Al-Risala · March 1977

٣۔ سائنٹفک اسلوب بیان

Al-Risala, March 1977, pp. 15–16

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سلسلے میں ایک بات دعوت حق کے اسلوب سے متعلق ہے۔ قرآن میں دعوت حق کو جس زبان میں پیش کیا گیا ہے، وہ فطرت کی سادہ زبان ہے۔ "افی الله شك فاطر السماوات والارض“ کی زبان سے قدیم زمانہ کا تعلیم یافتہ انسان زیادہ مانوس نہ تھا۔ وہ یا تو جادو اور طلسمات سے متاثر ہوتا یا خیالی فلسفوں سے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم صوفیا کو یوگ اور اشراق سے اس ذوق کے لئے تسکین فراہم کرنی پڑی اور متکلمین کو یونانی قصاص کے گروہ نے اسی مقصد کے لئے بے شمار تعداد میں عجائب و غرائب قصے گھڑے اور ان کے ذریعہ اسلام کی ایک الف لیلہ تیار کر دی ۔

مگر اب صورتِ حال مکمل طور پر بدل گئی ہے۔ اب سائنس کے انقلاب کے بعد وہی زبان اور اسلوب وقت کا معیاری اسلوب قرار پا گیا ہے جو چودہ سو برس پہلے قرآن میں اختیار کیا گیا تھا۔ یہ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی مدد ہے۔ اب ہمیں نہ تو پہلے معنی قسم کی روحانی ورزشوں میں وقت ضائع کرنے کی ضرورت ہے اور نہ قصہ گوئی اور فلسفہ طراری کا کمال دکھانے کی۔ اب قرآن کی دعوت کو اس کے سادہ فطری اسلوب ہی میں لوگوں کے سامنے رکھا جا سکتا ہے۔ قرآن و حدیث کے سادہ ترجمے ، سیرتِ رسول ، اور حالاتِ صحابہ پر واقعاتی اسلوب میں لکھی ہوئی کتابیں اگر مختلف زبانوں میں مرتب کرکے دنیا بھر میں پھیلادی جائیں تو یہی اقوامِ عالم پر حجت قائم کرنے کے لئے کافی ہے۔

Printed page