۶۔ آسمانی توجیہہ کی تلاش
Al-Risala, March 1977, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کو نہ ماننے والوں کی یہ کوشش رہی ہے کہ زمینی واقعات کی توجیہہ خود زمین کے حالات میں تلاش کریں۔ مثلاً زندگی کو زمینی عناصر کے تعامل کا نتیجہ قرار دینا۔ مگر جدید شواہد نے اس قسم کی باتوں کو باطل بے بنیاد ثابت کر دیا ہے۔ اب سائنس داں مجبور مور ہیں کہ وہ زمینی واقعات کے لئے آسمانی توجیہہ تلاش کریں۔ مثلاً قدیم نظریہ ارتقاء کے بجائے اب پینس پرمیا (PANSPERMIA) کا نام لیا جانے لگا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی زمین پر خود بخود پیدا نہیں ہو گی بلکہ بالائی خلا سے ہمارے اس کرہ پر بالقصصد بھیجی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بالائی خلا میں کسی مقام پر غالباً ہم سے زیادہ ترقی یافتہ ”تہذیب“ موجود ہے جس نے زمین پر زندگی کے جراثیم بھیجے ہیں۔ مزید یہ کہ فلکیات کے وسیع تر مطالعہ سے معلوم ہوا کہ ”عالم بالا“ ہم سے غیر متعلق اور بے عقل وبے شعور عالم ایسے قرائن معلوم ہوئے ہیں جو بتاتے ہیں کہ خلا کے کسی مقام پر ہم سے زیادہ ذہین ہستیاں موجود ہیں۔ اپنے اعلیٰ مواصلاتی ذرائع سے مسلسل ہماری زمین سے ربط رکھے ہوئے ہیں۔ حال میں ایک نیا شعبہ مطالعہ وجود میں آیا ہے جس کو ریڈیائی فلکیات (RADIO ASTRONOMY) کہا جاتا ہے۔ علم الافلاک کی اس نئی شاخ کا مقصد بالائی
خلا میں سگنل بھیجنا اور اوپر سے آنے والی ریڈیائی لہروں کا مطالعہ کرنا ہے۔ سائنسی حیثیت سے ترقی یافتہ ممالک میں ایسے بہت سے ادارے وجود میں آئے ہیں جو مختلف تدابیر کے ذریعے اس کوشش میں مصروف ہیں کہ زمین کے علاوہ کسی دوسرے کائناتی مقام پر جو اعلیٰ تر ذہنی ہستیاں پائی جاتی ہیں، ان سے ربط قائم کیا جائے_ ان کوششوں کا انجام خواہ کچھ بھی ہو، تاہم اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جدید انسان کے لئے خدائی الہام کا تصور اب ایسی مستبعد چیز نہیں رہا جس پر سوچنے کے لئے وہ تیار ہی نہ ہو سکتا ہو۔
فطرت کی دریافت اور کائنات کی تسخیر نے موجودہ زمانہ میں عیش و عشرت کے بے شمار نئے دروازے کھول دیئے_ انسان نے ایسا شاندار تمدن بنایا جو معلوم تاریخ کے مطابق اس زمین پر کبھی نہیں بنا تھا اور آرام و راحت کے ایسے سامان فراہم کئے جو پہلے انسان نے خواب میں بھی نہیں دیکھے تھے_ مگر ترقیوں کی انتہا پر پہنچ کر بالآخر انسان کو معلوم ہوا کہ موجودہ دنیا میں وہ زندگی نہیں بن سکتی جو خوف و حزن اور لغوو تراشیم سے خالی ہو۔ ترقیات نے فطرت کے حسین توازن کو توڑ دیا۔ بڑھاپا، بیماری اور موت پر قابو پانا ممکن نہ ہو سکا۔ حکومتی نظام اور قانونی ضوابط انسان کو نظم و ضبط کے دائرہ میں رکھنے کے لئے ناکافی ثابت ہوئے۔ شسینی تہذیب کی آفتوں نے خشکی و تری کو فساد سے بھر دیا۔ مادی ساز و سامان آدمی کو خوشی اور سکون نہ دے سکے۔ اس تجربہ کے بعد ساری دنیا میں ایک نئی حرکت شروع ہوئی ہے۔ انسان مادیات سے اکتا کر غیر مادیات میں اپنی تسکین ڈھونڈ رہا ہے۔ خارجی دنیا سے واپس ہو کر وہ اپنی اندرونی دنیا میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا ہے اس کوشش نے مذہب اور نفسیات کے علم کو بالکل نئی اہمیت دے دی ہے۔ آج کا انسان دوبارہ اس مقام پر واپس آگیا ہے جہاں اس کو خدا اور مذہب کی باتیں بتائی جائیں اور وہ ان کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ غور کرے۔ قدیم زمانہ میں تھوڑے سے حنیف "تھے جو سچائی کی تلاش کر رہے تھے_ آج دنیا کی دنیا سچائی کی تلاش میں سرگردان ہے یہ ذہنی زمین، بالواسطہ طور پر اسلام ہی کی پیدا کردہ ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کے معاملہ میں اسلام کے پیرو ہی سب سے پیچھے دکھائی دیتے ہیں۔
اس طرح کی بے شمار چیزیں ہیں جنھوں نے موجودہ زمانہ میں دین حق کی تبلیغ و اشاعت کا بالکل نیا میدان کھول دیا ہے۔ آج سیاسی جبر اور ذہنی رکاوٹ دفنوں سے آزاد ہو کر خداوندی پیغام کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ الا یہ کہ ہم خود اپنی نادانی کی وجہ سے دوبارہ کسی نئے عنوان سے وقت کے حکمرانوں سے وہی ٹکراؤ شروع کر دیں جس سے خدائے دعوت اسلامی کی تحریک کو محفوظ کر دیا تھا۔