Al-Risala · March 1977

طاقت کا خزانہ آپکے اندر ہے

Al-Risala, March 1977, pp. 55–56

By Maulana Wahiduddin Khan

نپولین کا نام فوجی تاریخ میں عظمت کا نشان مگر وہ ایک پستہ قد آدمی تھا اگرچہ فربہ اندام تھا۔ ایک دن وہ پریڈ گراؤنڈ میں معمولی لباس میں کھڑا تھا اتنے میں اس کا ایک فوجی پیچھے سے آیا اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ کوئی معمولی سپاہی ہے، نپولین کے اوپر سے ہائی جمپ کر گیا۔ اس کے بعد وہ فخریہ انداز میں پلٹا اور کھڑے والے شخص کے سامنے سے اس کے چہرہ پر نظر ڈالی تو وہ نپولین تھا جو سنجیدگی کے ساتھ اپنے فوجی کی طرف دیکھ رہا تھا فوجی نے جب اس طرح اچانک اپنے عظیم کمانڈر نپولین کو دیکھا تو وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا اور فوراً مرگیا۔ معلوم ہوا کہ طاقت کا اصل سرچشمہ خود آدمی کا اپنا وہی نپولین ہے اور وہی فوجی۔ بار وہ نپولین کے سر سے فخریہ انداز میں پھاند جاتا ہے اور دوسری بار اس کو دیکھتے ہی اتنا بد حواس ہوتا ہے کہ فوراً مر

یہ دونوں احساس کے کرشمے ہیں اگر آپ کا دل بن جاتا ہے۔

اسکاٹ لینڈ کے رابرٹ بروس (ROBERT BRUCE) نے انگلینڈ کے بادشاہ کنگ ایڈورڈ اول کے خلاف بغاوت کردی تھی جو کہ اسکاٹ لینڈ کے اوپر اقتدار اعلیٰ کا دعویدار تھا۔ اس کو ۱۳۰۷ء میں "کنگ آف اسکاٹ لینڈ" کا تاج پہنایا گیا۔

اس مقابلہ میں رابرٹ بروس کو بری طرح شکست ہوئی اور اس کو جنگلوں اور بیابانوں میں پناہ لینا پڑی۔ مگر ۱۳۱۴ء میں اس نے دوبارہ انگلینڈ کے بادشاہ ایڈورڈ دوم سے نباک برن میں جنگ کی اور اس کو شکست دی۔ اور اسکاٹ لینڈ کو انگریزوں سے آزاد کرالیا۔ اس کے بعد "رابرٹ اول" کے نام سے اس نے ۱۳۲۹ء تک اسکاٹ لینڈ پر حکومت کی۔

رابرٹ بروس کو شکست کے بعد فتح کس طرح حاصل ہوئی اس کے سلسلے میں ایک دلچسپ قصہ بیان کیا جاتا ہے وہ ایک جنگل کے اندر کسی غار میں پڑا ہوا تھا۔ اب انگلینڈ کے بادشاہ سے مقابلہ کا خیال چھوڑ دینا چاہئے" بے خوف ہے تو آپ شیر سے لڑ سکتے ہیں اور دریاؤں کو پھلانگ سکتے ہیں۔ لیکن اگر دل میں شبہ اور دہشت پڑا ہوا تو گیدڑوں کا غول بھی آپ کو بوکھلا دے گا اور معمولی نہرس بھی آپ کو ڈبانے کے لیے کافی ہوں گی ۔ اوپر ہم نے نپولین کے فوجی کی جو مثال پیش کی ہے ، وہ اس صورتِ حال سے متعلق تھی کہ ایک طاقتور اس نے سوچا۔ اس کو اپنی کامیابی کی کوئی امید نظر نہیں آتی کئی بار کے مقابلے کے بعد بالآخر وہ مایوس ہو چکا تھا، اتنے میں غار کے اندر ایک چھوٹا سا واقعہ ہوا۔ ایک مکڑی اپنے جالے کے باریک تار سے چھوٹ کر زمین پر گر پڑی۔ رابرٹ بروس کی نظریں اس کے اوپر جم گئیں۔ اس نے دیکھا کہ مکڑی نے اپنا ایک منٹ ضائع نہیں کیا۔ شخص کس طرح دل کی گھبراہٹ کی وجہ سے اپنی موجودہ طاقت بھی کھو بیٹھتا ہے ۔ اب ایک ایسی مثال لیجئے جبکہ ایک کمزور اور شکست خوردہ آدمی محض دل کی کیفیت بدل جانے کی وجہ سے دوبارہ فتح و کامیابی کا مالک اور لٹکتے ہوئے تار کے ذریعے دوبارہ اوپر چڑھنے کی جدوجہد مگر چھت کے قریب پہنچتے ہی وہ دوبارہ پھسل کر گر پڑی۔ اب وہ پھر پہلے کی طرح زمین پر پڑی ہوئی تھی اس طرح وہ بار بار چڑھتی اور بار بار گرتی رہی۔

ہمت نہیں ہارتی اور ہر بار دوبارہ اسی کام میں مشغول ہو جاتی جس میں وہ اس سے پہلے ناکام ہو چکی تھی ۔ رابرٹ بروس اس کے ناکام تجربات کو گنتا رہا۔ یہاں تک کہ جب وہ نویں بار زمین پر گری تو اس کو ہنسی اب یہ کیڑا مزید کوشش کی حماقت نہیں کرے گا اس مگر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ مکڑی نے ایک لمحہ ٹھہرے بغیر دسویں بار پھر اپنی جدوجہد شروع کر دی ۔

اس بار رابرٹ بروس کے سامنے دوسرا منظر تھا اس نے دیکھا کہ مکڑی منزل سے بہت قریب پہنچ گئی ہے وہ دھیرے دھیرے چڑھتی رہی یہاں تک کہ جب فاصلہ بہت قریب آگیا تو اس نے آخری چھلانگ لگائی آب وہ اپنے جالدار مکان کے اندر تھی۔

”خوب“ رابرٹ بروس چلایا ”وہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو ہمت نہ ہاریں اور مسلسل اپنی جدوجہد جاری رکھیں “ وہ ایک لمحہ کے لئے رکا اور پھر بولا ” ایک معمولی کیڑے نے مسلسل کوشش سے اپنی بازی جیت لی۔ کیوں ایسا نہیں کر سکتا۔ رابرٹ بروس غار سے نکل کر باہر آیا۔ آخری فیصلہ کن مقابلہ کے لیے تیاری شروع کر دی۔ عزم کے ساتھ شاہ انگلینڈ سے لڑا اور اس بار اس نے فتح حاصل کر لی۔

حقیقت یہ ہے کہ ” میں ایسا نہیں کر سکتا “ محض ایک بزدلانہ فقرہ ہے ہر شخص ہر کام کر سکتا ہے اور اگر دوبارہ نہیں تو فتح میں تبدیل ہو سکتا ہے بشرطیکہ مسلسل جدوجہد سیب کا سبق ایک ٹن سیب سے کتنا عرق نکالا جا سکتا کوئی بھی پھلوں کا ماہر آپ کو بتائے گا کہ 40 سے ۶۵ کلوگرام تک ۔ مگر سیب میں حقیقتاً اس سے بہت زیادہ عرق ہوتا ہے ۔ محققین نے دریافت کیا ہے کہ موجودہ ذرائع کے تحت جب ہم سیب کو مکمل طور پر نچوڑ چکے ہوتے ہیں ، اس کے بعد بھی اس کے اندر ایک ٹن میں ۱۰۰ سے ۱۲۰ کلوگرام تک عرق باقی رہتا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے کولھو اچھے نہیں ہیں ۔ اگر ہم سب سے طاقتور برقی کولھو استعمال کریں جب بھی عرق کی مقدار میں بس برائے نام ہی فرق آئے گا ۔ سیب کے اندر بچا ہوا عرق پھر بھی نہیں حاصل نہ ہو سکے گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیب کے خلیوں کا چھلکا بے انتہا دباؤ کے تحت بھی ویسے کا ویسا ہی رہتا ہے ۔ اور کولھو میں پس جانے کے باوجود اس کا عرق خلیوں کے اندر محفوظ رہتا ہے موجودہ حالت میں دباؤ اور طاقت کا اضافہ اس مسئلے کو حل نہیں کرتا ۔

یہ سیب کا قصہ ہے مگر اسی کے اندر آپ قوموں کی تصویر بھی دیکھ سکتے ہیں ۔ ایک قوم وہ ہوتی ہے کہ اگر وہ کسی دباؤ کی زد میں آجائے تو آخری حد تک نچوڑ کر رہ جاتی ہے ۔ مگر زندہ قوموں کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ مگر وہ ظلم و ستم کے کولھو میں پل دی جائیں جب بھی ۔ سیب کی طرح ، ان کے اندر زندگی کی رمق باقی رہتی ہے اور موقع پاتے ہی وہ دوبارہ رڈ برداروں میں یوں بدیاں اور آہیں بھر کر کرنے کا حوصلہ پیدا ہو جائے ۔ رسی باس رہاہے اور رسی پرپات پہاڑاور اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔

Printed page