قرآن: ایک لسانی معجزہ
Al-Risala, March 1977, pp. 5–6
By Maulana Wahiduddin Khan
جتنی بھی قدیم کتابیں آج دنیا میں پائی جاتی ہیں، ان میں قرآن ایک حیرت انگیز استثناء ہے، تمام مقدس کتابوں کی اصل زبانیں تاریخ کی الماری میں بند ہو چکی ہیں۔ مگر قرآن کی زبان (عربی) آج بھی بدستور زندہ آج بھی کروڑوں انسان اس زبان کو لکھتے اور بولتے ہیں جس میں تقریبا ڈیڑھ ہزار برس پہلے قرآن اتارا گیا تھا یہ واقعہ قرآن کے معجزاتی کتاب ہونے کا یقینی ثبوت ہے۔ کیونکہ قرآن کے سوا ساری انسانی تاریخ میں کوئی دوسری کتاب نہیں جس نے اپنی اصل زبان کو اس طرح بعد کے زمانوں میں باقی رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہو۔ مثال کے طور پر انجیل کو لیجئے جو قرآن کے بعد سب سے زیادہ قریب العہد مقدس کتاب ہے۔ اس کا حال یہ ہے کہ ابھی تک قطعیت کے ساتھ یہ بھی نہیں معلوم کہ حضرت مسیح کون سی زبان بولتے تھے۔ قیاس یہ کیا جاتا ہے کہ ان کی زبان غالباً آرامی تھی۔ تاہم انجیل کی شکل میں آپ کی تعلیمات کا جو بالواسطہ ریکارڈ آج ہمارے پاس ہے اس کا قدیم ترین نسخہ یونانی زبان میں پایا جاتا ہے۔ گویا حضرت مسیح کے خیالات صرف ترجمہ شدہ حالت میں ہمارے پاس پھر یہ یونانی زبان بھی قدیم وجدید یونانی سے بالکل مختلف ہے حتی کہ انیسویں صدی کے آخر تک نئے عہد نامہ میں کم از کم ۵۵۰ الفاظ (کل متن کا ۱۲ فی صد) ایسے تھے جن کے معانی معلوم نہ تھے۔ میں ایک جرمن عالم اڈولف ڈیزمین (ADOLF DEISSMANN) نے مصر میں بعض قدیم تحریریں پائیں۔ ان کے مطالعہ کے بعد اس نے قیاس کیا کہ “بیبلیکل گریک” در اصل قدیم یونانی زبان کی غیر علی بولی تھی جو پہلی صدی عیسوی میں فلسطین کے عوام میں رایج تھی۔ اس نے مذکورہ نامعلوم الفاظ کے کچھ معانی متعین کئے۔ تاہم اب بھی یونانی انجیل میں ۵۰ الفاظ (کل متن کا ایک فی صد) ایسے ہیں جن کے معانی ابھی تک نامعلوم ہیں۔
XAVIER LEON-DUFOUR S.J., THE GOSPELS AND THE JESUS OF HISTORY DESCLEE CO. INC., NEW YORK 1970, pp.312 ارنسٹ ریناں (۱۸۹۴ - ۱۸۲۳) نے عربی زبان کا مطالعہ کرتے ہوئے اپنی کتاب اللغات السامیہ میں لکھا ہے: “انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ حیرت انگیز واقعہ عربی زبان ہے۔ یہ زبان قدیم تاریخ میں ایک غیر معروف زبان تھی۔ پھر اچانک وہ ایک کامل زبان کی حیثیت سے ظاہر ہوئی۔ اس کے بعد سے اس میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہ ہوسکی حتی کہ اس کا نہ کوئی بچپن ہے اور نہ بڑھاپا۔ وہ اپنے ظہور کے اول دن جیسی تھی ویسی ہی آج بھی ہے۔
قرآن کی زبان کے بارے میں فرانسیسی مستشرق کا یہ اعتراف دراصل اعجاز قرآن کا اعتراف ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ قرآن کا معجزاتی ادب ہی ہے جس نے عربی زبان کو تبدیلی کے اس عام تاریخی قانون سے مستثنیٰ رکھا جس سے دوسری تمام زبانیں متاثر
ہوتی ہے کسی عالم جرجی زیدان (۱۹۱۴-۱۸۶۱) نے اپنی کتاب آداب اللغۃ العربیہ میں اس کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے :
وبالجملة فان للقرآن تاثیرانی آداب مختصریہ کہ عربی زبان کے ادب پر قرآن نے ایسا غیر معمولی اللغۃ العربیۃ ليس لكتاب ديني مثله اثر ڈالا ہے جس کی مثال کسی اور دینی کتاب کی دوسری في اللغات الاخریٰ زبانوں میں نہیں ملتی۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کی تمام زبانیں تبدیلی کا شکار رہی ہیں۔ حتیٰ کہ کسی زبان کا آج کا عالم اس زبان کی چند سو برس پہلے کی کتاب کو لغت اور شرح کی مدد کے بغیر سمجھ نہیں سکتا۔ اس تبدیلی کے اسباب عام طور پر دو قسم کے رہے ہیں۔ ایک، اجتماعی انقلاب، دوسرے، ادبی ارتقاء - عربی زبان کے ساتھ پچھلی صدیوں میں یہ دونوں واقعات اسی شدت کے ساتھ پیش آئے جس طرح کسی دوسری زبان کے ساتھ پیش آسکتے ہیں۔ مگر وہ اس زبان کے لسانی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہ کرسکے۔ عربی زبان اب بھی وہی زبان ہے جو چودہ سو برس پہلے نزولِ قرآن کے مکہ میں بولی اور سمجھی جاتی تھی۔ ہومر (م ۸۵۰ ق م) کی ایلیڈ، تسی داس (م ۱۶۲۳ ء) کی رامائن، اور شیکسپیئر (۱۶۱۶ - ۱۵۶۴) کے ڈرامے انسانی ادب کا شاہکار سمجھے جاتے ہیں اور زمانہ تالیف سے لے کر اب تک مسلسل پڑھے جاتے رہے ہیں۔ مگر وہ ان زبانوں کو اپنی ابتدائی شکل میں محفوظ نہ رکھ سکے جن میں وہ لکھے گئے تھے۔ ان کی زبانیں اب کلاسیکس کی زبانیں ہیں نہ کہ زندہ زبانیں ۔ زبانوں کی تاریخ میں قرآن واحد مثال ہے جو مختلف قسم کے علمی اور سیاسی انقلابات کے باوجود اپنی زبان کو مسلسل اسی حالت پر باقی رکھے ہوئے ہے جس حالت پر وہ نزول قرآن کے انسانی سماج کی کوئی بھی تبدیلی اُس میں تبدیلی کا باعث نہ بن سکی۔ یہ واقعہ قرآن کے ایک بر تر کلام ہونے کا یقینی ثبوت ہے۔ پچھلے ڈیڑھ ہزار برس کی تاریخ نے قطعی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ قرآن ایک معجزہ ہے ، اس کے بعد اعجاز قرآن کے لئے مزید کسی ثبوت کی ضرورت نہیں۔