Al-Risala · March 1977

خواتین اسلام

Al-Risala, March 1977, pp. 18–21

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت ام سلمہ ایک بار کسی عورت سے اپنے بال گندھوا رہی تھیں ۔ اتنے میں مسجد سے خطبہ کی آواز آئی۔ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ایھا الناس (اے لوگو) یہ سنتے ہی فرمایا، بس جیسے ہیں ویسے ہی باندھ دو، عورت نے کہا اتنی جلدی کیا ہے۔ ابھی تو آپ نے ایھا الناس کہا انھوں نے کہا ” خوب ! کیا ہمارا شمار آدمیوں میں نہیں یہ کہہ کر خود ہی بال باندھ کر کھڑی ہوگئیں اور قریب ہو کر خطبہ سننے لگیں۔ (طبقات ابن سعد) حضرت ام سلمہ کی مرویات کی تعداد ۳۷۸۳ ہے ۔ وہ فتویٰ بھی دیا کرتی تھیں۔ ابن قیم نے لکھا ہے کہ اگر ان کے فتوے جمع کئے جائیں تو ایک رسالہ تیار ہو جائے گا ۔

رسول اللہ ﷺ کی ازواج میں حضرت عائشہ سب سے زیادہ ذہین تھیں ، ان کی مرویات کی تعداد ۲۲۱۰ تک شمار کی گئی ہیں۔ ان سے تقریباً ایک سو صحابہ و تابعین نے روایت کیا ہے ۔ عروہ بن زبیر ، سعید بن مسیب ، عبد اللہ بن عامر، مروق بن اجدرع، عکرمہ اور علقمہ جیسے لوگ آپ کے شاگردوں میں شامل ہیں۔ حضرت عائشہ ایک اعلیٰ درجہ کی فقیہ خاتون تھیں ۔ جب کوئی حدیث بیان کرتیں تو اس کی علت وحکمت بھی بیان کر دیتیں ۔ حضرت ابوسعید اور حضرت عبداللہ بن عمر سے جمعہ کے غسل کے بارے میں صرف اس قدر مروی ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرنا چاہئے۔ حدیث کو حضرت عائشہ نے بیان کیا تو یہ بھی فرمایا کہ لوگ دور دور کی آبادیوں سے نماز جمعہ کے لئے مدینہ آتے تھے۔ وہ گردو غبار سے اٹے ہوتے اور پسینہ سے تر ہوتے۔ لئے آپ نے فرمایا کہ تم لوگ نہا لیا کرو۔

بنی غفار کی ایک عورت کہتی ہیں کہ میں اپنے قبیلہ کی کچھ عورتوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ خیبر کے جہاد کے لئے روانہ ہو ر ہے تھے۔

عرض کیا: اے خدا کے رسول ! ہم چاہتے ہیں کہ ہم بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ چلیں ، تاکہ ہم زخمیوں کی مرہم پٹی کریں۔ اور جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کی مدد کریں۔ فرمایا: علی برکۃ اللہ (اللہ برکت دے، چلو)۔ خاتون ام عطیہ رضہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزودوں میں شرکت کی ہے، میں مجاہدوں کے کجاووں کی دیکھ بھال کے لئے پیچھے رہتی ، ان کے لئے کھانا پکاتی، زخمیوں کا علاج کرتی اور مصیبت زدوں کی نگرانی کرتی۔ اسماء بنت یزید بن سکن حضرت معاذ بن حبل کے چچا کی بیٹی تھیں۔ ان کی بابت حضرت مہاجرہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے جنگ یرموک میں خیمہ کی لکڑی سے نو رومیوں کو قتل کیا۔

مدینہ کے یہودیوں سے جنگ کے زمانہ کا واقعہ ہے۔ عورتوں اور بچوں کو ایک قلعہ کی چھت پر جمع کر کے حسان بن ثابت رضہ کو ان کی دیکھ بھال کے لئے وہاں رکھا گیا تھا۔ صفیہ بنت عبد المطلب بھی اسی قلعہ کی چھت پر تھیں۔ کہہ نہ دے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب جنگ میں مشغول ہیں۔ پس اترو اور اس کو جاکر قتل کر دو۔ حسان بن ثابت نے کہا : واللہ لقد عرفت ما انا بصاحب هذا (خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ میں اس کام کا نہیں) وہ کہتی ہیں کہ جب انھوں نے مجھ کو یہ جواب دیا اور میں نے ان کے پاس مارنے کی کوئی چیز بھی نہ دیکھی، تو میں نے کمر سے کپڑا کسا اور ایک لکڑی ہاتھ میں لی۔ سے اتر کر اس کے پاس پہنچی اور اس لکڑی سے اس کو مارنا شروع کیا، یہاں تک کہ میں نے اس کو ہلاک کر دیا۔ میں اس سے فارغ ہوگئی تو میں قلعہ میں واپس آئی اور حسان بن ثابت سے کہا کہ قلعہ سے اتر کر جاؤ اور اس کا میں صرف اس لئے اس کا سامان اتارنے سے رک گئی کہ وہ مرد تھا، حسان بن ثابت نے کہا: اے عبد المطلب کی بیٹی! مجھے اس کے سامان کی ضرورت (البدایہ والنہایہ، جلد چہارم، صفحه ۱۰۸) بیان کرتی ہیں کہ ہمارے قریب سے ایک یہودی گزرا۔ اور ہمارے قلعہ کا چکر لگانے لگا۔ اس وقت بنی قریضہ نے جنگ چھیڑ رکھی تھی ۔ اس وجہ سے ہمارے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان راستہ کٹ گیا تھا۔ اور وہاں کوئی نہیں تھا جو یہود کے مقابلہ میں ہماری مدافعت کرے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمان دشمن کے مقابلہ میں تھے ، وہ ان کو چھوڑ کر ہماری طرف نہیں آسکتے تھے۔ اتنے میں آنے والا یہودی سامنے سے میں نے کہا اے حسان ! دیکھو یہ یہودی ہمارے قلعہ کا چکر لگا رہا ہے اور میں خدا کی قسم اس سے مامون نہیں۔ زندگی کیا ہے ، موت کی طرف ایک سفر۔

موت اس لئے آتی ہے تاکہ دوسری دنیا میں آدمی کی وہ مستقل زندگی شروع ہو جو دنیا کے عمل کے مطابق اچھی یا بری اسے گزارنی ہے۔

ہر شخص دوسروں کو اپنے سامنے اس انجام کی طرف جاتے ہوئے دیکھتا ہے مگر خود اس طرح زندگی گزارتا ہے ، گویا اس کو کبھی اس انجام سے دوچار ہونا نہیں پڑے گا۔ آہ وہ انسان ، جو اسی بات کو نہیں جانتا جس کو اسے سب سے زیادہ جاننا چاہئے۔

زیادہ جانا چاہیے ۔

کا چکر نگار ہاہے اور میں خدا کی قسم اس کے مامون ہیں۔ کہیں وہ ہماری اس غیر محفوظ حالت کو یہودیوں سے جاکر

وہ خدا کے سایہ میں چلنے لگتے ہیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حریفوں پر جو حیرت انگیز سیاسی کامیابی حاصل کی اور جس طرح اپنے لائے ہوئے دین کو ایک پورے جغرافیہ پر غالب کر دیا، وہ ساری انسانی تاریخ میں اپنی قسم کا پہلا واقعہ ہے۔ ہمارے قدیم مورخین اور سیرت نگار جب آپ کے ان عظیم کارناموں پر پہنچتے ہیں تو یہ کہہ کر بات ختم کر دیتے ہیں کہ " آپ پر وحی نازل ہوتی تھی اور آپ خدا کی ہدایت کے مطابق سارے اقدامات کرتے رہتے تھے۔ یہ انداز تعبیر اتنا عام ہے کہ روایت پرست مورخین تو درکنار، ابوالحسن ماوردی، ابو علی الفمرار، ابن تیمیہ، ابن قیم اور ابن قتیبہ جیسے لوگ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ۔

سیرت کے اس انداز کو بظاہر آپ کی عظمت و تقدس کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔ مگر در حقیقت یہ پیغمبر اسلام کی یہ آپ کو گائیڈڈ میزائل کی سطح پر پہنچا دینا بلاشبہ آپ اللہ کے نبی تھے اور اللہ کی طرف سے آپ کو ہدایات پہنچتی رہتی تھیں۔ مگر اسی کے ساتھ آپ ایک اعلیٰ ترین انسان اور اعلیٰ ترین مومن بھی تھے۔ عام انسانوں کے لئے ایک معیاری نمونہ تھے کہ کس طرح ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص جب اپنے آپ کو دین حق کے لئے وقف کرتا ہے اور خدا کی یاد اور اس کی محبت میں مشغول ہو جاتا ہے تو خدا سے اس کا لازوال تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ وہ حسن و کمال کے سر چشمہ سے اس طرح مربوط ہو جاتا ہے کہ وہ اس کو دیکھنے لگتا ہے۔ اس کی سرگوشیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ وہ دائمی طور پر اس کے سایہ میں چلنے لگتا ہے ۔

پیغمبر اسلام کا تعلق اپنے رب سے صرف جبریں کے ذریعہ ہی نہ تھا، بلکہ براہ راست بھی تھا۔ اور یہ وہی تعلق تھا جو ہر ایک کے لئے اس کے حوصلہ کے بمقدر کھلا ہوا ہے۔ یہ تعلق قائم ہوتا ہے۔ قرآن میں تدبّر سے، نماز میں مشغول ہونے سے، کائنات میں غور وفکر سے، ہر آن اپنے رب کو یاد کرنے سے، صبر و شکر اور قناعت کی زندگی اختیار کرنے سے، دعا و استغفار میں میں اپنے آپ کو لگائے رہنے سے ۔ اللہ کی یاد میں کھو بندہ مومن جب اس طرح اپنے آپ کو خدا سے جوڑتا ہے تو اس کو حیرت انگیز طور پر ایک بے پناہ بصیرت حاصل ہو جاتی ہے۔ وہ اشیاء کو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے دیکھنے لگتا ہے ، وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ ” خدا کی نظر سے دیکھے، خدا کے پاؤں سے چلے اور خدا کے ہاتھ سے پکڑے“ پیغمبر اسلام نے اپنے حریفوں سے جو سیاسی معاملات کئے ، وہ اگر پیشگی طور پر موصول شدہ ہدایت کے تحت تھے تو ایسا کیوں ہے کہ قرآن میں متعدد مقامات پر آپ کے کسی اقدام یا فیصلہ پر گرفت کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ آپ کو ایسا نہ کرکے ایسا کرنا چاہئے تھا۔ یہ خود قرآن میں ایک واضح مثال ہے جس سے اصل معاملہ کو سمجھا جا سکتا ہے۔

عرب دنیا میں مغرب کا سیاسی کنٹرول تقریباً ۵۰ سال رہا۔ اس کا آغاز ۱۸۸۲ میں مصر پر برطانیہ کے قبضہ سے ہوا، اور ۱۹۵۰ میں اردن اور عراق سے برطانوی قبضہ کے خاتمہ کے ساتھ ختم ہوا۔

تعریف سے خوش ہونا اور تنقید سے بھچڑنا، پستی کی علامتیں ہیں۔

فانی بدایونی (۱۹۰۳- ۱۹۸۵) نے کہا ہے کہ دنیا کی رنگینیاں انتہائی بے حقیقت ہونے کے باوجود اپنے ظاہر میں اتنی پر کشش ہیں کہ انسان ان کو حقیقت سمجھ بیٹھتا ہے۔ بہت ہی کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص دھوکا دینے والے ان مناظر سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے: فریب جلوہ اور کتنا مکمل ! اے معاذ اللہ بڑی مشکل سے دل کو بزم عالم سے اٹھایا پایا اس میں شک نہیں کہ دنیا کی رنگینیوں سے اپنے کو اوپر اٹھا لینا سخت مشکل کام ہے۔ تاہم کم تعداد میں سہی ، ایسے لوگ پھر بھی کچھ نہ کچھ مل جاتے ہیں، مگر اس کے بعد ” اوپر اٹھنے “ کی ایک اور سطح ہے اور اس کے اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو کامیاب افراد کی تعداد کم یابی سے گزر کر نایابی تک پہنچ جائے گی۔ یہ ہے اپنے آپ کو مقید فکر (CONDITIONED THINKING) سے باہر ہر آدمی جن حالات میں پیدا ہوتا ہے اور بڑھتا ہے، اس کے لحاظ سے ماحول اور روایات کا ایک ہالہ اس کے گرد قائم ہو جاتا ہے۔ اس کا ایک فکری مدار بن جاتا ہے جس میں وہ گھومتا رہتا ہے۔

اس غیر محسوس مدار سے باہر آکر سوچنا اور مکمل طور پر آزادانہ رائے قائم کرنا اس قدر دشوار ہے کہ وہ لوگ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں جو آزادانہ فکر کے علم بردار بنے ہوئے نظر آتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ خلائی راکٹ جب اپنی گردش کے دوران زمین کے مدار سے نکل کر دوسرے سیارہ کے مدار میں داخل ہوتا ہے تو خول کے نقطہ پر دھماکہ کے ساتھ نبر دست آن از پیدا ہوتی ہے۔ یہی قانون شاید انسانی زندگی کے لیے بھی ہے۔ کوئی شخص اپنے مدار سے نکل کر آزاد شعوری مدار میں اس وقت داخل ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے اس فکری خول کو توڑنے کے لیے پوری طرح تیار ہو جائے جو روایات اور ماحول کے اثر سے محض اتفاقی طور پر اس کے گرد بن گیا ہے۔

کوئی شخص کب اس قابل ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو روایتی مدار سے نکال کر آزاد مدار کی طرف لے جانے کا عمل شروع کر سکے، اس کا ایک ہی جواب ہے: جیسا کہ اپنے آپ کو ایسا بنانے میں کامیاب ہو جائے کہ نہ ذاتی تعریف سے اسے خوشی حاصل ہو اور نہ ذاتی تنقید اسے کوئی آدمی کس مقام پر ہے، اس کو جاننے کی یہ واحد یقینی پہچان ہے۔

Printed page