پیغمبر اسلام
Al-Risala, March 1977, pp. 19–30
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو ہم دو بڑے دوروں میں بانٹ سکتے ہیں۔ ایک نبوت سے پہلے۔ نبوت ملنے کے بعد۔ آپ اپنی زندگی کے دونوں دوروں میں خدا کے کامل بندے اور اس کی طرف پوری طرح رجوع کرنے والے نظر آتے ہیں۔ نبوت سے پہلے آپ کی عبدیت سچی تلاشِ حق کی صورت میں ظاہر ہوئی اور نبوت کے بعد سچی اتباعِ حق کی صورت میں۔
پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۲۲ اپریل ۵۷۱ء کو عرب میں پیدا ہوئے اور ۸ جون ۶۳۲ء کو آپ کی وفات ہوئی۔ آپ نہایت تندرست اور طاقت ور تھے۔ بچپن سے یہ حال تھا کہ جو دیکھتا، کہہ اٹھتا : ان لهذ الغلام نشأنا۔ بڑے ہوئے تو آپ کی شخصیت اور زیادہ نمایاں ہوگئی۔ آپ کو دیکھنے والے آپ سے اسی کے ساتھ اتنے نرم اور شیریں زبان تھے کہ تھوڑی دیر بھی جو شخص آپ کے قریب رہتا، آپ سے محبت برداشت، سچائی، معاملہ فہمی، حسن سلوک آپ کے اندر کامل درجہ میں پایا جاتا تھا۔ خلاصہ یہ کہ آپ اس انسانی بلندی کی اعلیٰ ترین مثال تھے جس کو نفسیات کی اصطلاح میں متوازن شخصیت (BALANCED PERSONALITY) کہا جاتا ہے۔ داؤد بن حصین کا بیان ہے کہ عرب کے لوگ عام طور پر یہ کہتے سنے جاتے تھے کہ محمد بن عبداللہ اس شان سے جوان ہوئے کہ آپ اپنی قوم میں سب سے زیادہ با اخلاق، پڑوسیوں کی خبرگیری کرنے والے، حلیم و بردبار، صادق وامين جھگڑے سے دور رہنے والے، بخش گوئی و دشمنام طرازی سے پرہیز کرنے والے تھے۔ اسی وجہ سے آپ کی قوم نے آپ کا نام ” الامین“ رکھا تھا (خصائص کبری، جلد ا، صفحه ۹۱)
۲۵ سال کی عمر میں جب آپ نے شادی کی تو اس موقع پر آپ کے چچا ابو طالب نے نکاح کا خطبہ پڑھتے ہوئے کہا تھا: ان ابن اخی محمد، ابن عبد الله لا یوزن به رجل میرے بھتیجے محمد بن عبداللہ کا مقابلہ جس شخص سے بھی کیا الا رجح به شرفا وفضلا وعقلاً، وهو والله جائے، وہ شرافت، نجابت، بزرگی اور عقل میں اس سے بعد هذا له نباءعظیم وخطر جلیل بڑھ جائے گا۔ خدا کی قسم اس کا مستقبل عظیم ہوگا، اور اس کا رتبہ بلند ہوگا۔
ابوطالب نے یہ الفاظ ان معنوں میں نہیں کہے تھے جن معنوں میں بعد کو تاریخ نے اسے سچا ثابت کیا۔ انھوں نے یہ بات تمام تر دنیوی معنوں میں کہی تھی۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ جو شخص فطرت سے وہ پرکشش شخصیت لے کر پیدا ہوا ہو، جو محمد بن عبد اللہ میں نظر آتی ہے، وہ ہر حال قوم کے اندر معزز مقام حاصل کرتا ہے اور دنیا کے بازار میں اس کی بڑی قیمت مل کر ایسے شخص کی اعلیٰ صلاحیتیں اس کی ترقی اور کامیابی کی یقینی ضمانت ہیں۔
پیغمبر اسلام کے لئے یہ امکانات، بلاشبہ، پوری طرح موجود تھے۔ آپ اپنی صلاحیتوں کی بڑی سے بڑی دنیوی قیمت وصول کر سکتے تھے۔ آپ مکہ کے ایک اونچے خاندان میں پیدا ہوئے۔ اگر چہ آپ کو اپنے باپ سے وراثت میں صرف
ایک اونٹنی اور ایک خادمہ ملی تھی مگر آپ کی شاندار پیدائشی خصوصیات نے مکہ کی سب سے امیر خاتون کو متاثر کیا۔ ۲۵ سال کی عمر میں ان سے آپ کا نکاح ہو گیا۔ یہ ایک تاجر خاندان کی بیوہ تھیں ۔ ان سے آپ کو نہ صرف مال اور جائداد ملی، بلکہ عرب میں اور عرب کے باہر تجارت کا زبردست میدان بھی ہاتھ آیا۔ اب آپ کے لئے ایک پرسکون اور کامیاب زندگی بنانے کے سارے مواقع فراہم ہو چکے تھے۔ مگر آپ نے ان کو چھوڑ کر ایک اور ہی چیز کا انتخاب کیا۔ آپ نے نہ پوچھتے اپنے کو ایک ایسی راہ پر ڈال دیا جو صرف دنیا کی بربادی کی طرف لے جاتی تھی۔ خدیجہ سے نکاح سے پہلے آپ اپنی گزر اوقات کے لئے کچھ معاشی کام کر لیتے تھے۔ اب وہ دہلی چھوٹ گیا، اب آپ ہمہ تن اس تلاش میں لگ گئے جس کی جستجو آپ کو بچپن سے تھی۔ یہ کہ سچائی کیا ہے۔ آپ گھنٹوں بیٹھے ہوئے زمین و آسمان پر غور کرتے رہتے۔ مکہ کے شرکاء میں اپنے تعلقات بڑھانے اور وہاں کی مجلسوں میں اپنی جگہ پیدا کرنے کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ صحراؤں اور پہاڑوں کو اپنا ہم نشین بنا لیا۔ تین میل کے فاصلہ پر ایک پہاڑی سلسلہ ہے جس میں ایک کھوہ ہے جس کا نام حراء ہے۔ آپ ستو اور پانی لے کر وہاں چلے پہاڑ کے سنسان ماحول میں زندگی کی حقیقت پر غور کرتے۔ زمین پر آسمان کے پیدا کرنے والے سے دعائیں مانگتے کہ میرے تو اپنے آپ کو میرے اوپر ظاہر کر دے۔ سچائی کیا ہے مجھ کو بتا دے۔ جب پانی کی مشک خالی ہوجاتی اور ستو ختم ہو جاتے تو گھر واپس آتے تاکہ دوبارہ اسی طرح کھانے پینے کا سامان لے کر قدرت کے اس ماحول میں لوٹ جائیں جہاں صحرا اور درخت پہاڑ اور آسمان کی پرسکون فضائیں تھیں۔ آپ کی بے چین طبیعت انسانی ہنگاموں میں اپنے سوال کا جواب نہ پاسکی اب آپ نے قدرت کی خاموش دنیا کو اپنا ہم نشین بنایا تھا کہ شاید وہ اس کا کچھ جواب دے سکے۔ جوانی کی طاقتوں سے بھرپور، ایک شخص کے لئے اس قسم کی زندگی کوئی معمولی بات نہ تھی۔ یہ خوشی کے راستہ کو چھوڑ کر غم کے راستہ کو اپنانا تھا۔ بیوی بچوں کے ساتھ آرام کی زندگی گزارنا، تجارت کو ترقی دینا اور سوسائٹی میں اپنی جگہ بنانا، یہ تمام امکانات آپ کے لئے پوری طرح کھلے ہوئے تھے۔ مگر آپ کی بے تاب اور متلاشی طبیعت ان چیزوں پر راضی ہونے کے لئے تیار نہ تھی، تمام چیزیں اس وقت تک آپ کو پو بیچ معلوم ہوتی تھیں جب تک آپ زندگی کا راز معلوم نہ کر لیں۔ چاہتے تھے کہ ان ظاہری چیزوں سے اوپر اگر کوئی حقیقت ہے تو وہ کیا ہے۔ نفع نقصان اور آرام و تکلیف کی اصطلاحوں میں سوچنے کے بجائے آپ اس سوال کو حل کرنے میں منہمک رہتے کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔
یہ پیغمبر اسلام کی زندگی کا یہی وہ پہلو ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے : وَ وَجَدَكَ ضَلَّا فَهَدَى (والضحی) ضال کے معنی ہیں راہ کھولا ہوا ، سرگردان (ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم مثل في شعاب مکہ و هو صغير ثم رجع) یہ لفظ اس مسافر کے لئے بولا جاتا ہے جو راستہ سے بھٹک گیا ہو اور حیران و پریشان مختلف راستوں کو دیکھ رہا ہو، اس کی سمجھ میں نہ آتا ہو کہ کدھر جائے، اسی لئے اس درخت کو ضلہ کہتے ہیں جو صحرا میں اکیلا کھڑا ہو اور اس کے آس پاس کوئی دوسرا درخت نہ ہو۔ اسی سے کہا جاتا ہے ضل الماء في اللبن (پانی دودھ میں کھو گیا) آیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ جاہلیت کے بیابان میں اکیلے درخت کی طرح کھڑے ہوئے تھے۔ صحراؤں اور پہاڑوں میں یہ غم لئے پھرتے تھے کہ سچائی کیا ہے جس کو میں اپناؤں۔ دنیا کے مردہ نقشوں میں اپنی جگہ بنانے کے بجائے حیران و متفکر ہو کر الگ تھلگ
چاہتے تھے سچائی سے کتر کوئی چیز آپ کی روح کے لئے تسکین کا ذریعہ نہیں بن سکتی تھی، جنتی کہ آپ کی تلاش کی سرگردانی اس نوبت کو پہنچ گئی تھی کہ زندگی آپ کے لئے ایک ایسا بوجھ بن گئی جو آپ کی کر توڑتے دے رہی تھی۔ اس وقت اللہ کی رحمت آپ کی طرف متوجہ ہوئی۔ آپ کے لئے ہدایت اور روشنی کے دروازے کھول دیئے گئے۔ ۱۲ فروری ۶۱۰ء کو جب کہ آپ حرا میں تنہا بیٹھے ہوئے تھے، خدا کا فرشتہ انسان کی صورت میں آپ کے سامنے ظاہر ہوا اور خدا کی طرف سے آپ کو وہ کلمات سکھائے جو قرآن کی سورہ نمبر ۹۶ کی ابتدا میں درج ہیں۔ آپ کی تلاش نے بالآخر اپنا
پیغمبر اسلام کی بے چین روح کا رب ذی الجلالین سے قائم ہو گیا۔ خدا نے آپ کو نہ صرف ہدایت دی بلکہ اپنے نمائندہ خاص کی حیثیت سے چن لیا۔ آپ کے اوپر خدا کا کلام اترنے لگا۔ آپ کی نبوت کی یہ مدت ۲۳ سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ مدت میں خدا کی کتاب (قرآن) مکمل طور پر آپ کے اوپر اتاری گئی۔
پیغمبر اسلام نے اپنی مشکل زندگی کے چالیسویں سال میں سچائی دریافت کرلی۔ مگر یہ سچائی آپ کے لئے کوئی آسان اس سچائی کا مطلب یہ تھا کہ آدمی ایک عظیم تر خدا کی زد میں ہے۔ یہ اپنے تکرار کے مقابلہ میں خدا کی کبریا کی دریافت تھی۔ یہ خدا کے اثبات کے مقابلہ میں اپنی نفی کا پتہ لگانا نا تھا۔ یہ اس راز کو معلوم کرنا تھا کہ اس دنیا میں بندہ مومن کی صرف ذمہ داریاں ہی ذمہ داریاں ہیں، یہاں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔
سچائی کی دریافت کے بعد پیغمبر اسلام کے لئے زندگی کے معنی کیا تھے۔ اس کا اندازہ کرنے کے لئے یہاں پر صرف ایک حدیث نقل کی جاتی ہے ۔ آپ نے ایک بار فرمایا:
امرنی ربی بتسع خشية الله في السر والعلانية وكلمة العدل في الغضب والرضا والقصد في الفقر والغنا وان اصل من قطعني واعطى من حرمتی واعفو من ظلمنى وان يكون صمتى فكرا ونظری عبرة (رواه رزین)
یہ محض تقریر یا گفتگو کے الفاظ نہ تھے ۔ یہ خود آپ کی زندگی تھی جو لفظوں کی صورت میں ڈھل رہی تھی۔ یہ حیرت انگیز حد تک مؤثر کلمات اور اس قدر سچی موٹی باتیں ایک خالی انسان کی زبان سے نکل ہی نہیں سکتیں ۔ یہ الفاظ تو خود بولنے والے
کا مقام بتا رہے ہیں ۔ وہ کہنے والے کے اندرون کو انڈیل رہے ہیں۔ وہ بولنے والے کی روح کو الفاظ کے آئینہ میں یہ نقاب کر رہے ہیں ۔
آپ کی زندگی اگر چہ نبوت ملنے سے پہلے بھی اسی قسم کی تھی مگر وہ تمام تر فطرت کے زور پر تھی۔ اب سچائی کی دریافت نے اس کو شعور کا ذریعہ دیا۔ جو کردار اب تک طبعی تقاضے کے تحت ظاہر ہونا تھا ، اب وہ ایک سوچے سمجھے ذہن کا ارادی جزو بن گیا۔ کسی بندہ خدا کا وہ مقام ہے جہاں دنیوی تقاضے انتہائی حد تک گھٹ کر صرف بقدرِ حق رہ جاتے ہیں۔ آدمی کی جینے کی سطح عام انسانوں سے مختلف ہو جاتی ہے۔ اس کا جسم اسی ظاہری دنیا میں ہوتا ہے مگر نفسیاتی اعتبار سے وہ ایک اور دنیا میں زندگی گزارتے لگتا ہے۔
ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام نے فرمایا :
وعلى العاقل ما لم يكن مظلوبا عقلہ ان يكون له ساعا عقل مند شخص کے لئے لازم ہے کہ اس پر کچھ گھڑیاں گزریں ساعة يناجي فيها ربه اسی گھڑی جب کہ وہ اپنے رب سے باتیں کرے، وساعة يحاسب فيها نفسه اسی گھڑی جب کہ وہ اپنی ذات کا محاسبہ کرے، و ساعة يتفكر فيها فى صنع الله ایسی گھڑی جب کہ وہ خدا کی تخلیق میں غور کر رہا ہو۔
و ساعة يخلو فيها لحاجته من المطعم والمشرب اور ایسی گھڑی جب کہ وہ کھانے پینے کی ضرورتوں کے لئے وقت
رواه ابن حبان في صحيحه والحاكم وقال صحيح الاسناد عن ابي ذر الغفاري )
گویا خدا کا وفادار بندہ وہ ہے جس کے روز و شب کے لمحات اس طرح گزریں کہ کبھی اس کی بے قراریاں اس کو خدا سے اتنا قریب کر دیں کہ وہ اپنے رب سے سرگوشیاں کرنے لگے۔ کبھی یوم الحساب میں کھڑے ہونے کا خوف اس پر اس طرح طاری ہو کہ وہ دنیا ہی میں اپنا حساب کرنے لگے۔ کبھی کائنات میں خدا کی کاری گری کو دیکھ کر وہ اس میں اتنا محو ہو کہ اس کے اندر اس کو خالق کے جلوے نظر آنے لگیں۔ اس طرح گویا خدا سے ملاقات، اپنے آپ سے ملاقات اور کائنات سے ملاقات میں اس کے لمحات گزر رہے ہوں۔ اور درجہ حاجت وہ کسی وقت کھانے پینے کے لئے بھی اپنے کو فارغ کر لیا کرے۔ یہ الفاظ دور کے کسی انسان کا تعارف نہیں ہیں۔ اس میں خود پیغمبر اسلام کی اپنی شخصیت بولی رہی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے ظاہری جسم کے اندر جو مومنانہ روح تھی اس میں ہر وقت کس قسم کے طوفان اٹھتے رہتے تھے۔ آپ کی زندگی کس قسم کی ” ساعات “ کے درمیان گزر رہی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص خود ان گھڑیوں کا تجربہ نہ کر رہا ہو، وہ کبھی اتنے اعلیٰ الفاظ میں اس بات کو بیان ہی نہیں کر سکتا۔ یہ ایک ایسی روح سے نکلے ہوئے کلمات ہیں جس نے ان کیفیات کو خود کمال درجہ میں پایا تھا جس کو وہ لفظوں کے ذریعہ دوسروں پر کھول رہا تھا۔
پیغمبر اسلام کو وہی خداوندی ملنے سے پہلے موجودہ دنیا اپنی کمیوں اور محدودیتوں کے ساتھ بے معنی معلوم مگر جب آپ پر خدا نے اس حقیقت کو کھولا کہ اس دنیا کے سوا ایک اور دنیا ہے جو کامل اور ابدی ہے اور ہی
انسان کی اصلی قیام گاہ ہے، نور زندگی اور کائنات دونوں آپ کے لئے با معنی ہو گئے ۔ اب آپ نے زندگی کی وہ سطح پالی جہاں آپ جی سکتے تھے، جس میں آپ اپنا دل لگا سکتے تھے ۔ اب آپ کو ایک ایسی حقیقی دنیا مل گئی جس سے اپنی امیدیں اور تمناؤں کو وابستہ کر سکیں جس کے پیش نظر اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کریں۔
یہی مطلب ہے الدنیا مزرعة الآخرة (دنیا آخرت کی کھیتی ہے) کا۔ اس احساس کے تحت جو زندگی بنتی ہے، اس کو آج کل کی اصطلاح میں آخرت رخی زندگی (AKHIRAT ORIENTED LIFE) کہا جا سکتا ہے ۔ آدمی، اپنے تصور حیات کے لازمی نتیجہ کے طور پر، آخرت کو اپنا اصلی مسئلہ سمجھنے لگتا ہے ۔ وہ اس سے باخبر ہو جاتا ہے کہ دنیا ہماری منزل نہیں۔ وہ صرف راستہ ہے۔ وہ آخرت کے مستقبل کی تیاری کا ایک ابتدائی مرحلہ ہے۔ جس طرح ایک دنیا پرست آدمی کی تمام سرگرمیاں دنیوی مصالح کے گرد گھومتی ہیں، اسی طرح ایک بندہ خدا کی پوری زندگی کا رخ آخرت کی طرف ہو جاتا ہے ۔ ہر معاملہ میں اس کا رویہ اس فکر کے تحت بنتا ہے کہ آخرت میں اس کا انجام کیا ہوگا خوشی ہو یا غم، کامیابی ہو یا نا کامی ، زبردستی کی حالت ہو یا زور آوری کی ، تعریف کی جا رہی ہو یا تنقید، غصہ کا موقع ہو یا محبت کا ، ہر حال میں آخرت کا خیال اس کا رہنما بنا رہتا ہے۔ حتی کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ آخرت کا فکر اس کے لاشعور کا جزو بن جاتا ہے۔ اگرچہ اب بھی وہ بشریت سے خالی نہیں ہوتا۔ مگر اس کا ذہن انھیں امور میں چلتا ہے جو آخرت سے تعلق رکھنے والے ہوں۔ جن باتوں میں آخرت کا کوئی پہلو نہ ہو ان سے اس کی دلچسپیاں اتنی کم ہو جاتی ہیں کہ بعض اوقات اس کو کہنا پڑتا ہے : انتم اعلم امور دنیا کم تم اپنے دنیا کے معاملات کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو) اس حقیقت کی حیثیت محض ایک علمی دریافت کی نہیں۔ اس کو پانے کے بعد آدمی کی جینے کی سطح بدل جاتی ہے۔ آدمی کچھ سے کچھ ہو جاتا ہے ۔ اس کی بہتر مثال خود پیغمبر اسلام کی ذات ہے۔ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جب تک جینے کی سطح نہ بدلے، عمل کی سطح نہیں بدل سکتی۔
پیغمبر اسلام نے جب یہ حقیقت پائی تو وہ ان کی پوری زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا۔ جن جنت کی خبر آپ دوسروں کو دے رہے تھے، اس کے آپ خود سب سے زیادہ حریص بن گئے اور جن جہنم سے دوسروں کو ڈرا رہے تھے، اس سے آپ خود سب سے زیادہ ڈرنے لگے ۔ آپ کا یہ اندرونی طوفان بار بار دعا اور استغفار کی صورت میں آپ کی زبان سے ظاہر ہوتا رہتا تھا۔ آپ کی جینے کی سطح عام انسانوں سے کس طرح مختلف تھی اس کا اندازہ چند واقعات سے ہوگا۔ عن ام سلمة ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان فی بیتہا ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تھے فدعٰی وصيفةً له اولہا فأبطأتُ فاستبانَ الغضب آپ نے خادم کو بلایا۔ اس نے آنے میں دیر کی۔ آپ کے چہرہ پر فی وجهہ فقامت ام سلمہ الى الحجاب فوجدت غصہ ظاہر ہو گیا۔ ام سلمہ نے پردہ کے پاس جا کر دیکھا تو خادم الوصيفة تلعب دمعه سواك فقال ولا خشية کو کھیلتے ہوئے پایا۔ اس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک مسواک تھی ۔ القود يوم القيامة لَا وَجَعْتُ مَعَ بهذا السواك آپ نے خادم کو خنتا کرتے ہوئے فرمایا : اگر قیامت کے دن (الادب المفرد، باب قصاص العبد، صفحه (۲۹) مجھے بدلہ کا ڈر نہ ہوتا تو میں تجھ کو اس مسواک سے مارتا۔
بدر کی جنگ (رمضان ۲ھ) کے بعد جو لوگ قیدی بن کر آئے، وہ آپ کے بدترین دشمن تھے۔ مگر آپ نے ان کے ساتھ بہترین سلوک کیا۔ ان قیدیوں میں ایک شخص سہیل بن عمرو تھا جو آتش بیان خطیب تھا اور تمام مجمعوں میں آپ کے خلاف بیہودہ تقریریں کیا کرتا تھا۔ عمر فاروق نے رائے دی کہ اس کے نیچے کے دو دانت اکھاڑ دیے جائیں تاکہ آئندہ کے لیے اس کا تقریر کا جوش ختم ہو جائے۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا:
" خدا میرا چہرہ قیامت میں بگاڑ دے گا اگر چہ میں خدا کا رسول ہوں “ پیغمبر اسلام عام انسانوں کی طرح ایک انسان تھے۔ خوشی کی بات سے آپ کو خوشی ہوتی تھی اور غم کی بات سے آپ غمگین ہوتے تھے۔ مگر آپ کی عبدیت آپ کو خدا کے مقرر کئے ہوئے دائرہ سے باہر نہیں جانے دیتی تھی۔ پیغمبر اسلام کی آخر عمر میں ماریہ قبطیہ سے ایک لڑکا پیدا ہوا، یہ لڑکا خوبصورت اور تندرست تھا۔ اس کا نام آپ نے اپنے بزرگ بزرگ تریں جدا مجد کے نام پر ابراہیم رکھا۔ ابو رافع نے جب ابراہیم کی پیدائش کی خبر دی تو آپ اتنا خوش ہوئے کہ ابو رافع کو ایک غلام انعام میں دے دیا۔ آپ ابراہیم کو گود میں لے کر کھلاتے اور پیار کرتے۔ کے مطابق ابراہیم کو ایک دایہ ام بردہ بنت المنذر بن زید انصاری کے حوالے کیا گیا تاکہ وہ دودھ پلائیں۔ یہ دایہ ایک ایک لوہار کی بیوی تھیں۔ ان کے چھوٹے سے گھر میں اکثر بھٹی کا دھواں ہوتا رہتا۔ آپ لڑکے کو دیکھنے کے لئے اکثر لوہار کے گھر جاتے اور وہاں دھواں آپ کی آنکھ اور ناک میں گھستا رہتا اور آپ انتہائی نازک طبع ہونے کے باوجود اس کو ابراہیم ابھی ڈیڑھ سال کے ہوئے تھے کہ ہجرت کے دسویں سال (جنوری ۶۳۲) ان کا انتقال ہو گیا۔ آپ بیٹے کی موت کو دیکھ کر رونے لگے۔
ان واقعات میں پیغمبر اسلام ایک عام انسان کی طرح نظر آتے ہیں۔ ان کے جذبات، ان کی حسرتیں ویسی ہی ہیں جیسی ایک عام باپ کی ہوتی ہیں۔ مگر اس کے باوجود خدا کا دامن آپ کے ہاتھ سے چھوٹتے نہیں پاتا۔ آپ تم زدہ ہیں مگر زبان سے نکلی رہا ہے :
واللہ یا ابراہیم انا لایض لا محتزن ونون خدا کی قسم اے ابراہیم ہم تمھاری موت سے غمگین ہیں ، تبکی العین ریحزن القلب ولا نفتول آنکھ رو رہی ہے، دل دکھی ہے، مگر تم کوئی ایسی بات ما يسخط الرب نہ کہیں گے جو رب کو نا پسند ہو۔
جس دن ابراہیم کا انتقال ہوا۔ اتفاق سے اسی دن سورج گرہن پڑا۔ قدیم زمانہ میں اعتقاد تھا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کسی بڑے آدمی کی موت سے ہوا کرتے ہیں۔ اس کے اثر سے مدینہ کے مسلمان کہنے لگے کہ یہ سورج گرہن پیغمبر کے بیٹے کی موت کی وجہ سے ہوا ہے۔ آپ کو یہ بات بہت ناپسند ہوئی کیوں کہ یہ انسان کی عاجزانہ حیثیت کے خلاف آپ نے لوگوں کو جمع کر کے تقریر کی، آپ نے فرمایا:
ان الشمس والقمر لا يخسفان لموت احد من الناس سورج چاند میں کسی انسان کی موت سے گہن نہیں لگتا۔ وہ اللہ کی وکشتهما آيتان من آيات الله، فاذا رأتموها فصلوا دو نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں۔ جب تم ایسا دیکھو تو نماز پڑھو
مدینہ میں باقاعدہ اسلامی حکومت قائم ہو چکی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ذمہ دار اعلیٰ ہیں۔ اس زمانہ میں آپ کو ایک بار ایک یہودی سے قرض لینے کی ضرورت پیش آئی جس کا نام زید بن سعنہ تھا۔ قرض کی ادائیگی کے لیے جو مدت طے ہوئی تھی، ابھی اس میں چند دن باقی تھے کہ یہودی تقاضا کرنے کے لیے آ گیا۔ اس نے آپ کے کندھے کی چادر اتاری اور کرتا پکڑ کر سختی سے بولا: "میرا قرض ادا کرو۔ " پھر کہنے لگا: "عبدالمطلب کی اولاد بڑی ناد ہندب ہے" حضرت عمر فاروق رض اس وقت آپ کے ساتھ تھے۔ یہ یہودی کی بد تمیزی پر ان کو سخت غصہ آگیا۔ انھوں نے اس قریب تھا کہ اس کو مارنا شروع کر دیتے مگر پیغمبر اسلام صرف مسکراتے رہے۔ یہودی سے صرف اتنا کہا: ابھی تو وعدہ میں تین دن باقی ہیں (لقد بقیت من اجله ثلاث) پھر عمر فاروق رض سے فرمایا: انا دھو کنا الی غیر هذا امنك احوج یا عمر، تامونی عمر! میں اور یہ یہودی تم سے ایک اور برتاؤ کے زیادہ ضرورت مند تھے، مجھ سے تم بہتر ادائیگی کے لئے کہتے اور محسن القضاء و تامره بحسن التقاضی اور اس سے بہتر تقاضے کے لئے۔
(رناه البیهقی مفصلاً)
پھر عمر فاروق رض سے فرمایا کہ جاؤ فلاں شخص سے کھجوریں لے کر اس کا قرض ادا کر دو۔ اور میں صاع (تقریباً 30 کلو) زیادہ دینا، کیونکہ تم نے اسے جھڑکا تھا۔
پیغمبر اسلام کو اپنی زندگی میں اتنی کامیابی حاصل ہوئی کہ آپ عرب سے لے کر فلسطین تک کے علاقہ کے حکراں رسول اللہ ہونے کی وجہ سے آپ کی زبان قانون کا درجہ رکھتی تھی۔ آپ ایسے لوگوں کے درمیان تھے جہاں آپ کی عقیدت و تعظیم اتنی زیادہ کرتے تھے جو کبھی کسی انسان کی نہیں کی گئی۔ حدیبیہ کی بات چیت کے موقع پر عروہ بن مسعود قریش کے سفیر کی حیثیت سے آئے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ جب آپ وضو کرتے ہیں تو لوگ دوڑ پڑتے ہیں کہ کہ آپ کا غسالہ زمین پر گرنے سے پہلے ہاتھ پر لے لیں اور اس کو تبرک کے طور پر جسم پر ملیں۔ انس کہتے ہیں کہ انتہائی محبت کے باوجود ہم لوگ آنکھ بھر کر آپ کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔ مغیرہ کہتے ہیں کہ کسی صحابی کو آپ کی رہائش گاہ پر دستک دینے کی ضرورت ہوتی تو وہ ناخن سے دروازہ کھٹکھٹاتا تھا۔ جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سرخ چادر اورٹھ کر چاندنی رات میں سورہے تھے میں کبھی چاند کو دیکھتا، کبھی آپ کو۔ بالآخر میں نے یہی فیصلہ کیا کہ آپ چاند سے زیادہ خوش نما ہیں (ف ذاهوا حسن عندی من القمر حنین میں جب جنگ کے شروع میں مسلم فوج کو شکست ہوئی اور مخالف فوج نے آپ کے اوپر تیروں کی بارش شروع کر دی تو آپ کے ساتھیوں نے آپ کو گھیرے میں لے لیا، وہ سارے تیر اپنے ہاتھ اور جسم پر اس طرح روکے رہے جیسے وہ انسان نہیں، لکڑی ہیں۔ حتی کہ بعض ساتھیوں کا یہ حال ہوا کہ ان کے جسم پر سیاہی کے کانٹے کی طرح تیر ٹکنے لگے تھے۔
اس قسم کا مرتبہ اور عقیدت آدمی کے مزاج کو بگاڑ دیتا ہے، خدانخواستہ وہ دوسروں سے بڑا سمجھنے لگتا ہے۔ لوگوں کے درمیان بالکل عام انسان کی طرح رہتے۔ کوئی تلخ تنقید یا اشتعال انگیز رویہ آپ کو آپ سے باہر کرنے والا ثابت نہ ہوتا۔ صحیحین میں حضرت انس سے منقول ہے کہ ایک دیہاتی آیا۔ اس نے آپ کی چادر کو زور سے کھینچا جس
کی وجہ سے آپ کی گردن میں نشان پڑ گیا۔ پھر بولا : ’’ محمد ! میرے یہ دو اونٹ ہیں۔ ان کی لاد کا سامان مجھے دو۔ جو مال تیرے پاس ہے، وہ نہ تیرا ہے، نہ تیرے باپ کا ہے۔ ‘‘ آپ نے فرمایا، مال تو اللہ کا ہے اور میں اس کا عبد ہوں۔ پھر دیہاتی سے پوچھا’’ جو برتاؤ تم نے مجھ سے کیا، اس پر تم ڈرتے نہیں‘‘ وہ بولا نہیں۔ آپ نے پوچھا کیوں۔ کہا ، مجھے معلوم ہے کہ تم برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے۔ آپ یہ سن کر ہنس پڑے اور حکم دیا کہ دیہاتی کو ایک اونٹ کا بوجھ جو، اور ایک کی کھجوریں دی جائیں۔
آپ پر خدا کی ہیبت اتنی طاری رہتی کہ آپ بالکل عجز اور بندگی کی تصویر بنے رہتے تھے۔ بہت کم بولتے، چلتے تو جھک کر چلتے۔ تنقید کے کبھی خلاف نہ ہوتے۔ کپڑا پہنتے تو فرماتے کہ میں خدا کا بندہ ہوں اور بندوں کی طرح لباس پہنتا ہوں انما انا عبد البس کما یلبس العبد) کھانا کھاتے تو ادب کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے اور فرماتے کہ میں بندوں کی طرح کھانا کھاتا ہوں: ( انا اکل کما یا کل العبد)
اس معاملہ میں آپ کے نزاکت احساس کا عالم یہ تھا کہ آپ کے ایک ساتھی نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے ایک بار کہا : ما شاء الله وما شئت ( جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں) یہ سنتے ہی آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا ، آپ نے درشتی کے ساتھ فرمایا: اجعلتني الله بنداً (کیا تم نے مجھے اللہ کے برابر کر دیا) تم کو اس طرح کہنا چاہئے: ما شاء الله وحدہ (وہ ہوگا جو اللہ چاہے) اسی طرح ایک صحابی نے تقریر کرتے ہوئے کہا :
من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے وہ راہ راست پر يحصمها فقد غوى ہے اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرے وہ گمراہ ہے ۔
آپ نے یہ سن کر فرمایا: بئس خطیب القوم انت (تو قوم کا برا خطیب ہے) آپ نے پسند نہیں فرمایا کہ اللہ اور رسول کو تثنیہ کی ایک ہی ضمیر میں جمع کر دیا جائے۔
پیغمبر اسلام کے یہاں تین لڑکے پیدا ہوئے جو بچپن ہی میں انتقال کر گئے۔ چار صاحبزادیاں بڑی عمر کو پہنچیں۔ چاروں حضرت خدیجہ کے بطن سے تھیں۔ حضرت فاطمہ آپ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی تھیں۔ آپ حضرت فاطمہ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ کسی سفر سے واپس لوٹتے تو مسجد میں دو رکعت نماز ادا کرنے کے بعد سب سے پہلے حضرت فاطمہ رضہ کے گھر جاتے۔ ان کے ہاتھ اور پیشانی کو چومتے ۔ حضرت عائشہ رضہ سے جبث بن غیر صحابی نے پوچھا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا۔ انھوں نے جواب دیا ” فاطمہ رضہ "
مگر پیغمبر اسلام کی پوری زندگی آخرت میں ڈھل گئی تھی۔ اس لئے اولاد سے محبت کا مفہوم بھی آپ کے یہاں ایک روایت جو نسائی کے سوا دوسری تمام کتب صحاح میں نقل ہوئی ہے، یہ ہے کہ علی مرتضی رضہ نے ایک بار ابن عبدالواحد سے فرمایا۔ میں تجھ کو فاطمہ بنت رسول کی ایک بات سناؤں جو سارے کنبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھیں۔ ابن عبدالواحد نے کہا، ہاں۔
حضرت علی رضہ نے کہا ۔ فاطمہ کا یہ حال تھا کہ چکی پیستیں تو ہاتھ میں چھالے پڑ جاتے ۔ پانی کی مشک اٹھانے کی وجہ
سے گردن میں نشان پڑ گیا تھا۔ جھاڑو دیتیں تو کپڑے میلے ہوجاتے ۔ انھیں دنوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ میں نے فاطمہ سے کہا، تم اپنے والد کے پاس جاؤ اور اپنے لئے ایک خادم مانگو۔ فاطمہ نہ گئیں۔ مگر وہاں ہجوم تھا مل نہ سکیں۔ اگلے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر آئے اور پوچھا کہ کیا ضرورت تھی۔ فاطمہ چپ ہو گئیں۔ میں نے قصہ بتایا اور یہ بھی کہا کہ میں نے ان کو کہلا کر بھیجا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سننے کے بعد فرمایا: اتقی اللہ یا فاطمة وادئ فريضة ربك د اعمل اے فاطمہ خدا سے ڈرو۔ اپنے رب کے فرائض ادا کرو عمل اهلك، واذا اخذنت مضجعك فسبحی اپنے گھر والوں کا کام کرو۔ جب بستر پر جاؤ تو ۳۳ بار ثلثا وثلاثين واحمدي ثلثا وتلاثمين و خدا کی تسبیح کرو، ۳۳ بار خدا کی حمد کرو۔ ۳۴ بار خدا كبرى اربعا وثلاثين، فذلك مائة، هی کی تکبیر کرد ۔ یہ پورا سو ہو گیا۔ یہ تمھارے لئے خادم خیر لك من خادم سے بہتر ہے۔
حضرت فاطمہ رض نے یہ سن کر کہا، رضیت من الله وعن رسوله (میں خدا اور رسول سے اس پر خوش ہوں)، حضرت علیؓ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بس یہ جواب دیا اور فاطمہ کو خادم نہیں دیا۔ (ولم يخد منها) پیغمبر اسلام پر جو حقیقت کھولی گئی، وہ یہ تھی کہ یہ عالم بے خدا نہیں ہے۔ اس کا ایک خدا ہے اور وہی اس کا خالق اور مالک ہے۔ سارے انسان اس کے بندے ہیں اور اسی کے سامنے بالآخر جواب دہ ہیں۔ مرنے کے بعد آدمی ختم نہیں ہو جاتا، بلکہ دوسری دنیا میں اپنی مستقل زندگی شروع کرنے کے لئے داخل ہو جاتا ہے۔ وہاں نیک آدمیوں کے لئے جنت کا آرام ہے اور برے لوگوں کے لئے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ۔
خدا نے جب آپ کو اس حقیقت کا علم دیا تو یہ بھی حکم دیا کہ سارے انسانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کر دو۔ مکہ کے کنارے صفا نام کی ایک چٹان تھی جو اس زمانہ میں عوامی اجتماعات کے لئے قدرتی اسٹیج کا کام دیتی تھی۔ صفا پر چڑھ کر لوگوں کو پکارا۔ جب لوگ جمع ہوگئے تو آپ نے تقریر کی۔ آپ نے خدا کی عظمت و کبریائی بیان کرنے کے بعد کہا :
والله لتموتن كما تنامون ولتمعنون كما تستيقظون خدا کی قسم تم یقیناً مرو گے جس طرح تم سوتے ہو اور دوبارہ وإنها لجنسة ابداً او لنار ابداً زندہ ہوگئے جس طرح تم جاگتے ہو۔ اس کے بعد یا تو ہمیشہ کے لئے جنت ہے یا ہمیشہ کے لئے آگ۔
زمانہ کے خلاف کسی طریقہ کو آدمی صرف ذاتی طور پر اختیار کرے، اس وقت بھی اگرچہ قدم قدم پر مشکلیں پیش آتی ہیں، تاہم یہ مشکلیں جارحانہ نوعیت کی نہیں ہوتیں۔ یہ مشکلیں آدمی کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتی ہیں۔ مگر وہ آدمی کے جسم کو زخمی نہیں کرتیں ۔ یہ زیادہ سے زیادہ آدمی کے خاموش صبر کا امتحان ہوتی ہیں۔ مگر اس وقت صورت حال بالکل بدل جاتی ہے جب آدمی زمانہ کے خلاف ایک آواز کا داعی بن کر کھڑا ہو جائے، جب وہ دوسروں سے کہنے لگے کہ یہ کرو اور وہ پیغمبر اسلام صرف ایک بندہ مومن نہ تھے بلکہ پیغام الہی کو دوسروں تک پہنچانے کا مشن بھی آپ کے سپرد کیا گیا۔
آپ کی اس دوسری حیثیت نے آپ کو پوری عرب قوم سے ٹکرا دیا ۔ فاقہ سے لے کر جنگ تک سخت ترین حالات پیش آئے ۔ مگر ۶۳ سال کی پوری زندگی میں آپ مکمل طور پر انصاف اور تقویٰ پر قائم رہے ۔ اس کی وجہ نہیں تھی کہ آپ کے اندر انسانی جذبات نہیں تھے ، اصل یہ ہے کہ خدا کے خوف نے آپ کو پابند بنارکھا تھا ۔ ہجرت کے تیسرے سال مکہ کے مخالفین نے مدینہ پر چڑھائی کی اور وہ معرکہ پیش آیا جس کو غزوہ احد کہا جاتا ہے اس جنگ میں ابتدا ء مسلمانوں نے فتح پائی ۔ مگر اس کے بعد آپ کے بعض ساتھیوں کی غلطی سے دشمنوں کو موقع مل گیا اور انھوں نے پیچھے سے حملہ کر کے جنگ کا نقشہ بدل دیا یہ بڑا بھیانک منظر تھا۔ آپ کے اکثر ساتھی میدان جنگ سے بھاگنے لگے ۔ یہاں تک کہ آپ مسلح دشمنوں کے نرغہ میں تنہا ہوگئے ۔ مخالف ہجوم بھوکے کے بھیڑیے کی طرح آپ کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کو پکارنا شروع کیا (ای عباد اللہ (خدا کے بندو میری طرف آؤ) من رجل يشترى لنا نفسہ (کون ہے جو ہمارے لئے اپنی جان قربان کرے) کون ہے جوان ظالموں کو مجھ سے ہٹائے ، وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا (مسلم)
وہ کیسا ہولناک سماں ہوگا ۔ جب خدا کے رسول کی زبان سے اس قسم کے الفاظ نکل رہے تھے ۔ اگر چہ آپ کے ساتھیوں میں سے ایک تعداد نے آپ کی پکار پر لبیک کہی ۔ مگر اس وقت اتنا انتشار کا عالم تھا کہ آپ کے جہاں نثار بھی آپ کو پوری طرح بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے ۔ عقبہ بن ابی وقاص نے آپ کے اوپر ایک پتھر پھینکا ۔ یہ پتھر آپ کو اتنے زور سے لگا کہ ہونٹ کچل گئے اور نیچے کے دانت ٹوٹ گئے ۔ عبد اللہ ابن قمیہ قریش کا مشہور پہلوان تھا ۔ اس نے آپ پر شدید حملہ کیا ، جس کے نتیجہ میں لوہے کی خود کی دوکڑیاں آپ کے رخسار میں گھس گئیں ، یہ کڑیاں اتنی گہرائی تک گھسی تھیں کہ ابو عبیدہ بن الجراح نے جب ان کو نکالنے کے لئے اپنے دانتوں سے پکڑ کر کھینچا تو ابو عبیدہ رض کے دو دانت ٹوٹ گئے ۔ ایک اور شخص عبداللہ بن شہاب زہری نے آپ کو پتھر مارا جس سے آپ کی پیشانی زخمی ہوگئی ۔ مسلسل خون بہنے سے آپ بے حد کمزور ہو گئے ۔ حتیٰ کہ آپ ایک گڑھے میں گر پڑے ۔ میدان میں جب آپ دیر تک نظر نہیں آئے تو مشہور ہوگیا کہ آپ شہید ہو گئے ۔ اس دوران میں آپ کے ایک صحابی کی نظر گڑھے کی طرف گئی وہ آپ کو دیکھ کر خوشی میں بول پڑے : " رسول اللہ یہاں ہیں ، آپ نے انگلی کے اشارے سے ان کو منع کیا کہ چپ رہو ۔ دشمنوں کو میری یہاں موجودگی کا علم نہ ہونے (فاشار اليه الرسول ان صمت ، نور اليقين في سيرة سيد المرسلين ، محمد الخضري ، صفحه ۱۳۰) ایسے خوفناک حالات میں آپ کی زبان سے قریش کے بعض سرداروں (صفوان ، سہیل ، حارث) کے لئے بد دعا کے الفاظ نکل گئے ۔ آپ نے کہا : كيف يفلح القوم شجعوا نبيهم (وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کو زخمی کرے) آپ کی زبان سے اتنی بات بھی اللہ کو پسند نہیں آئی ۔ اور جبریل خدا کی طرف سے یہ رق لے کر آگئے : لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٍ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ تم کو معاملہ کا کوئی اختیار نہیں ۔ خدایان کو توبہ کی توفیق فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ (آل عمران)
دے گایا ان کو عذاب دے گا کیوں کہ وہ ظالم ہیں ۔
خدا کی طرف سے اتنی تنبیہہ کافی تھی ۔ فوراً آپ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا ۔ آپ زخموں سے نڈھال ہیں ۔
کے حق میں ہدایت کی دعا فرما رہے ہیں۔ آپ کے ایک ساتھی عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ ”اس وقت بھی گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے ہیں، آپ اپنی پیشانی سے خون پونچھتے جاتے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں : رب اغفر لي قومي فانهم لا يعلمون خدایا میری قوم کو معاف کردے، کیونکہ وہ نہیں جانتے مسلم، غزوہ احد جلد ۲، صفحہ (۱۰۸)
اور جو واقعات نقل کئے گئے، وہ اس قسم کے ان بے شمار واقعات میں سے صرف چند ہیں جو حدیث اور سیرت کی کتابوں میں بھرے ہوئے ہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کی زندگی کس طرح انسانی کردار کا معیاری نمونہ تھی۔ یہ واقعات عمل کی زبان میں یہ سبق دیتے ہیں کہ انسان خدا کا بندہ ہے اور اس کو ہر حال میں خدا کا بندہ بن کر رہنا چاہئے۔ خدا اور بندے کے درمیان تعلق کا تقاضا ہے کہ بندے کے دل میں ہر وقت خدا کا اور اس کی آخرت کا طوفان برپا رہے۔ ساری کائنات اس کے لئے یاد الہیٰ کا دسترخوان ہو جائے۔ وہ ہر واقعہ کو خدا کی نظر سے دیکھے اور ہر چیز میں خدا کا نشان دنیا میں کوئی معاملہ کرتے وقت وہ کبھی یہ نہ بھولے کہ بالاخر سارا معاملہ خدا کے ہاتھ میں جانے والا ہے۔ خوف اس کو انسانوں سے تواضع اختیار کرنے پر مجبور کرے اور جنت کا شوق دنیا کو اس کی نظر میں بے حقیقت بنادے۔ خدا کی بڑائی کا خیال اس کے ذہن پر اس قدر چھا جائے کہ اپنی بڑائی کا کوئی بھی مظاہرہ اس کو مسخرہ خیز دکھائی دینے لگے۔ کوئی تنقید اس کو مشتعل نہ کرے اور کوئی تعریف اس کے ذہن کو بگاڑنے والی ثابت نہ ہو ــــ یہ ہے انسانی کردار کا وہ نمونہ جو خدا کے رسول نے اپنے عمل سے ہمیں بتایا ہے۔
نوٹ: ۰۷ مئی ۱۹۷۷ء کو چندی گڑھ میں ایک سیرت کانفرنس ہوئی جس میں مقامی غیر مسلم بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر یہ مقالہ بہ شکل تقریر پیش کیا گیا۔
پیغمبر اسلام کی زندگی دنیا میں سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے زیادہ مکمل زندگی ہے۔ کی بے شمار کتابوں کے باوجود آپ کی اصل سیرت لکھنے کا کام ابھی تک باقی ہے سیرت کی قدیم کتابوں میں اشعار بے اصل قصے اور غزوات کا پہلو اتنا غالب ہے کہ اس نے رسول کی اصل سیرت کو ڈھک لیا ہے۔ بعد کے دور میں سیرت کے موضوع پر جو کتا بیں بھی لکھیں، ان میں فقہی مسائل، کلامی بحثیں، تعبیری اضافے اصل سیرت کو چھپائے کوئی سیرت کو عنوان بنا کر اسلام کا دائرۃ المعارف مرتب کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ضرورت ہے کہ سیرت پر ایک ایسی جامع کتاب تیار کی جائے جو صرف ”سیرت“ ہو۔ وہ آپ کی زندگی کا واقعاتی مرقع ہو۔ وہ نہ ”مغازی“ کی داستان ہو اور نہ دوسری سیرت سے غیر متعلق بحثوں سے اس کو بوجھل بنایا گیا ہو۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو کافی محنت اور وسیع ذرائع چاہتا ہے۔ تاہم اگر ایسی ایک کتاب وجود میں آجائے تو وہ موجودہ زمانہ میں لکھی جانے والی لاکھوں کتابوں سے زیادہ قیمتی ثابت ہوگی۔
ہوں گے جس کی وجہ سے ان کو یہ مقام ملا۔ مگر ان کی عبادت اور شب گزاری میں کوئی غیر معمولی چیز ان کو دکھائی نہ دی۔
امام نسائی نے انس بن مالک سے نقل کیا ہے۔ ایک بار آخر انھوں نے خود ہی ان سے پوچھا کہ بھائی، آپ کون سا تین دن تک مسلسل یہ ہوتا رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ ایسا عمل کرتے ہیں جس کی بنا پر ہم نے رسول اللہ کی زبان وسلم اپنی مجلس میں یہ فرماتے کہ اب تمھارے سامنے ایک ایسا سے آپ کے بارے میں یہ عظیم بشارت سنی ہے۔ شخص آنے والا ہے جو اہل جنت میں سے ہے۔ ہر بار یہ آنے کہا، میری عبادت کا حال تو وہی ہے جو آپ نے دیکھا والے انصار میں سے ایک شخص ہوتے، یہ دیکھ کر عبد اللہ البتہ ایک بات شاید اس کا سبب بنی ہو، اور وہ یہ کہ : بن عمرو بن عاص کو جستجو ہوئی کہ آخر وہ کون سا عمل کرتے الا اجد فی نفسی غلا لاحد من المسلمين ہیں جس کی بنا پر آپ نے ان کے بارے میں بار بار یہ ولا احسدها علی خیر اعطاها اللہ تعالی یہ بشارت سنائی ہے۔ چنانچہ وہ ایک بہانہ کر کے گئے میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے خلاف کوئی کینہ نہیں اور تین روز تک مسلسل ان کے یہاں رات گزارتے رہے۔ اور نہ کسی ایسی بھلائی پر جو اللہ نے اسے دی ہو، ان کا خیال تھا کہ وہ شاید کوئی خاص عبادت کرتے اس سے حسد کرتا ہوں۔
زندگی کیا ہے، موت کی طرف ایک سفر۔ ہر شخص دوسروں کو اپنے سامنے مرتے ہوئے دیکھتا مگر خود اس طرح زندگی گزارتا ہے گو یا اس کو کبھی موت نہیں آئے گی۔
کوئی رصد گاہ اگر کسی دن یہ دریافت کرے کہ زمین کی جذب کشش کی قوت ختم ہو گئی ہے تو اگلے دن یہی دریافت تمام اخباروں کی شاہ سرخی ہوگی۔ کیوں کہ اس قسم کی خبر زمین کے لئے موت کے سفر کے ہم معنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین کا کرہ چھ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سورج کی طرف کھینچنا شروع ہو جائے اور چند ہفتوں کے اندر اپنے سے بارہ لاکھ گنا بڑے سورج کے الاؤ میں اس طرح جاگرے جیسے دنیا کے سب سے بڑے آتش فشاں کے اندر کوئی ایک تنکا۔
زمین کے لئے موت کے سفر کی خبر کسی دن اخبار میں چھپ جائے تو ساری دنیا میں کہرام مچ جائے گا۔ ہم میں سے ہر شخص اس قسم کے ہولناک تر سفر میں ہے۔ مگر کوئی نہیں جو اس سے چوکنَّا ہو اور اپنی زندگی کے آئندہ مراحل میں بربادی سے بچنے کی فکر کرے ۔ سب سے بڑا مسئلہ " موت کا مسئلہ ہے۔ مگر لوگ زندگی کے مسائل میں اتنا الجھے ہوئے ہیں کہ کسی کو موت کے مسئلہ پر دھیان دینے کی فرصت نہیں۔