Al-Risala · March 1977

مریخ پر زندگی کی تلاش

Al-Risala, March 1977, pp. 35–41

By Maulana Wahiduddin Khan

"بے شمار دنیاؤں کی اس وسیع کائنات میں زمین ایک انوکھا استثناء ہے"۔

خلائی جموں کی اس دریافت نے حیرت انگیز طور پر خصوصی تخلیق کے نظریہ کو صحیح ثابت کر دیا ہے جس کو ارتقا پسندوں نے سو سال پہلے رد کر دیا تھا کہتے ہیں، نظام شمسی کا ایک سیارہ ہے۔ مریخ کا فاصلہ زمین سے ۲۱ کروڑ ۵۰ لاکھ میل ہے اور اس کا قطر زمین کے مقابلہ میں تقریباً نصف ہے۔ یہ "سرخ ستارہ" قدیم ترین زمانہ سے انسان کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ نجوم میں اس کو خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ موجودہ زمانہ میں مریخ سے دل چسپی کی خاص وجہ یہ ہوئی کہ سائنس دانوں کا خیال تھا کہ مریخ کے طبعی حالات ہماری زمین سے بہت زیادہ مشابہ ہیں اور وہاں زندگی کی کچھ اقسام ضرور پائی ابتدائی مشاہدہ میں مریخ پر کچھ ایسی چیزیں نظر اور پھر مختلف مادی حالات کے تحت ارتقا کرتا ہوا موجود انواع حیات تک پہنچا۔ اسی کے ساتھ ان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ساری کائنات کا مادہ ایک ہے۔ اندر ہے، ذرے سے لے کر ستاروں تک تمام کائنات اسی سے بنی ہوئی ہے۔ اسی لئے امریکی فلکیات داں ڈاکٹر ساگن (DR. CARL SAGAN) نے انسان کو کوکی مخلوق (STARFOLK) کہا ہے۔ اب اگر زندگی ارتقا کے طبیعی قانون کے تحت بنی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ محض ایک زمینی استثناء ہو۔ اس توجیہہ کا لازمی تقاضا ہے کہ زندگی ایک کائناتی مظہر ہو۔ وہ کائنات کے تمام حصوں میں، اپنے اپنے حالات کے لحاظ سے، ارتقائی مراحل طے کرتی ہوئی نظر آئے۔ اتنی بڑی کائنات میں صرف ایک چھوٹے سے سیارہ پر زندگی ہو تو وہ ایک شعوری اور ارادی تخلیق معلوم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس زندگی اگر ساری کائنات میں پھیلی ہوئی ہو، تو جدید ذہن کے نزدیک وہ ارتقا کی تصدیق کرتی ہوئی نظر آئے گی۔ مریخ پر زندگی کی تلاش کا کم از کم فلسفیانہ محرک یہی ہے۔ ۱۸۷۷ء میں اٹلی کے ایک فلکیات داں شٹیا پر یلی (GIOVANNI SCHIAPARELLI) نے دوربین سے مریخ کا مشاہدہ کیا۔ اس کے مشاہدہ میں بعض ایسی آئین جن کو برف کا تودہ سمجھا گیا ۔ چنانچہ کہا گیا کہ برفانی تو دوں کا مطلب ہے پانی اور فضا، فضا کا مطلب ہے آکسیجن اور دونوں کا مطلب ہے زندگی ۔

اس نظر یہ کی بنیاد کسی حقیقی دریافت سے زیادہ قیاس پر رکھی گئی اور زندگی کو ایک بار تو ارمواقی چیزیں آئیں جن کو اس نے اپنی زبان میں کینائی CANALI سے تعبیر کیا۔ اس اطالوی لفظ کا انگریزی مترادف چینل (CHANNELS) ہے ۔ مگر انگریزی میں جیسا یہ خبر چھپی تو اس کا ترجمہ چینیل کے بجائے کینال (CANALS) کر دیا گیا۔ جتنا رقبہ ریڈارنگاہ کو کہتے ہیں اگر چہ کہ کنال کا لفظ انسان نیا حاصل پر مبنی، جدید شمارہ مادی نظریات کے دائرہ فرض کرتے ہیں۔ یعنی مادی اشیاء کے باہمی تعامل سے مخصوص حالات میں زندگی کا ایک ابتدائی شرارہ نکلا میں مددی کَرّہ گاہ ہوتے ہیں ۔ جب کہ یہاں فاصلہ اتنا کی بنائی ہوئی نہر کے لئے بولا جاتا ہے ۔ ترجمہ کی یہ غلطی اتنی عام ہوئی کہ لوگوں نے سمجھ لیا کہ مریخ پر واقعی انسان جیسی

مخلوق پائی جاتی ہے۔

۱۸۹۴ء میں ایک امریکی فلکیات داں پرسیول لادیل (PERCIVAL LOWELL) سے زیادہ گہرائی سے مریخ کا اس نے بتایا کہ میں نے اپنے مشاہدہ میں مریخ پر۵۰ نہری شمار کی ہیں۔ اس کے بعد اس نے ایک کتاب شائع کی جس کا نام تھا : مریخ زندگی کا مسکن: MARS AS THE ABODE OF LIFE ۱۸۹۷ء میں خیالات کا یہ قافلہ اور آگے بڑھا جبکہ برطانیہ کے سائنسی کہانیاں لکھنے والے ایچ۔ ویلز نے ایک کتاب شائع کی۔ اس کا نام تھا "دنیاؤں کی جنگ" THE WAR OF THE WORLDS اس کتاب میں برطانی مصنف نے دکھایا کہ مریخ کے باشندوں نے ہماری دنیا پر حملہ کر دیا ہے۔ یہ کہانی اتنی مقبول ہوئی کہ امریکی ریڈیو نے ۱۹۳۸ء میں اس کو نشر کیا اور اس کے فوراً بعد ہالی وڈ نے ایک فلم بنائی جس میں مریخ کے باشندوں کو عجیب و غریب قسم کے بڑے بڑے جانوروں کے روپ میں دکھایا گیا تھا۔ ۱۹۱۱ء میں امریکہ میں ایک ناول چھپی جس کا نام تھا UNDER THE MOONS OF MARS یہ کتاب کروڑوں کی تعداد میں فروخت ہو گئی۔ اس میں دکھایا گیا تھا کہ مریخ پر سرخ انسان، زرد انسان، ہر انسان وغیرہ مخلوقات پائی جاتی ہیں۔

موجودہ زمانہ میں خلائی سائنس کی ترقی نے جب اس کو ممکن بنا دیا کہ مریخ کے حالات کی تحقیق کے لئے زیاد’ دور رس تحقیقات کی جا سکیں تو نئے نئے منصوبے شروع اس کی تین خاص صورتیں یہ تھیں :

بیرونی خلا میں سگنل بھیجنا اور ان کا رد عمل معلوم قیاس یہ تھا کہ زمین سے ایک ہزار سال نور کے اندر جو ستارے واقع ہیں، ان میں کم از کم دس سیارے ایسے ہو سکتے ہیں جن میں ترقی یافتہ تہذیبیں موجود ہوں۔ وہ ہمارے سگنل کا جواب دیں۔ پہلی بار پروفیسر ڈریک (DRAKE) نے ۱۹۶۰ میں ستاروں سے مواصلات قائم کرنے کی کوشش کی۔ کائنات میں مفروضہ زندگیوں سے ربط قائم کرنے کے لئے ریڈیو اینٹینا کا رخ قریبی ستاروں کی طرف کر دیا گیا۔ میری لینڈ یونیورسٹی اور شکاگو یونیورسٹی نے ۱۹۷۲ سے ایک مشترکہ پروگرام شروع کر رکھا ہے جس کے ذریعہ گرین بینک کی رصد گاہ (مغربی ورجینیا) سے سات سو قریبی ستاروں تک مسلسل سگنل بھیج کر ان کا جواب سننے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بیرونی خلا سے آنے والے شہابئے (METEORS) حاصل کرنا اور احتیاط کے ساتھ ان کا مطالعہ کرنا کہ شاید ان پر دوسری دنیاؤں کے جراثیم لپٹے ہوئے مل جائیں۔ چاند سے لائے ہوئے ذرات اور ٹکڑوں کو بھی اسی طرح خصوصی آلات کی مدد سے دیکھا گیا ہے۔ اس مقصد کے لئے دوسرے سیاروں پر راکٹ بھیج کر واپس لائے جاتے ہیں اور بغوران کا مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ شاید ان کے اوپر کوئی کائناتی جراثومہ لپٹ کر آگیا ہو۔

تیسری صورت مریخ پر ضروری ساز و سامان سے لیس خلائی جہاز بھیجنا ہے جو وہاں کے قریبی فوٹو بھیجے اور وہاں کی مٹی کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ دے۔ اور وائکنگ دوم اسی سلسلے کے مشن تھے جنھوں نے پچھلے سال بہت زیادہ شہرت پائی۔

مریخ پر نہ زندگی کی تلاش کا جدید سلسلہ ۱۹۷۵ میں شروع ہوا جبکہ میری نیر (MARINER) نام کی خلائی مشینیں اس کی طرف بھیجی گئیں۔ ان جہتوں کا خاص مقصد قریب سے

مریخ کا فوٹو لینا تھا۔ اس کے بعد سے مسلسل امریکی اور سوویت اسپوتنک مریخ کے گرد چکر لگاتے رہے ہیں۔ وائکنگ اول پہلی انسانی مشین تھی جو جولائی ۱۹۷۶ء میں مریخ کی سطح پر اتری۔ اس کے بعد وائکنگ دوم کو ستمبر ۱۹۷۶ء میں اس پر اتارا گیا۔

وائکنگ کے لفظی معنیٰ "بحری قزاق" کے ہوتے ہیں۔ ۷۰ ملین کلومیٹر کا سفر طے کرکے یہ پیچیدہ مشین گیارہ مہینے میں مریخ پر پہنچی۔ ۹۰ دن تک کام کرنے والی اس مشین کا وزن چار ٹن تھا، اس میں تین آٹومیٹک لیبوٹریان تھیں اور مجموعی طور پر اس کے اندر کل ۹۲۵۰۰۰ پرزے لگے ہوئے تھے۔ زمین پر کسی لیبوٹری میں جتنے آلات ہوتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ آلات وائکنگ کی لیبوٹری میں اس کے باوجود وہ اتنی چھوٹی تھی کہ کوئی شخص اس پوری لیبوٹری کو بغل میں دبا کر لے جاسکتا تھا۔ کی تیاری پر ایک سو ملین ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ بعد بجٹ میں اتنی رقم نہ رہی کہ اس میں فلیش لائٹ نصب کی جاسکے، کیونکہ وہ بہت قیمتی تھی۔ چنانچہ وائکنگ کو فلیش لائٹ کے بغیر بھیجا گیا۔ امریکی سائنس دانوں نے اس پر قناعت کی کہ وہ صرف دن کے وقت مریخ کی تصویریں حاصل کریں، رات کو اس کا سلسلہ بند رکھیں۔ کے دو قیمتی کیمرے اتنے طاقت ور تھے کہ وہ مریخ پر ایک چونٹی سے لے کر زرافہ تک کے اجسام کے مکمل فوٹو لے

وائکنگ کی ہر چیز بے حد پیچیدہ حساب سے تعلق مثال کے طور پر اس کو مریخ پر اتارنے کے لئے جو حسابی اندازہ کرنا تھا، اگر اس میں چند میٹر کی بھی غلطی ہوجائے، تو وہ مریخ تک پہنچ کر ہزار کلو میٹر کی غلطی کی شکل اختیار کر لیتی۔ وائکنگ کو زمین سے ریڈیائی لہروں کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا تھا۔ یہ نظام اتنا زبردست تھا کہ ۲۵ جولائی کو جب کہ مریخ پر اترنے کے بعد وائکنگ اول کا افت لمبا باز و جام ہو گیا ، جس کا کام یہ تھا کہ مریخ کی مٹی اٹھا کر اس کو اپنی لیپوریٹری میں ڈالے تو پسا ڈینا کے زمینی مرکز سے ریڈیائی لہروں کے ذریعہ اس کی مشینی غلطی درست کردی گئی اور بازو دوبار ه کھل کر اپنا کام کرنے لگا۔ اسی طرح وائکنگ کے اترنے کے لئے ابتداء جو جگہ طے کی گئی تھی، جب اس کی بھیجی ہوئی تصویروں سے معلوم ہوا کہ وہاں گیارہ میل قطر کا ایک گہرا غار ہے، تو وائکنگ کو مقررہ وقت پر اترنے سے روک دیا گیا۔ مزید مطالعہ کے بعد جب دوسری مناسب جگہ متعین ہوگئی تو اس کو اترنے کا "حکم" دیا گیا۔ وائکنگ کو مریخ پر زندگی کی تلاش کے سلسلے میں بہت سے کام انجام دینا تھے۔ اس میں ایسے آلات لگے ہوئے تھے جو مریخ کی سطح پر ایکسریز کی بمباری کر سکیں۔ اس کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ مریخ کی سطح کا مادہ کن چیزوں کا مرکب ہے۔ ایک اور آلہ وہاں کے موسمیاتی اعداد و شمار جمع کرنے کے لئے رکھا گیا تھا۔ اس کی کیمسٹری لیبوریٹری کا مقصد یہ تھا کہ وہ کاربن مالیکیول کی تلاش کرے اور یہ پتہ کرے کہ مریخ پر کیا آرگنک مالیکیول کی شکل میں موجود ہیں۔ یہ آلہ اتنا حساس تھا کہ آرگنک مٹیریل اگر ایک ملین میں ایک کی نسبت سے ہو، تب ہی وہ اس کو پکڑ سکتا تھا۔ وائکنگ میں لگے ہوئے کیمرے تین ابعادی تصویریں کھینچ سکتے تھے۔ کوئی جاندار ، چھوٹا یا بڑا، ان کے سامنے سے گزرے تو وہ ان کی گرفت سے بچ نہیں

Rilles or channels that might have been formed as fiss ures split by the uplifting plateau under tension from heat processes below the Martian crust. The letter "B" or per aps the figure "8" appears to have been etched into the Mars rock at the left edge of this picture taken on July 24 by the Viking I Lander. It is believed to be an illusion caused by weathering processes, and the angle of the sun as it illuminated the patch for the spacecraft camera.

وائکنگ نے مریخ سے تصویریں بھیجنی شروع کیں مٹی کے ہر ٹکڑے میں بے شمار تعداد میں خورد بینی کیڑے توپساڈینا (امریکہ) میں بیٹھے ہوئے سائنس دانوں کا جو شاد موجود رہتے ہیں۔ اگر مٹی کے کسی ٹکڑے کو آگ پر پکایا جائے خروش بہت بڑھ گیا۔ ان ابتدائی تصویروں میں انھیں کچھ ایسی چیزیں ملیں جو مریخ پر زندہ اشیاء کی موجودگی کا ثبوت دے رہی تھیں۔ ۱۸ اگست ۱۹۷۹ء کو کچھ تصویریں موصول ہوئیں جن میں نظارہ ایسا منظر تھا جو جوتے کے کھیت کے ہوائی فوٹو میں ہوتا ہے۔ دھاریاں اتنی سیدھی تھیں کہ سائنس دانوں کے لئے یہ یقین کرنا مشکل ہو گیا کہ یہ محض فطری اسباب سے بن سکتی ہیں۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ ان کا کوئی تعلق ذی شعور مخلوق سے نہیں ہے۔ ہی ہیں جیسے صحرا میں ہواؤں کے ذریعہ ریت کے اندر سیدھی دھاریاں بن جاتی ہیں۔

اسی طرح وائکنگ نے کچھ ایسی تصویریں بھیجیں جن میں انسانی حروف اور گنتیاں نظر آرہی تھیں مثلاً 8 G B وغیرہ۔ اس سے سمجھ لیا گیا کہ مریخ پر انسان جیسی کوئی مخلوق ہے اور اس نے وہاں کی چٹانوں پر یہ حروف اور گنتیاں لکھ رکھی ہیں، مگر بعد کو معلوم ہوا کہ یہ محض نظر کا دھوکا تھا۔ اس قسم کے تمام نقوش صرف سایہ کا کرشمہ ثابت ہوئے۔ اس سلسلے میں ایک تصویر ایسی بھی موصول ہوئی جس میں صاف طور پر انسانی چہرہ دکھائی دے رہا تھا۔ اس میں آنکھ، ناک سب انسان جیسے تھے۔ مگر بعد کی تحقیق میں وہ بھی محض سایہ ثابت ہوا۔ مریخ پر زندگی کی تلاش کے سلسلے میں وائکنگ کا ایک خاص کام یہ تھا کہ وہ اپنے اندر سے دس فٹ کا بازو نکال کر مریخ کی مٹی کھودے اور اس کو اپنی لیپورٹری میں رکھ کر پکچائے۔ اس کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ مریخ کی سطح پر کاربن پر مبنی آرگینک کیپاؤنڈ ہے یا نہیں۔ تو یہ کیڑے جل کر کاربن ڈائی آکسائڈ خارج کریں گے جو اس بات کا ثبوت ہوگا کہ اس کے اندر زندہ جسم یا لف و دیگر آرگینک میٹریل موجود تھا۔

وائکنگ کی لیپورٹری کے ذریعہ اسی زمینی تجربہ کو مریخ پر دہرایا گیا۔ مریخ کی مٹی کو ادلاً ۵۰ ڈگری سنٹی گریڈ اور اس کے بعد ۲۰۰ ڈگری سنٹی گریڈ تک گرم کیا گیا۔ مگر اس کے اندر کسی زندہ چیز کا ثبوت نہیں ملا۔ مریخ کی مٹی میں چھوٹے سے چھوٹا خورد بینی کیڑا یا کائی کے مانند بھی کوئی ہریالی ہوتی تو اس عمل سے اس کا پتہ چل جاتا۔

شروع میں جب مریخ کی مٹی لیپورٹری کی بھٹی میں ڈالی گئی جو سورج کی حرارت سے گرمی لے کر اس کو پکاتی تھی تو کسی قدر آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج کا مگر بعد کو معلوم ہوا کہ وہ محض کیمیکل ری ایکشن کی وجہ سے تھا نہ کہ کسی قسم کی زندگی کی وجہ سے۔ کی لیپورٹری میں زندگی کی جانچ کے تین مختلف سائنسی طریقے اختیار کئے گئے، مگر آرگینک کمپاؤنڈ جو زندگی کا بلاک بلاک ہے، مریخ پر دستیاب نہ ہو سکا۔

اسی کے ساتھ وائکنگ میں دوسرے ایسے آلات تھے جو حیاتیاتی اجسام کی صفتیں مثلاً نشو و نما، نظام ہضم نظام تنفس کا انتہائی باریکی کے ساتھ پتہ لگا سکتے تھے، مگر ان آلات نے بھی آٹھ ہفتے کی تلاش کے باجود ایسی کوئی اطلاع نہ دی جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ مریخ پر ان خصوصیات کو رکھنے والی کوئی چھوٹی بڑی مخلوق پائی جاتی ہے۔

مریخ کی تحقیق یہ پتہ چلانے کے لئے تھی کہ کیا زمین

سے باہر کی دنیاؤں میں زندگی موجود ہے۔ مگر ان تحقیقات نے مریخ پر زندگی کے بارے میں جدید انسان کی رجائیت کو سخت دھکا پہنچایا ہے۔ کیونکہ اس سے صرف یہ ثابت ہوا ہے کہ مریخ پر زندگی کم از کم اس وقت نا ممکن ہے۔ فضا میں پانی کے بخارات کی بہت کم مقدار، اور اس کی سطح پر سیال پانی کا فقدان ایسی باتیں ہیں جو زندہ نظام جسمانی کے لئے اس کو نا اہل بنا دیتی ہیں۔ شروع میں جب مریخ پر آکسیجن کا انکشاف ہوا تو فوراً مریخ پر زندگی کے بارے میں پر امید قیاس آرائیاں ہونے لگیں۔ مگر بالآخر ثابت ہوا کہ آکسیجن کی بہت تھوڑی مقدار جو بظاہر مریخ پر پائی جاتی ہے وہ اپنے ماخذ کے اعتبار سے غیر حیاتیاتی ہے۔ اس قسم کے بیانات کہ مریخ کی فضا میں نائٹروجن کی موجودگی، سیارہ پر زندگی کے موجود ہونے کی توثیق کر سکتی ہے “ ایک روسی سائنس داں لیف موخن لکھتا ہے ” مجھے حد سے زیادہ عاجلانہ دکھائی دیتی ہے۔ کیونکہ قمری چٹانوں کے گیس کے حامل اجزار کا مطالعہ کرنے پر بھی اسی طرح نائٹروجن دریافت ہوئی تھی “ یہ بالکل ممکن ہے کہ وہاں زندگی کا کوئی وجود نہ ہو اور مریخ کی مٹی اور اس کی فضا کے بارے میں جو کچھ معلوم کیا گیا ہے، وہ سب ایک غیر معمولی رد عمل کا نتیجہ ہو۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ مریخ کی سطح پر سخت قسم کی شمسی الٹرا وائلٹ شعاع افشانی نے مریخ کی مٹی کی جذب کرنے والی صلاحیتوں کو بدل دیا ہو اور جو کچھ آج ہمارے سامنے ہے وہ بخارات بننے کے سلسلہ ہائے عمل کا نتیجہ ہو۔

فلکی طبیعیات کے مشہور روسی عالم پروفیسر جوزف شنکلووسکی (JOSSIF SHKLOVSKY) چند سال پہلے تک اس نظریہ کے زبردست حامی تھے کہ زمین کے علاوہ کائنات کے دوسرے مقامات پر بھی ذہین زندگی انٹیلیجنٹ لائف ) مگر اکتوبر ۱۹۷۹ کے آخر میں سوویت اکیڈمی آف سائنس کے مجلہ میں مضمون لکھتے ہوئے انھوں نے اپنے اس خیال سے رجوع کر لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ذہین زندگی کا وجود صرف زمین پر ہے۔ اس کے علاوہ کائنات کے کسی دوسرے مقام پر ہمارے جیسی ذہین زندگی نہیں پائی جاتی، ذہین زندگی اگر ہماری کہکشاں میں یاستاروں کے کسی اور نظام میں موجود ہوتی تو خلائی سائنس کے ماہرین اب تک اس کا کوئی متعین ثبوت دریافت کر چکے انھوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں خلائی سنگل یا اڑن طشتریوں وغیرہ کے مفروضات کے حق میں کوئی علمی بنیاد موجود نہیں ۔

اگر انسان نہیں تو اس کی روبوٹ مشین بہرحال مریخ پر پہنچ چکی ہے۔ مگر اس نے پچھلی تمام امیدوں کے خلاف یہ بتایا کہ مریخ پر خشک چٹانوں کے سوا اور کچھ نہیں۔ سائنس فکشن لکھنے والوں کے تمام قیاسات غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ تاہم انھوں نے ہمت نہیں ہاری۔ (KAMPELMAN) نے لکھا کہ مریخ کے جس حصہ پر وائکنگ اترا، وہ اس وقت مریخ کا گرم علاقہ تھا، ظاہر ہے کہ مریخ کے باشندے ان دنوں نسبتاً سرد علاقوں میں منتقل ہو چکے ہوں گے جہاں ان کے لئے پارک اور آرام گاہیں ہیں ۔ ایک اطالوی ادیب باسکولو (RENUCCIO BOSCOLO) نے کہا: وائکنگ نے مریخ کی ایک قدیم تہذیب کے کھنڈرات کی تصویر بھیجی تھی مگر ناسا کے افسروں نے اس کو چھپا دیا۔ رے بریڈبری (RAY BRADBURY) نے کہا: مریخ کے باشندے وائکنگ کی گرفت میں کیسے آسکتے تھے کیونکہ وہ گونا قابل مشاہدہ (INVISIBLE) مخلوق ہیں، وغیرہ

بچوں کا گھروند اجتنی دیر میں بنتا ہے اس سے بھی کم مدت میں زمیں بوس ہو جاتا ہے ایک طالب علم کے سر پرست کالج کے پرنسپل سے ملے ۔ "آپ لوگوں نے جو تعلیمی نصاب بنایا ہے وہ بڑا طویل ہے۔ طالب علم کی عمر کا بڑا حصہ صرف پڑھنے میں گزر جاتا ہے " انھوں نے کہا۔

" اس کا حل تو بہت آسان ہے " پرنسپل نے " آپ مختصر نصاب بھی بنا سکتے ہیں۔ مدت کا تعلق اس بات سے ہے کہ آپ طالب علم کے اندر کس درجہ کی لیاقت دیکھنا چاہتے ہیں۔ کو شاہ بلوط (Oak) کا درخت تیار کرنے میں سو برس لگ جاتے ہیں مگر جب وہ لکڑی اگانا چاہتی ہے تو اس کے لیے صرف چند مہینے درکار ہوتے ہیں۔ معمولی قسم کا علمی معیار چاہتے ہوں تو چند سال کی تعلیم بھی کافی ہو سکتی ہے مگر اعلیٰ تعلیم یافتہ بنانے کے لیے تو بہرحال زیادہ وقت دینا پڑے گا۔

یہی حال قومی تعمیر کا بھی ہے۔ اگر آپ ٹھوس اور دیر پا تعمیر چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو صبر آزما انتظار کے مرحلہ سے گزرنا ہوگا اور لمبے عرصہ تک مسلسل محنت کرنی پڑے گی۔ لیکن اگر آپ بچوں کا گھروندہ بنانا چاہتے ہوں تو پھر صبح شام میں ایسا گھروندہ بن کر کھڑا ہوسکتا البتہ ایسی حالت میں آپ کو اس حادثہ کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے کہ جتنی دیر میں آپ کا گھروندہ بن کر کھڑا ہوا ہے اس سے بھی کم مدت میں وہ دوبارہ زمیں بوس ہو جائے۔

ہوائیں چلتی ہیں تو گرد و غبار اٹھ کر فضا میں اڑنے لگتے ہیں مگر گرد و غبار کی پرواز کیلئے آخری طور پر انجام مقدر ہے، وہ یہ کہ دوبارہ وہ زمین پر گریں اور قدموں کے نیچے پامال ہونے کے لیے باقی رہ جائیں۔ مگر یہی ہوائیں پانی کے قطروں کو بھی پرواز پر آمادہ کرتی ہیں۔ مگر یہاں معاملہ بالکل مختلف ہوتا ہے، قطرے فضا میں جاکر بادل بنتے ہیں، پھر وہ بارش کی شکل میں زمین پر برستے ہیں۔ اس کے بعد نالوں اور ندیوں سے ہوتے ہوئے سمندر میں پہنچتے ہیں اور بالآخر اس عظیم آبی چادر کا حصہ بن جاتے ہیں جو دائمی طور پر پورے کرۂ ارض کو لپیٹے ہوئے ہے۔

ایسا ہی کچھ معاملہ ہماری سرگرمیوں کا بھی ہے۔ سطحی اور غیر دانش مندانہ سرگرمیاں انسانوں کو صرف گڑھے میں گرانے کا باعث ہوتی ہیں اور جن سرگرمیوں کی بنیاد گہری بصیرت پر ہوتی ہے وہ آدمی کو ترقی کے آسمان پر پہنچا دیتی ہیں۔ پچھلے ڈیڑھ سو برس کے درمیان ہم نے اس ملک میں قومی تعمیر کے نام سے زبردست ہنگامہ آرائی کی ہے مگر یہ کوشتیں اس انجام پر ختم ہوئی ہیں کہ آج ہم صرف گردِ راہ بن کر انسانی قافلوں کے قدموں کے نیچے پامال ہونے کے لیے پڑے حالانکہ ہم کو جدوجہد کا جو طویل موقع ملا اور اسمیں جو سنہری امکانات ہمارے لیے چھپے ہوۓ تھے اگر ہم نے دانش مندی کے ساتھ انھیں استعمال کیا ہوتا تو آج ہم زمین پر چھائے ہوئے ہوتے۔ فریاد و ماتم کے بجائے ہم فیصلہ کرنے والے کی پوزیشن میں ہوتے۔ ہمارے لیے آسمانی پرواز بھی مقدر تھی مگر ہماری بے بصیرتی کی وجہ سے صرف زمین کی پامالی کا انجام ہمارے حصے میں آیا ہے۔

Printed page