نجات
Al-Risala, March 1977, pp. 46–51
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن جس زمانہ میں آیا، ساری دنیا میں کوئی نہ کوئی مذہب رائج تھا۔ کوئی قوم ایسی نہ تھی جو مذہب کی قائل مگر ہر ایک نے خود ساختہ طور پر کچھ چیزوں کو مذہب اور خدا پرستی کا درجہ دے رکھا تھا۔ کچھ لوگوں کے نزدیک ایک مقدس جگہ پر جمع ہو کر تالیاں اور سٹیاں بجانے کا نام عبادت تھا (انفال - ۳۵) کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ وہ عبادت خانوں کی عمارتیں بنا کر اور لوگوں کو کھانا کھلا کر اپنے خدا کو خوش کر لیں گے (توبہ - ۱۹) کچھ لوگ خدا پرستی کا مطلب یہ سمجھتے تھے کہ انسانی ہنگاموں سے الگ ہو کر اپنے لئے تنہائی کا ایک گوشہ بنا لیا جائے اور وہاں بیٹھ کر خدا کے نام کی چپ کی جاتی رہے (حدید۔ ۲۷) کچھ اور لوگ تھے جو خدا پرستی کا کمال یہ سمجھتے تھے کہ دنیا میں جن افکار و نظریات کا رواج ہو جائے اسی کے رنگ میں رنگ کر مذہب کو بھی پیش کر دیا جائے (توبہ۔ قرآن نے اعلان کیا کہ ان میں سے کوئی بھی چیز وہ نہیں جو اللہ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہو، اور جس کے کرنے والے کو وہ آخرت کے انعامات سے سرفراز کرے۔ اللہ کو اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ اس کے بندے اپنے خالق کو ”کبیر“ مان کر اس کے آگے اپنے آپ کو
یہ اصلاً ایک قلبی کیفیت ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ سب سے پہلے اپنے بندوں کے دل کو دیکھتا ہے۔ جھکاؤ، دل کا خوف، دل کی فروتنی ہی وہ چیز ہے جو اصلا خدا کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے۔ مگر انسان ایک ایسی مخلوق ہے کہ اس کے دل میں جو کیفیت ہو، وہ ضرور اس کے جسم اور اس کی عملی سرگرمیوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ ہم کو اپنے بیٹے سے پیار ہو تو ہمارے عمل سے بھی اس پیار کا اگر ہم سانپ سے ڈر رہے ہوں تو ہماری حرکات بھی ضرور اس جذبہ کی گواہی دیں گی۔ خدا کے آگے اپنے آپ کو دصغیر“ بنانا اگرچہ باعتبار حقیقت ایک قلبی کیفیت ہے، مگر جب وہ کسی دل کے اندر حقیقی معنوں میں پیدا ہو جائے تو اس کے اعضا و جوارح اور اس کے حرکات و اعمال سے بھی لازما اس کا اظہار اس طرح پوری زندگی اس کے دائرہ میں آ جاتی ہے۔
حقیقی خدا پرستی، جو آدمی کے لئے آخرت کی نجات کا ذریعہ ہوگی، یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کو پورے معنوں میں خالق، مالک، رب اور محاسب و مجازی تسلیم کرے، اس کے ساتھ کسی معاملہ میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ پھر دل و دماغ میں اسی کی بڑائی کے احساس کو جگہ دے۔ اس کا اندرونی وجود اس کی احسان مندی کے جذبہ سے سرشار ہو اور اسی کی طاقت و قوت کے خوف سے کانپتا پھر اس کا ہاتھ، اس کا پاؤں، اس کی آنکھ، اس کی زبان، اور اس کے سارے اعضا و جوارح اسی دائرہ کے اندر اپنے وظائف ادا کریں جو خدا نے اپنی شریعت میں ان کے لئے مقرر کر دیا ہے۔ انسانوں سے تعلقات اور دنیا کے مختلف معاملات میں وہ اسی رویہ کو اپنائے جو خدا نے بتایا ہے۔ رویہ سے پوری طرح بچتا رہے جس سے خدا نے منع فرمایا ہے۔ دنیا میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو دنیا کے پیچھے اپنی پوری اسی طرح آخرت کی نجات کا حق دار بھی وہی ہوگا جس نے اپنی زندگی کو اس کے لئے کھپایا ہو۔
مذہب کو انسانی تخلیق ثابت کرنے کے تمام نظر یات غلط ثابت ہو گئے یونانی مصنف ایو میرس (Euhemerus) نے کہا تھا کہ دیوتا ابتداء زمین کے بڑے بڑے بادشاہ تھے پھر دھیرے دھیرے وہ خدا بن گئے اور ان کی پرستش کی جانے لگی۔ بعد کو اس عقیدہ کو بتانے کے لئے ایک اصطلاح اس کے نام پر وضع ہوئی جس کو ایومیرزم (EUHEMERISM) کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دیوتا کسی زمانہ میں انسانی ہیرو تھے۔ یونانی مصنف کا یہ نظریہ محض قیاس پر مبنی تھا۔ اس نے اس واقعہ پر بدھزم اور جین ازم کو کئی محققین نے مذہب میں شمار نہیں کیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ فلسفہ کے اسکول تھے نہ کہ حقیقتہ مذاہب۔ زمانہ میں چونکہ علم کلام (تھیالوجی) اور فلسفہ الگ الگ نہ تھے، اس لئے بہت آسانی سے فلسفہ، علم کلام اور علم کلام، فلسفہ بن جاتا تھا۔ جین مت اور بدھ مت دراصل فلسفہ کی حیثیت سے پیدا ہوئے مگر زمانہ کے اثر سے بعد کو مذہب کی حیثیت اختیار کر گئے۔ ہندستانی مصنفین مثلاً ڈی ریڈی کو سبھی اور رو میلا تھا پر نے بدھزم کو ایک سوشل فلسفی قرار دیا ہے نہ کہ عام معنوں میں مذہب ۔ زیادہ دھیان نہیں دیا کہ چین اور افریقہ اور دوسرے بعض مقامات پر جہاں آباء و اجداد کی پرستش کی مثالیں ملتی ہیں وہاں ان کی پرستش خدا کی پرستش سے الگ دوسرے طریقے سے کی جاتی ہے۔
قدیم زمانہ میں اس قسم کی باتیں محض تفنن پسند لوگ کیا کرتے تھے۔ تاہم ایک سو سال پہلے بہت بڑے پیمانہ پر اس سوال کے جواب کی تلاش شروع ہوئی کہ مذہب کی ابتدائی شکل کیا تھی۔ مگر تحقیق و تلاش کے لمبے سفر کے بعد آدمی دوبارہ وہیں پہنچ گیا جہاں وہ پہلے تھا۔ اب یہ ثابت ہوا کہ مذہبی معتقدات اتنے ہی پرانے نہیں جتنی کہ انسانی تاریخ پرانی ہے۔ ایک لاکھ برس پہلے نیندر تھل انسان (NEANDERTHAL MAN) کو جب مرنے کے بعد دفن کیا گیا تو اس کے ساتھ قبر میں کھانا بھی رکھ دیا گیا تاکہ دوسری دنیا کے سفر میں اس کے لئے زاد راہ کا کام دے سکے اس سے ثابت ہوا کہ انتہائی ابتدائی انسان "بھی مرنے کے بعد زندگی کے تسلسل کا عقیدہ رکھتا تھا۔
"مذہب کیسے شروع ہوا" یہ سوال باقاعدہ طور پر صرف ایک سو سال پہلے وجود میں آیا۔ اس سے پہلے بائبل کی کتاب پیدائش اور قرآن کے زیرِ اثر عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ پہلا انسان (آدم) جب پیدا کیا گیا تو اسی وقت خدا کا الہام بھی اس کو مل گیا جس میں اس کو یہ بتا دیا گیا تھا کہ سچا مذہب خدا کے نزدیک کیا ہے۔ مذاہب کے علماء عام طور پر یقین کرتے تھے کہ اس ابتدائی مذہب میں بعد کی نسلوں نے پہلی بار بگاڑ پیدا کیا اور اس طرح مذہب کی مختلف شکلیں بنتی چلی گئیں۔ 19 ویں صدی میں خاص طور پر نظریہ ارتقا نے، تعلیم یافتہ طبقہ کے اندر یہ ذہن پیدا کیا کہ مذہب کا ارتقائی مطالعہ کرے اور اس کی ابتدائی شکلیں دریافت کرے۔ یہ فرض کر لیا گیا کہ
ارتقا کا اصول ہر معاملہ میں اسی طرح جاری ہے جیسا کہ ڈارون نے حیاتیات میں دکھایا ہے۔
ابتدائی مذہب (PRIMITIVE RELIGION)
اور ترقی یافتہ مذہب (HIGHER RELIGION) کی اصطلاحیں پیدا ہوئیں۔ اس تلاش نے بہت جلد انسان کو اس دریافت تک پہنچا دیا کہ مذہب کی ابتدا محض کچھ وہی خیالات (ILLUSIONS) سے شروع ہوئی۔ اصلاح ہوتے ہوتے وہ مذہب کی موجودہ ترقی یافتہ شکلوں اس طرح گویا علمی تجزیہ نے ثابت کر دیا کہ مذہب اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک نفسیاتی یا سماجی وہم کے سوا اور کچھ نہیں۔ مگر مذہب کے محققین کا یہ یقین دیر تک باقی نہ رہ سکا۔ تحقیق کے بعد کے نتائج نے اس کے ابتدائی نتائج کی تردید کر دی۔
ٹیلر نے ۱۸۷۱ء میں مذہب کے بارہ میں اپنے نظریہ کی وضاحت کے لئے روحیت مظاہر (ANIMISM) کی اصطلاح وضع کی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ابتدائی انسان نے خواب، ہذیان اور موت کے واقعہ سے یہ نتیجہ نکالا کہ اس کے اندر کوئی غیر فانی روح جب کوئی مرا ہوا شخص خواب میں نظر آیا تو سمجھ لیا گیا کہ انسان کی روح مرنے کے بعد بھی باقی رہتی ہے، اٹھیں میں سے کچھ روحیں دھیرے دھیرے دیوتا بھی بن گئیں، اسی زمانہ میں ہربرٹ اسپنسر نے یہ خیال پیش کیا کہ مرے ہوئے لوگ جو بھوتوں کی شکل میں دکھائی دیتے تھے، ان کو دیوتا سمجھ لیا گیا اور ان کی پوجا ہونے لگی۔ مگر ٹیلر اور اسپنسر وغیرہ کے نظریات کا جب بعد کے محققین نے تجزیہ کیا تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ لوگ یہ ثابت کرنے میں نا کام رہے ہیں کہ دور تاریخ سے قبل کا انسان اسی ڈھنگ پر سوچتا تھا اور روحوں اور بھوتوں سے خدا تک پہنچنا محض قیاس پر اس نظریہ کے حامی اس سوال کا جواب بھی نہ دے سکے کہ اگر مردہ انسانوں کی روح سے خدا کا تصور نکلا تو یہ عالمی کیسے بن گیا جب کہ قدیم زمانہ میں کرہ ارض پر پھیلے ہوئے مختلف قبائل کے درمیان قطعا کوئی مواصلاتی سلسلہ موجود نہ تھا۔ چنانچہ روحیت مظاہر (اینمنزم) کا یہ نظریہ مذہب کی علمی توجیہہ کی حیثیت سے آج عملاً رد کر دیا گیا ہے۔
روحیت مظاہر کا ایک اور نظریہ آر۔ ۱۸۹۹ میں پیش کیا۔ اس نے کہا کہ انسان اولاً شخصی روح (PERSONAL SOUL) کو نہیں مانتا بلکہ غیر شخصی طاقت (IMPERSONAL FORCE) کا عقیدہ رکھتا تھا جس نے دنیا کو زندگی عطا کی ہے۔ اس نے اپنے اس نظریہ کو انیمیٹرم (ANIMATISM) کا نام دیا۔ مگر بعد کی تحقیق نے معلوم ہوا کہ محض ایک لفظی مغالطہ سے اس نے یہ نظریہ قائم کر لیا تھا۔ بحر الکاہل کے کنارے رہنے والے بعض قبائل جن کو میلانییین (MELANESIAN) کہا جاتا ہے، ان کی زبان میں ایک لفظ منا (MANA) ہے۔ میمیٹ نے سمجھا کہ قبیلہ کے لوگ اس کو روحانی طاقت کے معنی میں بولتے ہیں اور غیر شخصی طاقت کا یہی عقیدہ مذہب کی بنیاد ہے۔ اس نے مزید کہا کہ قدیم انسان ”تھنکر“ نہ تھا بلکہ ایکٹر تھا۔ اس طرح اس کا مذہب جادوسے بہت کم مختلف تھا۔ مگر بعد کی تحقیقات نے بتایا کہ یہ قبائل ”منا“ کا لفظ غیر شخصی طاقت کے معنی میں نہیں بولتے تھے جس نے کائنات کو زندگی عطا کی ہو۔ جیسا کہ میمیٹ اور دوسرے لوگوں نے سمجھ لیا تھا، بلکہ امتیازی روحانی صفت کے معنی میں بولتے تھے۔
۱۸۵۰ میں جیمز فریز نے کتابوں کا ایک سلسلہ
شائع کرنا شروع کیا جن میں سب سے زیادہ خاص سنہری شاخ (THE GOLDEN BOUGH) تھی۔ اس نے اپنی کتاب کا آغاز ایک مقدس درخت کی کہانی سے کیا جو قدیم اٹلی کے ایک مقام اربیاب پر ایک شخص نے لگا رکھا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اس درخت میں کوئی روحانی طاقت ہے اور اس کی مدد سے جادو کے کرشمے دکھائے جاسکتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات کو لے کر فریزر نے ایک نظریہ وضع کیا۔ یہ تھا ۔ جادو پھر مذہب پھر سائنس :
(MAGIC to RELIGION to SCIENCE)
اس نے کہا کہ جادو کے طریقے میں جب پہلی بار ناکامی ہوئی تو انسان نے سمجھا کہ کوئی مافوق ہستی ہے جو اس کی مدد کر کے کامیابی کو یقینی بنا سکتی ہے۔ جادو نے مذہب کی صورت اختیار کرلی۔ پھر انسان منطقی اور تجربیاتی طریقہ تک پہنچا جس کو سائنس کہا جاتا ہے اپنی ارتقائی کشش کی وجہ سے یہ نظریہ شروع میں بہت مگر بہت جلد معلوم ہوا کہ اس مفروضہ کے لئے کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے کہ جادو پہلے تھا اور مذہب اس کے بعد وجود میں آیا۔ کلچر کے ہر مرحلہ میں، تاریخی دستاویزوں کے مطابق، مذہب اور جادو دونوں ساتھ ساتھ رہے ہیں۔ اس لئے یہ نظریہ کہ ”جادو پھر مذہب پھر سائنس‘ غیر تاریخی
۱۹۲۲ میں لوسین لیوی بروھل نے ابتدائی ذہن (PRIMITIVE MENTALITY) کا نظریہ پیش کیا۔ نے کہا کہ دور قدیم کے وحشی انسان ایک ابتدائی منطقی فکر (PRE-LOGICAL THINKING) استعمال کرتے تھے جو کہ مادی موجودہ فکر سے مختلف تھا۔ اس نے اس نظریہ پر تنقید کی کہ تمام انسان یکساں صلاحیت کے تھے۔ اس نے مثال دی کہ تمام "غیر ترقی یافتہ" قومیں موت کی توجیہہ فطری اسباب کے سوا دوسرے اسباب سے کرتی ہیں۔ ان کے نزدیک آدمی سادہ طور پر محض بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے نہیں مرتا بلکہ کوئی پر اسرار طاقت ہے جو اس کو مارتی ہے۔ پچھلے سوبرس کے دوسرے شارحین مذہب کی طرح لیوی بروحل بھی محض کرسی نشین مفکر تھا جس کو موجودہ زمانہ کے " ابتدائی انسان" کی خبر نہ تھی۔ حتیٰ کہ وہ اس بات سے بھی بے خبر تھا کہ قدیم انسان کس طرح سوچتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ابتدائی دور کا انسان بخوبی جانتا تھا کہ موت کس طرح طبیعی اسباب کے تحت ہوتی ہے، اگرچہ اس کے ساتھ وہ ایک روحانی توجیہہ کو بھی اس میں شامل کرتا تھا۔
ایک اور فرانسیسی مصنف امایل در خیم نے (۱۹۱۲) میں مذہب پر اپنی کتاب شائع کی۔ اس نے زور دیا کہ مذہب ایک سماجی واقعہ (SOCIAL FACT) ہے نہ کہ انسان کی نفسیات کی پیدا وار۔ مذہب وہم نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ ہر دور میں ہر جگہ پایا گیا ہے۔ اس نے اخلاق اود قانون کے بڑے بڑے نظام قائم کئے ہیں۔ ستاہم درخیم کے نزدیک مذہب خود سماج کی پرستش کا نام تھا، اگر چہ وہ پر اسرار علامتوں کے بھیس میں ظاہر ہوتا ہے۔ در خیم نے اپنا تصور آسٹریلیا کے بعض قدیم قبائل سے لیا۔ مگر اس انتخاب میں در خیم کی غلطی چھپی ہوئی تھی، کیونکہ وہ کبھی آسٹریلیا نہیں اس نے دوسروں کی فراہم کردہ ناقص معلومات پر اپنے نظریہ کی بنیاد رکھ دی اور پھر اس سے مستنبط کر لیا کہ تمام دنیا کے لوگ آسٹریلیا کے انھیں قدیم قبائل کے مطابق عمل کرتے یہ قدیم قبائل بعض پودوں اور جانوروں کو مقدس مانتے تھے اور ان کو کھانا حرام سمجھتے تھے۔ بعض مشابہتوں کی وجہ
طرف سے ماں کو قتل کرنے کے واقعات سے شروع ہوا۔ سے دریم لے اس بوتمائی امریکہ کے اندرین قبائل کے قوم (TOTEM) کے مماثل سمجھا اور کہا کہ یہ پودے اور جانور قبیلہ کے سماجی آدرشوں کا نشان تھے جو بالاآخر مذہب کی صورت اختیار کرگئے۔ مگر نہ صرف ٹوٹم کا یہ تصور بغور مطالعہ ثابت نہیں ہوا، مایہ بھی تاریخی طور پر ثابت نہ ہو سکا کہ ٹوٹم کا عقیدہ مذہب کے عقیدہ سے پہلے پایا جاتا تھا۔ اس سے بھی زیادہ کمزور ور توجیہہ وہ تھی جو آسٹریلیا کے نفسیات داں سگمنڈ فرائڈ نے ۱۹۱۳ میں پیش کی۔ اپنی کتاب TOTEM and TABOO میں بحرا کاہل کے علاقہ کے بعض قبائل کی کہانی لکھی کہ قدیم زمانہ میں ایک طاقتور باپ خاندان کی تمام عورتوں کو اپنی ذات کے لئے مخصوص کئے ہوئے تھا۔ بعد کو جب لڑکے جوان اور طاقت ور ہوئے اور باپ بوڑھھا ہوگیا تو " ایک دن " انھوں نے مل کر باپ کرتا ہے یا پاؤں کے تلے کے واقعات سے سر کرتا ہے یا یہ کہ مذہب ساری دنیا میں ایک ہی جگہ سے پھیلا ہے یا ہر ملک میں اسی خاص ڈھنگ سے شروع ہوا ۔
مذہب کے آغاز کے نفسیاتی یا سماجی نظریات کے بالکل برعکس کچھ مصنفین نے دعویٰ کیا ہے کہ قدیم ترین مذہبی عقیدہ ایک برتر ہستی کا عقیدہ تھا۔ (ANDREW LANG) نے ۱۸۹۸ء میں مذہب کی تشکیل اور ولہلم شمٹ (THE MAKING OF RELIGION)
نے خدا کے تصور کی ابتدا (WILHELM SCHMIDT) (THE ORIGIN of the IDEA of GOD)
شائع کی جس میں شدت سے یہ نظریہ پیش کیا گیا۔ طویل سفر کئے اور برس ہارس تک تمام دنیا سے شہادتیں جمع کرتا رہا۔ اور بتایا کہ ایک خدا کا عقیدہ انتہائی ابتدائی لوکل کر ڈالا اور عورتوں کو آپس میں تقسیم کر لیا۔ سر فریڈ یہ کہ یہ قاتلین اپنے مقتول (باپ) کو کھا گئے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ باپ کی روح ان کے اندر آگئی، جس سے وہ ڈرتے تھے، جس کو برتر سمجھتے تھے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے مجھے جانور مقرر کئے جو باپ کی طاقت کا نشان تھے۔ بعد انھوں نے جشن منانے شروع کئے جس میں وہ طرح طرح سے اپنے ان عقائد کا اظہار کرتے۔ یہی چیز دھیرے دھیرے مذہب بن گئی۔
مگر اس عجیب و غریب نظریہ کے لئے بعد کے محققین کو کوئی تاریخی ثبوت نہ مل سکا۔ ”باپ“ کو مذکورہ بالا شکل میں کھا جانے کی مثال امکانی طور پر ساری تاریخ میں صرف آسٹریلیا میں اور وہ بھی ایک بار ملتی ہے اور وہاں بھی شہادتیں بہت غیر واضح ہیں۔ اس کی کوئی تاریخی، اثریاتی یا اور کوئی شہادت نہیں ہے کہ مذہب اسی طرح بیٹوں کی انسانوں میں پایا جاتا رہا ہے اور اس کو پہلی مذہبی صورت کہا جا سکتا ہے۔ بعد کے مصنفین نے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ بہت سے ابتدائی قبائل میں ایک خدا کا تصور پایا جاتا ہے یہ کہا کہ تاہم اسی کے ساتھ دوسرے دیوتاؤں کا تصور بھی اس طرح ”ایک خدا“ کا تصور گویا کئی خداؤں کو ماننے ہی کا ایک جزہ ہے۔
مذہب کے آغاز کے بارے میں پچھلے مفروضوں کے غلط ثابت ہونے کی وجہ سے اب اس میدان میں کام کرنے والے علماء بہت زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔ اگر مذہب اتنا ہی پرانا ہے جتنا انسانی غور و فکر کی تاریخ پرانی ہے تو وہ اتنے بعید ماضی سے تعلق رکھتا ہے کہ یہ بظاہر نا ممکن ہے کہ اس کے آغاز کی بابت کوئی مسلمہ شہادت مل سکے ۔ رومانی محقق (MIRCEA ELIADA) کے الفاظ میں ” موجودہ زمانہ کے مورخین مذہب جانتے ہیں کہ یہ ناممکن
ہے کہ مذہب کی ابتدائی شکل کو معلوم کیا جاسکے۔ ماضی میں مذہب کے محققین کا یہ گمان تھا کہ اگر یہ ثابت کیا جاسکے کہ مذہب کا آغاز کچھ وہی تصورات سے ہوا تو بعد کی ترقی یافتہ مذہبی شکلوں کو بھی بے بنیاد ثابت کیا جاسکتا ہے۔ مگر اب علمی طور پر اس کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ مذہب کونفیستی فریب PSYCHOLOGICAL ILLUSION یا سماجی فریب (SOCIOLOGICAL ILLUSION)
ثابت کرنے کا خواب بے تعبیر ہو چکا ہے ۔ اب یہ ذہن پیدا ہورہا ہے کہ مذہب، جیسا کچھ آج ہے اس کو سمجھنے کی کوشش کرنا چاہئے نہ کہ اس کی ابتدائی صورتوں کو دریا۔ کرنے کی لاحاصل کوشش میں وقت ضائع کیا جائے۔ مذہبی ارتقار کی ابتدائی شکل دریافت کرنے کا ڈین ڈارونزم کے بعد پیدا ہوا تھا۔ یہ فرض کر لیا گیا کہ وحشی قبائل جو آج بھی جنگلوں میں پائے جاتے ہیں وہ ابتدائی دور" کے انسان کی باقیات ہیں۔ اور مہذب سماج میں رہنے والے لوگ ترقی یافتہ دور کے انسان۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وحشی قبائل میں مذہب کا جو تصور پایا جائے وہ ابتدائی مذہب کو بتاتا ہے۔ اور مہذب سماج میں جو مذہب ہے وہ مذہب کی ترقی یافتہ شکل کو بتاتا ہے۔ مگر یہ مفروضہ بہت جلدی میں قائم کر لیا گیا جب کہ حقائق اس کی تردید کر رہے تھے۔ مثال کے طور پر ایسے ابتدائی قبائل جن جن میں ایک برتر خدا کا عقیدہ موجود ہے، جب کہ بدھزم کو ماننے والے بہت سے ترقی یافتہ لوگ خدا کو نہیں مانتے۔ Essay in 'Man and his Gods' (Encyclopedia of the
یہ کرشمہ قرآن کا تھا اسلام سے پہلے عرب میں تعلیم بہت کم تھی بشنہ میں (بحری، الحسار) جیسے بڑے مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تبلیغی خط بھیجا۔ راوی کہتے ہیں کہ سارے علاقے اور قبیلہ میں ایک شخص بھی نہ تھا جو خط کو پڑھ سکے۔ تلاش کرتے رہے یہاں تک کہ ایک نوجوان ملا جس نے خط کو پڑھ کر سنایا۔ تقریباً اسی زمانہ کا واقعہ ہے، النمربن تو لب وہ ایک بڑے قبیلہ کے سردار تھے اور اتنے بڑے شاعر کہ ان کے اشعار کا ایک دیوان تیار ہوا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ان کے قبیلہ عکل (یمن) کا سردار مقرر کر کے ایک تحریری پروانہ عطا کیا۔ مگر وہ اس کو پڑھ نہیں سکتے تھے۔ بازار میں اگر پوچھنے لگے“ کیا آپ لوگوں میں کسی کو پڑھنا آتا ہے جو یہ خط پڑھ کر مجھے سنا دے۔ جاتا ہے کہ بعثتِ محمدی کے وقت شہر مکہ میں مشکل سے ڈیڑھ دو درجن آدمی ایسے مل سکتے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے مدینہ میں اس سے بھی کم عرب یہ فن جانتے تھے۔ لیکن دوسری صدی ہجری ہی میں عربی زبان علمی نقطۂ نظر سے دنیا کی متمول ترین زبان بن گئی۔ عربوں میں لسانی ترقی کا زمانہ اتنا مختصر ہے کہ دنیا کی پرانی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ حیرت انگیز واقعہ براہ راست قرآن کا کرشمہ تھا۔