اجتماعی انقلابات،
Al-Risala, March 1977, pp. 6–16
By Maulana Wahiduddin Khan
اجتماعی انقلابات کس طرح زبانوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، اس کو سمجھنے کے لئے لاطینی کی مثال لیجئے۔ مرکز بعد کے دور میں اگر چہ اٹلی بنا، مگر ا چلا یہ زبان اٹلی کی پیدا وار نہ تھی۔ تقریباً ۱۲ سو قبل مسیح، لوہے کا زمانہ آنے کے بعد، جب وسط یورپ کے قبائل اطراف کے علاقوں میں پھیلے تو ان کی ایک تعداد، خاص طور پر کوہ الپ کے قبائل اٹلی میں داخل ہوئے اور روم اور اس کے آس پاس آباد ہوئے۔ ان کی بولی اور مقامی بولی کے ملنے سے جو زبان بنی وہی ابتدائی لاطینی زبان تھی۔ تیسری صدی قبل مسیح میں لیوبس اینڈ رونیکس نے یونانی زبان کے کچھ ڈراموں اور کہانیوں کا ترجمہ لاطینی میں کیا۔ اس طرح لاطینی زبان ادبی زبان کے دور میں داخل ہوئی۔ پہلی صدی قبل مسیح میں رومی سلطنت قائم ہوئی تو اس نے لاطینی کو اپنی سرکاری زبان بنایا، مسیحیت کے پھیلاؤ سے بھی اس کو تقویت ملی۔ اس طرح مذہب اور سیاست نیز سماجی اور اقتصادی زور پر اس کی ترقی ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ قدیم یورپ کے تقریباً پورے علاقہ میں ۔
سینٹ آگسٹین (۳۵۰۔ ۴۳۰) کے زمانے میں لاطینی اپنے عروج پر تھی۔ قرون وسطیٰ میں لاطینی زبان دنیا کی سب سے بڑی بین اقوامی زبان سمجھی جاتی تھی۔
آٹھویں صدی میں مسلم قو میں ابھریں اور انھوں نے رومی سلطنت کو توڑ کر اس کو قسطنطنیہ میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ ۱۴۵۳ میں ترکوں نے قسطنطنیہ کو فتح کرکے وہاں سے بھی اس کا خاتمہ کر دیا۔ ہزار برس قبل جب رومی شہنشاہیت ٹوٹی تو مختلف علاقائی بولیوں کو ابھرنے کا موقع مل گیا۔ یہی بولیاں، لاطینی کی آمیزش کے ساتھ بعد کو وہ زبانیں بنیں جن کو آج ہم فرانسیسی، اطالوی، اسپینی، پرتگالی، رومانی زبانیں کہتے ہیں۔ اب لاطینی زبان صرف رومن کلیسا کی عبادتی زبان ہے اور سائنس اور قانون کی اصطلاحات میں استعمال ہوتی ہے۔ وہ کوئی زندہ زبان نہیں ہے۔ بلکہ اس کی حیثیت تاریخی ہے۔ مثال کے طور پر نیوٹن (۱۶۴۲۔ ۱۷۲۷) کی پرنسپیا کوئی اصل زبان میں پڑھنا چاہے تو اس کو قدیم لاطینی زبان سیکھنی پڑے گی۔
یہی معاملہ تمام قدیم زبانوں کے ساتھ ہوا ہے۔ ہر زبان مختلف سماجی حالات کے تحت بدلتی رہی۔ کہ ابتدائی زبان ختم ہوگئی اور اس کی جگہ دوسری بدلی ہوئی زبان نے لے لی۔ قومی اختلاط، تہذیبی تصادم، سیاسی انقلاب، زمانی تبدیلی جب بھی کسی زبان کے ساتھ پیش آئے ہیں تو وہ بدل کر کچھ سے کچھ ہوگئی ہے۔ یہی تمام حالات پچھلے ڈیڑھ سو ہزار برس میں عربی زبان کے ساتھ بھی پیش آئے۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عربی زبان میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی۔ اس تغیر پذیر لسانی دنیا میں عربی کا غیر تغیر پذیر رہنا تمام تر قرآن کا معجزہ ہے۔
۴۰۶ میں یہودی قبائل شام سے نکل کر یثرب (مدینہ) آئے۔ یہاں اس وقت عمالقہ آباد تھے جن کی زبان عربی تھی۔ عمالقہ کے ساتھ اختلاط کے بعد یہودی نسلوں کی زبان عربی ہوگئی۔ تاہم ان کی عربی عام عربوں کی زبان سے مختلف تھی۔ عبری اور عربی کا ایک مرکب تھی ۔ یہی واقعہ اسلام کے بعد عربوں کے ساتھ زیادہ بڑے پیمانہ پر پیش آیا جب کہ وہ اپنے وطن عرب سے نکلے اور ایشیا اور افریقہ کے ان ملکوں میں داخل ہوئے جہاں کی زبانیں دوسری تھیں۔ مگر اس اختلاط کا کوئی اثر ان کی زبان پر نہیں پڑا۔ عربی بدستور اپنی اصل حالت پر محفوظ رہی۔
نزول قرآن کے بعد عربی زبان کے لئے اس قسم کا پہلا موقع خود صدر اول میں پیش آیا۔ اسلام عرب کے مختلف قبائل میں پھیلا۔ وہ لوگ اسلامی شہروں میں یک جا ہونے لگے۔ مختلف قبائل کی زبانیں تلفظ، لب و لہجہ وغیرہ کے اعتبار سے کافی مختلف تھیں۔ ابو عمرو بن العلاء کا کہنا پڑا تھا: ما لسان حمیر بلساننا ولا لغتهم بلغةنار قبلہ حمیر کی زبان ہماری زبان نہیں ہے) حضرت عمر نے ایک بار ایک اعرابی کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا تو اس کو پکڑ کر آنحضور کے پاس لائے۔ الفاظ قرآن کو اتنے مختلف ڈھنگ سے ادا کر رہا تھا کہ حضرت عمر کو یہ نہ سمجھ سکے کہ وہ قرآن کا کون سا حصہ پڑھ رہا ہے ۔ طرح آنحضور نے ایک بار ایک عرب قبیلے کے وفد سے اس کی اپنی بولی میں گفتگو کی تو حضرت علی کو ایسا محسوس ہوا جیسے آپ کوئی اور زبان بول رہے ہیں ۔
اس کی بڑی وجہ لہجوں کا اختلاف تھا۔ مثلاً بنو تمیم جو مشرقی نجید میں رہتے تھے۔ وہ جیم کا تلفظ یار سے کرتے تھے۔
مسجد کو مسید اور شجرات کو سرات کہتے تھے۔ اسی طرح بنو تمیم ق کو جیم بولتے تھے، مثلاً طریق کو طریج ، صدیق کو صَدِیق ، قَدَر کو جدر اور قاسم کو جاسم کہتے تھے۔ اس طرح مختلف قبائل کے ملنے سے لسانی تاریخ کے عام قانون کے مطابق ایک نیا عمل شروع ہونا چاہئے تھا جو بالآخر ایک نئی زبان کی تشکیل پر منتہی ہوتا۔ مگر قرآن کے برتر ادب نے عربی زبان کو اس طرح اپنے قبضہ میں لے رکھا تھا کہ اس کے اندر اس قسم کا عمل جاری نہ ہوسکا۔ اس کے برعکس وہ واقعہ پیش آیا جس کو ڈاکٹر احمد حسین زیات نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے:
اسلام کے بجائے عربی زبان، ایک قوم کی زبان نہیں رہی، بلکہ ان تمام قبائل کی زبان بن گئی جو خدا کے دین میں داخل
ما كانت لغة مُضر بعد الاسلام لغة امة وحدہ وانما كانت لغة لجميع الشعوب التي دخلت في دين الله پھر یہ عرب مسلمان اپنے ملک سے باہر نکلے۔ انھوں نے ایک طرف جبل الطارق تک اور دوسری طرف کاشغر تک فتح کر ڈالا۔ ان علاقوں میں مختلف زبانیں رائج تھیں۔ وہ فارسی، قبطی، بربری، عبرانی، سریانی، یونانی، لاطینی، آرامی زبانیں بولتے اور لکھتے تھے۔ ان میں ایسی قومیں بھی تھیں جو اپنے سیاسی نظام اور اپنے تمدن میں عربوں سے بہت زیادہ بڑھی ہوئی تھیں۔ وہ عراق میں داخل ہوئے جو ایک قدیم تمدن کا حامل تھا اور بڑی بڑی قوموں کا مرکز رہ چکا تھا۔ ان کا ایران سے اختلاط ہوا جو اس وقت کی دو عظیم ترین شہنشاہیتوں میں سے ایک تھا۔ ان کا تصادم رومی تہذیب اور عیسائی مذہب سے ہوا جو زیر دست ترقی کے مقام پر پہنچ چکے تھے۔ ان کا سابقہ شام سے پیش آیا جہاں فینیقی، کنعانی، مصری، یونانی، غسانی قوموں نے اپنے آداب و اطوار کے نمایاں اثرات چھوڑے تھے۔ ان کا مقابلہ مصر سے ہوا جہاں مشرق و مغرب کے فلسفے آگرلے تھے۔ یہ اسباب بالکل کافی تھے کہ عربی میں ایک نیا عمل شروع ہو اور ابتدائی زبان کے ساتھ ان نئے عوامل کے اثر سے ایک اور زبان وجود میں آجاۓ جیسا کہ دوسری زبانوں کے ساتھ ہوا۔ مگر اتنے بڑے لسانی بھونچال کے باوجود قرآن اس زبان کے لئے ایک ایسا برتر معیار بنا رہا جس نے تمام دوسرے عوامل کو اس کے لئے بے حقیقت بنا دیا۔
اسلام کی فتوحات کے بعد عربی زبان صرف ایک ملک کی زبان نہ رہی بلکہ کئی درجن ملکوں اور قوموں کی زبان ایشیا اور افریقہ کی عجمی اقوام نے جب اسلام قبول کیا تو ان کی زبان بھی دھیرے دھیرے عربی بن گئی۔ پران غیر ملکی اقوام میں عربی زبان بولنے کی وہ قدرت نہ تھی جو خود عربوں میں تھی۔ ان کی زبان میں اپنی غیر عربی زبانوں کے اثر سے بہت سی خامیاں پیدا ہوگئیں۔ پھر یہی نہیں بلکہ خود عربوں میں جو لوگ زیادہ باشعور نہ تھے، دھیرے دھیرے وہ ان قوموں سے اثر لینے لگے۔ یہاں تک کہ خود ان کی زبان بدلنا شروع ہوگئی۔ بڑے بڑے شہروں میں یہ غلطیاں سب سے زیادہ تھیں، کیونکہ یہاں مختلف قوموں کے لوگ جمع تھے۔ بڑھتے بڑھتے یہ خرابی خواص تک پہنچ گئی نہ یاد بن امیہ کے دربار میں ایک بار ایک شخص آیا اور بولا: توفى ابانا دترك بنون (ہمہارا باپ مرگیا اور اولاد چھوڑ گیا) اس جملہ میں ابانا کی جگہ ابونا ہونا چاہئے تھا اور بنون کی جگہ بنین۔ اس طرح کے بے شمار فرق پیدا ہو گئے۔ دیگر تاریخی زبانوں
کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ عربی زبان کے ساتھ بھی لازماً ہوتا۔ مگر یہاں بھی قرآن کی ادبی عظمت عربی کے لئے ڈھال بن گئی اور عربی زبان کی صورت پھر بھی وہی باقی رہی جو قرآن نے اس کے لئے مقرر کردی تھی۔
اس طرح کے واقعات جو عربی زبان کی پچھلی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ میں بار بار پیش آئے ہیں قرآن کے معجزہ ہونے کا کھلا ہوا ثبوت ہیں کیونکہ یہ تمام تر قرآن کی عظمت ہی کا نتیجہ تھا جس نے عربی کو کسی تغیری عمل کا معمول بننے نہ دیا۔ دوسری صدی ہجری میں اموی سلطنت کا خاتمہ اور عباسی سلطنت کا قیام عربی زبان کے لئے زبردست فتنہ تھا۔ بنی امیہ کی حکومت خالص عربی حکومت تھی۔ اموی حکمران عرب قومیت اور عربی زبان و ادب کی حمایت میں جانب داری او تعصب کی حد تک سخت تھے۔ انھوں نے اپنا پایہ تخت دمشق کو بنایا تھا جو عرب و بہات کی سرحد پر واقع تھا۔ ان کی فوج، دفتری عملہ اور افسران سب عرب ہوا کرتے تھے۔ مگر عباسی حکومت میں ایرانیوں کا غلبہ ہوگیا۔ عباسیوں نے ایرانیوں ہی کی مدد سے بنی امیہ کا خاتمہ کیا تھا، اس لئے ان کے نظم و نسق میں ایرانی اعاجم کا عمل دخل ہو جانا لازمی تھا، حتی کہ عباسیوں نے دارالحلافہ بغداد کو قرار دیا جو ایران سے بہت قریب تھا۔ انھوں نے ایرانیوں کو اتنی چھوٹ دی کہ وہ حکومت کے سارے معاملات میں آزادانہ کارروائیاں کرنے لگے۔ انھوں نے عرب اور عرب تہذیب کو حقارت کی نظر سے دیکھا اور اس کو بالقصد کمزور کرنے کی تدبیریں کرنے لگے۔ عربی عصبیت کے کمزور ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایرانی، ترکی، سریانی، رومی اور بربری عناصر حکومت اور سماج کے تمام معاملات پر چھا گئے۔ عربوں اور غیر عربوں میں رشتہ داریاں عام ہوئیں۔ آریائی تہذیب اور سامی تہذیب کے ملنے سے زبان اور تہذیب میں نیا انقلاب آگیا۔ اکاسرہ کے پوتے اور فریم جاگیر داروں کے بیٹے پھر سے ابھر آئے ۔ انھوں نے اپنے آبا واجداد کی تہذیب کو از سر نو زندہ کرنے کی کوشش شروع کردی۔ ان واقعات کا عربی زبان پر بہت گہرا اثر پڑا۔ متنبی ( ۹۴۵ - ۹۶۵ء) کے زمانہ میں عربی کی جو حالت ہو چکی تھی، اس کا اندازہ اس کے چند اشعار سے ہوتا ہے :
مَعَاقِی الشَّعْبِ طِیْبَاً فِی الْمُعَافِی وَمِنْزَلَةُ الرَّبِیْعِ مِنَ الزَّمَانِ وَلَکِنَّ الْفَتَی الْعَرَبِیُّ فِیھَا غَرِیْبُ الوَجْھِ وَالْیَدِ وَاللِّسَانِ مَلَاعِیْبُ جِنَّةٍ لَوْ سَادَ فِیْھَا سُلَیْمَانِ لِسَادِ بـِتـَرْجـُمَانِ شرح دیوان المتنبی (بیروت ۱۹۳۸) صفحہ ۳۸ " شب بوان (ایران) کے مکانات عمدگی میں تمام مکانوں سے اسی طرح بڑھے ہوئے ہیں جس طرح زمانہ کی تمام فصلوں میں بہار کی فصل، مگر اس بستی میں ایک عرب جوان (میرا) اپنے چہرہ، ہاتھ اور زبان کے لحاظ سے بالکل اجنبی سلیمان جن کے تابع جنات تھے (جو جانوروں تک کی بولیاں سمجھتے تھے) اگر اس علاقہ میں آئیں تو انھیں اپنے ساتھ ترجمان رکھنا پڑے گا۔ ترکوں اور کردوں نے بھی اس سلسلے میں ایرانیوں کی تقلید کی۔ مگر قرآن کی ادبی عظمت عربی زبان کے لئے ڈھال بنی رہی۔ اس قسم کی کوششوں سے وقتی ہلچل تو ضرور پیدا ہوئی مگر جلدی وہ دب رہ گئی اور عربی زبان میں کوئی مستقل تبدیلی پیدا نہ کرسکی۔
خلیفۂ متوکل (۱۷ - ۲۴۷ ھ) کے بعد عجمی اقوام ، ایرانی اور ترک ، عرب علاقے میں بہت زیادہ دخیل ۶۵۶ ھ میں ہلاکو خاں نے بغداد کی سلطنت کو برباد کر دیا۔ ۵۹۵ ھ میں اندلس کی عرب حکومت کو یورپی اقوام نے ختم کر دیا۔ ۹۲۳ ھ میں مصر و شام سے فاطمیوں کا خاتمہ ہو گیا اور ان عرب علاقوں کی حکومت عثمانی ترکوں کے قبضہ میں چلی گئی۔ اسلامی حکومت کا دارالسلطنت قاہرہ کے بجائے قسطنطنیہ ہو گیا اور سرکاری زبان عربی کے بجائے ترکی قرار پائی۔ عربی زبان میں غیر زبان کے الفاظ اور اسالیب کثرت سے آنے لگے۔
عالم عرب پر ساڑھے پانچ سو سال ایسے گزرے ہیں جب کہ تمام غریب دنیا بھی بادشاہوں کے جھنڈے کے نیچے رہی، حتی کہ مغل، ترک اور ایرانی حکمران عرب آثار تک کو مٹانے پر تلے رہے۔ عربی کے کتب خانے جلائے گئے، مدرسے اجاڑے گئے، علماء کو ذلیل کیا گیا۔ عثمانی سلطنت نے اپنی ساری طاقت کے ساتھ عربوں کو ترک بنانے کی وہ مہم چلائی جس کو جمال الدین افغانی نے بجاطور پر "ترک بک العرب" کہا ہے۔ مگر ان میں سے کوئی واقعہ بھی عربی زبان میں کوئی مستقل تبدیلی پیدا نہ کر سکا۔ بغداد و بخارا میں، تاتاریوں نے، شام میں صلیبیوں نے اور اندلس میں یورپی قوموں نے عربی زبانِ ادب اور عرب تہذیب کو جو نقصانات پہنچائے وہ عربی زبان کا نام و نشان مٹانے کے لئے بالکل کافی تھے۔ اس کے بعد، دوسری زبانوں کی تاریخ کے مطابق، یہ ہونا چاہئے تھا کہ عربی زبان اپنی دیگر سامی زبانوں سے مل جاتی۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ تروک کی جہالت اور ایرانیوں کا تعصب اگر حائل نہ ہوا ہوتا تو عربی زبان آج تمام دنیا کے مسلمانوں کی واحد زبان ہوتی۔ تاہم جہاں تک عرب علاقے کا تعلق ہے، وہاں اس کا بدستور اپنی سابقہ شان میں باقی رہ جانا تمام تر قرآن ہی کا معجزہ تھا۔ قرآن کی عظمت نے اس مدت میں لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ عربی زبان سے اپنا تعلق حکومت و اقتدار کے علی الرغم باقی رکھیں یہی وجہ ہے کہ اس دور میں بھی بے شمار ایسے لوگ پیدا ہوئے جنھوں نے عربی زبان و ادب کی خدمت کی۔ طور پر ابن منظور (۱۱ - ۷۱۱ ھ) ابن خلدون (۸۰۸ - ۳۲ ۷ ھ) وغیرہ۔
نپولین کے قاہرہ میں داخلہ ۹۸ ۱ء کے بعد جب مصر میں پریس آیا اور تعلیم کا دور دورہ ہوا تو عربی زبان کو نئی زندگی ملی تاہم پچھلے سیکڑوں برس کے حالات نے یہ صورتِ حال پیدا کر دی تھی کہ مصر و شام کے دفاتر کی زبان ترکی و عربی کا ایک مرکب تھا۔
۱۸۸۲ء میں مصر پر انگریزوں کے قبضہ کے بعد پھر صورتِ حال بدلی۔ انھوں نے عربی کے خلاف اپنی ساری طاقت لگا دی۔ تمام تعلیم انگریزی کے ذریعہ لازمی کر دی گئی۔ مختلف زبانیں سکھانے کے آثار سے ختم کر دیئے گئے اسی طرح جن عرب علاقوں پر فرانسیسیوں کا غلبہ ہوا، وہاں انھوں نے فرانسیسی کو رواج دیا۔ مگر تقریباً سو سال تک انگریزی اور فرانسیسی زبانوں کے غلبہ کے باوجود عربی زبان بدستور اپنی صلاحیات پر باقی رہی اس میں الفاظ کی وسعت ضرور پیدا ہوئی. مثال کے طور پر ٹینک کے لئے ذبابہ کا لفظ رائج ہوا جو پہلے معمولی مچھر نچ کے لئے بولا جاتا تھا۔ اسی طرح طر ز بیان میں وسعت پیدا ہوئی مثلاً نو مسلموں کے حالات پر آج ایک کتاب شائع ہو تو اس کا نام رکھا جاتا ہے لماذا اسلمنا ۔ جب کہ اس سے پہلے مسیح ومقفّیٰ ناموں کا رواج تھا۔ اسی طرح بہت سے الفاظ معرب ہو کر رائج ہوئے مثلاً ڈاکٹر و ڈاکٹر۔ مگر یہ بہت
اصل زبان میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اصل زبان بدستور وہی آج بھی ہے جو قرآن کے نزول کے وقت مکہ میں رائج تھی۔ زبانوں میں تبدیلی کا دوسرا سبب ادیبوں اور مصنفوں کے کارنامے ہیں۔ جب بھی کوئی غیر معمولی ادیب یا مصنف پیدا ہوتا ہے، وہ زبان کو کھینچ کرنے لسانی اسلوب کی طرف لے جاتا ہے، اس طرح زبان تبدیل اور ارتقار کے مراحل طے کرتی رہتی ہے، اور بدلتے بدلتے کچھ سے کچھ ہو جاتی ہے۔ عربی زبان میں اس کے برعکس، ایسا ہوا کہ قرآن نے اول روز ہی ایسا برتر معیار سامنے رکھ دیا کہ کسی انسانی ادیب کے لئے ممکن نہ ہوسکا کہ وہ اس سے اوپر جا سکے ۔ عربی زبان اسی اسلوب پر باقی رہی جو قرآن نے اس کے لئے مقرر کر دیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں، عربی زبان میں قرآن کے بعد کوئی دوسرا "قرآن" نہ لکھا جاسکا، اس لئے زبان بھی قرآنی زبان کے سوا کوئی اور زبان نہ بن سکی۔ انگریزی زبان کی مثال لیجئے ۔ ساتویں صدی عیسوی میں وہ ایک معمولی مقامی بولی کی حیثیت رکھتی تھی جس کی علمی خیال کو ظا ہر کرنا ممکن نہ تھا۔ پانچ سو برس سے بھی زیادہ عرصہ تک یہی حال رہا۔ انگریزی زبان کا شمار اول چاپر چاسر (۱۳۰۰ء - ۱۳۰۰ء) پیدا ہوا تو انگلستان کی درباری زبان فرانسیسی تھی ۔ چاسر جو لاطینی فرانسیسی اور اطالوی زبانیں جانتا تھا، اس نے انگریزی میں اشعار کہے اور نظمیں لکھیں۔ اپنی غیر معمولی ذہانت اور دیگر زبانوں سے واقفیت کی وجہ سے وہ اس میں کامیاب ہوسکا کہ انگریزی بولی کو آگے لے جائے اور اس کو ایک علمی زبان کا روپ دے۔ باسر (ERNEST HAUSER) کے الفاظ میں اس لئے اپنی کامیابی لفظوں کے ذریعہ انگریزی کو ایک مضبوط بڑھاوا (FIRM BOOST) دیا ۔ اس نے ایک بولی کو ایسی طاقت ور زبان بنا دیا جس میں ترقی کے نئے امکانات چھپے ہوئے تھے۔ (پیڈرڑ تو انجشٹا۔ جون ۵۷ء (۱۹) دو سو برس تک چاسر انگریزی شاعروں اور ادیبوں کا رہنما بنا رہا۔ یہاں تک کہ دیم شکسپیر (۱۶۲۵ - ۱۵۵۸) کا ظہور ہوا جس نے چاسر سے زیادہ بہتر ادب کا نمونہ پیش کیا۔ اپنے اشعار اور ڈراموں کے ذریعہ اس نے انگریزی کو دوبارہ ایک نیا معیار عطا کیا۔ اب انگریزی زبان ایک قدم اندر آگے بڑھی اور ترقی کی نئی شاہراہ پر سفر کرنے لگی. یہ دور تقریبا ایک سو برس تک رہا، یہاں تک کہ سائنس کے ظہور نے زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح ادب میں بھی، دوبارہ نئے معیار قائم کرنے شروع کئے ۔ اب شعر کے بجائے نشر، اور افسانہ نویسی کے بجائے واقعہ نگاری کو اہمیت ملنے لگی اس کے اثر سے انگریزی میں سائنٹفک اسلوب وجود میں آیا ۔ سونیٹ (۵۴۱ ۵۸ ۱۷۹۶) سے لے کر ٹی ۔ ایس ایلیٹ (۱۹۸۵) تک درجنوں ادیب پیدا ہوئے جنھوں نے زبان کو وہ نیا معیار عطا کیا جس سے اب ہم گزر رہے ہیں ۔ یہی عمل تمام زبانوں میں ہوتا ہے ۔ ایک کے بعد دوسرا زیادہ سے زیادہ ننے والا ادیب درمیوں کا گروہ اٹھتا ہے اور دہ کو نیا اسلوب دے کرنے مرحلے کی طرف لے جاتا ہے۔ اس طرح زبان بدلتی رہتی ہے یہاں تک کہ چند صدیاں گزرنے کے بعد اتنا فرق ہوجاتا ہے کہ اگلے لوگ پچھلی زبان کو لغات اور شرح کے بغیر سمجھ ہی نہ سکیں۔ اس کلیہ سے صرف ایک زبان مستثنیٰ ہے اور وہ عربی زبان ہے۔ یہی واقعہ قرآن کے اس دعوے کے ثبوت کے لئے کافی ہے کہ کوئی شخص قرآن جیسی کتاب وضع نہیں کر سکتا۔ بلا شبہ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ پچھلی صدیوں میں
متعدد دلگوں نے قرآن کے جواب میں دوسرا قرآن لکھنے کی کوشش کی، مگر سب کے سب ناکام رہے۔ مثال کے طور پر مسیلمہ بن حبیب، طلیحہ بن خویلد، نضر بن الحارث، ابن الراوندی، ابو العلاء المعری، ابن المقفع، متنی وغیرہ۔ سلسلے میں ان کی جو عبار تیں نقل کی گئی ہیں، وہ اتنی سطحی ہیں کہ قرآن کے مقابلہ میں ان کو رکھنا بھی مسخرہ خیز معلوم ہوتا ہے۔ مثلاً مسیلمہ کے "قرآن" کا ایک حصہ یہ تھا:
يا ضفدع نقّی ما تنقين، فلا الماء تكدرين ولا الشار ب تمنعين اے مینڈکی جتنا ٹرا کر سکے ٹرا لے، تو نہ پانی کو گندا کرے گی نہ پینے والوں کو روکے گی۔ اسی طرح مسیلمہ کا ایک اور " الہام" یہ تھا:
لقد انعم الله على الحبلي، اخرج منها نسمة تسعى، من بين صفاق وحشا تہذیب سيرة ابن هشام، جلد دوم، صفحه ۱۲۱ اللہ نے حاملہ عورت پر بڑا انعام کیا ہے، اس کے اندر سے دوڑتی ہوئی جان نکالی، جھلی اور پیٹ کے اندر سے تا ہم اس سے بھی زیادہ بڑا ثبوت وہ مسلسل واقعہ ہے جس کو ارنسٹ رینان نے ایک لسانی معجزہ قرار دیا ہے جس طرح دوسری زبانوں میں زبان آور پیدا ہوئے، اسی طرح عربی میں بھی شعراء اور ادبا اور مصنفین پیدا ہوئے اور پیدا ہو رہے ہیں، مگر اس پوری مدت میں کوئی ایساباں دال نہ اٹھا جو قرآن سے برتر ادب پیش کر کے عربی میں نلسانی معیار قائم کرتا اور زبان کو نئے مرحلہ کی طرف لے جاتا۔ اس لئے زبان اسی مرحلہ ترقی پر قائم رہی جو قرآن نے اس کے لئے مقرر کر دیا تھا۔ اگر دوسری زبانوں کی طرح عربی زبان میں بھی ایسے لوگ پیدا ہوتے جو قرآن کے مقابلہ میں زیادہ اعلیٰ ادب کا نمونہ پیش کرتے تو نا ممکن تھا کہ زبان ایک مقام پر رکی رہے۔
قرآن کی مثال عربی زبان میں ایسی ہی ہے جیسے کسی زبان میں آخری اعلیٰ ترین ادیب اول روز ہی پیدا ہو جائے۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد کوئی ایسا ادیب نہیں ابھرے گا جو زبان میں کوئی تبدیلی پیدا کر سکے۔ قرآن کے نزول کے زمانہ میں جو زبان عرب میں رائج تھی، اس کو ترقی دے کر قرآن نے اعلیٰ ترین ادب کی شکل میں ڈھال دیا۔ اس کے بعد اس میں تبدیلی کا کوئی سوال نہ تھا۔
قرآن نے عربی کے روایتی اسالیب پر اضافے کر کے اس میں توسیع کا دروازہ کھولا، مثال کے طور پر سورہ اخلاص میں لفظ " احد" کا استعمال۔ عربی زبان میں اس سے پہلے یہ لفظ مضاف مضاف الیہ کے طور پر استعمال ہوتا آیا تھا جیسے یوم الاحد (ہفتے کا دن) یا نفی عام کے لئے جیسے ما جاء فی أحد لامر سے پاس کوئی نہیں آیا) وغیرہ مگر قرآن نے یہاں لفظ احد کو ہستی یا رمی تعالیٰ کے لئے وصف کے طور پر استعمال کیا جو عربی زبان میں غیر معمولی تھا۔ عربی میں دوسری زبانوں کے الفاظ شامل کئے مثلاً استبرق، سرادق (فارسی) حص (اط(یونانی) یم (سامی) اسی طرح قسطاس، سجيل، مشكاة، جهت، سندس، زئجبيل وغیرہ۔ مکہ کے مشرکین نے جب کہا تھا کہ وما الرحمن (فرقمان - (4) تو اس کا لسانی پس منظر یہ تھا کہ رحمان کا لفظ عربی نہیں یہ سریانی اور حمیری زبان سے آیا ہے بین اور حبشہ
سکے نصرانی اللہ کو حمن کہتے تھے۔ قرآن نے اس لفظ کی تحریف کر کے اس کو اللہ کے لئے استعمال کیا تو مکہ والوں کو وہ اجنبی انھوں نے کہا ہر رحمان کیا ہے؟ قرآن میں غیر عربی الاصل الفاظ ایک سو سے زیادہ شمار کئے گئے ہیں جو فارسی رومی، نبطی، حبشی، عبرانی، سریانی قبلی زبانوں سے لے گئے ہیں۔
قرآن اگرچہ قریش کی زبان میں اترا۔ مگر دوسرے قبائل عرب کی زبان بھی اس میں شامل کی گئی۔ مثلاً قرآن میں "فاطر" کا لفظ آیا ہے، عبد اللہ بن عباس جو ایک قریشی مسلمان تھے، کہتے ہیں: ما کنت ادری معنی فاطر السماوات والارض میں فاطر السماوات والارض کے معنی نہیں سمجھتا تھا حتی سمعت اعرابی یقول لبئر ابتدأ احفرھا : یہاں تک کہ ایک اعرابی جس نے ایک کنواں کھودنا شروع انا فطر تھرا کیا تھا، کہا، "انا فطر تھا ۔ تب میں اس کو سمجھا۔
ابو ہریرہ رضہ کہتے ہیں:
ما سمعت السکین الافی قولہ تعالی (یوسف - ۳۱) میں نے سکین (چھری) کا لفظ پہلی بار قرآن کی آیت ما کنا نقول الا المدینة سے جانا۔ اس سے پہلے ہم اس کو مدینہ کہا کرتے تھے۔
بہت سے الفاظ ایسے تھے جن کے مختلف لہجے عرب قبائل میں رائج تھے۔ قرآن نے ان میں سے فصح تر تلفظ کا انتخاب کر کے اس کو اپنے ادب میں استعمال کیا۔ مثلاً قریش کے یہاں جس مفہوم کے لئے اعطی کا لفظ تھا اس کے لئے حمیرن کے یہاں انطی بولا جاتا تھا۔ قرآن نے انطی کو چھوڑ کر اعطی کا انتخاب کیا۔ اسی طرح شناتر کی جگہ اصابع کتع کی جگہ ذئب وغیرہ۔ قرآن اصلا قریش کی زبان میں اترا ہے، مگر بعض مقامات پر قریش کی زبان کو چھوڑ کر کسی دوسرے قبیلے کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر لا یلتکم من اعمالکم بنی عبس کی زبان ہے۔ اس طرح قرآن نے الفاظ اور اسالیب کو نئی وسعتیں اور نیا حسن دے کر ایک اعلیٰ عربی ادب کا نمونہ قائم کر دیا۔ یہ نمونہ اتنا بلند تھا کہ اس کے بعد کوئی ادیب اس سے برتر معیار پیش نہ کر سکا۔ اس لئے عربی زبان ہمیشہ کے لئے قرآن کی زبان ہو کر رہ گئی ۔
عربوں میں جو امثال اور تعبیرات قدیم زمانہ سے رائج تھیں، ان کو قرآن نے زیادہ بہتر پیرایہ میں ادا کیا۔ زندگی کی بے ثباتی کو قدیم عربی شاعر نے ان لفظوں میں نظم کیا تھا:
کل ابن انثی وان طالت سلامتہ یوما علی آلة حد باء محمول ہر آدمی خواہ وہ کتنے ہی عرصہ تک صحیح و سالم رہے ، ایک دن بہر حال وہ تابوت کے اوپر اٹھایا جائے گا۔ قرآن نے اس تصور کو ان لفظوں میں ادا کیا: کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (آل عمران - ۱۸۵) قدیم عرب میں قتل و غارت گری سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ اس صورت حال نے چند فقرے پیدا کئے تھے جو اس زمانہ میں فصاحت کا کمال سمجھے جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ قتل کا علاج قتل ہے۔ اس تصور کو انھوں نے حسب ذیل مختلف الفاظ میں موزوں کیا تھا:
قَتْلُ الْبَعْضِ إِحْيَاءُ بِلْمُجْمَعِ بعض لوگوں کا قتل سب کی زندگی ہے أَكْثِرُوا الْقَتْلَ لِيَقِلَّ الْقَتْلُ قتل کی زیادتی کر دو تاکہ قتل کم ہو جائے۔
الْقَتْلُ أَنْفَى لِلْقَتْلِ قتل کو سب سے زیادہ روکنے والی چیز قتل ہے قرآن نے اس تصور کو ان لفظوں میں ادا کیا: وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَاب (بقره - ۱۷۹) قرآن سے پہلے عربی میں اور دنیا کی تمام زبانوں میں شعر کو بلند مقام حاصل تھا۔ لو گ شعر کے اسلوب میں اپنے خیالات کو ظاہر کرنا کمال سمجھتے تھے ۔ قرآن نے اس عام روش کو چھوڑ کر نثر کا اسلوب اختیار کیا۔ یہ واقعہ بجائے خود قرآن کے کلام الہی ہونے کا ثبوت ہے۔ کیوں کہ ساتویں صدی کی دنیا میں صرف خدائے لَم يَزِل ہی اس بات کو جان سکتا تھا کہ انسانیت کے نام ابدی کتاب بھیجنے کے لئے اسے نثر کا اسلوب اختیار کرنا چاہئے نہ کہ شعور، جو مستقبل میں غیر اہم ہو جانے والا ہے۔ اسی طرح پہلے کسی بات کو مبالغہ کے ساتھ کہنا ادب کا کمال سمجھا جاتا تھا۔ قرآن نے تاریخ ادب میں پہلی بار واقعہ نگاری کو رواج دیا۔ پہلے جنگ اور عاشقی سب سے زیادہ مقبول مضامین تھے۔ قرآن نے اخلاق، قانون، سائنس، نفسیات، اقتصادیات، سیاسیات، تاریخ وغیرہ مضامین کو اپنے اندر شامل کیا۔ پہلے قصہ کہانی میں بات کہی جاتی تھی۔ قرآن نے براہ راست اسلوب کو اختیار کیا۔ پہلے قیاسی منطق کو ثبوت کے لئے کافی سمجھا جاتا تھا، قرآن نے علمی استدلال کی حقیقت سے دنیا کو باخبر کیا۔ ان سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ ساری چیزیں قرآن میں اتنے بلند اسلوب کلام میں بیان ہوئیں کہ اس کے مثل کوئی کلام پیش کرنا انسان کے امکان سے باہر ہے۔ قدیم عرب میں یہ مقولہ تھا کہ ان اعذب الشعر اکذبہ (سب سے زیادہ میٹھا شعر وہ ہے جس میں سب سے زیادہ جھوٹ ہو) مگر قرآن نے ایک نیا طرز بیان (رحمن - (۴) پیدا کیا جس میں فرضی مبالغوں کے بجائے واقعیت تھی، اس نے حقیقت پسند ادب کا نمونہ پیش کیا۔ قرآن عربی زبان و ادب کا حاکم بن گیا۔ ادب جاہلی کا جو سرمایہ آج محفوظ ہے، وہ سب قرآن کی زبان کو محفوظ رکھنے اور اس کو سمجھنے کے لئے جمع کیا گیا۔ اسی طرح صرف و نحو ، معانی بیان، لغت و تفسیر ، حدیث و فقہ، علم کلام ، سب قرآن کے معانی و مطالب کو حل کرنے اور اس کے اوامر و نواہی کی شرح کرنے کے لئے وجود میں آئے۔ حتیٰ کہ عربوں نے جب تاریخ و جغرافیہ اور دیگر علوم کو اپنایا تو وہ بھی قرآن کے احکام و ہدایت کو سمجھنے اور ان پر پوری طرح عمل پیرا ہونے کی ایک کوشش تھی ــــ قرآن کے سوا تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں کہ کسی ایک کتاب نے کسی قوم کو اتنا زیادہ متاثر کیا ہو۔
قرآن نے عربی زبان میں تصرف کرکے جو اعلیٰ تر ادب تیار کیا ، وہ اتنا ممتاز اور بدیہی ہے کہ کوئی بھی عربی جاننے والا شخص کسی بھی دوسری عربی کتاب کی زبان سے قرآن کی زبان کا تقابل کرکے ہر وقت اسے دیکھ سکتا ہے۔ قرآن کا شمار ادبِ عام انسانی ادب سے اتنا نمایاں طور پر فاتق ہے کہ کوئی عربی داں اس کو تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہاں ہم عرض کے لئے ایک واقعہ نقل کرتے ہیں جس سے اس فرق کا بخوبی اندازہ ہو سکے گا۔ طنطاوی، جوہری کہتے ہیں: ارجون ۱۹۳۲ کو میری ملاقات مصری ادیب استاذ کامل گیانی سے ہوئی۔ انہوں نے ایک عجیب واقعہ
انھوں نے کہا میں امریکی مستشرق فنکل کے ساتھ تھا۔ میرے اور ان کے درمیان ادبی رشتہ سے گہرے ایک دن انھوں نے میرے کان میں چپکے سے کہا ”کیا تم بھی انھیں لوگوں میں ہو جو قرآن کو ایک معجزہ مانتے ہیں“ یہ کہہ کر وہ ایک معنی خیز ہنسی ہنسے جس کا مطلب یہ تھا کہ اس عقیدہ کی کوئی حقیقت نہیں۔ مسلمان اس کو مانتے چلے جارہے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ انھوں نے ایسا تیر مارا ہے جس کا کوئی روک نہیں۔ کا یہ حال دیکھ کر مجھے بھی ہنسی آگئی۔ میں نے کہا: قرآن کی بلاغت کے بارے میں کوئی حکم لگانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم تجربہ کرکے دیکھ لیں کہ کیا ہم اس جیسا کلام مرتب کرسکتے ہیں۔ تجربہ کرکے خود بخود اندازہ ہو جائے گا کہ ہم ویسا کلام تیار کرنے پر قادر ہیں یا نہیں۔
اس کے بعد میں نے استاد فنکل سے کہا کہ آیئے ہم ایک قرآنی تصور کو عربی الفاظ میں مرتب کریں۔ وہ تصور یہ کہ "جہنم بہت وسیع ہے" انھوں نے اس رائے سے اتفاق کیا اور ہم دونوں قلم کاغذ لے کر بیٹھ گئے۔ ہم دونوں نے مل کر تقریبا بیس جملے عربی کے بنائے جس میں مذکورہ بالا مفہوم کو مختلف الفاظ میں ادا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
ان جهنم واسعة جدا ان جهنم لا اوسع مما تظنون ان سعة جهتم لا يتصورها عقل الانسان ان جهنم لتسع الدنيا كلها ان الجن والانس اذا دخلوا جهنم لتسعهم ولا تضيق بهم كل وصف في سعة جهنم لا يصل الى تقريب شي من حقيقتها ان سعة جهنم لتصغر امامها سعة السماوات والارض كل ما خطر ببالك في سعة جهنم فانها الا رحب منه واوسع سترون من سعة جهنم مالم تكونوا لتجعلوا بها او تصوروه مهما حاولت ان تتخيل سعة جهنم فانت مقصور لن تصل الى شي من حقيقتها ان البلاغة المعجزة لتقصر وتعجز اشد العجز عن وصف سعة جهنم ان سعة جهنم قد تخطت احلام العالمين وتصور المتصورين متى امسكت بالقلم وقصدت لوصف سعة جهنم احسست بقصورك وعجزك ان سعة جهنم لا يصفها وصف ولا متخيلها وهم ولا تدور بحسبان كل وصف لسعة جهنم انما هو فضول و هذیان ہم دونوں جب اپنی کوشش مکمل کر چکے اور ہمارے پاس مزید عبارت کے لئے الفاظ نہ رہے تو میں نے
پروفیسر فنکل کی طرف فاتحانہ نظروں سے دیکھا۔ "اب آپ پر قرآن کی بلاغت کھل جائے گی"۔ میں نے کہا "جب کہ ہم اپنی ساری کوشش صرف کر کے اس مفہوم کے لئے اپنی عبارتیں تیار کر چکے ہیں۔ پروفیسر فنکل نے کہا: کیا قرآن نے اس مفہوم کو ہم سے زیادہ بلیغ اسلوب میں ادا کیا ہے۔ میں نے کہا ہم قرآن کے مقابلے میں بچے ثابت ہوئے ہیں۔ نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا ، قرآن میں کیا ہے۔ میں نے سورہ ق کی یہ آیت پڑھی : يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَّزِیدٍ ۔ یہ سن کر ان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔ وہ اس بلاغت کو دیکھ کر حیران گئے، انھوں نے کہا: صدقت نعم صدقت د انا اقتر لك ذلك مغتبطا من كل قلبی ۔
آپ نے سچ کہا بالکل سچ ۔ میں کھلے دل سے اس کا اقرار کرتا ہوں ۔
میں نے کہا ، یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ آپ نے حق کا اعتراف کر لیا۔ کیوں کہ آپ ادیب ہیں اور اسالیب کی اہمیت کا آپ کو پورا اندازہ ہے۔ یہ مستشرق انگریزی، جرمن، عبرانی اور عربی زبانوں سے بخوبی واقف تھا، لٹریچر کے مطالعہ میں اس نے اپنی عمر صرف کر دی تھی۔
الشیخ طنطاوی جوهری ، الجواهر فی تفسیر القرآن الكريم، مصراه ۱۳ ھ ، جز ۲۳، صفحات ۱۲ - ۱۱۱ بھی امکانی طور پر اعلیٰ ترین طاقت سے مسلح ہوں گے جب کہ قسم کی ظاہری طاقتیں ان سے چھن چکی ہوں گی، کیونکہ ان انجیل میں پیغمبر اسلام کے بارے میں جو پیشین گوئیاں کی طاقت کا راز ان کے دین کی نظریاتی صداقت میں ہے ۔ ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے:
اور یہ وہ چیز ہے جس کو ان سے کوئی چھین نہیں سکتا۔
یہ پیشین گوئی پیغمبر اسلام کی زندگی میں ہی مکمل و من فمہ يخرج سیف ماضی لکی یضرب به الامم شکل میں پوری ہو چکی ہے۔ آپ کی زبان پر اللہ نے اپنا قوموں کو مارنے کے لئے اس کے منہ سے ایک تیز تلوار نکلتی ہے جو کلام جاری کیا، اس نے قدیم آباد دنیا کے تقریباً پورے علاقہ کو زیر و زبر کر ڈالا۔ کلام الہی کی یہ طاقت یوحنا عارف کا مکاشفہ 19:15 اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر آخر الزماں کو جو دین دیا جائے گا آج بھی اپنا کرشمہ دکھا سکتی ہے ، بشرطیکہ پیغمبر اسلام اس کی طاقت لوہے کی تلوار نہیں ہو گی بلکہ الفاظ کی تلوار کے امتی اس کو لے کر اسی طرح اٹھیں جس طرح ان کے وہ نظریاتی طاقت سے قوموں کو زیر کرے گا۔ وہ اس پیش رو اس کو لے کر اٹھے تھے۔ قوت کے ذریعہ کام کرے گا جو زبان سے نکلتی ہے نہ کہ رہ قوت یہی حقیقت حدیث میں ان لفظوں میں بیان ہوئی ہے: جو کانوں سے اور زمین کی تہوں سے برآمد ہوتی ہے۔