۳۔ مظاہر فطرت کو تسخیر و تدبر کا موضوع بنانا
Al-Risala, July 1977, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
کائناتیا مظاہر پچھلے تمام معلوم زمانوں سے پرستش کا موضوع بنے ہوئے تھے۔ اسلام نے پہلی بار ان کو تسخیر و تدبر کا موضوع بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ جب تک آدمی ان کو خدا سمجھتا تھا وہ ان کے آگے جھکتا رہا۔ نے جانا کہ یہ سب مجبور اور مخلوق ہیں تو اس نے ان کو سمجھنے کے لئے تحقیق شروع کر دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علوم فطرت آدمی کے سامنے کھلنے لگے۔ خدا نے اپنی تخلیقات میں جو تصدیقی نشانیاں رکھ دی تھیں وہ ایک ایک کر کے ظاہر ہونا شروع ہو گئیں۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی میں پہنچ کر اب وہ وقت آ گیا ہے جس کی پیشگی اطلاع قرآن میں ان لفظوں میں دی گئی تھی : ہم ان کو آفاق و انفس میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ یہ حق ہے“۔ یہ پیشین گوئی اتنے بڑے پیمانہ پر واقعہ بن چکی ہے کہ جو باتیں ماضی کے انسان کے لئے ایمان بالغیب کی حیثیت رکھتی تھیں، آج وہ اس کے لئے ایمان بالشہود کے درجہ پر پہنچ چکی ہیں۔
قدیم زمانہ کا انسان فطرت کو سادہ واقعات کا مجموعہ سمجھتا تھا، آج معلوم ہوا کہ وہ بے حد پیچیدہ اور انتہائی حکیمانہ اصولوں پر مبنی ہے۔ اس کا نظام اتنی محکم بنیادوں پر چل رہا ہے کہ ایک عظیم کارساز کو مانے بغیر اس کی کوئی توجیہہ قدیم فلاسفہ یہ کہتے تھے کہ خدا جیسے ایک ازلی وجود کو ماننے کے بجائے ہم کیوں نہ اسی کائنات کو ازلی مان مگر جدید تحقیقات (مثال کے طور پر بگ بینگ نظریہ) نے اس نقطہ نظر کو بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔ نے دریافت کیا ہے کہ دنیا ایک وقت خاص میں پیدا کی گئی۔ گویا اب ایک ازلی و ابدی خالق کو مانے بغیر چارہ نہیں۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ کائنات کے اندر جو مختلف طبعی، کیمیاوی اور حیاتیاتی مظاہر ہیں، ان کو بہت سی الگ الگ
فطری طاقتیں کنٹرول کر رہی ہیں۔ نیوٹن کے بعد ان طاقتوں کی گنتی تین تک آگئی: تجاذب، مقناطیسیت اور نیوکلیئر مگر حال میں ایٹم کے اندر جو جادوئی ذرہ (CHARMED PARTICLE) دریافت ہوا ہے، اس کے بعد تعدد کا نظریہ ختم ہو گیا ۔ اب یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ ایک ہی متحدہ طاقت ہے جو فطرت کے تمام عملوں کی ذمہ دار ہے۔ گویا شرک کے حق میں بنیاد ختم ہو گئی اور اب توحید کے سوا کوئی راستہ انسان کے لئے باقی نہیں رہا۔ موت جس کو پہلے ناقابلِ ثبوت سمجھا جاتا تھا، اب اس کا سائنسی ثبوت فراہم ہونے لگا ہے۔ حتیٰ کہ غیر مذہبی علماء آج ایسی کتابیں لکھ رہے ہیں جن کا ٹائٹل ہوتا ہے: زندگی کے بعد زندگی (LIFE AFTER LIFE)