Al-Risala · March 1977

شام میں قدیم تہذیب کی دریافت

Al-Risala, March 1977, pp. 42–43

By Maulana Wahiduddin Khan

روم اگر ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو اور اچانک اپنی پوری تاریخ کے ساتھ ظاہر ہو جائے تو مورخین کے لئے بلا شبہ یہ انتہائی حیرت انگیز واقعہ ڈاکٹر ڈیوڈ نوئل فریڈمین DAVID NOEL FREEDMAN کے نزدیک ایسا ہی معاملہ اس قدیم تہذیب کا ہے جس کے آثار شام میں کھدائی سے برآمد ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر فریڈمین مشی گان یونیورسٹی میں سبیکل آرکیا لوجی کے اُستاد ہیں اور انھوں نے روم یونیورسٹی کے ماہرینِ علم الآثار کی اس ٹیم کے ساتھ کام کیا تھا جس نے شام کے تل مردیخ میں کھدائی کر کے اس چھپی ہوئی تاریخ کو برآمد کیا ہے۔

یہ واقعہ ستمبر ۱۹۷۵ء میں دنیا کے علم میں آیا۔ اس کھدائی میں سطح زمین سے چار میٹر نیچے ایک قدیم سمیری ، جوکہ ایک غیر سامی نسل سے تعلق رکھتے ہیں ، ۳۰۰۰ ق م میسوپوٹامیا کے جنوب میں آباد تھے۔ قدیم خط مسماری کو ترقی دے کر انھوں نے وہ خط بنایاجس کو خطِ میخنی (CUNEI FORM) کہا جاتا ہے۔ ابلہ کی تختیاں اسی سے ملتے جلتے خط میں لکھی ہوئی پائی گئی ہیں ۔ تختیوں کی ۸۰ فی صد تعداد مالی معاہدات سے تعلق رکھتی ہے۔ ان لوگوں کی تجارت آس پاس کے ملکوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ بعض تختیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ قبرص میں تانبا برآمد کرتے تھے اس کے علاوہ بین الاقوامی معاہدے ، فوجی رودادیں ، مذہبی تحریریں ، تخلیق کی کہانی اور عظیم طوفان “ کی باتیں تختیوں میں درج ہیں۔ ان میں بار بار پیغمبروں کے نام بھی آتے ہیں ، مثلاً ابراہیم ، اسماعیل، اسرائیل، شاہی محل کے کھنڈرات برآمد ہوتے ہیں جس میں ۱۵ ہزار مٹی کی تختیاں ملی ہیں۔ ان تختیوں کا حجم ہاتھ کی ہتھیلی یا اس سے کچھ بڑا ہے۔ ان تختیوں پر قدیم خط میں کتبات لکھے ہوئے ہیں جن کو جیوانی پیٹی ناٹو- GIOVA NNI PETTINATO نے پڑھا ہے جو قدیم زبانوں کے یہ تختیاں ۵۰ سال کی مدت سے تعلق رکھتی ہیں جو ۲۴۰۰ ق م سے ۲۲۵۰ ق م تک پھیلا ہوا ہے۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم شامی شہر ابلا ایک عظیم ترقی یافتہ سلطنت کا مرکز تھا جس کا علاقہ شمال میں بحر احمر سے لے کر موجودہ ترکی تک پھیلا ہوا تھا، مشرق میں اس کی سرحدیں میسوپوٹامیہ (عراق) سے ملتی تھیں۔

میسوپوٹامیا والوں نے ۲۲۵۰ ق م میں ابلاہ سلطنت پر حملہ کیا اور اس کے شاہی محل میں آگ اس کے نتیجہ میں محل تباہ ہو گیا۔ تاہم مٹی کی پکائی ہوئی تختیاں آگ سے محفوظ رہیں۔ اگر چہ ان میں سے کچھ تڑخ کر ٹوٹ گئیں ۔ اس کے بعد عرصہ تک ہوائیں ، گرد کی تہیں ان کھنڈرات پر چڑھاتی رہیں چند صدیوں کے بعد یہاں ریت اور مٹی کا اونچا ٹیلہ تختیاں اس کے نیچے محفوظ رہیں۔ ان تختیوں کی مالیت کا اندازہ پندرہ ملین ڈالر ہے۔

تختیوں کے ذریعہ جو ملکی قوانین معلوم ہوئیں

ان سے پتہ چلتا ہے کہ اُن کے یہاں زنان کی سزا موت تھی۔

Printed page