اگر آدمی اپنی ذات کے مدار میں
Al-Risala, March 1977, pp. 21–25
By Maulana Wahiduddin Khan
گھوم رہا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس سے نہیں بچا سکتا کہ ذاتی تعریف اس کو اچھی لگے اور ذاتی تنقید پر وہ بوکھلا مگر جو شخص اپنے ذاتی مدار سے بلند ہو جائے وہ کبھی اس بیماری میں مبتلا نہیں ہو سکتا۔ اس کو تعریف اور تنقید دونوں ہی بے معنی معلوم ہوں گی۔ کیوں کہ وہ حقائق کو ایسی بلند سطح سے دیکھ رہا ہوگا جہاں روایات اور ماحول کے اثرات اس کے لیے ایک خارجی چیز بن جاتے ہیں بعض اعتبار سے ان میں ملوث ہونے کے با وجود وہ ان کو اس طرح دیکھ سکتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے سے باہر کی ایک چیز کا دور سے مشاہدہ کر رہا ہو۔
عرب اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کی تاریخ ھزاروں برس پہلے تک جاتی ھے ہندوستان اور عرب، دنیا کے وہ ملک ہیں جو ایک حیثیت سے پڑوسی کہے جاسکتے ہیں ۔ کے بیچ صرف سمندر حائل ہے ۔ یہ بندر گو یا ایک وسیع قدرتی سڑک ہے جو دونوں ملکوں کو باہم ملاتی ہے ۔ وہ کتبات ہیں جو چٹانوں پر کندہ ہیں ۔ یہ مذہبی کتبے ۲۵۴ ق م میں شہنشاہ اشوک نے کندہ کرائے تھے ۔ کتبات دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو داہنی جانب سے بائیں جانب پڑھے جاتے ہیں ان کو ” آریان پالی “ کہا جاتا ہے۔ دوسرے وہ جو بائیں جانب سے داہنی جانب پڑھے جاتے ہیں ، ان کو مندی پالی کہا جاتا ہے ۔ پروفیسر بولر ( BUHLER ) نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ شاید عراق کے تاجروں نے آٹھویں صدی ق م میں ان حروف کو یہاں روشناس کرایا ہو۔ ستیارتھ پرکاش کے مصنف سوامی دیانند جی کے دریا کے کنارے بنے والے ملک فطرتاً تجارتی یہی پہلا رشتہ ہے جس نے ان دونوں بیان کو صحیح مانا جائے تو مہا بھارت کے زمانے میں ہندوستان میں ایسے لوگ تھے جو عربی زبان سے واقف تھے، انھوں قوموں کو باہم آشنا کیا۔ عرب تاجر ہزاروں برس سے ہندوستان کے ساحل تک آتے تھے اور یہاں کی پیداوار کو مصر اور شام کے ذریعہ یورپ تک پہنچاتے تھے اور وہاں کے سامان کو ہندوستان ، جزائر ہند مہا بھارت میں جب کوروؤں نے لاکھ کا گھر بنا کر پانڈوؤں کو اس کے اندر جلا کر پھونک دینا چاہا تو ور دچی نے یدھشٹر کو عربی زبان میں بتایا اور چین اور جاپان تک لے جاتے تھے۔
یہ سب کو معلوم ہے کہ ہندوستان کی تمام تحریریں بلکہ تمام آرین تحریریں بائیں طرف سے لکھی جاتی لیکن حیرت انگیز بات ہے کہ آریہ ورت کی ابتدائی تحریریں دائیں سے شروع ہوتی ہیں جو سامی تحریروں کی خصوصیت ہے۔ اس کے علاوہ گنتی لکھنے کا طریقہ بھی شاید ابتدائی ہندوستانیوں نے عرب تاجروں سے سیکھا تھا۔
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں سنسکرت کے مقالہ کے تحت یہ تحقیق پیش کی ہے کہ : " ہندوستانی تحریر کے قدیم ترین نمونے یہوشٹر جی نے اسی عربی زبان میں ان کو جواب دیا۔ ایک روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو مجھے ہندوستان کی طرف سے ربانی خوشبو چنانچہ شروع زمانہ ہی سے عرب کثرت سے ہندوستان آنا شروع ہو گئے تھے اور محمود کی آمد سے سینکڑوں برس پہلے جگہ جگہ ان کی نو آبادیاں قائم تھیں ۔ عربوں کو اپنے تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے ہندوستان کے کسی ساحلی بندرگاہ کی تلاش چنانچہ اسلام کے ظہور کے بعد ہندوستان پر عربوں کی سب سے پہلی فوج کشی ۱۵ھ ( ۶۴۳ء) میں تھانہ (بمبئی) کی بندرگاہ پر ہوئی ۔ عربوں کا یہ داخلہ بحرِ ہند کے
گورنر کے حکم پر ہوا تھا۔
۸۶ھ (۷۰۵ء) میں دمشق کے تخت پر ولید اس کی طرف سے حجاج عراق و ایران و مکران وبلوچستان یعنی حکومت کے مشرقی مقبوضات کا نائب مقرر ہوا تو مہندوستان اور ہندوستانی جزیروں کی طرف توجہ کی۔ اس وقت ہندوستان کے اکثر ساحلوں سے بحری قزاق عرب تاجروں کے جہازوں پر ڈاکہ ڈالا کرتے تھے۔ ۴۲۲ھ تک سومنات اور کچھ بحری ڈاکوؤں کی سب سے بڑی جائے پناہ تھی۔
حجاج کے زمانہ میں ایک بار سندھ کی بندرگاہ دیبل کے قریب ڈاکوؤں نے عربوں کے ایک جہاز پر چھاپہ مارا جس میں عورتیں بھی سوار تھیں۔ ان لوگوں نے حجاج سے فریاد کی ۔ حجاج نے سندھ کے راجہ داہر کو لکھا تو اس نے معذرت کی کہ یہ دریائی ڈاکو ہمارے قبضہ میں اسی دوران یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ مکران سے کچھ عرب مجرم اور باغی بھاگ کر سندھ میں پناہ گزین ہوئے اور انھوں نے راجہ داہر کی ماتحتی میں اپنا ایک
اسکے بعد حجاج نے اپنے نوجوان بھتیجے محمد بن قاسم کی سرکردگی میں شیراز سے چھ ہزار فوج سندھ روانہ کی اور کچھ فوج مع سامان کے دریائی راستے سے سندھ کی طرف بھیجی اور اس کی کمک کے لیے ایران کے پرانے راستہ سے خشکی کی طرف سے بھی فوجیں بھیجیں۔
سن ۹۳ھ میں محمد بن قاسم سندھ پہنچا اور تین برس کے عرصہ میں ملتان سے لے کر کچھ تک اور مالوہ کی سرحد تک پر قبضہ کر لیا اور پورے سندھ میں انصاف اور امن کی سلطنت قائم کردی۔
۹۴ھ میں ولید نے وفات پائی اور اس کی جگہ تخت پر سلیمان بیٹھا۔ اس کو حجاج اور اس کے خاندان سے ذاتی عداوت تھی۔ اس نے اسی سال حجاج کے دوسرے آدمیوں کے ساتھ محمد بن قاسم کو بھی سندھ سے واپس اور بالآخر ذاتی انتقام کے نشے میں اس کو قتل
اموی خلیفہ کے ہاتھوں یہ بیدردانہ قتل اس شخص کا تھا جس کے متعلق تاریخ بتاتی ہے کہ ” جب محمد بن قاسم سندھ سے واپس جانے لگا تو سندھ کی رعایا نے اپنے نیک دل اور انصاف پسند فاتح کی جدائی میں آنسو بہائے اور اس کی یادگار میں اس کا بت بنا کر کھڑا کیا ۔ فتوح البلدان بلاذری، باب فتح سندھ)
اس کے بعد خلافت دمشق سے مختلف گورنر یہاں مقرر ہو کر آتے رہے اور انھوں نے کچھ کارگزاریاں بھی ۱۳۳ھ (۷۵۱ء) میں عربی حکومت کے دفتر کا ورق الٹ گیا۔ امویوں کی جگہ عباسی آئے اور حکومت کا مرکز دمشق سے ہٹ کر بغداد چلا گیا۔ بغداد کی سلطنت معتصم بالله عباسی (م، ۲۲۷ھ) تک مضبوط رہی۔ بعد وہ روز بروز ایسی کمزور ہوتی گئی کہ اس کا تعلق سندھ اور مہندوستان سے ٹوٹ گیا۔ کچھ دن تک عرب امرار یہاں خود مختار بنے رہے۔ بالآخر ہندو راجاؤں نے پھر قبضہ کر لیا۔ اور بعد کو صرف دو مشہور عرب ریاستیں یہاں قائم رہ گئیں جن میں ایک ملتان میں تھی اور دوسری سندھ کے عربی شہر منصورہ میں۔
ہندوستان میں جو ترک و افغان مغل فاتح آئے وہ مسلمان تھے، اس لیے ان کی تمام کارروائیوں کا ذمہ دار اسلام سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ اس حقیقت سے ہم سب کو
واقف ہونا چاہئے تھا کہ ترک فاتح جو ہندوستان آئے۔ خاص خاص افسروں یا عہدیداروں کو چھوڑ کر قوم کی مجموعی حیثیت سے وہ اسلام کے نمائندے نہ تھے۔ اور نہ ان کے اصول سلطنت کو اسلام کی طرز حکومت اور اصول فرمانروائی سے کوئی مناسبت تھی۔ ان کے ترک افسر زیادہ تر نو مسلم غلام تھے جن کو اسلام کے صلح و جنگ کے قوانین سے شاید واقفیت بھی نہ تھی۔
غزنویہ سلطنت جس ملک میں اگر قائم ہوئی، وہ اسلامی حدود سلطنت کا سب سے آخری گوشہ تھا۔ اسلام نے ابھی پورا قدم بھی نہیں جمایا تھا۔ کی فوج میں جو سپاہی بھرتی ہو کر آئے، وہ غربی، خلجی، ترکوں اور افغانوں کے مختلف قبائل تھے۔ ہندو بھی اس کی فوج میں داخل تھے۔ ترک قبائل کا یہ حال تھا کہ وہ بحیثیت مسلمان نہ تھے ۔ وہ غلاموں کی حیثیت سے ہزارہا کی تعداد میں فروخت ہوتے تھے اور سلاطین وامراء ان کو خرید کر اور مسلمان بنا کر فوج میں بھرتی کرتے تھے، یا وہ خود لوٹ مار کے شوق میں وسط ایشیا سے نکل کر اسلامی ممالک میں آتے تھے اور مسلمان ہو کر مختلف بادشاہوں اور امیروں کی فوج میں بھرتی ہوتے تھے اور آگے چل کر بڑے افسر ہو جاتے تھے، یہاں تک کہ بادشاہ بن جاتے۔
التپنگین اور سبکتگین جو غزنوی سلطنت کے بانی تھے اسی قسم کے ترک غلام تھے۔ سلطان غوری کے جانشین التمش وغیرہ بھی ایسے ہی تھے۔ سلجوقی ترک جو چند برس کے بعد عظیم الشان سلجوقی سلطنت کے بانی ہوئے، اسی زمانے میں اسلامی حد میں آ کر مسلمان ہوئے۔ یہی حال سلطان محمود کی فوج کا بھی تھا۔ ترکستان اور ماوراء النہر کے ترک رضا کار اس کی فوج میں داخل ہو گئے تھے جو زیادہ تر اسی زمانے میں مسلمان ہوئے تھے۔ مغل ابھی تک مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے۔ ساتویں صدی ہجری تک کافر سمجھے جاتے تھے۔ خلجی رم ۷۱۷ ھ تک فوج میں مغل مسلمان کہہ کے نوکر رکھے
افغانوں کے بڑے بڑے شہروں میں گو اسلام تھا مگر خود افغان اب تک مسلمان نہ تھے۔ کافر ہی سمجھے جاتے گو خاص کابل کے بادشاہ نے تیسری صدی کے شروع میں ، یعنی غزنویوں سے سو برس پہلے اسلام کا اظہار کیا تھا، لیکن افغانوں کے اکثر قبائل محمود غزنوی ہی کے زمانے میں مسلمان ہونے شروع ہوئے تھے۔
ان کے علاوہ غوری قبائل چوتھی صدی کے وسط تک یعنی غزنویوں کی پیدائش کے بعد تک مسلمان نہیں پھر سلطان محمود سے پہلے اس وقت تک ان اطراف میں نہ اسلامی درس گاہیں تھیں نہ اسلامی تعلیمات کا رواج ہوا تھا اور نہ مسلمان علماء پھیلے تھے۔ اسباب سے ان قوموں کے اس وقت کے طور طریق اصولِ جنگ اور طرزِ عمل کو اسلام نہیں کہا جا سکتا۔ برخلاف اس کے عرب فاتح جو ایک صدی کے اندر ایک طرف شام کی سرحد عبور کر کے مصر اور شمالی افریقہ کے راستے سے اسپین تک پہنچ چکے تھے اور دوسری طرف عراق کے راستے سے خراسان تک اور ایران و ترکستان کو طے کر کے ایک سمت میں کاشغر اور دوسری سمت میں سندھ تک فتح کر چکے تھے۔ وہ لوگ تھے جن میں اسلام کی تعلیمات زندہ تھیں ، اسلام کا قانونِ جنگ عمل میں کہیں کہیں افسروں میں بعض ایسے بزرگوار بھی تھے جنھوں نے پیغمبر اسلام کی صحبت اٹھائی تھی۔ اور ایسے تو
بکثرت تھے جنہوں نے صحابہ کا فیض پایا تھا۔ ان کے طور طریق، اصول حکومت اور طرزِ سلطنت خیبر سے آنے والی قوموں سے بالکل مختلف تھے۔ پہلی صدی ہجری رساتویں صدی عیسوی کے خاتمہ پر سندھ کی فتح کے چند سال بعد جب بنو امیہ کے دیندار اور برگزیدہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے سندھ کے لوگوں کو اسلام کا دعوت نامہ بھیجا تو بہت سے راجاوں نے اسلام قبول کرلیا۔ (فتوح البلدان بلاذری، فتح سندھ) ۲۲۸ مختلف تجارتی، معاشرتی اور سیاسی تعلقات کا یہ نتیجہ ہوا کہ سندھ، گجرات، کارومنڈل، ملہار، مالدیپ، سراندیپ اور جاوا میں اسلام نے اپنے قدم آہستہ آہستہ بڑھانے شروع کئے ۔ ان جزیروں میں ایک طرف ہندوؤں اور دوسری طرف چینیوں کے اثر سے بدھ مت پھیلا ہوا تھا۔ مگر صدی بصدی کے جغرافیوں اور سفر ناموں کی کتابوں کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑائی بھڑائی کے بغیر لوچے امن چین کے ساتھ اسلام کے اثرات یہاں بڑھتے جاتے۔ سندھ کا علاقہ خلیفہ المامون (۲۱۸ ھ) تک بغداد کے مرکز سے وابستہ رہا، بلکہ اسی کے آخر زمانہ میں عرب امراء خودمختاری کے خواب دیکھنے لگے۔ چنانچہ بنی سامہ کے غلام فضل بن ماہان نے سندان نام کے ایک شہر کو فتح کر کے براہ راست خلیفہ المامون سے اپنی امارت کی سند حاصل کرلی اور وہاں ایک جامع مسجد بنوائی جس میں نماز جمعہ ادا ہوتی تھی اور خلیفہ کے نام کا خطبہ پڑھا جاتا تھا۔
اس کے بعد اس کا بھائی محمد بن فضل بن ماہان حاکم ہوا اور یہ زمانہ معتصم باللہ (۲۲۷ ھ) کا تھا۔ اس نے ستر جہازوں کے بیڑے کے ساتھ میڑوں پر حملہ کیا۔ اس کی غیر حاضری میں اس کے بھائی ماہان نے ریاست پر قبضہ کر لیا اور غالب اسی خانہ جنگی میں ریاست مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئی۔ ( بلاذری، صفحہ ۴۲۴ )
معتصم باللہ کے زمانہ میں قندابیل میں محمد بن خلیل نے خود مختاری کا اعلان کر دیا تھا۔ مگر معتصم کے عہدہ دار عمران برمکی والیٔ سندھ نے وہاں کے سرداروں کو گرفتار کر کے تصدار قزدار بھیج دیا۔
عمران برمکی ہی کے زمانہ میں عربوں کے دو مشہور قبیلوں یمنی (قحطانی) اور حجازی (نزاری) میں بعینہ وہی خانہ جنگی شروع ہوئی جس خانہ جنگی نے بنوامیہ کا خاتمہ کر دیا تھا۔ عمران نے یمنیونی کی طرف داری کی۔ اس وقت حجازیوں کا ایک سرگروہ ایک قریشی سردار عمر بن عبدالعزیز ہباری تھا۔ اس نے موقع پا کر عمران کو قتل کر دیا ( بلاذری، ۴۲۶ ) عمر بن عبدالعزیز ہباری کی امارت کے بعد بھی عباسی تعلق قائم رہا۔ چنانچہ معتمد کے زمانہ (۲۷۹ - ۲۵۶ ھ) میں بغداد کے انتظامات ملکی میں سندھ کا نام بھی نظر آتا ہے۔ اس کے بعد سندھ کا یہ برائے نام رشتہ بھی بغداد سے کٹ بلاذری جو ۲۷۹ھ میں مرا ہے، وہ لکھتا ہے کہ "بنو کنده کا آزاد کردہ غلام ابو الصمہ جو تیسری صدی کے شروع کے ایک عباسی والی عمر بن حفص بن ہزار مرد کے ساتھ سندھ گیا تھا۔ اس کا بیٹا صمد آج کل سندھ میں زبردستی خود مختار بن بیٹھا " (بلاذری، ۴۲۵)
تاہم مسعودی ۳۰۳ھ میں ہندوستان آیا تو اس نے دیکھا کہ یہاں عرب امراء حکمراں ہیں جواب بھی خلیفہ بغداد کا خطبہ پڑھتے ہیں۔ ابن موقل ، ۳۷۴ ھ میں اور مقدسی ۳۸۵ھ ھ میں یہاں آیا تو انھوں نے بھی یہی پایا کہ خطبہ خلیفہ کے نام کا پڑھا جاتا ہے۔