۴۔ غیر علمی طرز فکر کا خاتمہ
Al-Risala, July 1977, pp. 13–58
By Maulana Wahiduddin Khan
پچھلے تمام زمانوں میں غیر علمی یا توہماتی طرز فکر دنیا کے اوپر چھایا ہوا تھا۔ اس طرز فکر کا خاصہ ہے کہ وہ کسی بات کی گہری جانچ کے بغیر اس کو مان لیتا ہے۔ قدیم زمانہ میں اس غیر علمی طرز فکر نے لوگوں کو یہ موقع دے رکھا تھا کہ وہ آسانی سے اپنے لئے کوئی نہ کوئی ذہنی پناہ گاہ تلاش کرلیں جہاں وہ دین حق سے بھاگ کر چھپ سکیں ۔ مکہ کے بعد جب کعبہ سے بتوں کو نکال کر توڑا جانے لگا تو اسلام کا یہ غلبہ دیکھ کر مکہ کے بت پرستوں کو فوراً توبہ کر لینی مگر انھوں نے یہ کیا کہ وہ بستی چھوڑ کر پہاڑوں میں بھاگ گئے۔ ان کا یقین تھا کہ اب ضرور مکہ پر کوئی آفت آئے گی اور مسلمانوں کے استیصال کا جو کام وہ خود نہ کرسکے وہ ان کے بت انجام دے دیں گے۔ انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ اگر بتوں کے اندر طاقت ہوتی تو وہ مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہی کیوں ہونے دیتے۔ سائنسی انقلاب دراصل توہماتی طرز فکر کے بجائے واقعاتی غور و فکر کا نام تھا۔ کائناتی علم کا نظام چونکہ انتہائی اٹل بنیادوں پر چل رہا ہے۔ اس لئے فطری طور پر کائنات کی علمی ترقی نے تجزیاتی استدلال اور حقیقت پسندانہ تحقیق کا مزاج پیدا کیا۔ قدیم زمانہ میں لوگوں کو اپنی توہم پرستی اور غیر علمی اندازِ فکر کی وجہ سے ایک غیر واقعی بات کو مان لینے میں کوئی مشکل نہیں پیش آتی تھی۔ وہ نہایت آسانی کے ساتھ ایک بے بنیاد عقیدہ کو اس طرح اپنے ذہن میں جگہ دے سکتے تھے گویا وہ کوئی ثابت شدہ حقیقت ہے۔ مگر آج کا انسان حقیقت واقعہ سے کم سطح پر کسی چیز کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ اس ذہنی فضانے تاریخ میں پہلی بار تمام دروازے صرف دین حق کے لئے کھول دیئے ہیں کیونکہ اس کے سوا کوئی دین نہیں جو واقعاتی تجزیہ اور حقیقت پسندانہ معیار پر پورا اتر سکے۔
یہ نئی زمین جو اسلام کے حق میں تیار ہوئی ہے، مسلمان خود تو ابھی بہت کم اس سے فائدہ اٹھا سکے ہیں۔ اس سے پیدا شدہ ثمرات ان کو ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ مثال کے طور پر یہی چیز ہے جس نے اسلام کے مطالعہ کے لئے قدیم طرز کے استشراق کا خاتمہ کر دیا۔ صلیبی لڑائیوں کے بعد مسیحی یورپ نے اسلام کی تاریخ اور اس کی تعلیمات کو بالقصد بگاڑنا شروع کیا۔ صدیوں تک یہ کام جاری رہا۔ یہاں تک کہ سارا مغربی لٹریچر اس سے بھر گیا۔ سائنس کے ظہور سے پہلے لوگوں کو اس میں کوئی قابل اعتراض بات نظر نہ آتی تھی۔ مگر سائنس کے زور پر جو حقیقت پسندانہ طرز فکر پیدا ہوا، اس نے اس طریق مطالعہ کو بے معنی بنا دیا۔ قدیم استشراق کے خاتمہ کا یہ عمل تھامس کارلائل (۱۸۸۱ - ۱۷۹۵) کے زمانہ
بجے ٹھیک وقت پر گاڑی شور مچاتی ہوئی پلیٹ فارم میں اچانک مجھے خیال آیا کہ موت بھی اسی قسم کی ایک سواری ہے جو اپنے مقررہ وقت پر خدا کی طرف اسے کسی کے لئے وہ مخصوص سواری" ہوگی جس پر آرام سے بٹھا کر اعزاز واکرام کے ساتھ اس کو رب العالمین کی مہمانی کے لئے لے جایا جائے گا۔ کسی کے لئے وہ پولیس کی " کالی گاڑی " ہوگی جس کے تنگ و تاریک خول میں اس کو دھکا دے کر ڈال دیا جائے گا، اور کشاں کشاں خدا کی عدالت میں پہنچایا جائے گا تا کہ اس کے کبر اور سرکشی کی درد ناک سزا سے دی جائے۔ بجے ہم ملتان پہنچے۔ یہاں پہنچتے ہی جو پہلی خبر ملی وہ یہ کہ دو مسلم خاندان آپس میں لڑگئے۔ راستہ بھر قدرتی مناظر سے گزرتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا گویا یہ کتاب الہی کے بکھرے ہوئے اوراق ہیں جن کو پڑھتا ہوا میں ان کے درمیان سے گزر رہا ہوں۔ یہ ایک آفاقی نشر گاہ تھی جو خدائی پیغامات کو اس کی حسین ترین شکل میں نشر کر رہی تھی۔ لوگ حقیقت سے اتنے بے خبر کیوں ہیں جب کہ زمین و آسمان سے مسلسل حقیقت کا اعلان ہورہا ہے ۔ " میں نے سوچا " خدائی پیغام رسانی کا یہ کام اتنے حسین، اتنے ابدی اور اتنے آفاقی انداز میں ہورہا ہے کہ کوئی کان اس کو سننے سے محروم نہ رہے۔ کوئی آنکھ اس کے مشاہدہ سے خالی نہ رہے۔ پھر بھی کیوں ایسا ہے کہ لوگ اس کے سننے کے لئے بہرے ہیں اور آنکھیں اس کو دیکھنے کے لئے اندھی ہورہی ہیں ؟
درخت کہہ رہے ہیں کہ لوگوں کے لئے سایہ اور پھل کی مانند بنو۔ پھول کہہ رہے ہیں کہ ایسے بنو کہ تم کو دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور لوگوں کو تم سے خوشبو ملے ۔ چڑیاں کہہ رہی ہیں کہ خدا کی حمد کے نغمے ہوائیں کہہ رہی ہیں کہ لوگوں کے بیچ سے اس طرح گزر جاؤ کہ تمھارا سفر بھی جاری رہے اور کسی کو تم سے تکلیف پہاڑ کہہ رہے ہیں کہ لوگوں کے درمیان صبر اور تحمل کی چٹان بن کر رہو۔ آسمان کہہ رہا ہے کہ اپنے آپ کو اتنا اوپر اٹھالو کہ نفرت اور شکایت کی باتیں تم کو حقیر نظر آنے اس قسم کی بے شمار آوازیں کائنات میں ہر آن ابھر رہی ہیں مگر وہ کسی کو سنائی نہیں دیتیں۔ خیال کا قافلہ یوں ہی چلتا رہا۔ یہاں تک کہ مجھے ایک حدیث یاد آئی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے شب قدر کا علم دیا گیا اور میں مسجد سے نکلا کہ لوگوں کو اتنے میں دو مسلمان لڑگئے۔ اس لئے وہ علم اٹھالیا گیا ۔ (فتلاقى الرجلان فرفعت) گویا جب لوگ باہمی لڑائی جھگڑے کی سطح پر ہوں تو علم الہی کی روشنی ان سے دور ہو جاتی ہے۔ خدائی کلام کو سننے کے لئے ان کے کان بہرے ہوجاتے ہیں۔ معرفتِ خداوندی کا فیضان اسی قلب پر اترتا ہے جس کا دل دوسروں کے خلاف بغض وحسد سے خالی ہو، جس کا سینہ دوسروں کے خلاف نفرت کا کوڑا خانہ بنا ہوا ہو، اس میں علمِ خداوندی کو لے کر چلنے والے پاک فرشتے قدم نہیں رکھتے۔ ۹ اگست کی شام کو ہم بہتیڑ ضلع سوانی مادھوپور) یہ بستی دہلی سے تقریباً ۳۵۰ کلومیٹر کے فاصلے پر بہتیڑ اور ملار نا دونوں قریب قریب بستیاں ہیں جن کو صرف ایک پہاڑی راستہ جدا کرتا ہے ۔ دونوں ایک دوسرے کا بازو معلوم ہوتی ہیں۔ بستیوں میں کئی تقریریں ہوئیں ۔ ان تقریروں کا موضوع مختلف پہلوؤں سے ، خوفِ خدا اور فکرِ آخرت تھا۔
یہ پورا علاقہ پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔ اونچی چوٹی وہ ہے جو بہتیر اور ملا رنا کے درمیان واقع اس کے اوپر شاہ محمد اسماعیل علی کا مزار ہے۔ جمعرات کے روز یہاں دیئے جلائے جاتے ہیں۔ وجہ سے کئی دیواریں بالکل کالی ہو گئی ہیں، قبر پر دیا جلانا خود ناقابل فہم ہے۔ مگر یہ اور بھی زیادہ ناقابل فہم ہے کہ ایسا عمل کیا جائے جو ”بزرگ“ کی در و دیوار کو کالک لگانے کے ہم معنی بن جائے۔ تاہم ایک تو ہم پرست ذہن کے لئے یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ کیونکہ تو ہم پرستی نام ہی ہے متضاد چیزوں کو ذہن میں جمع کرنے کا۔
اس پہاڑی کے اوپر دوسرا عجیب منظر بجلی کے کھمبے بہتیر میں ابھی تک بجلی نہیں پہنچی۔ مگر اس غیر آباد بلند چوٹی پر، ملا رنا سے، بجلی کے کھمبے پہنچا دیئے گئے ہیں یہ پچھلے الیکشن (مارچ ۱۹۷۷ء) کی برکت ہے۔ کا بھاری بوجھ اٹھائے ہوئے یہ بجلی کے کھمبے ابھی تک قمقموں کے بوجھ سے خالی ہیں۔ ہم تقریباً دو درجن آدمیوں کے قافلے نے پہاڑ کی اس چوٹی پر عصر کی نماز ادا کی اور دو گھنٹے تک یہاں رہے۔ کھلا آسمان، تازہ ہوا، سرسبز میدان، پہاڑی سلسلے، ڈبڈبائی ہوئی ندیاں، چڑیوں کے چہچہے، غرض قدرت کے ماحول میں گزرنے والے یہ لمحات بڑے پُرکیف تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا ہم زندگی کی ایسی بلند سطح پر پہنچ گئے ہیں جہاں تمام پستیاں تحلیل ہوتی چلی جارہی ہیں۔ وہ مسائل جو زمین پر انسان کو الجھائے رہتے ہیں، یہاں بے حقیقت ہوتے ہوئے دکھائی دئے۔ آخر میں یہاں ایک نشست ہوئی جس میں دعوتی کام کی اہمیت اور موجودہ زمانہ میں اس کے امکانات پر اظہار خیال کیا گیا۔
۱۱ اگست کو ہم گنگا پور ہوتے ہوئے دوبارہ دہلی واپس آگئے۔ ہمارا یہ سفر مدرسہ نورالاسلام بہٹیٹر (ضلع سوائی مادھو پور) کی دعوت پر ہوا۔ عبدالرحیم بڈ میڈوی اور مولانا محمد حسن خاں میواتی شریک سفر رہے۔
قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ میں حکم دیا گیا ہے کہ دین کو قائم رکھو۔ (شوریٰ - ۱۲) اس آیت میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے اقامت دین سے اقامت اتحاد مراد لیا ہے : حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے اس کی تفسیر میں فرمایا: (ان اقیموا الدین) امر اللہ بجملة الانبیاء ان اقیموا الدین ان اتفقوا فی الدین (ولا تتفرقوا فیہ) لا تختلفوا فی الدین (تفسیر عبداللہ بن عباسؓ مطبوعہ ۱۲۸۰ھ)
اللہ نے تمام پیغمبروں کو حکم دیا کہ دین کو قائم رکھو، یعنی دین میں متفق رہو اور اس میں مختلف و متفرق نہ ہو جاؤ۔
اس تشریح کے مطابق اقامت دین کی و آیت میں جس بات کا حکم دیا گیا ہے وہ دراصل یہ ہے کہ مسلمان اس صورت حال سے بچیں جو عام طور پر حامل کتاب گروہ کے اندر زوال کے زمانہ میں پیدا ہو جاتی ہے۔ یعنی دین کے نام پر اختلاف و انتشار ۔ یہ داخلی دینی اتحاد کا حکم ہے نہ کہ خارجی معرکہ آرائی کا۔
تعارف و تبصرہ محاسن موضح قرآن از مولانا اخلاق حسین قاسمی دہلوی صفحات ۴۶۵ قیمت مجلد پندرہ روپے پتہ: ادارہ رحمت عالم، شیخ چاند اسٹریٹ، لال کنواں دہلی مصنف کتاب مولانا اخلاق حسین قاسمی پچھلے ۳۵ سال سے دہلی کی مساجد میں قرآن کا درس دیتے اس سلسلے میں مولانا کے سامنے ”دوسری تفاسیر کے ساتھ خاص طور پر حضرت شاہ عبدالقادر صاحب کا ترجمہ اور تشریحی فوائد پیش نظر رہے ہیں (۷)، موصوف نے دیکھا کہ ناشرین کی بے پروائی سے شاہ صاحب کے ترجمہ اور فوائد میں اغلاط داخل ہوگئی ہیں۔ انھوں نے ضروری سمجھا کہ اس قیمتی قرآنی خدمت کو اس کی اصل شکل میں محفوظ شاہ صاحب کے ترجمہ کی تصحیح کی جائے اور مختلف قدیم نسخوں کو سامنے رکھ کر صحیح ترجمہ مرتب کیا جائے اور اس کی اشاعت ہو (۷)
شاہ صاحب نے ۴۰ سال معتکف رہ کر یہ ترجمہ ۱۲۰۵ھ (۱۷۹۰ء) میں مکمل کیا۔ اس کی اہمیت کے بارہ میں ڈپٹی نذیر احمد صاحب کا ایک اقتباس کافی ہوگا۔ ڈپٹی صاحب نے ۱۳۱۴ھ میں قرآن کا اپنا ترجمہ کیا تھا۔ اپنے مقدمہ میں انھوں نے لکھا: ”شاہ صاحب کے ترجمہ کے بعد ہر ایک کو ترجمہ کا حوصلہ ہو گیا۔ مگر خاندان شاہ ولی اللہ کے سوا کوئی شخص مترجم ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا“ شاہ صاحب نے اپنے ترجمہ میں ہندی اور سنسکرت کے الفاظ کافی استعمال کئے ہیں۔ ”اس کا مقصد صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلم طبقہ قرآن کے پیغام سے قریب ہو“ (۳۱) اس طرح شاہ صاحب کے ترجمہ کو زندہ کرنے میں دو نیتیں شامل ہوگئی ہیں۔ ایک عام مسلمانوں کو قرآن کے معانی سے واقف کرانا ، دوسرے غیر مسلم حضرات تک قرآن کے پیغام کو پہنچانا ۔
شاہ صاحب کا ترجمہ پہلی بار ۱۷۹۰ء میں شائع ہوا۔ مگر یہ ابتدائی نسخہ آج غالباً کہیں موجود نہیں ہے ۔ ترجموں میں لوگوں نے بطور خود ترمیمات کرنی شروع کردیں اور تفسیری حواشی میں اضافے کر ڈالے ۔ متعین کرنا ایک مشکل کام بن گیا ہے کہ شاہ صاحب کا اصل ترجمہ اور حواشی کیا تھے ۔ فاضل مصنف نے اس سلسلے میں غیر معمولی تحقیق کی ہے ، اور اس سلسلے کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ فاضل مصنف نے صرف شاہ صاحب کے ترجمہ کی علمی و تاریخی تحقیق ہی نہیں کی ہے ، بلکہ اس میں خود تفسیری مسائل پر بھی قیمتی بحثیں درج ہیں ۔
فاضل مصنف نے شاہ عبدالقادر صاحب کے ترجمہ کو صحیح کر کے اس کی اشاعت کا جو منصوبہ بنایا ہے اللہ تعالیٰ اس راہ میں موصوف کی مدد کرے تاکہ یہ کام بخوبی طور پر اپنی تکمیل کو پہنچے ۔
امت مسلمہ کی رہنمائی حضرت عمرؓ کی تعلیمات کی روشنی میں از مولانا محمد تقی امینی ناظم دینیات مسلم یونیورسٹی ، علی گڑھ صفحات : ۱۰۴ قیمت : دو روپے مفت تقسیم کے لیے بڑی تعداد میں خریدنے والوں کے لیے ۳۳ فی صد کمیشن ۔ ایک نسخہ کے خواہش مند دو روپے بذریعہ منی آرڈر بھیج کر طلب
ادارہ احتساب ، امینی منزل دودھ پور روڈ ، علی گڑھ