Al-Risala · March 1977

اس میں آپ کے لئے سبق ہے

Al-Risala, March 1977, pp. 46–47

By Maulana Wahiduddin Khan

ابتدائی اسلامی دور کے شعرا میں تین سب زیادہ مشہور ہیں: جریر، فرزدق اور اخطل۔ جریر (م ۱۱۰ھ) اور فرزدق (۱۱۰ ھ) دونوں ایک دوسرے کی ہجو کیا کرتے مثلاً فرزدق نے کہا:

اس کا قصہ یہ ہے کہ جریر بن عطیہ یمامہ میں پیدا ہوا۔ طبیعت کے رجحان اور ماحول کے اثر سے شعر و شاعری شروع کر دی ۔ اس کو معلوم ہوا کہ بصرہ میں شاعروں کی بڑی قدر ہے۔ وہ وہاں پہنچا ۔ اس نے دیکھا کہ فرزدق اپنی شاعری کی بدولت بہت بلند مقام حاصل کئے ہوئے ہے ۔ فرزدق کی خوش حالی اور اس کی قدر و منزلت نے اس کو احلا منا تزن الجبال رزاتة وتخالنا جنا اذا ما نجهد ہماری عقلیں پہاڑوں کے برابر وزنی ہیں اور جب ہم بگاڑ پر مائل ہو جائیں تو تم ہم کو جن خیال کرو گے۔ جریر نے جواب دیا :

ابلغ بنی وقبان ان حلومهم خفت فلا یزنون حبة خردل بنی وقبان کو بتا دو کہ ان کی عقلیں ہلکی ہو گئیں اور وہ رائی کے برابر بھی وزنی نہیں۔

حیرت میں ڈال دیا، اگر چہ دونوں تمیمی تھے۔ تاہم جریر دل ہی دل میں اس سے حسد کرنے لگا۔ مرید کا بازار جریر اور فرزند وق کے فخر یہ قصائد اور ہجویہ نظموں کا اکھاڑ ابن گیا دونوں ایک دوسرے کی بحر میں قصائد لکھتے جو " نقائض " کے نام سے مشہور ہوئے۔ تاہم جب عمر کا بالکل آخری حصہ آیا تو دونوں مقابلہ آرائی کو چھوڑ کر عبادت میں مشغول ہو گئے۔ آدمی جب کسی مشغلہ کو اختیار کرتا ہے تو خواہ اس کا محرک جو بھی ہو دھیرے دھیرے وہ اس کی طبیعت بن جاتی ہے اور اس کے اقوال وافعال اسی کے سانچہ یہ ایک سادہ سی مثال ہے۔ ورنہ ان کی ہجویات خاص طور پر فرزدق کی ، اتنی زیادہ عیاں ہیں کہ ان کو نقل بھی نہیں جریر ایک مرتبہ خلیفہ ولید بن عبد الملک کے دربار وہاں عدی بن رفاع عمالی بیٹھے ہوئے تھے۔ حر کے سلسلے میں یہ قصہ مشہور ہے (مزید دیکھیے اس کا ایک اور پہلو جو "دلّی کی سیر" مترجمہ "ڈاکٹر شاکر" زماں ۲۴ اگست ۱۹۵۴ء) جریر کے سلسلہ میں یہ قصہ مشہور ہے کہ اس کی ماں نے ایام حمل میں خواب دیکھا کہ اس کے اندر سے ایک رسی نکلی اور لوگوں کے اوپر کوودنے لگی اور ایک ایک کا گلا جب اس نے اپنے خواب کی تعبیر معلوم کی تو بتانے والوں نے بتلایا کہ تجھ سے ایک لڑکا پیدا ہوگا جو لوگوں کی ہجو کیا کرے گا اور ان کے لئے ایک آفت کا باعث ہوگا۔ اسی لئے لڑکے کا نام جریر رکھا گیا جس کے معنی عربی زبان میں رسیا کر کے آتے ہیں ۔

نے جریر سے پوچھا : ”ان کو پہچانتے ہو؟ “ جریر نے کہا : ”اے امیر المؤمنین نہیں! “ خلیفہ نے بتایا کہ یہ عاملہ خاندان کے یہ سن کر برجستہ جریر کی زبان سے نکلا : ”وہی عاملہ جس کے بارہ میں اللہ فرماتا ہے: عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تُصْلَى نَاراً حَامِيَةً (بہت سے چہرے اس دن خستہ ہوں گے، بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے ، غاشیہ ۔ ۴) اس کے بعد ایک بپھرا ہوا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جریر اور عدی کے درمیان دشمنی شروع ہو گئی اور دونوں خدا کے رسول ﷺ کے خلاف رہی ہے ہو رہے ہیں۔

دور معاصر شعرا کے درمیان ہجو گوئی کیسے شروع دمی سردوں ہوگی اور دردوں کے ایک دوسرے کے خلاف ہجو یہ نظمیں لکھیں ۔

حقائق غالب آئے پاکستان کے لیڈروں کا خیال تھا کہ برصغیر کے مغرب میں جب وہ مسلم حکومت قائم کر لیں گے تو پورا مغربی ایشیا اور خلیج فارس اور بحر احمر کے گرد واقع تمام ممالک جوافعی کی طرح مذہباً مسلمان ہیں، ان کے ساتھ ہوں گے اور وہ بقیہ بھارت کے مقابلہ میں چھوٹے ہونے کے باوجود اپنے بھائیوں سے مل کر بہت بڑی حیثیت حاصل کر لیں گے۔ صدر ایوب کے زمانہ اقتدار (۱۹۶۹ - ۱۹۵۸)

میں یہ امید کسی درجہ میں پوری بھی ہوئی مگر بہت جلد زندگی کے حقائق غالب آگئے مغربی ایشیا کے مسلم ممالک کے یہاں پٹرول کا خزانہ برآمد ہوا ۔ اب انہیں ضرورت ہوئی کہ اس دولت کے ذریعہ اپنے ملکوں میں ترقیاتی اسکیمیں چلائیں ان کے پاس روپیہ با فراط تھا، مگر فنی واقفیت کی اسی قدر کمی تھی (TECHNICAL KNOW HOW)

یہ دوسری چیز انھیں پاکستان نہیں دے سکتا تھا۔ قومیں ہی دوسری تمام قوموں کے لیے خبر حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ اگر چہ ۹۰ ملکوں میں قومی نیوز ایجنسیاں ہیں مگر یہ ممالک بھی اپنی ملکی خبروں کو دوسری اقوام تک پہنچانے کے لیے پانچ عالمی نیوز ایجنسیوں کے محتاج ہیں۔ یہ چار عالمی نیوز ایجنسیاں کسی ملک کی جن خبروں کو دوسری اقوام تک پہنچاتی ہیں، وہ عام طور پر اس قوم کے برے پہلو اور ان کی غیر نمائندہ خصوصیات ہی گویا پانچ نیوز ایجنسیاں تمام اخباری دنیا کی شہنشاہ ہیں۔

Printed page