حاصل تھے ، مگر
Al-Risala, March 1977, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان میں ہر قسم کی اسر پرستی کے باوجود کوئی امام غزالی، یا ابن قیم، یا ابن مسکویہ، یا ابن خلدون پیدا نہ ہو سکا، حالانکہ جہاں تک بادشاہوں کا تعلق ہے، ان میں بہت سے ایسے گزرے ہیں جو دنیا کے بڑے سے بڑے حکمرانوں کی صف میں رکھے جاسکتے ہیں مغل بادشاہوں کی حکومت اپنے عروج کے زمانے میں دنیا کی طاقت ور ترین اور مستمدن ترین حکومت سمجھی جاتی تھی۔ اگر ہندوستان کے علماء بھی اسی درجہ کے اور اسلامی ممالک کے علماء کے ہم پایہ ہوتے تو ہندوستان کے مسلمانوں کی دینی، ذہنی، نظری اور فکری نشو و نما اور منہج پر ہوتی۔ حب یورپ میں یقیناً ہر قسم کے علوم و فنون پر کتابیں لکھ کر نئے نظام حیات اور نئے مقصد زندگی کے لیے اپنی اپنی قوموں کو تیار کر رہے تھے۔ اس وقت ہندوستان کے علماء صرف ایسی کتابیں لکھتے رہے جن سے عام مسلمان زیادہ مستفیض نہیں ہو سکے، اور پھر یہ عجیب بات رہی کہ مذہبی زبان عربی تھی، سلاطین اور امرا ر کی زبان ترکی یا فارسی تھی اور عوام خصوصاً مہدی الاصل مسلمان یہاں کے باشندوں کے میل جول سے ایک نئی زبان بولنے کے عادی ہو رہے تھے۔ علما یا تو عربی یا فارسی زبان میں تصنیف و تالیف کرتے جس کی زبان اتنی مشکل ہوتی کہ وہ جو کچھ لکھتے خواص ہی تک محدود رہ جاتا، اور پھر ان میں بھی جو چیز ہوتی وہ صرف تقلید جامد