Al-Risala · March 1977

۹۔ وسائل کا خدا داد خزانہ

Al-Risala, March 1977, pp. 16–18

By Maulana Wahiduddin Khan

آخری بات یہ کہ موجودہ زمانہ میں علم کی ترقی اور پریس کی ایجاد نے دعوتی کام کی انجام دہی کے لئے لامتناہی امکانات کھول دیئے ہیں۔ حضرت مسیح کی آواز، آنجناب کے زمانہ میں فلسطین کے ایک قصبہ سے باہر نہ جاسکی ۔ آپ کے پیرو بیک وقت دو ہزار سے بھی زیادہ زبانوں میں مسیحی مذہب کو منتقل کر رہے ہیں اور سارے عالم میں مسلسل اس کی آواز پہنچارہے ہیں۔ کل اور آج کا یہ فرق دراصل زمانہ کا فرق ہے۔ آج ایسے وسیع الاثر مواقع کھل گئے ہیں کہ زمین کے ایک گوشہ میں بیٹھ کر ساری دنیا میں دعوت کے کام کو منظم کیا جا سکتا ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ کی دنیا نے دعوت کے عمل کو مقامی پیغام رسانی کے دور سے نکال کر عالمی پیغام رسانی کے دور میں پہنچا دیا ہے۔ جدید صنعتی دور میں مسلمان اپنی اقتصادی پسماندگی کی وجہ سے اس قابل نہ رہے تھے کہ دعوتِ حق کی اشاعت کے لئے جدید امکانات کو اعلیٰ سطح پر استعمال کر سکیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے مسلم ملکوں میں پٹرول کے خزانے برآمد کر کے ان کی اقتصادی پسماندگی کی تلافی کر دی اور انھیں اس قابل بنا دیا کہ وہ اپنے اس فریضہ کی ادائگی کی بڑی سے بڑی قیمت دے کر بھی اس کو انتہائی کامل شکل میں جاری رکھ سکیں ۔

بجائے رب نے ہمارے لئے سیاسی اور فکری رکاوٹیں بھی دور کر دی ہیں اور اقتصادی رکاوٹیں بھی۔ اس سہ طرفہ نصرت کے بعد بھی مسلمان اگر دعوتی کام کے لئے نہ اٹھیں تو انھیں اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ وہ خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے ، خواہ دعوت کی ذمہ داری کو چھوڑ کر وہ کوئی دوسرا کام کتنی ہی بڑی مقدار میں کیوں نہ انجام دے رہے ہوں ۔ قدیم زمانہ میں شرک (غیر اللہ کی فوق الفطری کبریا کی) کا عقیدہ غالب عقیدہ کی حیثیت رکھتا تھا جس طرح آج، مثال کے طور پر ، انسانی آزادی کے تصور نے ساری دنیا میں غالب عقیدہ کی حیثیت حاصل کرلی

اس صورتِ حال نے قدیم زمانہ میں بے شمار مصنوعی مسائل پیدا کر رکھے تھے جن میں سے ایک مسئلہ یہ تھا کہ توحید کے داعیوں کو آگ اور خون کے طوفان سے گزر کر حق کا پیغام دینا پڑتا تھا۔

پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو انقلاب آیا، اس نے شرک کو غالب عقیدہ کے مقام سے ہٹا دیا اس کے بعد ایک نیا تاریخی عمل شروع ہوا۔ آغازِ اسلام کے تقریباً ہزارویں سال اس انقلاب کے دو حصے ہو گئے ۔ کا مذہبی پہلو اسلامی دنیا میں محفوظ رہا۔ اور اس کا دنیوی پہلو اس سے الگ ہو کر مغربی دنیا کی طرف منتقل ہو گیا ۔ وہاں اس نے مزید ترقی شروع کی ، یہاں تک کہ ۱۹ ویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول کے زمانے میں وہ اپنے آخری کمال تک پہنچ گیا ۔ موجودہ زمانہ میں جمہوریت ، آزادی رائے ، سائنسی نقطہ نظر سب اسی کی مثالیں ہیں جو در حقیقت اسلامی انقلاب کے دنیوی پہلو یا اس کے سیکولر نتائج ہیں۔ اسلام کے زیر اثر پیدا شدہ اس انقلاب نے جدید دنیا میں اسلام کی توسیع واشاعت کے نئے دروازے کھول دیئے تھے۔ ایک طرف یہ ممکن ہو گیا تھا کہ توحید کی پیغام رسانی کے کام کو نہایت قوت کے ساتھ بالکل آزادانہ ماحول میں شروع کیا جا سکے ۔ دوسری طرف پریس اور جدید ذرائع ابلاغ نے تاریخ میں پہلی بار یہ امکان پیدا کیا تھا کہ اسلامی دعوت کی ہم کو عالمی سطح پر منظم کیا جا سکے ۔ مگر عین اس وقت ایک حادثہ پیش آیا ۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کے نام پر اٹھنے والی تحریکوں نے دعوت کے بجائے سیاست کا رخ اختیار کر لیا ۔ کے حکمرانوں سے ٹکرا کر انھوں نے اپنے لئے نئے عنوان سے وہی مشکلات پیدا کر لیں پیدا کر لیں جن کو اسلام کے ہزار سالہ عمل نے ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا تھا۔

اسلام کی تاریخ میں کوئی واقعہ اتنا المناک نہیں جتنا المناک یہ واقعہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اٹھنے والی تقریباً تمام اسلامی تحریکوں نے سیاسی مقابلہ آرائی کو کام سمجھا اور غیر ضروری طور پر اسلام کو اقتدار کے مد مقابل کھڑا کر دیا کسی تحریک نے شروع ہی سے میدان سیاست میں چھلانگ لگا دی ۔ کوئی بعد کو اس " مقدس جہاد کی طرف مڑ گئی__ ٹھیک اس وقت جب کہ تاریخ کا عمل اپنی آخری انتہا کو پہنچ کر ہمارے لئے دعوتی کام کا عالی شان میدان کھول رہا تھا ، ہم انتہائی نادانی کے ساتھ ایک ایسی سیاسی لڑائی میں مشغول ہو گئے جس کا کوئی نتیجہ مسلمانوں کو ملنے والا نہیں تھا ، نہ دینی نہ دنیوی ۔ اب اس غلطی کی واحد تلافی یہ ہے کہ سیاست بازی کو مکمل طور پر ترک کر کے قرآن وسنت کے پیغام کو اہل عالم تک پہنچانے کا کام فوراً شروع کر دیا جائے ۔ اپریل ۱۹۷۷ء میں جامعہ دارالسلام عمر آباد کی گولڈن جوبلی منائی گئی ۔ پر ، ار اپریل کی نشست میں یہ مقالہ تلخصاً بہ شکل تقریر پیش کیا گیا ۔

" جو لوگ سونا چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور ان کو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انھیں سخت عذاب کی خوش خبری دے دو" (توبہ - ۳۴) قرآن کی یہ آیت اتری تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تبا للذھب تبا للفضنة (برا ہو سونے کا اور برا ہو چاندی کا)۔ یہ بات جب آپ کے اصحاب کو معلوم ہوئی تو وہ تشویش میں پڑ گئے، انھوں نے آپس میں کہا: فای مال نتخذ (اب ہم کون سا مال جمع کریں)۔ حضرت عمرؓ اس وقت وہاں موجود تھے، انھوں نے کہا، اگر تم لوگ پسند کرو تو میں اس کی بابت رسول اللہ سے سوال کر دوں۔ لوگوں نے کہا، ہاں۔ چنانچہ وہ آپ کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کے اصحاب کہہ رہے ہیں کہ کاش ہم جانتے کہ کون سا مال بہتر ہے تو ہم پاپہ روپیہ آپ کے پاس ہے اور وہی آپ کے پاس ہے اس کو جمع کرتے ۔ آپ نے فرمایا :

لیتخذ احد کم لسانا ذاکرا وقلبا شاکرا و زوجة مومنة تعین احد کم علی ایمانه تفسیر ابن کثیر ، جلد ۲ ، صفحه ۳۵۱ تہمت میں سے ہر ایک یہ کرے کہ یاد کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل اپنائے اور ایسی بیوی اختیار کرے جو اس کے ایمان میں اس کی مدد کرے ۔

Printed page