اداریہ
Al-Risala, May 1977, pp. 3–4
By Maulana Wahiduddin Khan
الرساله جون کے مہینے میں شائع نہ ہو سکا ممکن ہے کہ آئندہ بھی ایسا ہو۔ اس لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ قارئین الرسالہ اپنی خریداری کی مدت کو مہینوں کے اعتبار سے شمار نہ فرمائیں بلکہ الرسالہ کی موصولہ تعداد کے اعتبار سے شمار کریں۔ ایک خریدار جس نے سالانہ زر تعاون جمع کیا ہے، اس کی مدت خریداری رسالہ کے بارہ شماروں پر ختم ہوگی۔ خواہ وہ بارہ مہینوں میں پوری ہو یا اس سے زیادہ مہینوں میں۔
الرسالہ کی اشاعت میں وقفہ بلا شبہ ایک حادثہ ہے مگر بعض حادثات اپنے اندر بھلائی کا پہلو لئے ہوئے راقم الحروف کے لئے یہ حادثہ اسی قسم کی ایک بھلائی کا سبب بن گیا۔ الرسالہ کا پہلا شمارہ اکتوبر ۱۹۷۷ میں شائع ہوا تھا۔ اس کے بعد مسلسل سات شمارے نکلنے کے بعد اچانک بلا اعلان جون ۱۹۷۹ کا شمارہ نہ پہنچنا قارئین کے لئے پریشانی کا باعث تھا۔ فطری طور پر دفتر کو استفسار کے خطوط ملنے شروع ہوئے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ صرف ایک خط کو چھوڑ کر کسی نے بھی ہم کو سخت خط نہیں لکھا۔ بلکہ بعض لوگوں نے ہمیں تسکین خط لکھا جب کہ وہ الرسالہ کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر چکے تھے ۔
یہ واقعات ہمارے قارئین کی شعوری پختگی کا ثبوت اجتماعی زندگی کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے خلاف شکایت کے بجائے ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے دُوسرے کے سلسلے میں اپنا حصہ ادا کرنے میں لگ جائیں ۔
اگر یہ مزاج ہو تو کسی کے لئے یہ سمجھنا بالکل مشکل نہیں کہ الرسالہ جیسے جریدہ کی اشاعت میں بے قاعدگی عین باقاعدگی ہے ۔ حالات سے موافقت کی بنیاد پر نکلنے والے پرچوں کے لئے جو چیز "کارنامہ" شمار ہوتی ہے وہ حالات کے خلاف جاری ہونے والے پرچوں کے یہاں کوئی قیمت نہیں رکھتی۔ ایک کا پانا دوسرے کے لئے کھونا ہے ۔ اول الذکر کے یہاں جو چیز محرومی ہے ثانی الذکر کے لئے وہ یافت کے خانہ میں لکھی جاتی ہے ۔ اگر ہم کو ایسے قارئین مل گئے ہیں جو الرسالہ کی صحافتی مہم میں "بے قاعدگیوں" کو دیکھنے کے بعد یہ کہہ سکیں کہ یہ تو وہی ہے جس کے لئے ہم پہلے سے اپنے کو تیار کئے ہوئے تھے اور اندازہ لگاکر دلائی کہ اتر ایک دو مہینے کی وجہ سے پر چہ نہ ملنے وہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ اس قسم کے مقصدی پرچوں میں ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔
ایک صاحب کو جب وقت پر سالہ نہیں ملا تو ہم کو خفگی کا خط لکھنے کے بجائے انھوں نے خود اپنے آپ کو متحرک کر دیا۔ وہ اپنی مصروفیات کے باوجود سفر پر نکل پڑے تاکہ اپنے دوستوں اور جاننے والوں سے الرساله کے لئے تعاون جمع کریں۔ انھوں نے ہم کو صرف اس وقت تو تیار ہوئے تھے (هذا ما وعدنا ۔ ۲۲) تو شاید ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہونگے کہ الرسلہ نے آدھی کامیابی حاصل کرلی۔
رحمت خداوندی کا ایک عجیب پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کی کمزوریوں میں قوت کی شان پیدا کر دیتا ہے ۔ کی ناکامیوں کو کامیابی کے زینے بنا دیتا ہے۔ یہ معاملہ ان خاص بندوں کے لئے ہے جو اپنی ذات کے مدار سے نکل آئیں اور صرف حق کے گرد گھومنے لگیں۔
اللہ نے ہم کو بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس کی طرف بلائیں اسلامی غلبہ سے پہلے عراق قدیم ساسانی سلطنت کا ایک حصہ تھا، کلہ میں سعد بن ابی وقاص کی سرکردگی میں لشکر اسلام عراق کی طرف بڑھا۔ دوسری طرف ساسانی فوج کا سردار رستم تھا۔ جنگ سے پہلے، مختلف اسلامی سفار رستم کے دربار میں بات چیت کے لئے گئے۔ انھیں میں سے ایک ربعی بن عامر بھی تھے۔ رستم نے ربعی بن عامر سے پوچھا: تم کو کیا چیز یہاں لے آئی ہے۔ انھوں نے جواب میں جو تقریر کی، اس کا ایک فقرہ یہ تھا :
الله ابتعثنا لنخرج من شاء من عبادة العباد الى عبادة الله ومن ضيق الدنيا الى سعتها ومن جور الادیان الی عدل الاسلام فازسلنا بدینه الى خلقه لندعوهم اليه (ابن کثیر البدایہ والنہایہ ، جلد ، صفحه (۳۸) اللہ نے ہم کو بھیجا ہے کہ جس کو رہ چاہے، بندوں کی عبادت سے نکال کر خدا کی عبادت کی طرف لے آئیں۔ دنیا کی تنگی سے اس کی فراخی کی طرف اور مذاہب کے ظلم سے اسلام کے عدل کی طرف لے آئیں۔ پس اس نے ہم کو اپنے دین کے ساتھ اپنی مخلوق کی طرف بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس کی طرف بلائیں۔