آہ! کس قلم سے لکھا جائے
Al-Risala, March 1977, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
چار سال پہلے کی بات ہے۔ دار السلطنت میں ایک "بین اقوام اسلامی اجتماع" اس میں شرکت کے لئے جنوب کے ایک شہر سے آنے والوں نے پوری ایک ٹرین رزرو کی۔ آمد و رفت اور ہالنگ چارج ملا کر اس کا بل تقریبا ڈیڑھ لاکھ روپے تھا۔ یہ اس "عظیم" اجتماع کے کثیر اخراجات کا صرف ایک چھوٹا سا جزو تھا۔ راقم الحروف نے ایک ذمہ دار سے کہا: اس ڈیڑھ لاکھ روپے کا زیادہ بہتر مصرف ہوتا اگر اس سے کتاب اللہ کا ملکی زبان میں ترجمہ چھاپ کر برادران وطن تک پہنچا دیا جاتا ۔
"آپ جانتے نہیں،" انھوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا " اپنا سفر رزرو ٹرین سے طے کرنے کے محرک نے یہ ڈیڑھ لاکھ روپے۔ ان کی جیب سے نکالے ہیں۔ ترجمہ قرآن کے نام پر ہم یہ پیسے ان سے وصول نہیں کر سکتے۔
یہی قوم کی سب سے بڑی ٹریجڈی ہے۔ اس کو صرف بے فائدہ نعروں پر متحرک کیا جا سکتا ہے حتیٰ کہ جو نعرہ جتنا زیادہ بے معنی ہو، اتنا ہی زیادہ وہ اس کے لئے جوش و خروش حال میں پڑوسی ملک میں حکومت کے خلاف " اسلامی محاذ " قائم کیا گیا۔ لئے مسلمانوں نے کروڑوں روپے نذر کر دیئے۔ اگر چہ اس محاذ کا معلوم یقینی انجام صرف یہ ہونا تھا کہ وہ قوم کا مزید اربوں روپیہ برباد کر کے ہمیشہ کے لئے دفن ہو جائے ۔ پچھلے تقریبا دو سو برس سے پوری قوم مسلسل اسی قسم کی " قربانیاں" دینے میں مصروف ہے ۔ کوئی صحیح آواز اس کو اپیل نہیں کرتی ۔
آہ وہ قوم جس کا حال اس آیت قرآنی کا مصداق ہو جائے:
" اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا طریقہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا طریقہ بنا لیں۔
الاعراف - ۱۴۱ وحید الدین، ۷ جولائی ۱۹۷۷ء