جولائی 1977 ، صفحہ 7
Al-Risala, July 1977, pp. 8–12
By Maulana Wahiduddin Khan
تہذیب جدید کے مورخین کے سامنے ایک سوال یہ رہا ہے کہ فطرت کے خزاسے اول دن سے زمین کے اوپر موجود انسان کے اندر ضروری ذہنی صلاحیت بھی قدیم ترین زمانہ سے پائی جاتی رہی ہے۔ پھر اس خزانہ کو انسانی تمدن کے لئے استعمال کرنے میں اتنی دیر کےوں لگی۔ انسان لاکھوں برس سے زمین کے اوپر آباد ہے۔ مگر زمین کے قدرتی خزانوں کو موجودہ شکل میں استعمال کرنے کی تاریخ صرف چند سو برس پیچھے تک جاتی ہے۔ مورخ آرنلڈ ٹائن بی (۱۹۷۵ء - نے بجا طور پر اس کا جواب یہ دیا ہے کہ قدیم زمانہ کا انسان زمین کو دیوتا سمجھتا تھا۔ یہاں کی ہر چیز اس کے لئے خدا کا درجہ رکھتی تھی۔ وہ ان کو دیکھتا تو ان کے بارے میں اس کے اندر تقدس اور پرستش کا جذبہ پیدا ہوتا تھا۔ فضا میں زمینی ذرائع کو انسانی خدمت کے لئے استعمال کرنے کا جذبہ نہیں ابھر سکتا تھا۔ ٹائن بی کے الفاظ میں یہ توحید (MONOTHEISM) کا عقیدہ ہے جس نے کائنات کے تقدس کو ختم کیا اور ہر چیز کو ایک خدا کی مخلوق بتایا۔ وہ نفسیاتی فضا پیدا ہوئی جس میں انسان اپنے سیارہ کو دیوتا سمجھنے کے بجائے اپنا خادم سمجھے اور اس پر تصرف کا عمل کر سکے۔ (ریڈرز ڈائجسٹ مارچ ۱۹۷۴)
کائنات کو تسخیر و تدبر کا موضوع سمجھنے کا ذہن اولاً اسلام کے اثر سے عربوں میں پیدا ہوا۔ اس فکری انقلاب کا ایک دھارا وہ تھا جس کا مرکز سسلی اور اسپین بنا۔ ان ملکوں میں غلبہ توحید کے بالواسطہ نتیجہ کے طور پر، سائنسی کھوج اور زمینی خزانوں کو استعمال کرنے کا ذہن ابھرا اور بالآخر ایک عظیم الشان تہذیب وجود میں آگئی۔ یہی عرب تہذیب تیرھویں صدی سے اٹلی کے راستہ یورپ پہنچنا شروع ہوئی اور بڑھتے بڑھتے بالآخر سترھویں اور اٹھارویں صدی کے انقلاب کا سبب بنی۔ جدید مورخین نے عام طور پر تسلیم کیا ہے کہ یورپ کی نشاۃ ثانیہ کا سبب اول (FIRST CAUSE) بنی عربی کے پیروؤں کے وہ کارنامے تھے جو انھوں نے اسپین کی حکومت (۱۴۹۲ء - ۱۱) کے زمانہ میں دکھائے۔ بری فالٹ (BRIFFAULT) نے لکھا ہے "اگر چہ یورپ کی ترقی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس پر اسلامی تہذیب کے فیصلہ کن اثرات موجود نہ ہوں۔ لیکن یہ اثر کہیں بھی اتنا واضح اور اہم نہیں جتنا ان طاقت کی ظہور میں ہے جو دنیا کے جدید کی مخصوص اور مستقل قوت اور اس کی کامیابی کا سبب سے قرار راز ہے۔ یعنی سائنس اور سائنسی طرزِ فکر ۔ اس کے بعد اس کے الفاظ یہ ہیں:
IT IS HIGHLY PROBABLE THAT BUT FOR THE ARABS, MODERN INDUSTRIAL CIVILISATION WOULD NEVER HAVE ARISEN AT ALL Making of Humanity, P. 202 انتہائی اغلب ہے کہ عربوں کے بغیر جدید صنعتی تہذیب سرے سے وجود ہی میں نہ آتی۔
کائناتی تقدس ختم ہونے کا یہی نتیجہ نہیں ہوا کہ عالم طبیعی کے بارے میں انسان کا نقطہ نظر بدل گیا، انسانی تعلق کے تمام شعبے بھی اس سے انتہائی گہرائی کے ساتھ متاثر ہوئے مشرکانہ نظام کے تحت جس طرح یہ ہوا تھا کہ طبیعی دنیا میں جو چیز زیادہ روشن اور نمایاں نظر آئی اس کو خدا سمجھ لیا گیا، اسی طرح انسانی عظمتوں کے بارے میں بھی فوق الفطری عقیدے قائم ہو گئے۔ بادشاہ دیوتاؤں کی اولاد قرار پائے۔ مذہبی پیشواؤں کے ساتھ خدا کا خصوصی رشتہ فرض کر لیا گیا۔
انسان کے اندر کوئی برائی نظر آئی اس کے متعلق یقین کر لیا گیا کہ اس کو کوئی خاص آسمانی حیثیت حاصل ہے جو دوسروں کو حاصل نہیں۔
اسلامی انقلاب کے بعد جب شرک کا نظام ٹوٹا اور توحید کو غلبہ حاصل ہوا تو انسانی عظمتوں کو فوق الفطری معتقدات سے وابستہ کرنے کا ذہن بھی ختم ہو گیا۔ اب سارے انسان ایک خدائے برتر کی یکساں مخلوق قرار پائے۔ انسان اور دوسرے انسان میں فرق کرنے کی وہ بنیاد باقی نہ رہی جس کی وجہ سے تاریخ کے نامعلوم زمانوں سے انسانیت اونچ نیچ میں مبتلا چلی آ رہی تھی۔ انسان اپنے حقیقی شرف سے محروم تھا ۔ پیغمبر اسلام نے توحید کی بنیاد پر جو انقلاب برپا کیا، اس نے خدا کی برتری اور اس کے مقابلہ میں سارے انسانوں کی یکسانیت اس طرح ثابت کی کہ قدیم روایتی نظام بالکل ٹوٹ کر رہ گیا ۔ انسانیت ایک نئے راستہ پر چل پڑی۔ لوگوں کے عقائد بدل گئے ۔ سرداری کا سابقہ نظام درہم برہم ہو گیا ۔ وہ شہنشاہیتیں زمیں بوس ہو گئیں جو فوق الفطری عظمتوں کا یقین دلا کر لوگوں کے اوپر حکومت کر رہی تھیں ۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار اس تبدیلی کا آغاز ہوا جو ساری دنیا میں ایک نئے دور کا آغاز بنا۔
روسو نے اپنی کتاب اس مشہور فقرہ سے شروع کی ہے:
” انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتا ہوں “ یہ فقرہ در حقیقت خلیفہ ثانی عمر فاروق - ۵۸۱) کے اس فقرہ کی بازگشت ہے جو انھوں نے روسو سے گیارہ سو برس پہلے محض ایک خیالی نظریہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ریاست کے حاكم اعلیٰ کی حیثیت سے اپنے ماتحت افسر سے کہا تھا: متی عبدت الناس وقد خلقتہم امہاتہم احرارا تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام بنا لیا، حالاں کہ ان کی ماؤں نے انھیں آزاد جنا تھا۔
تاریخ انسانی کو پیغمبر اسلام کی اس دین کا اعتراف غیر مسلم محققین نے عام طور پر کیا ہے ۔ ڈاکٹر ہیر لال چوپڑا (کلکتہ یونیورسٹی) اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
MODERN HISTORY ATTRIBUTES LIBERTY, EQUALITY AND FRATERNITY TO BE THE OUTCOME OF THE FRENCH REVOLUTION, BUT THE FIRST PERSON TO PROCLAIM IT WAS THE FOUNDER OF ISLAM FOURTEEN CENTURIES AGO. Illustrated Weekly of India, April 15, 1973 جدید تاریخ آزادی، مساوات اور اخوت کو فرانسیسی انقلاب کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔ مگر پہلا شخص جس نے اس کا اعلان کیا وہ اسلام کے بانی تھے جو چودہ سو سال پہلے پیدا ہوئے ۔
یہ واقعات جو عالم طبیعی اور عالم انسانی میں پیش آئے، یہ دراصل توحید کے پیدا کردہ انقلاب کے دنیوی نتائج امریکہ سے ایک انسائیکلو پیڈیا چھپی ہے جس کا نام ہے: "مین اینڈ ہرگا ڈس “، اس میں مختلف مذاہب پر مقالے اسلام پر جو مقالہ ہے اس کے عیسائی مقالہ نگار نے اسلامی انقلاب کے ان نتائج کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے : ITS ADVENT CHANGED THE COURSE OF HUMAN HISTORY (P.389)
اسلام کے ظہور نے انسانی تاریخ کے رخ کو موڑ دیا۔
پیغمبر آخرالزماں اور آپ کے ساتھیوں کے ذریعہ جو انقلاب برپا کیا گیا، وہ اگرچہ اصلاً توحید اور آخرت پر مبنی ایک انقلاب تھا، مگر اس نے بہت سے دور رس دنیوی نتائج بھی پیدا کئے۔ آپ کے لائے ہوئے انقلاب کے دنیوی نتائج میں سب سے اہم وہ نتائج ہیں جنہوں نے قدیم زمانہ کے سماجی اور اجتماعی نظام کو اس طرح بدل دیا کہ وہ حالات ہی ختم ہو گئے جن میں دعوت حق کا کام ایک انتہائی مشکل کام بن گیا تھا۔ اب دعوت حق کا وہ کام ایک سادہ اور آسان کام بن چکا ہے جس کے لئے اٹھنے والوں کو قدیم زمانہ میں فرعون کے اس چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا تھا: میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھاوں گا۔ (شعراء - ۴۹) اسی طرح اس انقلاب نے قدیم زمانہ کے اس فکری ڈھانچہ کو بدل دیا جس نے قیاسات اور توہمات کو علم کا درجہ دے کائنات میں چھپی ہوئی خدا کی تصدیقی نشانیاں لوگوں کے سامنے آگئیں، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دعوت حق کا کام جس کے لئے اس سے پہلے معجزاتی استدلال کی ضرورت ہوتی تھی، اب ممکن ہوگیا ہے کہ خود علم انسانی کے ذریعہ اس کو ثابت اور مدلّل کیا جاسکے۔
تاریخ کا رخ موڑنے کا یہ عمل جو ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوا تھا، موجودہ زمانہ میں وہ اپنی آخری انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ خدا کے دین کی خاطر کام کرنے والوں کے لئے اب خود انسانی اسلحہ خانہ میں ہر قسم کے تائیدی ذرائع موجود قانونی اور سماجی انقلابات نے اب اس کا موقع دے دیا ہے کہ دعوت اسلام کا کام اس طرح کھلے میدان میں کیا جائے جہاں کوئی فرعون اور کوئی نمرود راستہ روکنے کے لئے موجود نہ ہو۔ حقائق کی دنیا جواب انسان کے علم میں آئی ہے وہ نہ صرف تمام دوسرے ادیان کو بے اعتبار ثابت کر رہی ہے بلکہ مثبت طور پر اس نے دین حق کی صداقت پر تمام دلائل جمع کر دیئے ہیں۔ یہ ایک نہایت وسیع مضمون ہے، تاہم اس خاص پہلو سے یہاں ہم اس انقلاب کے بعض نتائج کا ذکر کریں گے سیاسی ادارہ کو فوق الفطری معتقدات سے جدا کرنا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چار ہزار برس پہلے قدیم عراق کے دارالسلطنت (آر) کے لوگوں کو پکارا کہ صرف ایک خدا ہے جو نفع و ضرر کا مالک ہے۔ ان باتوں میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ اس لئے تم اسی سے حاجتیں مانگو اور اسی کی پرستش کرو۔ اس دعوت توحید کے خلاف اس وقت کے مشرک بادشاہ نمرود کلدانی نے اتنا شدید رد عمل ظاہر کیا کہ آپ کو آگ کے الاؤ میں ڈال دیا۔ آج بھی ہندوستان میں شرک کا عقیدہ بڑے پیمانہ پر پایا جاتا ہے۔ لیکن آج آپ یہاں دعوت ابراہیمی کو لے کر اٹھیں تو نئی دہلی کے حکمراں آپ کے ساتھ اس قسم کا سلوک نہیں کریں گے۔ اس کی وجہ زمانی تبدیلی ہے۔ نمرود کے زمانہ میں شرک ایک سیاسی عقیدہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ جب کہ آج وہ صرف ایک محدود مذہبی عقیدہ ہے۔ نمرود، قدیم زمانہ کے دوسرے بادشاہوں کی طرح، لوگوں میں یہ عقیدہ بٹھا کر ان کے اوپر حکومت کر رہا تھا کہ وہ سورج دیوتا کا مظہر ہے، اس لئے اس کو حکمرانی کا فوق الفطری حق حاصل ہے جو دوسروں کو حاصل اس کے برعکس ہندوستان کے موجودہ حکمرانوں کے نزدیک اس قسم کے کسی عقیدہ کا کوئی تعلق سیاست سے نہیں۔
نے عوامی ووٹوں کی بنیاد پر حکمرانی کا حق حاصل کیا ہے نہ کہ کسی فوق الفطری عقیدہ کی بنیاد پر یہی وجہ ہے کہ توحیدی دعوت میں ان کو اپنے سنگھاسن کے لئے کوئی راست نظریاتی خطرہ نظر نہیں آتا ، جبکہ نمرود کو اس قسم کے کسی عقیدہ کے پھیلنے میں اپنی سیاسی جڑ کٹتی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔
قدیم زمانہ میں جب کوئی نبی اٹھتا تو اکثر ایسا ہوتا کہ پہلے ہی مرحلہ میں اقتدار وقت سے اس کا ٹکراؤ شروع ہو جاتا اور غیر ضروری قسم کی مشکلات اس کی راہ میں حائل ہو جاتیں۔ اس کی وجہ سیاسی اداروں کے ساتھ فوق الطبیعی عقائد کی یہی وابستگی تھی۔ قدیم زمانہ کے بادشاہ عوام کو یہ یقین دلا کر ان کے اوپر حکومت کرتے تھے کہ وہ دیوتاؤں کی اولاد ہیں، خدا ان کے اندر حلول کر آیا ہے۔ ایسے ماحول میں جب توحید خالص کی آواز بلند ہوتی تو ان کو نظر آتا کہ وہ ان کے سیاسی استحقاق کو بے اعتبار بنا رہی ہے۔ یہ اعتقادی پیچیدگی ان کو داعی حق سے متصادم کر دیتی تھی ۔ اسلام نے ثابت کیا کہ ہر قسم کا فوق الفطری اقتدار صرف خدا کے لئے ہے اور یہ اعلان کیا کہ تمام انسان برابر ہیں ایک کو دوسرے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ اس طرح اسلام نے سیاسی ادارہ کو اعتقادیات سے جدا کر دیا۔ سیاسی حکمرانی صرف سیاسی حکمرانی تھی، وہ مسئلہ توحید سے کوئی براہ راست تعلق نہ رکھتی تھی۔ اسلام کی اس فکر کی بنیاد پر عرب میں جو انقلاب آیا، وہ ایشیا اور افریقہ ہوتا ہوا بالآخر یورپ پہنچا۔ اٹھارویں صدی میں فرانس اور امریکہ کے جمہوری انقلابات اسی کی بازگشت تھے۔ اس کے بعد تبدیلی کا یہ عمل آخری طور پر مکمل ہو گیا۔ اب وہ وقت اپنی کامل صورت میں آگیا کہ ایک داعی توحید کی دعوت لے کر اٹھے اور سیاسی اعتقادیا کی پیچیدگی میں الجھے بغیر بندگان خدا کو حق سے آگاہ کرتا رہے۔
اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص عوام میں یہ بات مشہور کر کے اپنا طبی کاروبار چلا رہا ہو کہ وہ ایک جن ڈاکٹر کا شاگرد ہے جو روزانہ رات کو آ کر اس کو فن طب کے رموز بتا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی شخص یہ آواز بلند کرے کہ علم طب میڈیکل کالج میں سیکھا جاتا ہے نہ کہ جناتوں کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے تو مذکورہ طبیب ایسی تحریک کا سخت مخالف ہو جائے گا۔ جب کہ اسی بستی میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر کو اس تحریک سے کوئی عداوت نہ ہوگی ۔ اظہار رائے کی آزادی دنیوی عظمتوں کو فوق الطبیعی سمجھنے ہی کا یہ نتیجہ بھی تھا کہ قدیم زمانہ میں عام افراد کو رائے کی آزادی حاصل ایک شخص کی زبان قانون ہوتی تھی۔ اسلام نے جب غیر اللہ کے لئے فوق الطبیعی عظمتوں کے تصور کو منہدم کیا تو ساری دنیا میں ایک نیا عمل شروع ہو گیا۔ اگرچہ انتہائی خلاف زمانہ تصور ہونے کی وجہ سے اس عمل کی تکمیل میں ایک ہزار برس لگ گئے ۔ تاہم وہ چیز جو قدیم زمانہ میں ایک مسلمہ حقیقت سمجھی جاتی تھی آج وہ اتنی بے دلیل ہو چکی ہے کہ ساری دنیا میں کوئی اس کی وکالت کرنے والا نہیں۔
جاپان کی تاریخ اس سلسلے میں بڑی سبق آموز مثال پیش کرتی ہے۔
سولھویں صدی کے نصف آخر میں عیسائی مذہب پرتگیز یوں کے ذریعہ جاپان میں داخل ہوا اور ملک
میں پھیلنے لگا۔ یہ بادشاہت کا زمانہ تھا۔ ۱۶۱۲ء میں ایک شاہی فرمان جاری ہوا جس کے مطابق عیسائیت اور اس کی تبلیغ کو جاپان میں خلاف قانون قرار دے دیا گیا۔ دو سو برس تک اس فرمان پر انتہائی بے رحمی کے ساتھ عمل ہوتا رہا، یہاں تک کہ عیسائیت کو جاپان سے بالکل ختم کر دیا گیا۔
مگر اسی مدت میں ایک اور عمل جاری تھا۔ اسلام نے تاریخ انسانی کو جو دھکا دیا تھا، وہ یورپ میں داخل ہو کر اٹھارویں صدی میں اپنی آخری سیاسی انتہا کو پہنچ گیا۔ فرد کی آزادی اور اظہار رائے مسلّمہ انسانی حق قرار پائے۔ افکار جو اولاً فرانس میں مرتب ہوئے انھوں نے ساری دنیا پر اپنے اثرات ڈالنے شروع کئے۔ یہاں تک کہ جاپان کو ۱۸۷۳ء میں خلاف مسیحیت قانون کو منسوخ کرنا پڑا اور ہر ایک کے لیے اظہار رائے کی مکمل آزادی تسلیم کر لی گئی۔ اس زمانی تبدیلی نے دین کی دعوت و تبلیغ کے تمام راستے کھول دیئے ہیں۔ اب ساری دنیا میں دین خداوندی کا اعلان کیا جا سکتا ہے اور کہیں بھی داعی کی زبان و قلم پر کوئی پابندی لگانے والا نہیں ہوگا۔ امکان کے دروازے اب بھی کھلے ہوئے ہیں کہ ہم خود اپنی نادانی کی وجہ سے دوبارہ کسی نئے عنوان سے دریسائل اسلام کی راہ میں کھڑے کر دیں جن کو خدا نے اسلام کی راہ سے ہٹا دیا تھا۔ کوئی بھی انتظام، خواہ کتنا ہی اعلیٰ پیمانہ کا ہو، کسی کے لئے اس قسم کی نادانی کے امکان کو بند نہیں کرتا۔