Al-Risala · March 1977

اسلامی تاریخ: ایک مطالعہ

Al-Risala, March 1977, pp. 35–40

By Maulana Wahiduddin Khan

نبیوں کی دعوت ایک تھی۔ مگر ان کی تاریخیں مختلف ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دعوت کیا ہو، اس کا تعلق صرف داعی سے ہے۔ جب کہ تاریخ کا تعلق داعی اور مدعو دونوں سے ہو جاتا ہے۔ تمام انبیار کو خدا کی طرف سے ایک ہی دین ملا اور وہ ایک ہی دعوت کو لے کر ہمیشہ اپنی مخاطب قوموں کے سامنے کھڑے ہوتے رہے۔ مگر عد واقوام کا رد عمل مختلف رہا، اس لئے ان کے تعلق سے جو تاریخ بنی، وہ یکساں نہیں ہو سکتی تھی ۔ حضرت ابراہیم کو اپنے وطن عراق میں ساتھی نہ ملے تو آنجناب اپنے بھتیجے اور اپنی اہلیہ کو لے کر غیر آباد جگہ چلے گئے کہ وہاں توحید کا ایک عبادت خانہ بنائیں۔ حضرت یوسف کی شخصیت اور تعبیر رویا ر سے مصر کا بادشاہ متاثر ہو گیا ۔ اس طرح آپ کو موقع ملا کہ اس کے اقتدار اعلیٰ کے تحت انتظام ملکی کا عہدہ سنبھال سکیں۔ کو مصر سے نکلنے کے بعد ایک پوری قوم ( بنی اسرائیل) کی سیادت حاصل ہوگئی ۔ چنانچہ آپ نے صحرائے سینا کی آزاد فضا میں قوانین الہی کی بنیاد پر ایک معاشرہ قائم کیا۔ حضرت مسیح نے دعوتی مرحلہ میں فلسطین کے رومی اقتدار سے کش مکش پیدا کرنا مصلحت کے خلاف سمجھا، اس لئے اپنے شاگردوں کو تلقین کی کہ ” جو خدا کا ہے وہ خدا کو دو، جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت بھی اسی دین کی طرف تھی جو دوسرے انبیاء لے کر آئے۔ مگر آپ کی قوم نے جہاں آپ کی شدید مخالفت کی، قوم کے اندر سے ہزاروں کی تعداد میں آپ کو اعلیٰ درجہ کے ساتھی بھی مل گئے آپ نے قوم کی جارحانہ کارروائیوں کے خلاف اپنے ساتھیوں کو منظم کیا۔ مقابلہ میں اللہ کی مدد سے آپ کو فتح حاصل ہوئی اور اسلام کا اقتدار قائم ہو گیا۔

اسلامی غزوات میں دشمنان خدا کا قتل کیا جانا اسی طرح اسلامی تاریخ کا ایک اضافی جزو تھا جس طرح اس سے پہلے حضرت یحییٰ اور اصحاب الاخدود کا قتل ہو جانا۔ مگر بعد کے دور میں جب اسلام کی تاریخیں لکھی گئیں تو جنگ مقابلہ کا پہلو اس کے اوپر چھا گیا کیونکہ قديم ذوق کے مطابق اسلامی تحریک کے غیر سیاسی پہلو بہت کم قلم بند ہو سکے۔ البتہ قتال اور سیاسی معرکہ آرائیوں کے واقعات کو خوب نمایاں کر کے بیان کیا گیا۔ اس طرح اسلام کی مدون تاریخ عملاً مغازی اور فتوحات کی داستان بن کر رہ گئی ۔

اگر ایسا ہوتا کہ عرب کے سردار، حضرت یوسف کے ہم عصر مصری حکمراں کی طرح ، آغاز ہی میں اسلام سے متاثر ہو جاتے یا ملکہ سبا کی طرح رومی حکراں اسلام قبول کر لیتا تو اسلام کی تاریخ بالکل دوسری ہوتی ۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ تاریخ سے عقیدہ اخذ کرنا نیکیوں صحیح نہیں ہے۔ اس قسم کی کوشش کا نتیجہ یہ ہوگا کہ حضرت یوسف کو ملنے والے کہیں گے کہ پیغمبرانہ طریقہ کا یہ ہے کہ وقت کے حکراں سے صاف لفظوں میں مطالبہ کیا جائے کہ اجعل لی علی خزائن الارض

زمین کے خزانے میرے حوالے کردو حضرت مسیح کو ماننے والے کہیں گے کہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ حکومت وقت سے تعرض نہ کرتے ہوئے خدا کے حقوق ادا کئے جاتے رہیں۔ حضرت ابراہیم سے اسوہ لینے والوں کو اصل کام یہ نظر آئے گا کہ جب لوگ دعوت حق کو نہ مانیں تو داعی کو چاہئے کہ وہ بستی کو چھوڑ کر دور کسی صحرا میں چلا جائے اور وہاں خدا کا گھر بنا کر عبادت کرے ۔ نبی آخر الزماں کو ماننے والے کہیں گے کہ بدر و احد اور حنین و احزاب کے معرکہ گرم کرنے کا نام اسلام ہے۔ قرآن میں ہے کہ تمام پیغمبروں کو اللہ نے ہدایت دی (انعام ۔ ۴۷) تو تم انھیں کے راستہ پر چلو (انعام ۔ ۹۰) اب اگر تاریخ سے عقیدہ اخذ کیا جائے تو وہ کون سا واحد راستہ ہوگا جس پر چلنا تمام نبیوں کے راستہ پر چلنے کے ہم معنی ہو۔ خدا کا دین، عقیدہ بھی ہے اور تاریخ بھی۔ مگر ہم عقیدہ کو عقیدہ سے سمجھ سکتے ہیں اس کو تاریخ سے اخذ نہیں کر سکتے ۔

قرآن کی مکی سورتوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی دس سالہ زندگی سے ثابت ہے کہ مکہ میں اسلام کی دعوت بالکل غیر سیاسی انداز میں شروع ہوئی تھی۔ توحید ، آخرت اور مواسات بنی آدم کی طرف آپ لوگوں کو متوجہ کرتے اور ایک خدا کی عبادت کی طرف بلاتے۔ آپ نے یا آپ کے ساتھیوں نے کبھی کسی کے خلاف تشدد کا مظاہرہ نہیں کیا۔ نہ کسی قسم کی سیاسی منازعت کی۔ اس کے باوجود مکہ کے سردار بالکل ایک طرفہ طور پر آپ کے خلاف ہو گئے۔ انھوں نے آپ پر اور مسلمانوں پر ہر قسم کے ظلم ڈھانا شروع کئے، سب وشتم سے لے کر سماجی اور معاشی بائیکاٹ تک ہر چیز کو آپ ایک طرفہ طور پر برداشت کرتے رہے یہاں تک کہ انھوں نے طے کیا کہ سب مل کر آپ کو قتل کر ڈالیں۔ اس وقت آپ مکہ سے ہجرت کرکے عرب کے دوسرے شہر یثرب چلے گئے ۔

سرداران عرب نے اب بھی آپ کو نہ چھوڑا۔ وہ فوج لے کر آئے تاکہ اسلام کے مرکز کو تباہ کردلیں۔ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر نکلے۔ یہ جنگ آپ کی طرف سے تمام تر دفاعی تھی (بقرہ۔ ۱۹۰) بدر کے مقام پر دونوں گروہوں میں مقابلہ ہوا۔ خدا کی مدد آپ کے شامل حال رہی اور سرداران عرب کو زبردست شکست ہوئی ۔ شکست نے ان کو اور زیادہ مشتعل کر دیا۔ اب محاذ جنگ اور وسیع ہو گیا، مکہ کے قریش اور مدینہ اور خیبر کے یہود اسلام کو مٹانے کے لئے متحد ہوگئے۔ اس کے نتیجہ میں احد (۳ھ) سے لے کر حنین (۸ھ) تک مسلسل جھڑپوں اور لڑائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ بالآخر مسلمانوں کو فتح ہوئی اور مشرکین اور یہود دونوں کا زور ٹوٹ گیا۔ عرب کے مشرکین اور یہود نے مل کر اسلام کو فنا کرنے کے لئے جو جارحانہ اقدام کیا تھا، اس میں انھیں مکمل ناکامی ہوئی، تاہم ان کے بچے کچھے افراد نے اب ایک اور منصوبہ بنایا۔ انھوں نے یہ کوشش شروع کی کہ بیرونی حکومتوں (ایران و روم) کو اسلام کے خلاف ابھارا جائے اور ان کے ذریعہ اس کو کچلنے کی کوشش کی جائے۔ یہ حکومتیں پہلے ہی سے عرب میں ایک نئی طاقت کے ابھرنے کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہی تھیں ۔ اب خود عربوں کے ایک طبقہ کی حمایت ملی تو وہ اور زیادہ جری ہوگئیں۔ تاہم یہ واقعہ اسلام کے حق میں ایک عظیم تائید غیبی ثابت ہوا، کیونکہ اس وقت کی آباد دنیا پر حاکم آکھیں دونوں سلطنتوں کا غلبہ قائم تھا۔ ان کی طرف سے قتال کے آغاز نے مسلمانوں کو موقع دے دیا کہ وہ افغانستان

سے لے کر اسپین تک فتح کرتے چلے جائیں بغیر اس کے ان پر جارحیت کا الزام عائد ہوتا ہو۔ عرب کے پڑوس میں اس زمانہ کی دو سب سے بڑی سلطنتیں قائم تھیں۔ یورپ میں خلیج فارس کے دوسری طرف ساسانی سلطنت تھی جس کے قبضہ میں موجودہ ایران کے علاوہ اطراف کے ملکوں (پاکستان، افغانستان، ترکی، عراق) کے حصے بھی شامل تھے۔ پچھم کی طرف بحر احمر کے دوسری جانب رومی سلطنت تھی جو شام و فلسطین سے شروع ہو کر بحر روم کے کنارے کنارے افریقہ کے تمام شمالی ملکوں پر قابض تھی۔ اس کے آگے اس کی سرحدیں یورپ میں بہت دور تک چلی گئی تھیں۔

ان دو شہنشاہیتوں نے قلب عرب کے خشک بیابان کو چھوڑ کر اس کے سرحدی علاقوں میں چاروں طرف اپنی ماتحت عرب ریاستیں قائم کر رکھی تھیں۔ اپنے زیر اثر علاقوں میں انھوں نے اپنے مذہب کو بھی پھیلایا تھا، عرب کو اپنی سلطنت کا براہ راست حصہ نہ بنا کر بھی وہ اس کو اپنا ماتحت سمجھتے تھے۔ ابوطالب کی وفات کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے موسمی بازاروں میں گئے اور مختلف قبائل کے سامنے اپنے کو پیش کیا کہ مجھ کو اپنی حمایت میں لے لو تاکہ میں خدا کا پیغام پہنچانے کا کام کر سکوں۔ اس سلسلہ میں ایک سرحدی قبیلہ بنو شیبان کے سرداروں سے آپ کی گفتگو تاریخ میں نقل ہوئی ہے، گفتگو کا ایک حصہ یہ تھا: قال المثنی بن حارثہ : انما نزلنا بین صیرین ، احد هما الیمامة والاخری البسامة، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم وما هذان الصیران زیاده پر یہ بات سردار قبیلہ نے بچی مثنی بن حارثہ نے کہا ، ہمارا قیام دوسرے حدوں کے ایک یمامہ دوسرے سمامہ ۔ آپ نے پوچھا یہ دوسرے حدیں کہاں ہیں۔ سردار قبیلہ نے کہا، ایک طرف فقال له: اما احدهما تطوف البروارض العرب، واما الآخر فارض فارس وانها لكسرى، وانما نزلنا على عهد اخذن علينا كسرى، ان لا نحدث حدثا، ولا نوءوى محدثا۔ ولعل هذا الأمر الذي تدعوا اليه تكرهه الملوك۔ فاما ما كان يلى بلاد العرب فذنب صاحبه مغفور وعذره مقبول۔

واما ما كان مما يلى بلاد فارس فذنب صاحبه غير مغفور، وعذره غير مقبول۔ ان تنصر مما يلى العرب فعلنا۔ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما اسأتم الرد اذا فصعتم

عرب کی زمین اور اس کی پہاڑیاں ہیں۔ ایران کی زمین اور اس کی ندیاں ہیں اور ہم وہاں ایک معاہدہ کے تحت مقیم ہیں جو کسریٰ نے ہم سے لیا ہے۔ نہ یہ کہ ہم کوئی نئی بات نہ کریں گے اور نہ کسی نئی بات کرنے والے کو پناہ دیں گے۔ اور یہ بات جس کی طرف آپ بلاتے ہیں، شاید بادشاہوں کو ناگوار ہو۔ بلادِ عرب کا معاملہ تو یہ ہے کہ وہ خطا کار کو معاف کر دیتے ہیں اور عذر کو قبول کر لیتے ہیں۔ مگر بلادِ فارس میں خطا کار کی معافی نہیں ہوتی اور اس کا عذر قبول نہیں کیا جاتا۔ پس اگر آپ عرب علاقہ میں ہماری امداد چاہیں تو ہم اس کے لئے تیار آپ نے فرمایا، تم نے جواب دینے میں کوئی برائی نہیں کی اگر تم سچے ہو۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیرونی سلطنتوں نے کس طرح عرب کو اپنے سیاسی مفادات کے تابع بنارکھا تھا۔ نبوت کے پانچویں سال جب اہل مکہ کے مظالم سے تنگ آکر کچھ مسلمان حبش چلے گئے تو قریش کا ایک وفد وہاں پہنچا تھا اور حبش کے بادشاہ اصحمہ نجاشی کو مسلمانوں کے خلاف ابھارنے کی کوشش کی تھی۔ مگر اس میں وہ ناکام رہے۔ اب انھوں نے ایران و روم کی شہنشاہیتوں کا رخ کیا۔ یہود اور مشرکین کے وفد رومي حکمرانوں اور ایرانی بادشاہوں سے ملے اور ان کو اسلام کے سیاسی خطرات سے آگاہ کیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ ایک طرف باہر سے کوئی حکومت اسلام کے مرکز (مدینہ) پر حملہ کرے، دوسری طرف عرب قبائل میں اندر سے بغاوت پیدا کردی جائے۔ اس طرح مسلمانوں کو کچل کر رکھ دیا جائے۔ ایران و روم قدیم زمانہ کی سب سے بڑی سلطنتیں تھیں۔ ان کو قدیم آباد دنیا کا تقریباً تمام حصہ پر سیادت حاصل تھی ، اس لئے انھیں اپنی طاقت کا گھمنڈ تھا۔ وہ آسانی سے عرب کی اس نئی ابھرتی ہوئی قوت کو کچلنے کے لئے آمادہ ہوگئے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اطراف کے بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کئے۔ کا اصل مقصد اسلام کی دعوت کو وقت کے حکمرانوں تک پہنچانا تھا۔ تاہم اس کا ایک متوقع فائدہ یہ بھی تھا کہ یہ حکمران اسلام کو اس کی اصل حیثیت میں سمجھ سکیں اور غلط پر وپیگنڈہ کی وجہ سے کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ نیز یہ بھی توقع تھی کہ اگر حکمرانوں میں سے کچھ لوگ اسلام کی دعوت فطرت سے متاثر ہوگئے تو یہودیوں اور مشرکین کی سازشیں خود بخود کم زور پڑ جائیں گی۔ یکٹو بات کی عدوانی کے بعد یہ توقع جزوی طور پر پوری بھی ہوئی۔ بعض حکمرانوں (مثلاً عمان کے جلندی برادران) مسلمان ہو گئے۔ بعض (مثلاً مقوقس حاکم مصر) اسلام کے ہمدرد بن گئے۔

مگر دونوں بڑی سلطنتوں (ایران و روم) نے اس سے مختلف معاملہ کیا۔ اس کا پہلا شدید مظاہرہ اس وقت ہوا جب کہ عبداللہ بن حذافہ سہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب لے کر ساسانی حکمران خسرو پرویز کے دربار میں پہنچے۔ بالکل سادہ مضمون پر مشتمل تھا۔ اس میں کوئی سیاسی بات نہ تھی۔ پورا خط صرف یہ تھا :

" محمد رسول اللہ کی طرف سے کسریٰ شاہ فارس کے نام۔ سلام اس شخص پر جو ہدایت قبول کرے اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ میں تجھ کو اللہ کی عبادت کی طرف بلاتا ہوں۔ میں تمام انسانوں کی طرف خدا کا بھیجا ہوا رسول ہوں تا کہ اللہ کے عذاب سے ڈراؤں۔ اور جو لوگ انکار کریں ، ان کے لئے عذر باقی نہ رہے۔ اسلام قبول کرو، تمھارے لئے سلامتی ہوگی ۔ اور اگر انکار کرو گے تو اپنی قوم مجوس کے انکار کا وب ال بھی تمھارے اوپر ہوگا"

اس خط کو کسریٰ نے اپنی شان کے خلاف سمجھا اور غصہ میں بولا : میرا غلام ہو کر مجھ کو خطاب کرتا ہے (یکتب الی دھوبدی) اس نے آپ کے مکتوب کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ یہ یہی نہیں۔ بلکہ بین الاقوامی روایات کے تمام اصولوں کو توڑتے ہوئے آپ کے قاصد کو قتل کر ڈالا۔ اس وقت مین اس کے ماتحت تھا۔ اس کے بعد اس نے اپنے یمنی گورنر بازان کو لکھا کہ محمد کے پاس دو آدمی بھیجوان کو گرفتار کر کے لائیں اور میرے دربار میں حاضر کریں۔ اس حکم کی تعمیل میں بازان نے اپنے دو سپاہی مدینہ روانہ کئے جو نا کام واپس گئے۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایرانی حکمران کتنے متکبر تھے اور عربوں اور مسلمانوں کو کتنا حقیر

مدینہ کے یہود جن کو ان کی سازشوں اور بد عہدیوں کی وجہ سے تورات کے قانون کے مطابق، مدینہ سے جلا وطن کر دیا گیا تھا۔ انھوں نے اپنے چالاک اور زبان آور ایلچیوں کو ایرانی دارالسلطنت مدائن بھیجا۔ انھوں نے ایرانیوں کو مدینہ پر چڑھائی کرنے کے لئے خوب ابھارا۔ چنانچہ ایرانی حکومت نے جدید عربی طاقت کو ختم کرنے کا مکمل ارادہ کر لیا۔ اول کے زمانے میں باقاعدہ ٹکراؤ شروع ہوا۔ مگر نتیجہ ان کے خلاف نکلا اور خلیفہ ثانی کے زمانے میں تقریباً پوری ساسانی سلطنت اسلام کے جھنڈے کے نیچے آگئی۔ تاہم ساسانی سلطنت کا آخری وارث یزدگرد ابھی زندہ تھا۔ اس کے ساتھ کئی ہزار ایرانیوں کی جمعیت تھی۔ ان کی مدد سے وہ ایک قسم کی گوریلا وار حکومت اسلامی کے خلاف جاری کئے ہوئے تھا۔ بالآخر خلیفہ سوم کے زمانہ میں ایک پن چکی والے نے اس کو قتل کر دیا۔ یہ واقعہ مرو کے پاس مرغاب میں ۲۳ اگست ۶۵۱ کو پیش آیا۔ اس کے بعد ایرانی سلطنت کا کوئی دعوے دار باقی نہ رہا۔

رومی شہنشاہ ہرقل کو بھی آپ نے اسی قسم کا خط بھیجا، جیسا کسری کو بھیجا تھا۔ اس نے اگرچہ آپ کے مکتوب کے ساتھ کوئی گستاخی نہیں کی۔ تاہم شام میں ہرقل کی ماتحت جو غسانی ریاست قائم تھی، اس کے پاس جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد حارث بن عمیر ازدی آپ کا مکتوب لے کر گئے تو بصری کے حاکم شرحبیل بن عمرو غسانی نے شام کی سرحد پر قاصدِ نبوی کو قتل کرا دیا۔ یہ صریح طور پر ایک حکومت کی دوسری حکومت پر جارحیت تھی۔ چنانچہ آپ نے اس کے جواب میں تین ہزار کی ایک جمعیت کو سرحد شام کی طرف روانہ کیا۔ ہرقل نے اپنے غسانی حاکم کو تنبیہ کرنے کے بجائے اس مقابلہ میں اس کا پورا ساتھ دیا اور اس کی مختصر فوج کے ساتھ اپنی ایک لاکھ رومی فوج میدان میں اتار دی۔ عربوں اور رومیوں کے درمیان وہ پہلی جنگ پیش آئی جو تاریخ اسلام میں غزوہ موتہ (جمادی الاول ۸ھ) کے نام سے مشہور ہے۔

پھر بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ قیصر روم براہ راست میدان میں آگیا۔ عرب کی اس نئی ابھرتی ہوئی طاقت کو ابتدا ہی میں ختم کرنے کے لئے اس نے باقاعدہ تیاری شروع کر دی۔ سرحد شام کے سردار اور شاہ غسان، جو قیصر کے باج گزار تھے، ان کے تعاون سے اس نے بہت بڑا لشکر تیار کیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ مدینہ پر حملہ کر کے عرب کی اس ابھرتی ہوئی طاقت کو شروع ہی میں کچل دیا جائے یہ رومی لشکر اسلامی دارالسلطنت کی طرف بڑھنا شروع ہوا اور بلقار تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبریں ملیں تو انتہائی ناموافق حالات کے باوجود آپ نے مسلمانوں کو تیار ہونے کا حکم دے دیا اور رجب ۹ھ میں ۳۰ ہزار کا لشکر لے کر رومی علاقہ کی طرف روانہ ہوئے۔ شام کی سرحد کو عبور کر کے آپ تبوک تک پہنچے تھے کہ معلوم ہوا کہ شاہ روم نے اس وقت مقابلہ کا ارادہ ترک کر کے اپنی فوجوں کو واپسی کا حکم دے دیا ہے۔ خلیفہ اول کے زمانے میں رومیوں سے باقاعدہ جنگ کا آغاز ٹھیک اسی مقام (موتہ) پر ہوا جہاں اس سے پہلے رومیوں نے مسلمانوں کی دو ہزار فوج کا خاتمہ کر دیا تھا۔ بھر کے مقابلوں میں مسلمانوں کی کامیابی نے رومیوں کے مخالفانہ جذبات کو اور ٹہرا دیا اور وہ پوری طاقت سے مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہو گئے ۔ مگر اللہ کی مدد سے فیصلہ مسلمانوں کے موافق ہوتا چلا گیا۔ شام و فلسطین سے گزر کر یہ جنگ شمالی افریقہ کے رومی مقبوضات تک پہنچی اور مسلمان ایک کے بعد

ایک رومی ملکوں کو فتح کرتے ہوئے مراکش تک پہنچ گئے۔ اور بالآخر رمضان ۹۱ ھ میں آبنائے جبرالٹر کو پار کر کے اسپین میں داخل ہو گئے۔ یہ سارا علاقہ جو مسلمانوں کے قبضہ میں آیا، وہ قدیم رومی سلطنت کا حصہ تھا۔ رومی حکمرانوں کی جارحیت خود ان کے خلاف پڑی اور آخر کار رومی حکمران کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ اپنے تمام مشرقی مقبوضات مسلمانوں کے لئے چھوڑ کر اپنے مغربی دارالسلطنت (قسطنطنیہ) میں پناہ گزیں ہو جائے۔

صدر اول میں مسلمانوں کی جتنی جنگیں ہوئیں، وہ سب دیگر قوموں کے جارحانہ اقدامات کے جواب میں ہوئیں. عرب کے اندر قریش اور یہود سے، اور عرب کے باہر ایران و روم سے۔ یہ خدا کا خصوصی فضل تھا کہ جارحیت خود ان قوموں کے خلاف پڑی اور مسلمان ہر جگہ ان کو مغلوب کرتے چلے گئے۔

عرب کے پڑوس میں حبش کی، نسبتاً کمزور سلطنت تھی ۔ مگر اس نے مسلمانوں کے خلاف کوئی جارحانہ اقدام اس لئے مسلمانوں نے بھی اس کے خلاف کوئی فوجی کارروائی نہیں کی۔ اگر چہ اس کی یہ قیمت دینی پڑی کہ حبش (ایتھوپیا) آج شمالی افریقہ کا واحد ملک ہے جہاں مسلم آبادی سب سے کم ہے اور اس کی وجہ سے مسلم دنیا کے خلاف اس کا رویہ ہمیشہ معاندانہ رہتا ہے۔

ایرانیوں اور رومیوں کی طرف سے جارحانہ اقدام کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے ایک ایسا قیمتی موقع فراہم کر دیا تھا کہ وہ ایشیا اور افریقہ سے گزر کر یورپ کو اس کی آخری سرحدوں تک فتح کر سکتے کیونکہ یہ سب اٹھیں جارح شہنشاہیتوں کے علاقے تھے اور ان کی جارحیت نے مسلمانوں کو ان کے اندر داخل ہونے کا پورا جواز فراہم کر دیا تھا۔ مگر مسلمانوں کے باہمی اختلافات، خاص طور پر صفین و جمل کی خانہ جنگیوں میں ۷۰ ہزار بہادر مسلمانوں کا کٹ جانا، وہ واحد حادثہ ہے جس نے اس امکان کو اپنی پوری شکل میں واقعہ بننے

Printed page