Al-Risala · March 1977

میں سوچ رہا ہوں

Al-Risala, March 1977, pp. 48–49

By Maulana Wahiduddin Khan

راجہ راؤ ایک میسوری برہمن ہیں اور ہندوستان کے مشہور فلسفی ہیں۔ ہندوستان میں اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد 1929 میں وہ مزید مطالعہ کے لئے پیرس گئے۔ میں پہلی بار امریکہ کا سفر کیا۔ ۳۷، ۴۹ میں امریکہ کی ٹیکس یونیورسٹی میں ان کو فلسفہ کے مہمان پروفیسر کی حیثیت سے اس قیام کے دوران ایک امریکی مصنفہ الزیبتھ ووڈبل نے ان سے مفصل انٹرویو لیا۔ الزیبتھ ووڈبل دوبار ہندوستان انٹرویو کا ایک فقرہ یہ ہے:

راؤ اپنی ذہنی زندگی کی حفاظت کرنے میں بڑے مستعد ہیں۔ (MAGNIFICENT EFFICIENCY) وہ بغیر کسی احساس ندامت کے محض اس شان پر کسی ملاقاتی کا اعتراف کرتے ہیں۔ اس کے برعکس خود اپنے ملک کے لارڈ ڈونسٹن چرچل (۱۹۱۷ء) کے لئے ان کے پاس مکار (IMPOSTER) اور خطی (LUNATIC) کے

اس فرق کی وجہ ہم کو خود ان کے اعتراف میں مل جاتی وہ کہتے ہیں کہ میں ایک انتہائی قسم کا خود پسند کی جڑی استنس مادّمت کے اس سچا پر ترس کھائیں سے طنز سے انکار کر سکتے ہیں کہ وہ سوچ رہے ہیں ۔ اس میں ہم صرف اتنا اضافہ کریں گے کہ یہ کہنے کے لئے بھی امریکہ کی سر زمین چاہئے۔ ہندوستان میں اگر کوئی ایسا کہے تو اس کو پاگل کا خطاب ملے گا یا مغر در کا۔ کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی اپنی ناکامی کے راز کو سمجھ لے

سید صباح الدین عبدالرحمن ایم اے انھیں کام کے بہترین مواقع مسلم عہد کا علمی و تصنیفی کام مسلم عہد کے علما زیادہ تر بیرونی علما کی تفسیریں سے خوشہ چینی کرتے رہے اور ان کے ہم پایہ تفسیریں نہ لکھ سکے اور جو لکھیں وہ عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے خواص تک محدود رہیں، یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ اگرچہ مسلمانوں کی زبان فارسی رہی، مگر اس زبان میں کلام پاک کا ترجمہ مسلمانوں کی حکومت قائم ہونے کے تقریباً ساڑھے پانچ سو برس بعد شاہ ولی اللہ نے پہلی دفعہ کیا، اور جب انھوں نے اس دولت کو عام کیا تو کم سواد علما نے اس کے خلاف شورشیں برپا کیں۔

ہندوستان کے علما کا سب سے محبوب موضوع فقہ رہا ہے، اور جو علما باہر سے یہاں آئے وہ مفسر اور محدث ہونے کے بجاۓ زیادہ تر فقیہ رہے، ان کو سلاطین اور امرا کا تقرب آسانی سے حاصل ہو جاتا تھا، کیونکہ وہ مسائل میں انہی کی طرف رجوع کرتے تھے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان میں اسلام زیادہ تر فقہا کے ذریعہ سمجھا گیا جو عموماً اپنی سختی اور درشتی کے لیے مشہور ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر ہندوستان میں اسلام مفسرین اور محدثین کے ذریعہ سمجھا جاتا تو زیادہ موثر ہوتا، فقہ کی اس مقبولیت کے باوجود اہل قلم فقہا زیادہ تر فقہ کی بیرونی کتابوں کے حواشی لکھتے رہے۔ تاتار خانی اور فتاوائے عالمگیری ہندوستان کے بڑے اہم فقہی کارنامے ہیں، ان دونوں کی تدوین ایک امیر اور ایک بادشاہ کے ذریعہ ہی سے ہوئی۔

Printed page