Al-Risala · March 1977

مطالعہ کتب

Al-Risala, March 1977, pp. 57–40

By Maulana Wahiduddin Khan

زیر نظر کتاب (لیٹ گاڈ بی ٹرو) عیسائیوں کی ایک عالمی تنظیم کی طرف سے شائع کی گئی ہے۔ اس کا نام "خدا سچا ٹھہرے،" نئے عہد نامہ کے باب "رومیوں کے نام خط" (۳:۳) سے لیا گیا ہے۔ اس کا پہلا ایڈیشن ۱۹۴۴ء میں ایک کروڑ تین ہزار کی تعداد میں چھاپا ہمارے پیش نظر دوسرا ایڈیشن ہے جو ۱۹۵۲ء میں ۳۵ لاکھ کی تعداد میں چھپا تھا۔

وہ مقدس تثلیث، عیسائی مذہب کا مرکزی اور بنیادی عقیدہ ہے۔ کروڑوں لوگ اس کو سب سے بڑی صداقت سمجھتے ہیں۔ اس عقیدہ کا مطلب یہ ہے کہ باپ، بیٹا، روح القدس تینوں یکساں طور پر خدائی طاقت کے مالک ہیں۔ تینوں الگ الگ ہو کر بھی ایک ہیں اور ایک ہو کر بھی تین ہیں، ظاہر ہے اس قسم کا ایک عقیدہ انسانی عقل کی گرفت سے باہر ہے۔ کتاب کے مصنف کا کہنا ہے کہ اس قسم کا پراگندہ اصول خدا کا دیا ہوا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ خدا پراگندگی کا خالق نہیں ہے (کرنتھیوں کے نام (۳۳ : ۱۴ تثلیث کا عقیدہ قدیم بابلیوں اور مصریوں میں اور دوسرے مذہبی حلقوں میں پایا جاتا تھا۔ مسیح کے بعد عیسائیوں نے انھیں سے اس کو لے لیا۔ (1) دوسری صدی عیسوی کے ترتولین نے، جو قرطاجنہ میں رہتا تھا، لاطینی لفظ (TRINITAS) کو رائج کیا۔ یہی لفظ انگریزی میں (TRINITY) کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس سے پہلے یہ لفظ کسی مقدس کتاب میں نہیں آیا تھا۔ (۲) اس کے بعد LET GOD BE TRUE WATCHTOWE BIBLE AND TRACT SOCIETY BROOKLYN, NEW YORK, 1952, pp.320 تھیوڈیس نے اس کو یونانی میں رائج لیا۔ اس کارنامہ کی دوسری صدی عیسوی کا ہے۔ چوتھی صدی میں ۳۲۵ میں عیسائیوں کی ایک کونسل شاہ قسطنطین کے تحت نیقیا (ایشیاے کوچک) میں ہوئی وہ اور اس نے تثلیث کو عیسائیت کا سرکاری عقیدہ قرار دے دیا۔

حیرت کی بات ہے کہ تثلیث کا عقیدہ ، اس قدر اہم ہونے کے باوجود انجیل میں موجود نہیں۔ انجیل کے چار مقدّس ترین ابواب (متی ، مرقس ، لوقا ، یوحنا) اس کے بیان سے چند حوالے جو دئے جاتے ہیں وہ بالکل ناکافی ہیں : میں اور باپ ایک ہیں (یوحنا ۱۰: ۳)

وہ جو جسم میں ظاہر ہوا (تیمھیس ۱۴:۳)

ظاہر ہے کہ اس قسم کے مبہم الفاظ سے اتنا بڑا عقیدہ اخذ نہیں کیا جاسکتا جس کو تثلیث کہتے ہیں۔ ساری انجیل میں صرف ایک آیت اس مفہوم کی ہے۔ مگر کتاب کے مصنف نے ثابت کیا ہے کہ وہ الحاقی ہے۔

یہ آیت یوحنا کے عام خط میں ہے ، اس کا ترجمہ یہ ہے : " اور گواہی دینے والے تین ہیں۔ باپ ، کلمہ ، روح القدس اور یہ تینوں ایک ہیں۔ (۵ : ۷)

اگرچہ یہ آیت بھی "خدائی" کی سہ گانہ تقسیم کو ثابت کرنے کے لئے پوری طرح کافی نہیں ، مگر حیرت انگیز بات ہے کہ وہ بھی انجیل کے قدیم نسخوں میں موجود نہیں۔ اسی سے ثابت . ہے کہ یہ الحاقی ہے اور بعد کو اس کے متن میں ملائی گئی ہے۔ مصنف نے اس کو خدا کے کلام میں اضافہ کرنے کی ایک نمایاں مثال" (صفحہ ۱۰۳) کہا ہے۔ اس نے یونانی زبان کے عیسائی عالم بنجمن دلسن کا قول نقل کیا ہے ، وہ لکھتے ہیں: " یہ آیت انجیل کے قدیم نسخوں میں سے کسی بھی نسخہ میں موجود یہ نسخے پندرھویں صدی سے پہلے لکھے گئے تھے۔

کسی بھی یونانی عیسائی مصنف نے اس آیت کا ذکر نہیں قدیم لاطینی عیسائیوں کی تحریریں بھی اس سے اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ فقرہ جعلی ہے‘ (۱۰۳)

بائبل کی تاریخی حیثیت کے بارے میں مصنف لکھتے ہیں کہ اس کی ۶۶ کتابیں سولہ صدیوں میں تین درجن افراد کے ہاتھ سے لکھی گئیں۔ موسیٰ نے اس کی پہلی تحریر ۱۴۵۰ ق م میں لکھی۔ اور سب سے آخر میں یوحنا کے خطوط ۹۰ء میں لکھے گئے۔ بائبل کے آخری حصہ کی تحریر کے دو سو برس بعد ہم کیسے جانیں کہ بے نام حوالے اور انتسابتاً اگر یہ مان لیا جائے کہ بائبل کے ابتدائی مرتبین کو خدا کی طرف سے الہام ہوا تھا تب بھی اس کا کیا ثبوت کہ آج بھی وہ محفوظ شکل میں ہے کیونکہ "بائبل کی کوئی بھی تحریر آج موجود نہیں ہے‘ مصنف کا مقصد لوگوں کو بائبل سے دور کرنا نہیں بلکہ اس کے قریب لانا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بائبل اپنی موجودہ شکل میں آج کے انسان کو اپیل نہیں کرتی۔ نزدیک وہ خدائی کتاب ہے۔ اور اصلا اسی طرح حق ہے جس طرح خدا حق ہے۔ مگر انسانی آمیزش نے اس کو لوگوں کی نظر میں بے اعتبار بنا دیا ہے۔ اس لئے جدید انسان کو دوبارہ بائبل سے قریب لانے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے ملاوٹی اجزاء کو اس سے الگ کر دیا جائے۔ مصنف کی یہ بات بذات خود صحیح ہے۔ مگر یہ سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ بائبل کے صحیح اور غلط اجزاء کو جانچنے کے لئے معیار کیا ہوگا۔ کیا انسانی عقل۔ کہ خدائی کلام کو انسانی معیار سے جانچا نہیں جاسکتا۔ کلام میں اگر آمیزش ہو جائے تو اس کو دوسرے خدائی کلام ہی کے ذریعہ جانچا جا سکتا ہے نہ کہ انسانی عقل کے ذریعہ۔ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں دفاتر کا نظام حضرت عمرؓ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں دفاتر کا نظام رائج کیا۔ ابتدا ء خلفاء نے محرری کے لئے عربوں کے علاوہ موالیوں اور عجمیوں سے مدد لی۔ اس وقت ہر صوبہ میں محصول کا حساب کتاب وہاں کی مقامی زبانوں میں مقام عراق د ایران میں فارسی، شام میں یونانی اور مصر میں قبطی۔ بعد کو جب عربوں نے اس فن کو سیکھ لیا تو وہ اس ضرورت کو پورا کرنے لگے۔ عبد الملک بن مروان اور اس کے بیٹے ولید کے زمانہ تک تمام محصولات کا حساب عربی زبان میں تھا ۔ عراق میں صالح بن عبدالرحمن نے حجاج کے گورزی کے زمانہ میں وہاں کے دفتر محصولات کو عربی زبان پر مستقل کیا۔ شام میں خلیفہ ولید بن عبد الملک کے زمانہ میں ابو ثابت سلیمان بن سعد نے یہ خدمت انجام دی بصرہ میں بھی ولید بن عبد الملک کے زمانہ میں یہ عہدہ ابن سیر یوع فزاری حمصی نے حاصل کیا اور تمام کام عربی زبان میں ہونے لگے ۔ تاہم یہ صرف محصولات کے دفاتر کا معاملہ تھا۔ جہاں تک فوجی دفاتر اور دیگر سرکاری تحریرات کا تعلق ہے وہ ابتدائی سے عربی زبان میں ہوا کرتے تھے۔

The birds' sense of direction is most exciting extremely important phenomenon. We now where migratory birds spend the winter and ہندوستان میں ۲۵۰ قسم کی چڑیاں پائی جاتی ہیں، ان میں سے تقریباً ۵۰ قسمیں مہاجر (MIGRATORY) ہیں۔ یہ وہ رنگا رنگ مسافر ہیں جو ہزاروں میل دور سے پہاڑوں اور سمندروں کو طے کر کے سردیوں کے موسم میں ہمارے ملک میں آتے ہیں۔ یہ مہاجر چڑیاں شروع ستمبر سے لے کر مارچ کے آخر تک ہندوستان کو اپنا مسکن اپریل میں گرمیاں شروع ہوتے ہی یہ پر دار سیاح اپنے وطن کو روانہ ہو جاتے ہیں۔ رن کچھ کا صحرا ان کا پسندیدہ

چڑیوں میں کچھ اقسام ایسی ہیں جو ایک ہی جگہ ہمیشہ مگر ایسی اقسام بھی ہیں جو مقامی طور پر اس قسم کی ہجرتیں مثلاً بعض چڑیاں خاص موسم میں میدانوں میں رہتی ہیں اور خاص موسم میں پہاڑوں پر چلی جاتی ہیں۔ اسی طرح اس کے برعکس یہ ہجرتیں دو مقصد کے لئے ہوتی ہیں، غذا کی تلاش یا انڈے بچے کرنے کے لئے مناسب موسم۔

چڑیوں کی یہ ہجرت اتنے صحیح وقت پر ہوتی ہے کہ قدیم زمانے میں بعض چینے ان مہاجر چڑیوں کے نام پر رکھے

چڑیوں کی دنیا بعض چڑیاں درمیان میں رکے بغیر تین ہزار میل تک اڑتی چلی جاتی ہیں۔

وہ اتنی بلندی پر پرواز کرتی ہیں جہاں کوئی انسان مزید آکسیجن کا اہتمام کئے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

بیشتر چڑیاں اپنے انڈے بچے کرنے کے موسم کو خط استوا کے شمالی حصے میں گزارتی ہیں اور بقیہ موسم کو خط استواء کے جنوبی حصے میں۔ خشکی کی چڑیوں میں کوئی ایک مثال بھی ایسی معلوم نہیں ہے جو اس کے خلاف عمل کرتی ہو۔ چڑیوں میں بعض مثالیں اس کے خلاف پائی جاتی ہیں۔ ان چڑیوں نے نہ تو کسی درسگاہ میں جغرافیہ کا علم حاصل کیا ہے اور نہ مسافت کے فن سے وہ کوئی واقفیت رکھتی ہیں، اس کے باوجود پہاڑوں اور سمندروں کو طے کرکے ہزاروں میل دور کی منزل تک ان کا پہنچنا انتہائی حیرت اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ یہ چڑیاں صد دراز مقام پر جاکر انڈے بچے کرتی ہیں اور ان کو وہاں چھوڑ کر چلی آتی ہیں۔ یہ بچے بڑے ہو کر ٹھیک اسی راستہ سے سفر کرتے ہیں جس سے ان کے والدین نے سفر کیا تھا اور بغیر کسی رہبر کے دوبارہ اپنے اصل مسکن میں پہنچ جاتے ہیں۔ اس حیرت انگیز سفر میں ان کی رہنمائی کون کرتا ہے؟ کی سائنس کے ماہرین (ORNITHOLOGISTS) اس کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔

یہ بات کہ بعض چڑیاں اپنے سابقہ مقام پر واپس جانے کی خصوصی صلاحیت رکھتی ہیں، قدیم انسان کو بھی معلوم تھا۔ کا ثبوت یہ ہے کہ ٹیلی گراف کی ایجاد سے پہلے کبوتروں کو در دراز مقام پر پیغامات بھیجنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ ہر سال ستمبر کے مہینہ میں کروڑوں مہاجر چڑیاں ہمالیہ کے اس پار سے ہندوستان آتی ہیں تاکہ یہاں جاڑے کا موسم ان میں سے اکثر وہ ہیں جو وسط ایشیا، مغربی ایشیا، ایران، افغانستان، تبت، روس، سائبیریا، یورپ سے آتی ہیں تاکہ یہاں رہنے لئے غذا اور مسکن حاصل کریں۔ سفر کے دوران انہیں ٹھیک ٹھیک علم رہتا ہے کہ وہ کہاں جارہی ہیں۔ وہ عام طور پر رات وہ ساڑھے پندرہ ہزار سے لے کر ۲۰ ہزار فٹ کی بلندی تک اڑتی ہیں۔ ساٹھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے وہ ہزاروں میل کا راستہ طے کرتی ہیں۔ اکثر چڑیاں چھ یا آٹھ گھنٹہ کے بعد بریک جرنی کرتی ہیں۔ بعض چڑیاں (مثلاً ایسٹرن گولڈن پلوور) جو مغربی الاسکا اور شمالی سائبیریا میں انڈے بچے کرتی ہے ہندوستان تک ۲۵۰۰ میل کا مسلسل سفر کر کے پہنچتی ہے اور راستے میں کہیں نہیں ٹھہرتی۔ اسنائپ کی ایک قسم جو جاپان میں انڈے بچے کرتی ہے اور جاڑے کا موسم مشرقی آسٹریلیا اور تسمانیہ میں گزارتی ہے، سب سے بڑی "نان اسٹاپ" پرواز کرتی وہ درمیان میں کہیں رکے بغیر تین ہزار میل تک اڑتی چلی جاتی ہے۔

یہ چڑیاں اکثر اتنی بلندی پر اڑتی ہیں کہ کوئی انسان مزید آکسیجن کا اہتمام کئے بغیر وہاں زندہ نہیں رہ سکتا۔ واربلر (چھوٹی چڑیاں) کا ہندوستان سے سائبیریا جاتے ہوئے دور بینی کیمروں سے فوٹو لیا گیا تو وہ ہمالیہ کے اوپر ۲۵۰۰ فٹ کی بلندی سے اڑتی ہوئی پائی گئیں۔

یہ چڑیاں رات کو اور خراب موسم میں سفر کرتے ہوئے کس طرح اپنے صحیح راستہ کو پالیتی ہیں جب کہ انسان کو اس قسم کے سفروں کے لئے راڈار کی ضرورت ہے، یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ابھی تک جدید علما معلوم نہ کر سکے۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ چڑیاں اپنے سر میں ایک قسم کا "پروٹو پلاجک بائیولاجیکل کمپاس" رکھتی ہیں۔ اور یہ ان کے لئے راڈار کی طرح کام کرتا ہے اور زمین کے مقناطیسی پول سے متحرک رہتا ہے۔ کچھ اور لوگوں کا خیال ہے کہ ان کے کان کے اندرونی نالی پر دباؤ ان کو زمین کی گردش کی قوتوں سے باخبر رکھتا ہے۔ مگر یہ سب قیاسات ہیں، جن کے حق میں کوئی سائنسی دلیل موجود نہیں ۔ چڑیوں کے ماہرین نے مختلف مقامات پر مشاہداتی مرکز بناتے ہیں۔ ان کے ذریعہ چڑیوں کی ہجرت کے راستے اور ان کی عمر کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہیں۔

مہاجر چڑیاں انسان کی بنائی ہوئی سرحدوں کو انھیں سفر کے قواعد و ضوابط کی پابندی کی واحد قانون جس کی وہ بظاہر پابندی کرتی ہیں، وہ فطرت کا قانون ہے۔ مگر ابھی تک انسان کو نہیں معلوم کہ یہ فطرت کا قانون کیا ہے۔

Printed page