"یہ وہ شہر ہے جو انسان کی پیدائش سے لے کر اب
Al-Risala, March 1977, pp. 43–44
By Maulana Wahiduddin Khan
تک کبھی مفتوح نہیں ہوا تھا۔ " (ڈیلی ٹیلی گراف، ۲۱ اگست ۱۹۷۹ء) دین نہ سیاسی مقابلہ آرائی کا نام ہے نہ فراری عملیات کا انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اوّل کے درمیان پورے سو سال تک مسلمانوں کے اوپر سیاست کا جنون سوار رہا۔ نہ صرف دنیا دار لیڈر بلکہ مقدس بزرگ بھی سیاست کے میدان میں اس طرح ٹوٹ پڑے گویا اس سے بڑا کوئی کام ہی نہیں جس کے لئے وہ متحرک ہوں حتی کہ کچھ پر جوش داعیوں نے اسلام کی ایسی تشریح کر ڈالی جیسے اسلام نام ہی ہے اسلامی سیاست کا ۔ یہ بے معنی سیاست جب اس بے معنی انجام کو پہنچ گئی جہاں اسے پہنچنا تھا تو اب مسلمانوں کا پینڈولم دوسری انتہا کی طرف جا رہا ہے۔ یہ ہے ٹوٹے ٹوٹکے کا مذہب۔ "مجدوں والے اعمال میں ایسے پراسرار اوصاف تلاش کر لئے گئے ہیں کہ چھت کے سایہ میں بیٹھ کر اعلی کے بیج پر الفاظ شماری کرو اور مقابلہ کا میدان خود بخود سر ہوتا چلا جائے گا۔
مگر ان دونوں میں سے کوئی بھی وہ دین نہیں ہے جس کو پیغمبر آخر الزماں خدا کی طرف سے لائے تھے اور جو قرآن کی صورت میں اب بھی پوری طرح محفوظ ہے۔ دین نہ سیاسی مقابلہ آرائی کا نام ہے اور نہ فراری عملیات کا۔ دین نام ہے دنیا میں رہ کر آخرت کے لئے عمل کر لینے کا۔ دین ایک ایسی زندگی ہے جسے لو آج کی زبان میں AKHIRAT ORIENTED LIFE کہا جا سکتا ہے۔ یعنی آخرت پسندانہ زندگی۔ ایک ایسی زندگی جس میں تمام سرگرمیوں کا رخ آخرت کی طرف ہو۔
ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم آخرت کے مسافر ہیں۔ ہماری موجودہ زندگی ، ہماری اصل زندگی کا بہت ہی چھوٹا حصہ ہے۔ ہم بہت جلد اپنی دائمی زندگی کے مرحلہ میں داخل ہونے والے ہیں۔ اس حقیقت واقعہ کو یاد رکھنا اور دنیا کے نفع نقصان کے بجائے آخرت کے نفع نقصان کو سامنے رکھ کر زندگی گذارنا اسی کا نام دین یا اسلامی زندگی ہے۔
مسلمان کا کام یہ ہے کہ خود اسی راہ کو اپنائے اور دوسروں کو اسی راستہ کی طرف دعوت دے۔
سب سے بڑا اعتماد خدا پر اعتماد ہے دوسری جنگِ عظیم میں جب اتحادی طاقتوں نے بالآخر جرمنی کو شکست دیدی تو تمام نازی لیڈروں کو اسی برلن میں پھانسی کے تختہ پر لٹکا دیا گیا جہاں وہ ساری دنیا کے قتل کا منصوبہ بنایا کرتے تھے۔ یہ واقعہ اکتوبر ۱۹۴۶ء کا ہے۔ ہٹلر اور گورنگ نے تو پہلے ہی خودکشی کرلی تھی اس کے بعد ربن ٹراپ، کیٹل، کیلٹن برنر، الفریڈ روزن برگ، ہنس فرینک، دلہم فرک جولیوس سائل، جوڈل، مسس انکورائٹ اور دوسرے نازی لیڈر جو زندہ بچے تھے، ایک ایک کرکے ختم کر دیئے گئے۔ یہ وہ لیڈر تھے جنھوں نے چالیس لاکھ یہودیوں کو موت کے گھاٹ اُتاریا تھا اور ان کی املاک پر قبضہ کر لیا تھا۔ انھوں نے ایک ایسی خونی جنگ چھیڑی تھی جس میں ان کے مفروضہ دشمنوں کے علاوہ خود جرمن قوم کے ۲۰ لاکھ سپاہی کام آئے۔ انھوں نے لاکھوں انسانوں کو سیگار کیمپوں (CONCENTRATION CAMP) میں جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے کے لیے مجبور کر دیا ان کی درندگی کا یہ عالم تھا کہ اپنے ملک کے بوڑھے، معذور اور بیمار لوگوں کو "جرمنی کے لیے بے فائدہ" قرار دے کر گولی سے اڑا دیتے۔ مقتول بچوں، لاشوں سے اٹے ہوئے گڑھوں اور بیواؤں اور یتیموں کے غول دیکھ کر بھی ان کا پتھر جیسا دل پسینہ نہیں جاتا تھا۔
مگر شکست کے بعد ان کا یہ حال ہوا کہ جب وہ پھانسی کے تختے کے سامنے لائے گئے تو ان کے چہرے زرد تھے، ان کی ٹانگیں لڑکھڑا رہی تھیں، وہ کچھ بولنا چاہتے تو معلوم ہوتا کہ زبان ان کا ساتھ نہیں دے رہی ہے۔ جس بہادری کا انحصار مادی سہارے پر ہو، وہ اس وقت بزدلی میں تبدیل ہو جاتی ہے جب مادی سہارا چھن جائے لیڈرگویا ئیکو کھو بیٹھے تھے. جو دوسروں کی زندگیوں سے کھیلتے تھے، وہ اپنے انجام کو دیکھ کر پاگل ہو گئے تھے۔ جس بہادری کا انحصار صرف مادی سہارے پر ہو، وہ اس وقت بزدلی میں تبدیل ہو جاتی ہے جب مادی سہارا اس سے چھین جائے۔ البتہ جس کا اعتماد خدا کے لازوال پر ہو، وہ ہر حال میں شجاعت وعزمیت کی چٹان بنا رہتا ہے، خواہ مادی سہارے اس کا ساتھ دے رہے ہوں یا انھوں نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہو۔
مسلمان اس نبی کی امت ہیں جس نے غار ثور میں بیٹھ کر اس وقت لا تحزن ان اللہ معنا کا سبق دیا جبکہ سارے مادی سہارے اس سے چھین چکے تھے اور طاقتور دشمن قتل کی مکمل تیاری کے ساتھ عین غار کے دہانے پر کھڑا ہوا تھا۔ اگر خدا کی مدد کا یہ یقین دلوں میں زندہ ہو جائے تو کبھی آپ مایوسی کا شکار نہیں ہو سکتے۔ قاتلوں اور غارت گروں کے ہجوم سے بھی آپ اس طرح زندہ سلامت نکل آ سکتے ہیں۔ جیسے وہاں کسی کا وجود ہی نہیں تھا۔