Al-Risala · March 1977

زبان کا مسئلہ

Al-Risala, March 1977, pp. 26–33

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک ہندوستانی عالم ایک عرب ملک گئے۔ ایک عرب نوجوان ان سے ملنے کے لئے آیا۔ دوران اس نے پوچھا : متی القدوم (کب تشریف لائے) ہندوستانی عالم نے جواب دینا چاہا تو ان کی زبان سے نکل عربی میں آئندہ کل کے لئے "غد" اور پچھلے کل کے لئے "امس"، کا لفظ بولا جاتا ہے۔ عربی کے اچھے عالم ہیں۔ مگر عربی بولنے کی مشق نہ ہونے کی وجہ سے وہ غد (آراگلے دن) کہہ گئے۔ حالاں کہ موقع کے اعتبار سے انھیں بالامس (پچھلے دن) کہنا چاہئے تھا۔ اسی طرح ایک اور ہندوستانی عالم نے ایک مضمون لکھا جس کا عنوان انھوں نے قائم کیا: الاقدار الاسلامیة۔ یہاں اقدار کو انھوں نے انگریزی لفظ ”ویلو ز“ کے معنی میں استعمال کیا تھا۔ حالانکہ یہ اس لفظ کا اردو استعمال عربی میں ویلو ز کے لئے قیمۃ (جمع قیم) بولا جاتا ہے۔ یہ اتفاقی غلطی کی مثال ہے جس سے کوشش کرکے آدمی بچ سکتا ہے۔ تاہم ایک غیر اہل زبان لغت اور نحو کی خواہ کتنی ہی مہارت حاصل کرلے، وہ اہل زبان کی سی زبان لکھنے اور بولنے پر قادر نہیں ہو سکتا۔ مولانا شبلی نعمانی عربی زبان کے ادیب تھے۔ وہ مصر و شام کے سفر پر گئے ۔ وہاں ایک بار وہ اپنے ساربان سے عربی میں گفتگو کر رہے تھے۔ درمیان میں اس نے کہا : یا شبلی انت نحوی (اے شبلی آپ تو قواعد داں ہیں)۔ مولانا شبلی سمجھے کہ ساربان ان کی عربی دانی کی تعریف کر رہا ہے۔ بعد کو معلوم ہوا کہ یہ طنز تھا۔ مولانا شبلی نحو و صرف کے قواعد کی انتہائی پابندی کرتے ہوئے بول رہے تھے۔ مگر عرب ساربان کو ان کی یہ زبان مصنوعی معلوم ہو رہی تھی۔ ہر زبان کے کچھ اپنے لطیف آداب ہوتے ہیں، اہل زبان چوں کہ بچپن سے اسی کے ماحول میں پرورش پاتے ہیں، اس لئے وہ ذوقی طور پر اس سے مانوس ہو جاتے ان کے لکھنے اور بولنے میں خود بخود ان آداب کی رعایت شامل ہوتی رہتی ہے۔ مگر غیر اہل زبان عام طور پر اس کی رعایت نہیں کر پاتے۔ مخزومی پاشا، سید جمال الدین افغانی کے ایک رفیق ہیں۔ انھوں نے موصوف کے بارہ میں عربی میں ایک کتاب لکھی اور اس کا نام رکھا : جمال الدين افغانی فی البلاط السلطانی (جمال الدین افغانی شاہی مجلس میں)، سید جمال الدین افغانی نے سنا

ان هذا العنوان ليس لهذا المقال بتطبيق، قل خاطرات ولا تزد یہ نام اس کتاب کے موافق نہیں۔ اس کا نام صرف " خاطرات " رکھو اور اس پر کچھ اضافہ مت کرو۔ مخزومی پاشا لکھتے ہیں کہ بعد کو میں نے ایک عرب ادیب سے اس کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا، اگر کتاب کا یہ نام رکھا گیا تو اہل لغت اس پر تنقید کریں گے۔ کیوں کہ آپ " خاطرات جمال الدین " کا لفظ " افكار جمال الدين " کے معنی میں لے رہے ہیں۔ مگر اہل زبان اس مفہوم کے لئے " خواطر " کا لفظ بولتے ہیں۔ لغت کے اعتبار سے اگرچہ دونوں الفاظ ہم معنی ہیں، مگر استعمال کے اعتبار سے خاطرات میں وساوس کا مفہوم آ جاتا ہے جمال الدین افغانی نے اپنی آزاد طبعی کی بنا پر اس کو تسلیم نہیں کیا اور مخزومی پاشا سے کہا قل خاطرات ولا تبال بمن تفسد لسانهم تم کتاب کا نام خاطرات ہی رکھو اور ان کی پروا

مت کرو جنہوں نے اپنی زبان کو بگاڑ رکھا ہے۔ اہل زبان اور غیر اہل زبان کا یہ فرق اتناھتی ہے کہ تاریخ میں مشکل ہی کچھ مثالیں اس کے خلاف تلاش کی مرزا غالب (۱۸۶۹ - ۱۷۹۷) کو اپنی فارسی شاعری پر ناز تھا۔ انھوں نے اپنے فارسی دیوان کے بارے میں کہا :

فارسی میں تا بہ بینی نقش ہائے رنگ رنگ بگزر از مجموعہ اردو کہ بے رنگ من است مگر غالب کو شاعری کی دنیا میں جو مقام ملا وہ ان کے اردو کلام کی بنا پر ملا، فارسی کے کلام کی بنا پر نہیں۔ مولانا شبلی نعمانی (۱۹۱۴ - ۱۸۵۷) نے جب پہلی بار اردو میں سیرت النعمان لکھی تو اس کے آغاز میں ایک فارسی معذرت شامل کی، جس میں انھوں نے کہا :

گرچہ مرا شیوہ فن این نبود حرف بہ اردو زدن آئیں نبود مگر شبلی کو ان کی جن کتابوں نے شبلی بنایا وہ اردو کتابیں ہی تھیں نہ کہ فارسی اور عربی کتابیں ۔ اسی طرح مولانا حمید الدین فراہی (۱۹۳۰ - ۱۸۶۳ء) نے تفسیر قرآن کو اپنا موضوع بنایا اور اس پر بہت سی قیمتی تحریریں لکھیں یہ تمام تحریریں عربی زبان میں تھیں۔ مگر ان کی عربی تحریریں نہ ہندوستان میں مقبول ہوسکیں اور نہ عالم عرب جب ان کا ترجمہ اردو میں شائع کیا گیا ، اس وقت لوگوں کو ان کی اہمیت کا احساس ہوا۔

یہ بات اردو یا عربی زبان کے ساتھ مخصوص نہیں، ہر زبان کا یہی حال ہے۔ ہندوستان میں انگریزی کے رواج کے بعد بے شمار لوگوں نے انگریزی کو اپنی فلمی زبان مگر مشکل ہی کچھ ایسے لوگوں کا نام لیا جاسکتا ہے جنھوں نے انگریزی ادب کی تاریخ میں کوئی مقام حاصل جو اہر لال نہرو اور مہاتما گاندھی وغیرہ کی انگریزی تحریریں بلاشبہ یورپ اور امریکہ میں کافی پڑھی گئیں، مگر ان کو جو کچھ بھی مقبولیت حاصل ہوئی، ان کی تاریخی اہمیت کی بنا پر ہوئی، کیونکہ ہندوستان کی جدید سیاسی تاریخ جاننے کے سے یہ کتابیں ماخذ کی حیثیت رکھتی تھیں۔ جو انگریزی اور بنگالی دونوں کے اچھے ادیب ہیں، انھوں نے ٹیگور کے بارے میں لکھا ہے کہ ۱۹۱۳ میں نوبل انعام ملنا ان کے لئے ایک حادثہ تھا۔ کیوں کہ اس کے بعد ٹیگور نے سمجھ لیا کہ ایشیا سے زیادہ یورپ ان کے فن کا قدردان ہے۔ انھوں نے انگریزی میں لکھنا شروع مگر انگریزی ان کے لئے بہر حال ایک غیر ملکی زبان تھی۔ اس میں وہ دسی گہرائی اور کشش پیدا نہ کر سکے جو اپنی مادری زبان بنگالی میں لکھنے کی صورت میں ہو سکتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ آروندو گھوش نے بعد کی عمر میں بنگلہ زبان سیکھی تو اس کا ایک محرک یہ بھی تھا کہ گیتا ن جلی کو اصل بنگالی زبان میں پڑھ سکیں۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ کوئی ادیب یا مصنف خواہ کتنی ہی زبانیں جانتا ہو مگر اپنی مادری زبان میں وہ جس لطافت اور حسن کے ساتھ اپنے خیالات کو پیش کر سکتا ہے، کسی دوسری زبان میں اس کی امید نہیں کی بعض شاذ مثالیں ہو سکتی ہیں۔ مگر شاذ کالعدم۔ ناکامی کی وجہ شریف کامل ایک اخوانی رہنما ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اخوان المسلمین کی ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ وہ سیاست میں قبل از وقت داخل ہو گئی۔ قد دخلنا فی السیاسة

رکوع وجود کا منظر اتنا پر کشش ہوتا ہے کہ کوئی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا عیسائیت کو میں نے چھوڑا ہے اور اسلام کو اختیار کیا ہے۔ مجھے یہ بات تسلیم ہے کہ مسیحیت میں بھی حق وصداقت اور مفید اصول موجود ہیں اور اگر اس مذہب سے وہ تمام بدعتیں دور کردی جائیں جو پادریوں نے پیدا کردی ہیں تو یہ مذہب بھی انسان کے لیے ایک مفید مذہب بن سکتا ہے۔ لیکن ان بدعتوں نے اس کی اصل صورت کو بگاڑ دیا ہے اور بالکل بے جان کر ڈالا ہے۔ اس کے برخلاف اسلام اسی ابتدائی شکل میں میں ہے جس میں وہ جلوہ گر ہوا تھا اور چونکہ میں ایک ایسے مذہب کا متلاشی تھا جو آمیزش سے پاک ہو اس لیے میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ کسی عیسائی کلیسا میں چلے جایئے وہاں نقش ونگار اور مورتیوں کے سوا آپ کو کچھ نہیں ملے گا اس کے علاوہ وہ پادریوں کے زرق برق لباس پر نظر ڈالئے اور پھر ان کے طریقوں راہبوں اور زنوں کے ہجوم کو دیکھئے توان کا روحانیت سے دور کا بھی تعلق دکھائی نہیں دنیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم کسی عبادت گاہ میں نہیں ہیں بلکہ ایسے تہ خانہ میں ہیں جو صرف بتوں کی پوجا کے لئے بنایا گیا ہے۔ بعد مسجد پر نظر ڈالئیے وہاں آپ کو نہ کوئی مورت دکھائی دے گی اور نہ تصویر۔ پھر نمازیوں کی صفوں پر نظر ڈالئیے ہزاروں چھوٹے بڑے انسان شانہ ملائے کھڑے نظر آئیں گے۔ امام کو دیکھئے تو اس کا لباس بھی نہایت سادہ ہوگا سچ تو یہ ہے کہ نماز میں رکوع و سجود کا منظر اس قدر جاذب قلب ہوتا ہے کہ کوئی انسان بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

مسجد کی پوری فضا اور اس کی تمام چیزیں روحانیت کی جانب انسان کی رہنمائی کرتی ہیں نہ یہاں تصنع ہے نہ بناوٹ کی قسم کی کوئی چیز۔ اس کے برخلاف کلیسا کی تمام چیزوں میں مادی دنیا کا مظاہرہ بہت زیادہ ہر ممکن ہے بعض لوگ کہیں کہ پروٹسٹنٹ مذہب توان عیبوب سے پاک ہے اس نے توان گر جوں سے بت اور تصویریں نکال پھینکی ہیں تم نے اسلام کے بجائے اسے قبول کیوں نہیں کیا۔ بلا شبہ پروٹسٹنٹ مذہب حقیقی مسیحیت سے قریب ضرور ہے، با وجود اس اعتراف کے کہ مسیح علیہ السلام جلیل القدر پیغمبر تھے، میں ہرگز ان کی الوہیت کا قائل نہیں جو میری ہی طرح گوشت پوست رکھتے تھے میرا یہ عقیدہ کوئی نیا نہیں، بلکہ ابتداہی سے میں اسکا اظہار کرتا رہا ہوں۔ اسلام نہ صرف حضرت مسیح علیہ السلام ہی کا پورا احترام سکھاتا ہے بلکہ دنیا کے تمام مذہب اور بانیان مذاہب کے احترام کی دعوت دیتا ہے۔ دراز سے اسلام کی طرف رجوع تھا لیکن میرا ایمان اتنا قوی نہیں تھا کہ میں بے دھڑک اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر سکتا۔

یہ تذبذب کسی انسان یا سوسائٹی کے خوف کی بنا پر نہیں تھا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں پوری طرح اسلام کی خوبیوں اور خصوصیتوں سے واقف نہیں تھا۔ میں اسلام کے بارے میں علمائے اسلام کی کتابوں کا مطالعہ کرتا رہا اور میری آنکھیں کھلتی گئیں اور مجھے صاف طور پر اس دین مبین کی خوبیاں اور اس کے پیغمبر محمد کا بنی نوع انسان پر احسان معلوم ہو گیا اور آخر میں نے اس

دین فطرت کو اپنا مذہب بنالیا۔ اسلام میں توحید پرستی جیسی میں نے پائی ہے وہ کسی دوسرے مذہب میں موجود نہیں ہے اور اسلام کی اسی توحید پرستی نے مجھے سب سے پہلے اس مذہب کی جانب مائل کیا۔ جو سب سے بڑی خوبی میں نے پائی ہے وہ یہ ہے کہ وہ صرف روحانی ترقی ہی کا حامل نہیں ہے بلکہ وہ دنیا کی ترقی میں بھی بہت بڑا مدد و معاون ہے وہ انسان کو گوشہ نشینی اور راہبانہ زندگی گزارنے کی تعلیم نہیں دیتا۔ بلکہ وہ کارگہ حیات میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا وہ دینی معاملات میں ہی انسان کی رہنمائی نہیں کرتا بلکہ دنیا کے ہر معاملہ میں انسان کو راستہ بتاتا ہے اور قدم قدم پر بنی نوع انسان کو روشنی دکھاتا ہے اسلام نے دنیا کو عاقبت کی کھیتی قرار دیا ہے اور اسے حق دیا ہے کہ وہ دینی فرائض سے بھی غافل سچ تو یہ ہے کہ موجودہ سائنسی دور میں اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو ترقی یافتہ دنیا کا ساتھ دے سکتا ہے۔ اسلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ تنگ نظری اور تعصب کا شدید مخالف ہے۔ وہ صرف اپنے ہم مذہبوں ہی کے ساتھ مروت یا محبت کی ہدایت نہیں کرتا بلکہ وہ کل بنی نوع انسان کے ساتھ خواہ وہ کسی مذہب و ملت سے کیوں نہ تعلق رکھتے ہوں ہمدردی و مساوات کا حکم دیتا ہے وہ تفرقہ کا نہیں اتحادِ انسانی کا قائل ہے سچ تو یہ ہے کہ اس مذہب نے پہلی مرتبہ انسان کو انسانیت کا سبق پڑھایا۔

میں گذشتہ پانچ سال سے مذہب اسلام کا پیرو ہوں جس چیز نے میرے ایمان کو تقویت دی وہ اسلام کے بلند اور پاک اصول ہیں اس کی عالمگیر امریکی نو مسلم پروفیسر اے. ایچ. ہیویٹ نے قبول اسلام کے بعد اپنے جو تاثرات شائع کئے ہیں، ان کو یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔ ہیں کہ اسلام کے مطالعہ کے بعد میں نے اس دین کو اپنے دل کی آواز پایا اور اس دین فطرت کو قبول یہی واقعہ دوسرے بیشمار لوگوں کے ساتھ ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ان کو اسلام کے پیغام سے واقف کرایا جائے۔

اس کی بے نظیر مساوات ہے اور اس کا علم وعربان ہے جس نے میرے دل و دماغ میں ایک نئی روشنی پیدا کر دی ہے۔ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو سراپا علم وعمل ہے بلکہ میں تو کہوں گا کہ اسلام ایک ایجابی دین ہے کوئی اگر صحیح معنوں میں عیسائی بننا چاہے تو اسے دنیا سے کنارہ کش ہو کر گوشہ نشینی اختیار کرنی ہوگی لیکن اسلام میں رہ کر دنیا کی تمام مسرتوں اور نعمتوں سے مستفیض ہو سکتے ہیں۔ نہ ہمیں عبادت کا گوشہ تلاش کرنا ہوگا اور نہ ہی ویرانوں میں زندگی بسر کرنے کی مجبوری ہوگی۔ اگر انسان کو دنیا میں اسی لیے بھیجا گیا ہے کہ وہ گوشہ نشینی میں اپنی زندگی برباد کرلے تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ انسانی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ یہ صرف اسلام نے بتایا ہے کہ انسان اس کارگاه حیات میں رہ کر قدرت کی ہر چیز سے فائدہ اٹھائیگی مگر ساتھ ہی اپنے پروردگار اور اس کی مخلوق کو نہ بھولے۔ میں نے جب سے اسلام قبول کیا ہے میں انتہائی قلبی سکون محسوس کر رہا ہوں۔ میری دنیا بھی درست ہو گئی ہے اور عاقبت بھی۔

تہذیب کا ارتقائی عمل انسانی شعور کو ایک اعلیٰ مرحلہ کی طرف لے جارہا ہے سماجی حالات سے سخت مایوس ہیں۔ اعلیٰ سماج بنانے کے تصورات ختم ہوگئے ہیں۔ زمین پر بہت بہت بنانے کا خیال اب اپنی ذات کے اندر بہت ڈھونڈنے کی طرف مائل ہو آج کی برباد دنیا میں مفکرین کی ایک بڑی تعداد نے آئیڈیلزم کی آخری پناہ گاہ کے طور پر اپنی امیدوں اور اپنے عقیدہ کو روح کے اوپر مرکوز کر دیا ہے ۔ کے بجائے روحانیات کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے بعض لوگوں کا یہاں تک کہنا ہے کہ ارتقائی عمل تہذیب کو شعور کے ایک اعلیٰ مرحلہ کی طرف لے جارہا ہے جو مشینئی ترقیاں ان کو مطمئن نہ کر سکیں ہم ۱۸۱ء میں ہر امریکہ کی جیب میں مستقبل کا ایک خوبصورت خاکہ موجود ہوتا تھا بالکل ویسے ہی جیسے ہر جیب میں رومال موجود ہوتا ہے۔ مگر آج امریکیوں کی جیسی اس قسم کی کسی پر شوق چیز سے خالی ہیں۔ جبہ قدرتی توازن ٹوٹ جائے طبیعیات اور حیاتیات کی دنیا میں جو قوانین کام کر رہے ہیں۔ ان کا ایک خاص عمل یہ ہے کہ یہ قوانین مختلف اشیاء کے درمیان ایک فطری توازن (NATURAL BALANCE) کو برقرار رکھتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو انسانی زندگی تباہ ہو جائے۔ جدید دریافتوں سے معلوم ہوا ہے کہ فطرت کا یہ توازن انتہائی صحیح اندازوں کے مطابق کیا گیا ہے۔ اسکے اندر انسان کی کوئی مداخلت شدید خطرہ پیدا کرنے کا باعث ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر جدید تمدن کا وہ خطرناک مسئلہ جس کو صنعتی کثافت (INDUSTRIAL POLLUTION) کہتے ہیں، وہ کیا چیز ہے ۔ وہ قدرت کے نظام میں انسانی مداخلت سے پیدا شدہ ایک صورتحال ہے۔ کاربن گیس اور دوسری کثافتیں جو عام حالات میں پیدا ہوتی ہیں، قدرت ان کے اعادہ دوری (RECYCLE) کے ذریعہ اپنے توازن کو برقرار رکھتی ہے مگر صنعتی دور نے اپنی پیدا کردہ کثافتوں سے اس نظام میں جو خلت کی، اس نے فطرت کے توازن کو بگڑا دیا۔

توازن فطرت کے ٹوٹنے کا یہی معاملہ سماجی قوانین میں بھی کام کرتا ہے۔ خدا نے جسطرح طبیعی اور حیاتیاتی دنیا میں توازن کا قانون جاری کر رکھا ہے، اسی طرح اس نے سماجی زندگی آمیں توازن کو برقرار رکھنے کیلیے بھی قوانین مقرر کئے ہیں۔ انھیں قوانین کا نام آسمانی شریعت ہے۔ انسان کی بہتری یہ ہے کہ وہ اس قانون کو استعمال کر کے سماجی زندگی کے توازن کو برقرار رکھے۔ انکو نظر انداز کر کے بطور خود قانون وضع کریگا تو وہ سماجی زندگی کے مطلوبہ توازن کو توڑ دے گا اور زندگی تباہ ہو جائے گی۔

بالا آخر انسان کو بلند ترین حقیقت سے ملا دے گی یعنی خدا سے ۔

صنعتی دور کی ترقی کے بعد امریکیوں نے سمجھا تھا کہ وہ ٹیکنالوجی میں نجات حاصل کر لیں گے۔ نے بڑے شاندار قسم کے خاکے پیش کئے مگر ٹیکنالوجی انسانی مسرت کے حصول میں نا کام ثابت ہوئی۔ کے ذرائع نہایت آسانی سے انسانی ترقی کے بجائے انسانی بربادی میں استعمال ہونے لگے۔ ٹائم (نیویارک)، ۱۸ جنوری ۱۹۷۱ء اوپر جو عبارت نقل کی گئی، وہ امریکی میگزین کے ایک خصوصی مضمون کا ترجمہ ہے جس کا عنوان ہے۔ A VOYAGE TO UTOPIA اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مادی ترقیوں کی حقیقت کیا ہے۔ آج کی دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک مادی ترقی کی تمام قسموں کا مالک بننے کے بعد بالآخر جس احساس سے دوچار ہے وہ یہ کہ مادی ترقی انسانی ترقی کا اصل زرینہ نہیں۔ حقیقی انسانی ترقی کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت ہے۔

امریکہ اس دوسری چیز کو نفسیات اور روحانیت کی دنیا میں تلاش کر رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس دنیا میں جس کی نشاندہی مذہب نے کی تھی مگر مادیات کے ابتدائی جنون میں لوگوں نے اس کو نظر انداز کر دیا

یہ بہترین وقت ہے کہ حاملین اسلام اٹھیں اور جدید دنیا کے سامنے خدا کے دین کی دعوت پہنچائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زمانہ نے صدیوں کے انقلابات کے بعد دین خدا کی حامل قوموں کے لیے میدان خالی کر دیا ہے۔ وہ آج کی دنیا کی ذہنی قیادت حاصل کر سکتی ہیں مگر کیسی عجیب بات ہے کہ اس سنہرے امکان کے عین کنارے سے وہ اس طرح غافل پڑی ہوئی ہیں۔ جیسے انھیں اس کی خبر بھی نہیں۔ کیسے کیسے مسائل!

مسجد میں کسی کو چھینک آ جائے تو دوسرا شخص جو حالت نماز میں ہے، اگر اس کی زبان سے یرحمک اللہ (خدا تجھ پر رحم کرے) نکل جائے تو اس کی نماز باطل ہو البتہ اگر وہ یرحمہ اللہ (خدا اس پر رحم کرے) کہے تو نماز باطل نہ ہوگی۔ یہ شافعیہ کا مسلک ہے۔

حنفیہ کے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ مسجد میں کسی کو چھینک آ کے تو مصلی خواہ یرحمک اللہ کہے یا یرحمہ اللہ، ہر حال میں اس کی نماز باطل ہو جائے گی البتہ اگر خود مصلی کو چھینک آئے اور وہ اپنے کو مخاطب کرتے ہوئے یعنی اللہ مجھ پر اللہ رحم کرے) یا یرحمک اللہ کہے تو نماز باطل نہ ہوگی۔

الفقہ علی المذاہب الاربعہ از عبد الرحمن الجزبیری حصہ اول ، صفحه ۳۰۲

مولانا وحید الدین خاں قیمت مجلد مع پلاسٹک کور پندرہ روپے قیمت مجلد بغیر پلاسٹک کور تیرہ روپے دین کی حقیقت ، تعلیمات قرآن کی حکمتیں ، سیرت رسول کا انقلابی سبق مودہ زمانہ میں اسلام کے مسائل ، دین کا تجدید و احیاء ، امت مسلمہ کی تعمیر ، دعوت اسلامی کے جدید امکانات ۔ ان موضوعات کے گہرے مطالعہ کے لئے "الاسلام" پڑھیے۔ جدید سائن ٹفک اسلوب میں ، نہایت دلچسپ اور معلومات سے بھر پور۔ اسلام کے موضوع پر اپنی نوعیت کی پہلی کتاب پندرہ روپے بذریعہ منی آرڈر بھیج کر طلب فرمائیں۔ کتاب کی روانگی کا ڈاک خرچ ادارہ کے ذمہ ہوگا۔ بیرونی ممالک کے لئے تیس روپے یا اس کے مساوی رقم الدارالعلمیہ ، جمعیۃ بلڈنگ ، قاسم جان اسٹریٹ ، دہلی ۔

"فرانسی مفکر اینڈری مالرو نے کہا ہے کہ یورپ کا عروج ۱۴۵۰ء میں شروع ہوا۔ یہ دور پانچ سو برس تک رہا۔ ۱۹۳۹ء میں ماؤ کا برسرِ اقتدار آنا اس دور کے خاتمہ کا اعلان تھا۔ جس طرح رومی تہذیب کے خاتمہ کے بعد پیدا ہوئی تھی، اسی طرح اب وہ کسی آنے والی تہذیب کے لئے جگہ خالی کر رہی ہے۔ (ٹائم، ۸ اپریل ۷۹ء)

مستقبل قریب میں مغربی تہذیب کا انہدام یقینی ہے۔ اس کے بعد ساری دنیا ایک فکری خلا سے دوچار ہوگی جس کو پُر کرنے کے لئے اس وقت کوئی قوم موجود نہیں ہے۔ روس بظاہر دورِ جدید کے طاقت در دیوین کرا بھہرے ہیں۔ مگر وہ اس خلا کو پُر نہیں کر سکتے ۔ اس کی وجہ ان کا اندرونی تضاد ہے۔ اشتراکی ڈکٹیٹر شپ جس نے ان ملکوں کو موقع دیا ہے کہ وہ اپنے وسائل کو مخصوص میدانوں میں مرتکز کر کے طاقت در قوم بن جائیں، وہی اس میں مانع ہے کہ ان ملکوں میں کوئی فکری ارتقاء وجود میں آسکے۔ کلیت پسندانہ نظام کے تحت ٹیکنکل علوم ترقی کر سکتے ہیں، مگر فکری علوم ، جو قوموں کو امامت کا مقام دیتے ہیں، ان کی ترقی کے لئے آزاد فضا نا گزیر طور پر ضروری ہے جو اشتراکی نظام میں موجود نہیں ہوتی۔ اس کے بعد جاپان ہے۔ بلاشبہ جاپان نے صنعتی ترقی کے میدان میں معجز نما کارنامے مگر جاپان بنیادی طور پر ایک ٹیکنکل معاشرہ ہے اور مستقبل بعید تک یہ امید نہیں کہ وہ فکری حیثیت سے کوئی مقام حاصل کر سکے۔

مغربی قوموں کا انہدام ، صنعتی تہذیب کے نتائج سے مایوسی اور عمومی فکری خلا نے دین حق کے حاملین کو آج اس مقام پر کھڑا کر دیا ہے کہ اگر وہ بیدار ہو جائیں تو اسلام کو دوبارہ نوع انسان کی امامت کے مقام پر پہنچا سکتے ہیں اس اعلیٰ مقصد کے لئے جد و جہد میں جو واحد چیز رکاوٹ بن سکتی تھی، وہ جدید صنعتی دور میں وسائل کے اعتبار سے ان کا پیچھے ہو جانا ہے۔ تاہم قدرت نے تیل کے ذخائر کا تین چوتھائی حصہ ان کی زمین کے نیچے رکھ کر حیرت انگیز طور پر ان کی پس ماندگی کی تلافی کر دی ہے۔ آج مسلم دنیا ہر وہ اقتصادی قیمت ادا کر سکتی ہے جو دورِ جدید میں اسلام کے احیاء کی مؤثر جدوجہد کے لئے خدا نے اپنے حصہ کا کام کر دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کے بندے اپنے حصہ کا کام کرتے ہیں یا نہیں"

Printed page