یہ کوئی مسئلہ نہیں
Al-Risala, March 1977, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
کہا جاتا ہے کہ جدید تہذیب نے مذہب کو فرسودہ اور غیر ضروری ثابت کر دیا ہے۔
وہ کیا چیز ہے جو مغربی تہذیب نے انسانیت کو دی ہے، وہ ہیں جدید طرز کی سواریاں، نئے طرز کے مکانات، نئے قسم کے ذرائع مواصلات، نئے قسم کے لباس۔ یہ کہ دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے نئے ساز و سامان جو پچھلے سامانوں کے مقابلے میں زیادہ آرام دہ، زیادہ خوش نما اور زیادہ سریع العمل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان سامانوں اور اسباب و ذرائع کا خدا اور مذہب پر عقیدہ رکھنے یا نہ رکھنے کے مسئلہ سے کیا تعلق۔ کیا کسی کے پاس جدید طرز کی رہائش گاہ اور موٹر کار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے لئے خدا کا وجود بے معنی ہو گیا۔ کیا تار اور ٹیلی فون کے ذریعہ خبر رسانی سے وحی د الہام کے عقیدے کی تردید ہو جاتی کیا ہوائی جہاز اور راکٹ کے ذریعہ فضا میں اڑنے کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کا اس کائنات میں کہیں وجود کیا لذیذ کھانے، خوش نما لباس اور اعلیٰ فرنیچر کے وجود میں آنے کے بعد جنت و دوزخ کو ماننے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ کیا جدید عورتوں کے اندر یہ صلاحیت کہ وہ ٹائپ رائٹر کے کی بورڈ پر اپنی انگلیاں تیزی سے چلا سکتی ہیں، یہ ثابت کرتا ہے کہ اَلرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ کی آیت منسوخ ہو گئی۔ اور پارلیمنٹ کی شاندار عمارتوں میں بیٹھ کر کچھ لوگوں کا قانون سازی کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ شریعت کا قنون موجودہ زمانے میں بے معنی ہو گیا ہے۔
نئے ساز و سامان اور نئے ذرائع دو سائل کی اہمیت در افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کا مذہب کی صداقتوں کی تائید یا تردید سے کیا تعلق ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جدید تہذیب کے لوازم کا مذہب سے ٹکراؤ باعتبارِ حقیقت نہیں ہے بلکہ انسان کی سطحیت نے اس کو پیدا کیا ہے۔ انسان کی سب سے بڑی کمزوری سطحی چیزوں سے لگاؤ اور ظاہری اشیاء کو اصل اہمیت کی چیز سمجھ لینا ہے یہی وجہ ہے کہ جب فطرت کے چھپے ہوئے راز سامنے آئے، اور عیش و عشرت اور زیبائش و آرائش کے سامان حاصل ہونے لگے تو انسان ان میں اتنا محو ہوا کہ سمجھنے لگا کہ بس اب اس کے آگے کوئی حقیقت نہیں ہے۔ دنیوی ساز و سامان کے سوا ہر چیز اس کی نظر میں غیر اہم