زیادہ دودھ حاصل کیجئے
Al-Risala, January 1977, pp. 49–48
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک گائے کے کئی بچے ہوں تو سب میں دودھ یکساں نہیں ہوگا۔ کسی میں کم ہوگا ، کسی میں زیادہ۔ ایک عام مشاہدہ ہے۔ اگر آپ ایک گائے کے بچوں میں سے زیادہ دودھ والے بچے کا انتخاب کریں۔ پھر اس کے بعد اس کے بھی مختلف بچوں میں سے جس کا دودھ زیادہ ہو ، اس کو لیں تو کئی نسلوں کے بعد شاید آپ ایک ایسی گائے حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو ابتدائی ماں کے مقابلہ پر دگنا دودھ دیتی ہو۔ اس عمل میں آپ کو ایک سو برس لگ جائیں گے۔ ایگریکلچرل یونیورسٹی میں جو تجربے کئے گئے ہیں ان سے معلوم ہوا ہے کہ یہی مقصد دو نسلی گائے (CROSS-BRED) کے ذریعے صرف چھ مہینے میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔
برلا نے ایک بار اپنی تقریر میں کہا تھا کہ اگر پیداوار بڑھانے کی کوشش کی جائے تو موجودہ صدی کے خاتمہ تک ہندوستان دنیا کے سب سے زیادہ مضبوط اور خوش حال ملکوں کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے اور اس کی فی کس آمدنی جو اس وقت صرف ایک سو ڈالر سالانہ ہے ، بڑھ کر تین سو ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتی ہے۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جاپان کے پاس اگر چہ لوہا اور کوئلہ نہیں ، مگر وہ ۱۹۱۴ء میں اس کی لوہے کی پیداوار نصف ملین ٹن تھی اور ۱۹۷۶ میں ۱۲۰ ملین ٹن پہنچ چکی ہے جب کہ ہندوستان کے پاس ہر قسم کے خام ذخائر ہیں۔ پھر بھی یہ حال ہے کہ ۱۹۴۷ میں اس کی لوہے کی پیداوار ۲۵ را ملین ٹن تھی اور آج ۵ ملین ٹن ہے۔ (ہندوستان ٹائمنس ، ۵ مئی ۱۹۷۶) حقیقت یہ ہے کہ اصل مسئلہ وسائل کا نہیں بلکہ وسائل کو استعمال کرنے کا ہے۔ کسی شخص یا قوم میں کرنے کا جذبہ پوری طرح ابھر آئے تو صفر سے شروع کر کے بڑی بڑی کامیابیاں تک پہنچنا ممکن ہو سکتا ہے اور اگر کرنے کا جذبہ نہ ہو تو وسائل کی افراط کے درمیان بھی کسی کامیابی کی امید نہیں کی جاسکتی۔ ہر آدمی اپنی کامیابی کا راز خود اپنے ساتھ لئے ہوئے ہے، اگر چہ اپنی بے خبری سے وہ اس کو اپنے باہر ڈھونڈ رہا ہے ۔
زرعی دور کے صنعتی دور میں بے زمین ہوکر دل کے مریضوں کے لئے ہندوستان کا دوسرا سب سے بڑا مستقل میڈیکل یونٹ کان پور میں بنا ہے۔ ۲۴ نومبر ۱۹۷۶ء کو اتر پردیش کے وزیر اعلی شری نرائن دتّ تیواری نے اس کا افتتاح کیا۔ سنگھا نیا انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی اس تین منزلہ عمارت پر ۲۱ لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ یہ رقم اس کو جے کے ٹرسٹ نے فراہم کی تھی یہ ٹرسٹ شری لکشمی پت سنگھانیا (1974-1910) نے قائم کیا تھا جو ہندوستان کے بڑے صنعت کاروں میں شمار ہوتے ہیں۔
یہ اس قسم کے دوسرے بے شمار واقعات میں سے نسبتاً ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ اس تازہ مثال کو ہم نے
یہ واضح کرنے کے لئے دہرایا ہے کہ موجودہ زمانہ میں کیا تبدیلی ہوئی ہے۔ پچاس برس پہلے ملک کی اقتصادی بنیاد زراعت پر قائم تھی۔ مسلمانوں کے پاس بہت بڑی بڑی زمینیں بلکہ ریاستیں تھیں۔ قدیم اقتصادی نظام میں مسلمان ایک مستحکم حیثیت کے مالک تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص
فراہم کیا تھا۔
آزادی کے بعد ایک نیا انقلاب آیا۔ ملک زرعی دور سے نکل کر صنعتی دور میں داخل ہوگیا۔ مسلمان مختلف وجوہ سے، اس دور میں اپنی جگہ نہ بناسکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج کوئی مسلمان مصلح اگر کسی ملی منصوبہ کو لے کر اٹھتا ہے تو اس کا منصوبہ مفلس کے چراغ “ کی طرح ٹمٹماتا رہتا ہے یہاں تک کہ دھیرے دھیرے بجھ جاتا ہے۔ جن قوموں نے صنعتی نظام میں اپنی جگہ بنائی ہے ان کے اجتماعی منصوبوں کو غذا دینے والے فوراً ان کے قریب ہی مل ان کا منصوبہ نہ تو فیل ہوتا اور نہ ان کو بھیک مانگنے کے لئے باہر جانا پڑتا۔
یہی تبدیلی قدیم دور میں اس وقت ہوئی تھی جب انسان شکار خوری کے دور سے نکل کر زراعتی دور میں اس وقت جن قوموں نے زمانہ کی تبدیلی کو سمجھا اور زراعت کے طریقے اپنائے، وہ دوسروں سے آگے بڑھ گئیں۔ جن قوموں نے اس فرق کو نہیں سمجھا اور شکار خوری کے طریقے پر قائم رہیں، وہ زندگی کے میدان میں پیچھے دھکیل دی گئیں۔
جنگلی قبائل، جو اب بھی دنیا کے مختلف حصوں میں پائے جاتے ہیں وہ اسی گزرے ہوئے دور کی یادگار یہ شکار اور مویشیوں پرگزر کرتے ہیں۔ میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ حتیٰ کہ اپنی تعلیمی کمی کی وجہ سے، وہ اپنے اس پچھڑے پن کا شعور بھی نہیں رکھتے۔ گڈوانی ہندوستان کے شہری پرواز کے محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ انھوں نے اپنی ایک تازہ کتاب میں میسور کے سلطان ٹیپو (1799ء - 1751ء) کے حالات ناول کے پیرایہ میں بیان کئے اس تاریخی ناول کا نام ہے ”ٹیپو سلطان کی شمشیر“ یہ کتاب انھوں نے ہند، برطانیہ، فرانس، ہالینڈ، ترکی اور ایران کے کتب خانوں اور عجائب گھروں میں اٹھارہ سال تک تحقیق کرنے کے بعد تیار کی ہے۔ مسٹر گڈوانی نے ٹیپو سلطان کو "درجہ اول کا قوم پرست" قرار ان کا فیصلہ ہے کہ "ٹیپو اٹھارویں صدی کا واحد ہندوستانی حکمران ہے جس نے کسی بھی وقت اپنے ہم وطنوں کے خلاف جنگ میں انگریزوں کا ساتھ نہیں دیا۔ مسٹر گڈوانی نے لکھا ہے کہ "1792ء کے سرنگاپٹم کے محاصرہ میں ٹیپو نے انگریزوں کے ساتھ صلح کی جو بات چیت شروع کی وہ محض اپنے جنرل میر صادق کی پیدا کردہ غلط فہمی کی بنیاد پر تھی۔ حالانکہ اس وقت برطانوی جنرل کارنو الس اپنی فوجوں کے زبردست جانی نقصان کی وجہ سے پسپائی کی تیاریوں میں مشغول تھا۔ سلطان ٹیپو کا یہ اقدام وقتی طور پر اس کے جاسوسی نظام کی کمی کا سبب ہو سکتا ہے۔ تاہم ٹیپو کی شکست یا اٹھارویں صدی کے آخر میں مشرقی اقوام کی مغربی اقوام کے مقابلہ میں پسپائی اس قسم کی کسی جز وی یا اتفاقی غلطی کا نتیجہ نہ تھی۔ یہ دراصل جدید قوتوں میں مغرب کی سبقت اور مشرق کی پس ماندگی تھی جس نے ایک کو غالب اور دوسرے کو مغلوب کر دیا
انسان کو خدا نے آزاد پیدا کیا ہے۔ مگر یہ آزادی لامحدود نہیں ہے۔ فرد کی آزادی موت کے وقت ختم ہو جاتی ہے اور بحیثیت مجموعی پوری نسل انسانی کی آزادی قیامت کے روز ختم ہو جائے گی۔ دنیا کی اس زندگی کے خاتمہ کے بعد آخرت کی زندگی شروع ہوتی ہے۔ وہاں انسان کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ ایک وہ جنہوں نے اپنی دنیوی زندگی کی آزادی کو خدا کی مرضی کے تابع رکھا ہوگا۔ ایسے لوگ جنتوں میں داخل کئے جائیں گے۔ دوسرے وہ لوگ جنہوں نے آزادی کے اس لمحہ کو خدا سے بے خوف ہو کر گزارا ہوگا۔ ایسے لوگ جہنم میں دھکیل دیئے جائیں گے۔ یہ تقسیم دائمی ہوگی۔ ہمیشہ کے لئے آگ میں جلتے رہیں گے، جنت والے ہمیشہ کے لئے آرام اور خوشی کے باغوں میں رہیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی تقریباً سو برس کی زندگی ایک دائمی انجام پر ختم ہونے والی ہے۔ اور انجام بھی ایسا کہ یا تو شدید ترین عذاب ہے یا اعلیٰ ترین انعام ۔ یہ صورت حال زندگی کے مسئلہ کو انتہائی سنگین بنا دیتی ہے۔ اس غیر معمولی سنگینی کے باوجود دنیا میں یہ تمام حقیقتیں آدمی کی نگاہ سے اوجھل رہتی ہیں۔ خدا، فرشتے، جنت، دوزخ، کسی بھی چیز کو وہ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتا۔ اس لئے یہ ممکن تھا کہ قیامت میں جب تمام باتیں کھلیں تو آدمی یہ کہہ دے کہ خدایا، ہم کو معلوم ہی نہ تھا کہ زندگی کا بالاخر یہ انجام ہونے والا ہے۔ ایسا ہی تھا تو آپ نے ہم کو بتانے کا انتظام کیوں نہ کیا۔
مسئلہ کی اسی نزاکت کی وجہ سے خدا نے یہ اہتمام کیا کہ جب انسان کو پیدا کیا تو اس کے ساتھ پیغمبر بھی بھیجنے شروع ہر بستی اور ہر نسل میں خدا نے اپنے پیغمبر اٹھائے۔ ان کے اوپر وحی بھیجی اور کتاب اتاری۔ تاکہ وہ لوگوں کو کھول کھول کر زندگی کی حقیقت سے آگاہ کر دیں۔ یہ سلسلہ آدم سے لے کر مسیح تک چلتا رہا۔ یہاں تک کہ خدا نے فیصلہ کیا کہ آخری رسول بھیجے اور اس کے اوپر آخری آسمانی کتاب اتار کر اس کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دے۔ اس طرح ساتویں صدی سے انسانی تاریخ میں نیا دور شروع ہوا جب کہ خدا کی کتاب (قرآن) تو محفوظ حالت میں موجود ہے۔ مگر اس کو لوگوں کے سامنے بیان کرنے کے لئے پیغمبر نہیں آرہے ہیں۔
پھر ختم نبوت کے بعد جو انسان پیدا ہو رہے ہیں اور پیدا ہو کر مر رہے ہیں، ان کو با خبر کرنے کا کیا انتظام خدا نے اس کا جواب امت محمدیہ ہے۔ اللہ کے آخری رسول نے اپنی امت پر دین کی گواہی دی۔ اس کے بعد امت محمدیہ کو ہمیشہ کے لئے ذمہ دار بنا دیا گیا کہ وہ قیامت تک پیدا ہونے والے لوگوں کے سامنے اس کی گواہی دیتی رہے، تاکہ قیامت کے روز جب قوموں کا مقدمہ پیش ہو تو وہ وہاں کھڑی ہو کر یہ کہہ سکے کہ ہم نے ان لوگوں تک حق کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ اس کے باوجود جن لوگوں نے اس کو اختیار نہیں کیا، وہ اپنے عمل کے خود ذمہ دار ہیں۔
یہی وہ کام ہے جس کو قرآن میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے۔ امت محمدیہ کی لازمی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کام کے وہ کسی بھی حال میں اس سے بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔ حتی کہ ذاتی عبادت بھی ، خواہ وہ کتنی ہی زیاوہ مقدار میں ہو اس کو خدا کی پکڑ سے بچانے والی نہیں بنے گی ۔ اگر وہ اس کام کو انجام نہ دے اور دنیا کی قوموں کو آنے والے دن سے نہ ڈرائے تو وہ بھی آخرت میں دوسری قوموں کے ساتھ پکڑی جائے گی۔ دوسری قوموں کا جرم اگر یہ ہوگا کہ انہوں نے قرآنی زندگی اختیار نہیں کی تو وہ اس بات کی مجرم قرار پائے گی کہ اس نے خدا کے بندوں کو خدا کی مرضی سے آگاہ نہیں اور دوسری جرم کسی بھی حال میں، پہلے جرم سے کم نہیں ہے ۔
یہود جس جرم میں معتوب و مغضوب ہوئے ، وہ یہی تھا کہ ان کے پاس خدا کی جو الہامی امانت تھی، اس کو انہوں نے چھپایا اور لوگوں کو اس سے خبردار نہیں کیا۔ تو رات کے حاملین نے جو غلطی کی، وہی غلطی اگر قرآن کے حاملین کریں تو ان کے ساتھ کوئی دوسرا معاملہ نہیں ہوگا۔ خدا کا قانون ان کو بھی اسی طرح اپنی لپیٹ میں لے لے گا جس طرح دہ پچھلی قوموں کو لے چکا ہے۔ خدا کی کسی قوم کے ساتھ ، خصوصی رشتہ داری نہیں ہے، اس سے بڑی کوئی بھول نہیں ہوسکتی کہ کوئی گروہ اپنے کو خدا کا خصوصی رشتہ دار سمجھ لے۔
مسلمانوں کو آج اہل عالم کے سامنے وہی فریضہ دعوت انجام دینا ہے جو رسول نے اپنے زمانہ میں لوگوں کے اوپر انجام دیا تھا یعنی قرآن کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانا۔ جس طرح زکوٰۃ کی ادائیگی کے بغیر سارا مال ایک مسلمان کے لئے حرام رہتا ہے ، اسی طرح اس فریضہ کو انجام دینے سے پہلے ہمارے لئے جائز نہیں ہے کہ ہماری زندگی میں کسی اور چیز کا حصہ ہو۔ ہمارے لئے کوئی خوشی اس وقت تک خوشی نہیں ہے اور کوئی عافیت اس وقت تک عافیت نہیں ہے جب تک ہم پیغام رسانی کے اس کام کو انجام نہ دے لیں یا کم از کم اس میں اپنے آپ کو لگائے ہوئے ہوں :
ہمین قرآن کا ترجمہ بہترین اہتمام کے ساتھ، دنیا کی تمام زبانوں میں فراہم کرنا ہے۔
رسول اور اصحاب رسول کی زندگیوں پر جدید اسلوب میں کتابیں تیار کر کے تمام دنیا کے لوگوں تک پہنچانا ہے ۔ پیغمبر کے اقوال (حدیث) کے ترجمے دنیا کی تمام زبانوں میں تیار کرنا ہے۔
اسلام کی تاریخ (نہ کہ فتوحات کی تاریخ) کو مرتب کر کے شائع کرنا ہے۔
جدید زبان اور عصری اسلوب میں اسلام کو مدلل کرنا ہے۔
وہ تمام عملی تدبیریں اختیار کرنا اور معاون ادا رے قائم کرنا ہے، جو کسی دعوت کو مؤثر انداز میں لوگوں تک پہنچانے کے لئے ضروری ہیں۔
پھر یہ کام سادہ معنوں میں محض تقریر و تحریر کا کام نہیں ہے۔ بلکہ خدا کی نمائندگی کا کام ہے، اس کو اسی اہتمام کے ساتھ کرنا ہے جس کا وہ متقاضی ہے۔ اس کے لئے ہم کو اسی قدر سنجیدہ بننا ہے جتنا ایک اہم سرکاری پیغام کو پہنچانے والا سنجیدہ ہوتا ہے۔ خیر خواہی اور دل فگاری کے ان تمام تقاضوں کو اس میں شامل کرنا ہے جو اس قسم کی سنگین خبر کے ایک حامل سے متوقع ہے۔ یہ بھی لازمی ہے کہ جس جہنم سے آپ دوسروں کو ڈرانے جارہے ہیں خود اس سے کا نپتے ہوں ، جس جنت کی خوش خبری درد سر کے
دے رہے ہیں۔ خود اس کے حریص ہوں۔ اگر یہ باتیں نہ ہوں تو آپ کی دعوت و تبلیغ ایک قسم کا مسخرہ پن ہوگا۔ کوئی بھی شخص اس کو اس قابل نہیں سمجھے گا کہ اس پر غور کرے۔
ہماری جدید تاریخ کا ایک بہت بڑا سوال یہ ہے کہ پچھلے تقریبا دوسو برس کے عرصے میں سارے عالم اسلام میں بے شمار بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں۔ ان کو کام کرنے کے بے پناہ مواقع ملے۔ مگر ان کی کوششوں کے حقیقی نتائج صفر کی حد تک کم تھے۔ یہ ناکامی انھیں اس کے باوجود ہوئی کہ ان کو اپنے پروگرام کو بعدے کار لانے کے لئے بہترین وسائل ملے۔ علم، تقدس، اخلاص، شخصیت، قربانی، تعداد، سرمایہ، غرض وسائل و ذرائع کی کوئی ایسی قسم نہیں جو دفتر مقدار میں ان کو حاصل نہ ہوئی ہو۔ مگر ان کی طوفان خیز کوششوں کے نتائج کو دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے صرف ملت کے قافلے کو پیچھے لے جانے کا کام انجام دیا ہے۔
جو لوگ خدا کے قائل نہ ہوں، یا اس کو زندہ اور فعال نہ مانتے ہوں وہ اس واقعہ کی کوئی بھی خود ساختہ توجیہہ کر سکتے ہیں۔ مگر خدا پر ایمان کا تقاضا ہے کہ اس پورے واقعہ کو ہم سنت اللہ کے تحت سمجھیں اور اس کو براہ راست خدائی معاملہ قرار دیں۔ اس حیثیت سے غور کیا جائے اور اس سلسلہ میں قرآن کو رہنما بنایا جائے تو بلا کسی اشتباہ کے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہماری تحریکوں کی ناکامی کی وجہ صرف یہ تھی کہ انھوں نے وہ اصل کام نہ کیا جس پر خدا نے امت مسلمہ کے لئے نصرت اجتماعی کا وعدہ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری نصرت کا وعدہ اس شرط پر کیا ہے کہ ہم اُس کی نصرت کریں۔ یعنی بندوں کو خدا کے تخلیقی منصوبے سے باخبر کرنے کے لئے خدائی مشن میں شریک ہوں۔ ہماری مہم دنیوی حقوق کے لئے احتجاج اور مطالبہ کی مہم نہ ہو بلکہ انذار آخرت کی مہم ہو۔ ہم دوسروں کے مقابلہ میں دعوتی تحریک اٹھائیں، نہ کہ سیاسی اور اقتصادی تحریک۔ یہی وہ اصل بات ہے جس نے موجودہ زمانے میں ہماری تمام کوششوں کو حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ کا مصداق بنا دیا ہے۔ ہم نے دنیوی سیاست کے لئے تحریکیں اٹھائیں، اس لئے آسمانی نصرت ہم کو حاصل نہ ہو سکی۔ اب اگر ہم چاہتے ہیں کہ اپنے آپ کو بربادیوں سے بچائیں تو اس کی واحد صورت یہ ہے کہ ہم اقوام عالم کے سامنے داعی بن کر کھڑے ہوں سیاسی اور معاشی جھگڑے ترک کرکے جنت اور جہنم کو اصل مسئلہ بنائیں اور اس سے لوگوں کو آگاہ کریں۔ خدا کی نصرت کوکھینچنے کی واحد صورت یہی ہے، اور جب تک خدا کی نصرت حاصل نہ ہو، ہم کو کسی قسم کی کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں۔
اہل اسلام کی سربلندی، قرآن کی صراحت کے مطابق ایک خدائی انعام ہے۔ یہ ایک معلوم بات ہے کہ انعام کسی خاص عمل کے صلہ میں دیا جاتا ہے۔ پھر اہل اسلام کا وہ کون سا عمل ہے جو ان کو اس انعام کا مستحق بناتا ہے۔ ہے جو خود امت مسلمہ کی بعثت کا مقصد ہے۔ یعنی اہل عالم کے سامنے دین کی گواہی دینا۔ لوگوں کو خدا کی مرضی سے باخبر کرنا تاکہ آخرت میں کوئی خدا کے اوپر حجت قائم نہ کر سکے یہی وہ عمل ہے جو اہل اسلام کے لئے خداوندی انعام کا استحقاق پیدا کرتا اگر ہم اس مطلوب کام کو نہ کریں تو دوسرا کوئی بھی ہنگامہ ہم کو انعام کا مستحق نہیں بنا سکتا۔ دوسرے ہنگامے تو سزا کا مستحق بناتے ہیں نہ کہ انعام کا۔
قرآن میں ہے: خدا تم کو اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم آخرت کو پہچان لوگے (نمل - آخر) موجودہ زمانہ میں بعض مظاہر کے علمی مطالعہ سے زندگی بعد موت پر جو دلائل قائم کئے جارہے ہیں، وہ ممکن ہے اسی قسم کی نشانیوں کا ہماری موجودہ دنیا اور موت کے بعد کی دنیا کے درمیان شاید بعض روزن کھلے رکھے گئے ہوں تاکہ انسان اپنی زندگی کے اگلے مرحلہ میں داخل ہونے سے پہلے اس سے آگاہ ہو جائے۔
۲۰ جون ۱۹۷۶ کی ملاقات میں شری مول چند جی (پیدائش ۱۸۸۸ء) نے اپنی اہلیہ کا واقعہ بتایا۔ ملتان کے رہنے والے تھے۔ ۱۹۴۷ء میں دہلی آگئے۔ ایسٹ پٹیل نگرنئی دہلی میں اپنے لڑکے کے ساتھ مقیم ہیں ان کی اہلیہ شریمتی تلسی بائی (۱۸۹۵۔ ۱۹۶۵ء) بڑی نیک اور مذہبی خاتون تھیں۔ وہ ملتان میں ۱۹۱۹ء میں بیمار ہوئیں۔ حالت خراب ہوئی ۔ یہاں تک کہ ایک روز نبض کی حرکت اور سانس رک گئی۔ لوگوں نے سمجھ لیا کہ ان کی موت ہو چکی ہے، ناک میں روئی ڈال دی گئی اور آخری رسوم کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ یہ کیفیت تقریباً پندرہ منٹ رہی۔ کے بعد اچانک ان کے اندر حرکت ہونے لگی، انھوں نے آنکھ کھول دی اور دوبارہ "زندہ" ہو گئیں۔
"میں کہاں تھی"، انھوں نے اٹھتے ہی کہا۔ پر انھوں نے بتایا کہ میں نے دیکھا کہ چند آدمی آئے ہیں اور مجھ کو لے کر ایک سرنگ جیسے گول راستہ سے روانہ ہوئے چلتے چلتے ہم لوگ ایک جگہ پہنچے۔ یہاں راج دربار لگا آس پاس بڑے سندر باغیچے تھے ایسے جو کبھی دیکھنے میں نہیں آئے تھے۔ وہاں ایک رعب دار آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے سامنے ایک بہت بڑی کتاب پھیلی ہوئی تھی جس پر لوگوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ لانے والوں نے میرا نام بتایا تو وہ بولا " تم غلط آدمی لائے ہو، اس کو جلدی لوٹاؤ۔ اس طرح میں دوبارہ یہاں واپس آگئی ۔
یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ " دوسری دنیا سے واپسی" کا یہ تجربہ بہت سے لوگوں کو پیش آیا ہے۔ حتی کہ جدید نفسیات میں یہ ایک مستقل مطالعہ کا موضوع بنتا جا رہا ہے۔ بارہ سالہ لڑکی کا واقعہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وہ ایک بار مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھی۔ اس نے حیرانی و پریشانی کے عالم میں اپنے والدین کو بتایا : "موت کی وادی میں میری ملاقات اپنے چھوٹے بھائی سے ہوئی۔ وہ بڑی محبت کے ساتھ۔ میں اس کی دنیا سے واپس نہیں آنا چاہتی تھی۔ مجھ کو دوبارہ یہاں واپس بھیج دیا گیا۔ " اس نے کہا " یہ ملاقات میرے لئے بڑی عجیب تھی کیونکہ میرا تو ابھی تک کوئی بھائی " لڑکی کے والدین یہ بات سن کر حیران رہ گئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ لڑکی کا ایک بھائی تھا جو چھوٹی عمر میں مر گیا تھا اور لڑکی کو اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔ موجودہ تجرباتی سائنس نے موت یا دوسری دنیا کے مسئلہ کو یہ کہہ کر نظر انداز کر دیا تھا کہ وہ محض ایک تصوراتی چیز ہے، سائنسی طریقے سے اس کا مطالعہ نہیں کیا
مگر موجودہ زمانہ میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں کہ علماء کو اپنے سابقہ خیال پر نظر ثانی کرنی پڑی۔ موت اور دوسری دنیا کے مسئلہ کا سائنسی مطالعہ کرنے کے لئے موجودہ زمانہ میں ایک مستقل علم وجود میں آگیا ہے۔ خصوصاً امریکہ میں اس موضوع پر زبردست تحقیقات ہورہی ہے اور اس کے نتائج کتابوں اور رپورٹوں کی شکل میں شائع کئے گئے ہیں۔ جو امریکی علماء اس موضوع کی تحقیق میں لگے ہوئے ہیں۔ ان میں سے چند کے نام یہ ہیں: لیڈی ڈاکٹر الزبتھ کیوبلر روز ڈاکٹر دانیال فریڈم ڈاکٹر رابرٹ گین ڈاکٹر چارلس گر فیلڈ ڈاکٹر کارس اوستس ڈاکٹر رابرٹ ڈین ڈی کیسل پروفیسر ایلینڈور ہر الڈسن پروفیسر آئن سٹیون سن جو تجربات اور مشاہدات جدید انسان کو موت کے بعد زندگی کو بطور واقعہ ماننے پر مجبور کر رہے ہیں، ان میں سے ایک "مرے ہوئے شخص کی دوبارہ واپسی" ہے۔ ایسے بہت سے واقعات ریکارڈ کئے گئے ہیں جب کہ ایک ایسا شخص جس کو طبی طور پر مردہ قرار دے دیا گیا تھا وہ دوبارہ اس دنیا میں واپس آگیا اور حاضرین کو ایسے تجربات بتائے جو دوسری دنیا کی موجودگی کا ثبوت دے مثلاً اپنے مرے ہوئے رشتہ داروں سے ملاقات۔ عام مشاہدہ ہے کہ آدمی نزع کے وقت اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو پکارنے لگتا ہے۔ اگرچہ وہ غشی کے عالم میں ہوتا ہے، پاس بیٹھے ہوئے زندہ لوگوں کی اسے خبر نہیں ہوتی۔ مگر مرے ہوئے اعزہ او دوستوں کو وہ اس طرح آواز دیتا ہے جیسے وہ انہیں دیکھ رہا ہو۔ جیسے وہ اس کے قریب کھڑے ہوں اور اس کو اگلی دنیا میں لے جانے کے لئے اس کے پاس آگئے ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ جب آدمی اپنے مرے ہوئے اعزہ کو پکارنے لگے تو سمجھنا چاہئے کہ اس کا آخر وقت آگیا۔
۵۰ سالہ ڈاکٹر روز نے ایک ہزار سے زیادہ ایسے کیا موت کے بعد بھی زندگی ہے“ اس سوال نے آج کل نئی وسعت اختیار کرلی ہے۔ ماہرینِ نفسیات اس سوال کی سائنسی تحقیق کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ جن کی ”طبی موت“ واقع ہو چکی تھی، ان کو نئے طریقوں سے از سر نو زندہ کیا گیا اور ان سے انٹرویو لئے گئے۔ حیرت انگیز بات ہے کہ موت کے تجربہ کے بارے میں ہر ایک نے ملتی جلتی باتیں کہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہمیں ایسا محسوس ہوا گویا ہماری روح جسم سے نکل کر باہر تیر رہی ہے۔ وہ ایسے لوگوں سے بھی ملے جو ان سے پہلے مر چکے تھے، وغیرہ بین الاقوامی شہرت کی خاتون محقق ڈاکٹر راس کا کہنا ہے کہ تجربات نے غیر مشتبہ طور پر ثابت کر دیا ہے کہ موت کے بعد آدمی زندہ رہتا ہے۔ کچھ دوسرے لوگ ابھی شبہ کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر موڈی نے ایک کتاب اس موضوع پر لکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تجربات داخلی نوعیت کے ہیں اور سائنسی ثبوت کے معیار کو نہیں پہنچتے۔ اس مسئلہ پر امریکہ میں کثرت سے کتابیں چھپ رہی ہیں اور کانفرنس اور سیمینار منعقد کئے جا رہے ہیں۔ الرّسالہ جنوری ۱۹۷۷ء رچ مہینہ کی سرگزشت، باحیات بید
لوگوں کا قریب سے مشاہدہ و مطالعہ کیا جو عالم نزع میں گرفتار تھے اور گویا موجودہ دنیا اور اگلی دنیا کے درمیان پہنچ چکے تھے۔ ان لوگوں نے انھیں بتایا کہ نزع کی حالت میں ان کے کئی ایسے دوست اور رشتہ دار ان کے پاس آئے جو پہلے مر چکے تھے، تاکہ سفر آخرت کے وقت ان کی امداد کر سکیں‘ یہ لوگ اگر اس دنیا میں اپنے بدن کے کسی عضو سے محروم تھے تو نزع کی حالت میں انھیں ایسا محسوس ہوا جیسے ان کا بدن ہر لحاظ سے مکمل ہے۔ مثلاً جو شخص لنگڑا تھا اس کو محسوس ہوا کہ اس کے دونوں پاؤں صحیح اور سالم موجود ہیں۔
اسی طرح خواب نے بھی زندگی بعد موت کے بارے میں تجرباتی ثبوت فراہم کیا ہے۔ ایسے متعین واقعات علم میں آئے ہیں جب کہ ایک شخص کی ملاقات خواب میں کسی مردہ شخص سے ہوئی اور اس نے خواب دیکھنے والے کو بعض ایسی تفصیلات اور معلومات بہم پہنچائیں جن سے صرف مرا ہوا شخص ہی باخبر ہو سکتا تھا۔
ڈاکٹر کیسل نے شمالی کیرولینا کے ایک امیر شخص کے بارے میں بتایا کہ اس کے چار بیٹے تھے۔ وہ کسی بات پر تین لڑکوں سے ناراض ہو گیا اور ایک وصیت نامہ کے ذریعہ اپنے ان تین لڑکوں کو جائداد میں حصہ دار بننے کے حق سے محروم کر دیا۔ جب وہ مر گیا تو اس کے جلد ہی بعد اس کے چوتھے لڑکے نے خواب میں اپنے باپ کو دیکھا جس کو از روئے وصیت تمام جائداد مل رہی تھی۔ اس کے باپ نے اپنی پسندیدہ برساتیوں میں سے ایک اس کوٹ کو جو اس نے خواب کے دوران پہن رکھا تھا، نکالا اس کی اندرونی جیب میں ہاتھ ڈالا۔ اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ جیب میں باپ کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک وصیت نامہ موجود تھا۔ اس پر گواہوں کے دستخط اس کے تحت پچھلی وصیت کو منسوخ کرتے ہوئے بقیہ تینوں لڑکوں کو بھی حق دیا گیا تھا کہ وہ اپنے حصہ کی جائداد وصول کر سکتے ہیں۔ باپ نے موت سے تھوڑی دیر پہلے جائداد کی وراثت کے بارے میں اپنا فیصلہ بدل لیا اس نے دوبارہ اپنا وصیت نامہ تیار کرایا اور اس کو مکمل کر کے اپنے کوٹ کی اندرونی جیب میں ڈال لیا۔ پھر اس سے پہلے کہ اپنے تمام لڑکوں کو اس تبدیلی فیصلہ سے آگاہ کرنے ، انتقال کر گیا۔
اسی طرح ایک عورت کا واقعہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اس کا آپریشن کیا گیا۔ آپریشن کے دوران وہ مکمل طور پر بے ہوش تھی ۔ مگر بعد کو اس عورت نے ڈاکٹروں کی ایک سرجیکل غلطی سے آگاہ کیا جس کو فوراً درست کیا گیا۔ اس کے علاوہ آپریشن کے دوران آپریشن کرنے والا عملہ جو گفتگو کر رہا تھا، اس کا کچھ حصہ بھی اس نے انچارج کے سامنے دہرایا اور عملہ نے اس کی تصدیق کی ۔
ڈاکٹر گریفیلڈ نے بتایا کہ حال ہی میں ایک بوڑھی عورت کا معائنہ کر رہا تھا۔ یہ عورت ہڈی کے کینسر کی مریض تھی ۔ اس کی حالت بہت خراب ہو رہی تھی۔ مریضہ کے درد کو دور کرنے کی جتنی تدبیریں کیں سب بے سود ثابت ہوئیں۔ اچانک ایسا محسوس ہوا جیسے اس برسا تی اوڑھ رکھی تھی، وہ سراپا احتجاج دکھائی دیتا تھا اور دورانِ گفتگو بار بار برسا تی نما کوٹ کی اندرونی جیب کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ نیند کھلی تو لڑکے نے اپنے باپ کی کو بہت افاقہ ہو گیا ہو۔ میں نے عورت سے اس کی اچانک تبدیلی کے بارے میں پوچھا۔ اس نے بتایا کہ ابھی اس کی مردہ ماں اس سے ملنے آئی تھی اور اس کو بتا گئی ہے کہ بہت
جلد دونوں اکٹھا ہو جائیں گی۔ اپنی ماں سے اس گفتگو کے بعد وہ بہت پر سکون ہو گئی اور تھوڑی دیر کے بعد
یہ اور اسی طرح کے دوسرے بہت سے واقعات ہیں جن کی چھان بین کے بعد علماء کی ایک جماعت نے دوسری زندگی کو بطور واقعہ تسلیم کیا ہے۔ کہا ہے کہ ہم یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ موت کے بعد ایک اور زندگی کا وجود ہے۔ ہم اس حقیقت کو سائنسی تجربات کے ذریعہ جان سکتے ہیں۔ مغربی دنیا میں علم الموت (Thanatology) اب ایک مستقل فن بن گیا ہے جس پر سائنسی انداز سے تحقیق ہو رہی ہے۔ اس علم کے گرد اور بھی کئی علوم وجود میں آئے ہیں مثلاً عمر کی سائنس (Gerantalogy) مستقبل کی سائنس (Futuralogy) وغیرہ۔