی خبر ملی۔ کا انتقال زندگی کا ایک خاص تجربہ ہوتا ہے۔ سے آپ کو گزرنا تھا گزرے۔ خدا مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ دنیا سے ان کی واپسی درحقیقت زندگی کے مزید امکانات کی خبر ہے۔ میں اگر یہ واپسی نہ ہو تو زندگی اجیرن ہو جائے، دشوار ہو جائے ۔ جیون میں رس تو اسی واپسی کی وجہ سے ہے یہ واپسی محض واپسی نہیں ایک بڑے امکان کی طرف پیش قدمی ہے۔ موت زوال نہیں کمال کی خبر ہے۔ اس کمال کی خبر جس کی متحمل موجودہ دنیا نہیں ہو سکتی۔ موجودہ دنیا تو صرف اس کی طرف ہمارا ذہن موڑ سکتی بشرطیکہ ہم اس کے لیے تیار ہوں۔ بصورت دیگر ہم اس کے اشاروں کو سمجھنے سے قاصر ہی رہیں گے۔ موت زندگی کی شام نہیں۔ زندگی کی صبح صبح ہونے سے ہم غمزدہ کیوں ہوں۔ ہمارا دل تو اتنا وسیع ہونا چاہیے جس میں دنیا اور ما بعد دنیا دونوں غلطی سے سب سے بڑا نقصان یہ نہیں ہوتا کہ آدمی عام معنی میں دنیا پرست ہو جاتا ہے بلکہ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آدمی کا فکر اور اس کا نظریہ غلط ہو جاتا ہے۔
مومن ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ آدمی کو معلوم ہو جائے کہ وہ اس دنیا میں غیب کی مخلوق ہے۔ وہ دنیا میں دکھائی دے لیکن دنیا میں رہتے ہوئے بھی وہ حقیقت میں عالم غیب میں رہنے لگے۔ نماز اسی بڑی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ نماز وہ خوشبو ہے جو اس عالم کی نہیں ہے۔ یہ ایسی روشنی ہے جس کا تعلق کسی دوسرے عالم سے ہے، جس کو ہم عالم غیب سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کا کوئی اور نام بھی تجویز کیا جا سکتا ہے۔ ذریعہ سے ہم دنیا میں اس عالم کو اتار لاتے ہیں۔ یہ آثار نے کا عمل بار بار دہرانے کا منشاء صرف یہی نہیں ہے کہ اس عالم میں رہنے کی مشق ہو بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے اس عالم میں رہنا ہمیں آجائے۔ امید ہے ان باتوں پر غور فرمائیں گے۔ آپ جیسے ذہین آدمی اگر اس طرف توجہ نہ دیں تو ذوق صحیح اپنا ٹھکانہ کہاں ڈھونڈے گا۔ (دہلی ۳۰ دسمبر ۱۹۷۶ء)
الرساله کے شائقین سے گزارش ہے کہ وہ پرچہ بذریعہ وی پی طلب نہ فرمائیں، بلکہ اپنا زر تعاون منی آرڈر کے ذریعے بھیج دیں ۔ طرفین کے لئے سہولت کا باعث ہے۔ جو لوگ سالانہ یا ششماہی زر تعاون یکمشت ادا نہ کر سکیں، وہ ہر مہینے دو روپے کا ٹکٹ لفافہ میں رکھ کر بھیج دیں۔ پرچہ انھیں روانہ کر دیا جائے گا۔
خریدار حضرات براہ کرم اپنے خطوط میں خریداری نمبر کا حوالہ ضرور تحریر فرمائیں ۔ خط و کتابت کے وقت یا زر تعاون بھیجتے ہوئے اپنا پتہ صاف اور حتی الامکان انگریزی میں پتہ پر کسی شخص کا نام نہ لکھیں ۔ الرساله یا منیجر الرساله تحریر فرمائیں منی آرڈر کوپن پر اپنا پورا پتہ ضرور الرساله نہ صرف ملک کے مختلف حصوں میں پڑھا جاتا ہے بلکہ ملک کے باہر بھی عرب دنیا اور دوسرے علاقوں میں جاتا ہے تاجر حضرات الرسالہ میں اشتہار دے کر اپنی تجارت کو فروغ دیں۔ نائلون و پلاسٹک کے بٹن ہر کوالٹی اور ہر رنگ میں قمیص ، کوٹ ، پینٹ ، چسٹرا اور کالر، شولڈر پیڈ وغیرہ کیلئے ہول سیل ریٹ پر طلب فرمائیں ۔
دہلی بٹن اسٹور ۱۱۰۵ نواب منزل کشن گنج آزاد مارکیٹ دھلی ۔