المركز الاسلامی
Al-Risala, March 1977, pp. 31–33
By Maulana Wahiduddin Khan
JAMIAT BUILDING - QASIMJAN STREET - DELHI 110006 (India)
اسلام کا مطلب ہے اپنے آپ کو خدا کے آگے سپرد (SURRENDER)
مسلمان وہ ہے جو اس بات پر یقین رکھتا ہو کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے۔ وہ مرنے کے بعد ہر ایک سے اس کے کارنامہ زندگی کا حساب لے گا۔ کے بعد اپنے وفادار بندوں کے لئے دائمی جنت کا فیصلہ کرے گا، اور غیر وفا دار بندوں کو دائمی جہنم میں ڈال دیئے گا۔ اس احساس کے تحت جو زندگی بنتی ہے، اس کو ایک لفظ میں آخرت رخی زندگی (AKHIRAT ORIENTED LIFE) کہہ سکتے ہیں۔ یہ احساس جب کسی دل میں پیدا ہو جائے تو اس کی پوری زندگی بدل جاتی ہے، وہ ہر وقت خدا سے ڈرنے لگتا ہے۔ کیوں کہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ خدا اس کو کھلے اور چھپے ہر حال میں دیکھ رہا ہے، بندوں سے معاملہ کرتے ہوئے وہ ہمیشہ انصاف اور خیر خواہی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ ہر انسان کے پیچھے اس کا خدا کھڑا ہوا ہے۔ وہ کبھی اس بات کو نہیں بھولتا کہ بالآخر وہی چیز صحیح قرار پائے گی جس کو خدا صحیح کہے اور وہ سب کچھ غلط ٹھہرے گا جس کو خدا غلط ٹھہرائے۔ اسی کے ساتھ مسلمان کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ زندگی کی اس حقیقت کو دوسری تمام قوموں تک پہنچائے۔ اس سنگین واقعہ سے لوگوں کو باخبر کرنے کے لئے پہلے انبیاء آتے تھے۔ ختم نبوت کے بعد یہ ذمہ داری نبی آخر الزماں کی امت پر ڈال دی گئی ہے، مسلمان پر جس طرح خود عمل کرنے کی ذمہ داری ہے، اسی طرح دوسروں تک پہنچانے کی ذمہ داری ہے۔ ان میں سے کوئی ایک کام، دوسرے کام کے لئے خدا کے یہاں عذر نہیں بن سکتا۔
اسلامی مرکز کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کو دنیوی مہم کے بجائے اُخروی مہم کے طور پر سامنے لایا جائے ۔ اس کا منصوبہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر ان احساسات کو جگائے ، اور دوسری قوموں تک حق کا پیغام پہنچانے کی تدبیریں اختیار کرے۔
اسلامی مرکز کے سامنے پہلا کام یہ ہے کہ اسلام کو وقت کے اسلوب اور زمانہ حاضر کی زبان میں لوگوں کے سامنے لایا جائے۔ تاکہ جس اسلام کو وہ تقلیدی طور پر مانتے ہیں ، وہ ان کے ذہن کی غذا بن سکے ، وہ ان کے اندر عمل کی حرارت پیدا کرنے لگے۔ وہ ان کی زندگی کا محض ایک ضمیمہ نہ ہو ، بلکہ وہی ان کی کل زندگی بن جائے۔ ہر عہد کا ایک فکری معیار ہوتا ہے ، اور کسی انسان کی زندگی میں کوئی فکر اسی وقت غالب فکر بن کر داخل ہوتا ہے جب کہ وہ اس کو اس فکری معیار پر ملے جس کے اندر وہ سانس لے رہا ہے۔ اسلامی مرکز کے سامنے دوسرا کام ، مسلمانوں کو داعی گروہ کی حیثیت سے اٹھانا ہے۔ دعوت ہی واحد کام ہے جو مسلمانوں میں عمل کا حوصلہ ابھار سکتا ہے ، ان کے اندر اتحاد و اتفاق کی فضا پیدا کرتا ہے ، ان کو خدا کی اجتماعی نصرتوں کا مستحق بناتا ہے۔ ان کو آخرت میں خدا کے گواہ کا درجہ عطا کرتا ہے جس سے بڑا کوئی درجہ انسان کے لئے نہیں۔ اسلامی مرکز انھیں دونوں مقاصد کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ کسی قسم کی سیاست سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ مسلمانوں کو اور تمام انسانوں کو آنے والے یوم الحساب سے ہوشیار کرنے کی ایک مہم ہے۔ زندگی میں آدمی کو بے شمار مسائل نظر آتے ہیں۔ مگر موت کے بعد ایک ہی مسئلہ اس کے سامنے ہوگا۔ ہم چاہتے ہیں کہ موت سے پہلے آدمی اس مسئلہ سے آگاہ ہو جائے ، موت سے پہلے وہ اس کی تیاری میں اپنے کو لگا دے۔