Al-Risala · May 1977

ہم کس بات کی گواہی دے رہے ہیں

Al-Risala, May 1977, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

مغلوں کے مقابلہ میں جب مرہٹے اور سکھ ابھرے تو مسلمان ان کے خلاف بھڑک اٹھے۔ ددیں سے انگریز آکر ملک کے اوپر قابض ہو گئے تو ان کو ہٹانے کے لئے انھوں نے ساری دنیا میں ہنگامہ مچا دیا۔ کے تحت ان کے ساتھ جبر و امتیاز کا سلوک ہوا تو اس کو انتخابی شکست دینے کے لئے ان کے درمیان زبردست طوفان اٹھ کھڑا ہوا یہ ہے مسلمانانِ ہند کی دوسو سالہ سیاست کا خلاصہ۔ اس پوری مدت میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خوف خدا اور فکرِ آخرت کو دعوتی مشن بنانے پر ان کے درمیان آگ بھڑکی ہو، آنے والے یوم الحساب کے مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے وہ بے تابان اٹھ کھڑے ہوئے ہوں۔ سیاسی مسائل اور اقتصادی مفادات کا معاملہ ہو تو فوراً ان کے اندر عمل کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ آخرت کے مفادات اور جنت اور جہنم کے مسائل اس سے کہیں زیادہ بڑے ہیں۔ مگر ان کی خاطر سرگرم ہونا وہ نہیں جانتے۔ مسلمان کا معاملہ عام قوموں سے مختلف ہے۔ وہ " شهد اللہ اعلا في الارض " ہیں ۔ آخرت کے مسائل کی گواہی دینے پر مامور کیا گیا تھا۔ مگر وہ لوگوں کے سامنے دنیائے مسائل کی گواہی دینے میں سارا زور دکھارہے ہیں۔ یہ الٹی گواہی نبی آخرالزماں کی امت کے لئے جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر مسلمان اپنی اس روش سے باز نہ آئے تو اندیشہ ہے کہ وہ دنیا میں بھی رسوا ہوں گے اور آخرت میں بھی۔ اس قسم کی سرگرمیاں خدا کے غضب کو بھڑکانے والی ہیں نہ کہ اس کی رحمت و نصرت کو کھینچنے والی۔

Printed page