Al-Risala · March 1977

جب تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا

Al-Risala, March 1977, pp. 41–45

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم عرب کے شمال اور جنوب کے زرخیز حصے اس زمانے کی دو بڑی شہنشاہیتوں ساسانی سلطنت اور اور باز نطینی سلطنت کے قبضہ میں تھے۔ شمال میں عمارت غساسنہ اور امارت ہبری تھی۔ یہ دونوں باز نطینی رومیوں کے ماتحت تھیں اور یہاں ان کی طرف سے عرب سردار حکومت کرتے تھے۔ رومی اثرات کے تحت یہاں کی اکثر آبادی مسیحی مذہب اختیار کر چکی تھی، عرب کے جنوب میں امارت بحرین، امارت عمان، امارت یمامہ تھی۔ یہ ریاستیں ساسانی سلطنت (ایرانیوں) کے ماتحت تھیں اور ان کے اثر سے یہاں کے باشندوں میں مجوسیت پھیلی ہوئی تھی۔ 6ھ میں جب حدیبیہ میں قریش سے دس سال کا نا جنگ معاہدہ ہوا اور حالات پر امن ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے اطراف میں واقع سلطنتوں کو دعوتی مراسلے بھیجنے شروع کئے اس سلسلے میں ایک مراسلہ حارث بن ابی شمر غسانی کے نام تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر شجاع بن وہب آپ کا مراسلہ لے کر اس کے پاس گئے۔ میں یہ بھی تھا کہ اللہ پر ایمان لاؤ تمہاری حکومت باقی رہے گی ربق ملک اس نے مکتوب نبوی میں یہ جملہ پڑھا تو اس کو غصہ آگیا۔ اس نے خط کو زمین پر پھینک دیا اور کہا: میری حکومت مجھ سے کون چھین سکتا ہے (من بنز رع ملکی معنی) حاکم قبری شرحبیل بن عمروغسانی نے اس سے بھی زیادہ بیہودہ سلوک کیا۔ اس رومی گورنر کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر حارث بن عمیر ازدی آپ کا خط لے کر گئے تھے، وہ سرحد شام پر قصبہ موتہ میں داخل ہوئے تھے کہ حاکم ربری کے اشارہ پر ایک اعرابی نے آپ کے سفیر کو قتل کر دیا۔

بین اقوامی روایات کے مطابق یہ واقعہ ایک ملک پر دوسرے ملک کی جارحیت کے ہم معنی تھا۔ یہ بھی ظاہر کر رہے تھے کہ شام کی فوجیں پیش قدمی کر کے مدینہ میں داخل ہو جانا چاہتی ہیں۔ رومی شہنشاہیت اس کو برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ عرب میں کوئی آزاد حکومت قائم ہواور ترقی کرے۔

حارث بن عمیر کے قتل کی خبر مدینہ پہنچی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فوجی جواب دینا ضروری سمجھا۔ حکم دیا کہ مسلمان اپنے اپنے ہتھیار لے کر موضع حرتی میں جمع ہو جائیں۔ چنانچہ تین ہزار کی تعداد میں اسلامی لشکر اکٹھا ہو گیا۔ اس لشکر پر زید بن حارثہ کو سردار مقرر کیا اور ضروری نصیحتیں کرنے کے بعد ان کو شام کی طرف روانہ کیا۔ اسلامی لشکر نے معان رشام پہنچ کر قیام کیا۔ دوسری طرف حاکم بصری بھی جنگ کے لئے تیار ہو گیا۔ حوصلہ افزائی اس واقعہ سے بھی ہوئی کہ اتفاق سے ہر قل انھیں دنوں آب ربقدار میں آیا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ایک لاکھ مسلح فوج تھی۔ نیز اس علاقے کے عیسائی قبائل لخم، جذام، قین، بہراء بلی بھی مسیحی حمیت کے جوش میں اٹھ کھڑے ہو کے اور بنی بلی کے سردار مالک بن زافلہ کی قیادت میں لڑنے کے لئے تیار ہو گئے۔ اس طرح شامی محاذ پر ایک لاکھ سے بھی زیادہ کا لشکر جمع ہو گیا جبکہ مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار تھی۔

یہ جنگ جو جمادی الاولیٰ ۸ ھ میں ہوئی، اس میں زید بن حارثہ دشمنوں کے ہاتھ سے مارے گئے۔ اس کے بعد

جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ بھی قیادت کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ مسلمانوں کا جھنڈا گر جانے سے انتشار کی کیفیت پیدا ہوئی، اس وقت لشکرِ اسلام کے ایک سپاہی ثابت بن اقرم نے بڑھ کر جھنڈا اٹھالیا اور بلند آواز سے کہا: کسی ایک شخص کو امیر بنانے پر اتفاق کر لو۔ مسلمان فوجیوں کی طرف سے آواز آئی، رضینا باب ہم تمہاری سرداری پر راضی ہیں، ثابت بن اقرم نے جواب دیا: مانا یفعل فالتفقوا حتی خالد بن الولید (میں یہ کام نہ کر سکوں گا تم لوگ خالد بن ولید کو اپنا سردار بنالو) یہ آواز بلند ہوئی، ہم کو خالد بن ولید کی سرداری منظور ہے۔ یہ سنتے ہی خالد بن ولید نے آگے بڑھ کر جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور رومی لشکر پر حملہ کر کے اس کو پیچھے دھکیل دیا۔ اس جنگ میں بارہ مسلمان شہید ہوئے۔ ”تاہم یہ جنگ فیصلہ کن طور پر ختم نہیں ہوئی تھی۔ ہر وقت یہ اندیشہ تھا کہ رومیوں کی مدد سے غساسنہ مدینہ پر چڑھ آئیں اور اس نومولود ریاست کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ ذی الحجہ ۵ ھ میں بنو قریظہ کے خاتمہ کے بعد جب مدینہ میں بعض معاشتی مسائل پیدا ہوئے اور ازواج رسول نے اضافہ نفقہ کا مطالبہ کیا تو آپ کو بہت رنج ہوا اور آپ نے ایک مہینہ تک گھر کے اندر نہ آنے کی قسم کھائی۔ اس سلسلے میں تاریخ میں آتا ہے کہ جب ایک صحابی عمر فاروق سے ملے اور ان سے کہا: ”کچھ سنا آپ نے“ تو عمر فاروق کی زبان سے فوراً نکلا: ’’کیا غساسنہ آگئے‘‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں عسائیوں کی طرف سے مدینے کے لئے کتنا خطرہ لاحق تھا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسئلہ کا شدید احساس تھا۔ چنانچہ اپنی عمر کے آخری ایام میں جن امور کے لیے آپ نے شدت سے اہتمام کیا، ان میں غساسنہ یا بالفاظ دیگر رومیوں سے مقابلہ کے لیے فوج کی تیاری بھی تھی۔ آپ نے اس مقصد کے لیے ایک فوج ترتیب دی، اس فوج میں اگرچہ ابو بکر و عمر جیسے بڑے بڑے صحابہ تھے مگر آپ نے انتہائی دانش مندی سے کام لیتے ہوئے اس لشکر کا سردر اور اسامہ بن زید کو مقرر کیا۔ اسامہ نہ صرف ایک بہادر نوجوان تھے بلکہ ان کے دل میں رومیوں سے انتقام کا شدید جذبہ بھی موجزن تھا۔ کیونکہ موتہ کی جنگ میں رومیوں نے ان کے والد زید بن حارثہ کو قتل کیا تھا۔

”تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں لشکر روانہ نہ ہو سکا ۔ کیونکہ عینی وقت پر آپ کے اوپر مرض الموت کا غلبہ آپ کی وفات کے بعد صدیق اکبر نے خلیفہ اول کی حیثیت سے اس لشکر کو شام کی طرف روانہ کیا۔ یہ رواتھی بھی اسلامی تاریخ کا حیرت انگیز واقعہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہر طرف سے ارتداد کی خبریں آنے لگیں ۔ لوگوں نے خلیفہ اول کو مشورہ دیا کہ اب جبکہ مرکز اسلام خطرہ میں پڑ گیا ہے اور مدینہ پر حملہ کی تیاریاں ہو رہی ہیں اس لشکر کی روانگی کو ملتوی کر دیا جائے مگر صدیق اکبر کا یہ جواب لوگوں کو خاموش کرنے کے لیے کافی تھا : ’’اگر مجھ کو یقین ہو کہ لشکر کی روانگی کے بعد مجھ کو مدینہ میں کوئی درندہ تنہا پا کر پھاڑ ڈالے گا، تب بھی میں اس لشکر کی روانی کو ملتوی نہیں کر سکتا جس کو خود رسول اللہ نے ترتیب دیا ہو۔ ‘‘ صدیق اکبر کی یہ ایمانی جرات کام آئی۔ اسامہ کا لشکر نہ صرف رومیوں کے مقابلہ میں کامیاب ہوا بلکہ رومی شہنشاہیت کے مقابلہ میں مسلمانوں کی فتح نے مرتدین کی بھی حوصلہ شکنی کی اور

نسبتاً آسانی کے ساتھ وہ مغلوب کر لیے گئے۔

اس واقعہ میں ایک اور بہت بڑی حکمت شامل تھی، عرب قبائل ہمیشہ سے آپس میں لڑتے چلے آرہے تھے شدید اندیشہ تھا کہ اپنی قوتوں کے اظہار کا دوسرا میدان نہ پیدا کردہ دوبارہ آپس میں لڑنے لگیں گے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے ساتھ عرب طاقت کو رومی شہنشاہیت سے متصادم کر کے اس کا جواب فراہم کر دیا۔ اب عربوں کے جنگجو فطرت کے لیے ایک بہترین میدان مل چکا تھا۔ چنانچہ تاریخ نے دیکھا کہ وہ لوگ جو اپنے ہم وطنوں کی قتل و غارتگری کے سوا کچھ نہ جانتے تھے انھوں نے ایک صدی سے بھی کم عرصہ میں ایک پوری دنیا کو فتح کر ڈالا۔ جان بیگٹ گلب پاشانے اپنی کتاب دی لائف اینڈ ٹائم آف محمد میں اسی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے: عرب نامعلوم زمانے سے ایک دوسرے کے ساتھ جنگ وجدل میں زندگی بسر کرنے کے عادی رہے تھے۔ جنگ و جدل کسی خاص سبب کا نتیجہ نہیں ہوتی تھی بلکہ یہ ان کی طرز زندگی میں داخل تھی۔ اب جبکہ وہ بحیثیت مسلمان ایک دوسرے سے لڑنے بھڑنے سے روک دیتے گئے تھے یہ کیسے ممکن تھا کہ فوجی ذہنیت کے قبائلی آدمیوں کو ہمیشہ کے لیے پرامن زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا جائے ؟ پیغمبر اسلام نے خود اس مہم کو روانہ کر کے جس نے موت میں شکست کھائی تھی اس سوال کا حل پیش کر دیا تھا۔

۶۳۳ ء کے سرما میں تین عرب کالموں نے فلسطین اور شام پر حملہ کر دیا اسی اثناء میں مشرقی عرب کے قبیلوں نے جو حیرہ کی لکھی ریاست کی ضبطی کے بعد سے ایران کے دشمن بنے ہوئے تھے، فرات کی طرف پیش قدمی کر کے حیرہ پر قبضہ کر لیا۔ ۲۷ اگست ۶۳۴ء کو باز نطینی رومی قوت نے یرموک کے میدان میں مکمل شکست کھائی اور شام کا تمام علاقہ طبر یہ تک عربوں کے قبضہ میں آگیا۔ فروری ۶۳۷ء میں ایرانی فوج قادسیہ کے مقام پر چوہیرہ سے چند میل کے فاصلہ پر تھام ممکن طور پر تباہ کر دی گئی اور قدیم عراق بشمول ایرانی دارالسلطنت مدائن جو دجلہ کے جنوب میں موجودہ بغداد کے قریب واقع تھا، عربوں کے زیر تسلط آگیا۔ ۶۴۰ء میں مصر پر حملہ ہوا اور ایک بار پھر باز نطینی حکومت شکست یاب ہوئی اور ستمبر ۶۴۲ء تک پورے مصر پر عرب قبضہ مکمل ہوگیا۔ اسی سال کچی کچھی ایرانی فوج نہاوند کے مقام پر تباہ کر دی گئی اور ایرانی سلطنت کا پورے طور پر خاتمہ ہو گیا۔

دوسری صدی ہجری کے آخر میں ایک ہندوستانی راجہ کی طلب پر ہارون الرشید نے بغداد سے ایک متکلم ہندوستان بھیجا تھا ۔ قرآن کا سب سے پہلا ہندی ترجمہ ایک ہندو راجہ کے حکم سے کیا گیا تھا ۔ سندھ کے راجہ مہروگ نے منصورہ (واقع سندھ) کے امیر عبداللہ بن عمر کو لکھا کہ کسی ایسے شخص کو ہمارے پاس بھیجے جو مہندی میں ہم کو اسلام کا مذہب سمجھائے۔ اس وقت ایک عراقی مسلمان تھا جو ہندوستان میں پلا تھا اور یہاں کی زبانیں جانتا تھا۔ چنانچہ امیر نے اسے راجہ کی خدمت میں بھیج دیا۔ وہ راجہ کے دربار میں تین برس رہا اور اس کی خواہش سے اس نے ہندی زبان میں قرآن کا ترجمہ کیا جس کو روزانہ پڑھوا کر سنتا تھا۔

ہندوستان ایک عظیم ملک ہے۔ طور پر چھوٹی چھوٹی صنعتوں کے بے حد امکانات ہیں، اگر چہ انھیں ابھی تک بہت کم استعمال کیا گیا ہے۔ ہندوستان کے رقبہ کا تقریباً ۲۵ فی صد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے ان جنگلات میں بے شمار قسم کی چھوٹی چھوٹی صنعتیں قائم کی جاسکتی ہیں۔

مثلاً شہد کی مکھی پالنے کی صنعت کو لیجیے۔ کنٹڑا کے شری گوڈانے اس کام کے امکانی فائدے بتائے انھوں نے مقامی طور پر میسر ہونے والی لکڑی اور بانسوں سے شہد کی مکھیوں کے چھتے بنائے اور پھر انھوں نے ایک سیزن کے پانچ ماہ میں ان چھتوں سے ۳۰ کلوگرام شہد نکالا جس کی مجموعی مالیت دو ہزار چار سو روپے تھی۔ ملک کے اندر اور ملک سے باہر شہد کی بڑی مانگ ہے اور دیہاتی علاقوں میں اس کام کی ترقی کے وسیع موقع بانس کی کھچیوں سے بورئیے اور ٹوکریاں بنانے کی صنعت بھی ایسے ہی دھندوں میں سے ایک جسے ترقی دینے کے لیے اس کی ایلی مارکٹینگ تنظیم قائم ہونی چاہیئے۔ اس سلسلے میں کیا کچھ کیا جا سکتا اس کا اظہار بانس کے بورئیے بنانے والے ایک کارخانے کو دیکھئے سے ہوتا ہے۔ جو کیرل کے کھادی اینڈ ولیج انڈسٹری بورڈ کے ماتحت ضلع کنانور کے ارما گاؤں میں واقع ہے اور کو آپریٹیو سوسائٹی کے زیرِ انتظام ہے۔ اس کارخانے نے "ریڈ بیکس" نام کی ایک چیز تیار کی ہے جو بانس کی نلی کو کیمیائی عمل کے ذریعے ٹائلز کا سستا نعم البدل بناتا ہے ۔ بانس ایک ایسا خام مواد ہے جو گھروں کے کچواڑے میں بھی بڑی آسانی سے اگایا جا سکتا ہے درختوں کے گوند اور ان سے نکلنے والی رال کے ذریعے ۱۹۷۵ء - ۱۹۷۶ء کے دوران ملک کو ۳۲ کروڑ روپے کی بدیشی کرنسی حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ یہ دونوں چیزیں سماج کے پسماندہ طبقوں کے بہت سے بیروزگار اور نیم بیروزگار افراد کے لیے کام کا ذریعہ ثابت ہوئیں ۔ سال کے بیچ جنگلات کی ایک ایسی شے تھے ہیں جن سے دیہاتی معیشت کو فروغ دینے کے زبردست امکانات پائے جاتے ہیں ۔ سال بڑی تیزی سے کھیلتا پھولتا ہے اور یہ مجموعی طور پر ۹ لاکھ سکیٹر رقبہ زمین پر موجود ہے جس میں سے بیشتر مدھیہ پردیش، بہار اور اڈڑیسہ کے قبائلی علاقوں میں پایا جاتا ہے ۔ سال درخت کے گودے میں ۱۶ فی صد سخت قسم کی چکنائی ہوتی جو صابن بنانے میں کام آتی ہے ۔ اسے صاف کر لیا جائے تو اس سے ایک قسم کا مکھن تیار ہو جاتا ہے ۔ اس گودے کا تیل نکال لیا جائے تو اس کے کھوک میں ۲۱ فیصد نشاستہ اور ۱۰ فی صد پروٹین ہوتا ہے ۔ ہر سال لاکھوں ٹن سال کے بیج پیدا ہوتے ہیں ۔ اس وقت مشکل سے ایک فیصد بیج کی فصل اٹھائی جاتی ہے ۔ اندازہ کیا جاتا ہے کہ ایک ٹن سال کے بیج کو اکٹھا کرنے اور اسے مطلوبہ مقامات پر پہنچانے کے لیے ۸ کام کے دن چاہئیں ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سال کے بیج سے کتنا بڑا معاشی فائدہ اٹھایا جا سکتا ٹینڈر کے پتوں کی پیداوار اور تجارت سے قبائلی معیشت کا بڑا گہرا تعلق ہے ۔ اسے عام طور سے بیٹری

پتہ کہا جاتا ہے۔ ان پتوں کو چھانٹنا، توڑنا اور ان کی ٹبری بنانا بڑی محنت کے کام ہیں۔ اس دھندے سے صرف مدھیہ پردیش میں ڈھائی لاکھ افراد معقول آمدنی حاصل کرتے ہیں اور ۱۹۷۵ء میں صرف مدھیہ پردیش کے دیہاتی علاقوں میں اس کام کے مزدوروں کو چار کروڑ روپیہ تقسیم کیا گیا۔ اس دھندہ کو مزید وسعت دینے کی کافی گنجائش

ٹینڈو کے پتے اس کے بیج ہو کر بڑی آسانی سے پیدا کئے جاسکتے ہیں اور کُپڑا نہیں جانور مشکل سے چگ سکتے ان میں آگ لگنے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے ان کے پودوں کی دیکھ بھال اور انہیں پروان چڑھانے میں بھی زیادہ دشواری نہیں ہوتی۔ اس طرح دیہات کے آس پاس افتادہ زمین میں ٹینڈو کے پتوں کا ذخیرہ کیا جاسکتا ہے دیہاتی معیشت پر اس کا کتنا خوش گوار اثر ہوگا اس کا اندازہ بخوبی کیا جا سکتا ہے۔

حالیہ برسوں میں یہ بات مشاہدہ میں آئی کہ ترقی پذیر ممالک بھاری بنیادی صنعتوں کی نسبت چھوٹی صنعتوں میں زیادہ خوش حال اور کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ہمارے جیسے ملک میں ان چھوٹی صنعتوں سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ مثلاً ان سے ضرورت مندوں کو مناسب وقت اور مقام پر مناسب روزگار ملتا ہے اور اس کے لیے زیادہ سرمایہ بھی نہیں لگانا پڑتا۔

اس کے علاوہ جنگلات سے کئی بڑی بڑی صنعتوں کو خام مواد ملتا ہے جیسے کاغذ بنانے کے لیے گودا۔ ریلوے لائن کو جنگلات میں پیدا ہوئی لکڑی سے ہی سلیپر ملتے ہیں اور وہ لکڑی فراہم ہوتی ہے جو ریل گاڑی کے ڈبے بنانے میں کام آتی ہے۔ ہی وہ پیکنگ سامان حاصل ہوتا ہے جو کھیلوں اور دوسری گھریلو اشیا کی پیکنگ میں کام آتا ہے۔ کی صنعت ، وارنش کی صنعت ، کپڑے کی صنعت ، اور کئی دوسری چھوٹی اور بڑی صنعتیں ان اشیاء سے فائدہ اٹھاتی ہیں، جو جنگلات میں پیدا ہوتی ہیں۔ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کیجئے آپ کو دوسروں سے کوئی شکایت نہ ہوگی پتھر ہر ایک کے لئے سخت ہے۔ اس کے لئے نرم ہو جاتا ہے جس نے اس کو توڑنے کا اوزار فراہم کر لیا ہو۔ یہی صورت ہر معاملہ میں پیش آتی ہے۔ اگر آپ لیاقت اور اہلیت کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوں تو ہر جگہ آپ اپنا حق وصول کر کے رہیں گے۔ اور اگر لیاقت اور اہلیت کے بغیر آپ نے زندگی کے میدان میں قدم رکھا ہے تو آپ کے لئے اس دنیا میں اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ اپنی مفروضہ حق تلفی کے خلاف فریاد و فغاں

ماحول سے کوئی امید نہ رکھیئے ، بلکہ اپنی محنت اور لیاقت پر بھروسہ کیجئے۔ آپ کو ماحول سے بھی شکایت ماحول کی شکایت دراصل ماحول سے زیادہ خود اپنی نالائقی کا اظہار ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے وہ ناگزیر تیاری نہیں کی تھی جو ماحول سے اپنا حق وصول کرنے کے لیے ضروری ہے ۔

Printed page