یہ علوم کیسے بنے
Al-Risala, March 1977, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام جب جزیرہ نمائے عرب سے نکل کر اطراف کے علاقوں میں پھیلا تو اس کے ساتھ نئے نئے مسائل بھی پیدا ہوئے۔ عجمیت ہر طرف سے اسلام پر حملہ آور اس وقت انھوں نے قرآن کی زبان کو محفوظ رکھنے کے لئے نحو، اس کے حل مشکلات کے لئے تفسیر، اس سے استنباط احکام کے لئے فقہ مرتب کی۔ حدیث کے تلف ہونے اور اس میں وضّعی احادیث کے مل جاتے کے خطرہ کی وجہ سے انھوں نے احادیث کو مدون کیا اور اس سے متعلق فنون وضع کئے ۔
اسلام کے پھیلاؤ کے ساتھ عربی زبان بھی پھیل اب وہ حجاز و نجد کے قصبات سے نکل کر بصرہ، کوفہ، دمشق، بغداد، قرطبہ اور مصر جیسے متمدن علاقوں کی زبان بن گئی۔ ظاہر ہے کہ دوسری قوموں کو عربی پر وہ قدرت حاصل نہ تھی جو عربوں کو ہوسکتی تھی، اختلاط کے نتیجہ میں ایک نئی زبان بننے لگی جو خامیوں اور غلطیوں سے کھیری ہوئی کھتی۔ صدی ہجری کے آخر تک اگرچہ عرب دیہات کی زبان اپنی خالص حالت پر موجود رہی مگر شہروں کی زبانیں بدل بعد کو یہ بگاڑ عام ہو گیا مسلمانوں کو خطرہ ہوا کہ کہیں قرآن کی زبان بھی اس سے متاثر نہ ہو جائے ۔ نے اس کی حفاظت کے لئے نحو وصرف کے قواعد بنائے ۔ اس کی عبارتوں پر اعراب اور نقطے لگائے ۔ اس سے یہ فائدہ تو ہوا کہ کتابی زبان محفوظ رہ گئی۔ مگر بول چال کی زبان کی اصلاح نہ ہوسکی ۔ بالآخر عربی زبان کے دو حصے ہوگئے ۔ ایک تحریری کی ادبی زبان، دوسری بول چال کی عوامی زبان۔ تقسیم آج تک بلاد عرب میں جاری ہے ۔
عربی نحو کے قواعد مرتب کرنے والا سب سے پہلا شخص ابو الاسود دئلی (م ۶۹ھ) ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ابتداءً جب اس نے کوفہ کے گورنر زیاد سے اس فن کو مرتب کرنے کی اجازت مانگی تو اس نے اجازت اس کے بعد یہ واقعہ ہوا کہ ایک شخص زیاد کے پاس آیا اور گفتگو کے دوران کہا: توفی ابانا وترك بنون (صحیح جملہ یوں ہوگا : توفی ابو نا ترکت بنین) اب زیاد کو احساس ہوا اور اس نے ابو الاسود کو صرف و نحو کے قواعد مرتب کرنے کی اجازت دے دی۔ ابو الاسود دئی سریانی زبان جانتا تھا اور اس زبان کی نحو عربی سے قبل مرتب ہو چکی تھی۔ اس کی پیروی کرتے ہوئے اس نے بھی عربی نحو کو سریانی نحو کے قواعد پر مرتب کیا۔
قید رحمت ثابت ہوئی ابو ریحان ابن احمد البیرونی خوارزم (موجودہ خیوا) میں پیدا ہوا۔ کے دربار سے وابستہ تھا۔ ۱۰۱۷ میں جب محمود غزنوی نے خوارزم میں حکمران نسل کو ختم کیا تو البیرونی کو بھی اس نے حراست میں لے لیا اور اس کو غزنہ میں رہنے پر مجبور کر دیا۔ یہ حراست البیرونی کے لئے نہایت مفید ثابت ہوئی۔ غزنہ میں اس وقت سنسکرت کے علماء موجود تھے۔ ان سے سنسکرت زبان سیکھنا شروع کی اور سنسکرت کی کلاسیکل کتا ہیں پڑھ ڈالیں۔ اس کی یہی کوششیں بعد کو اس کی مشہور کتاب "تحقیق الہند" کی شکل میں ظاہر ہوئیں۔