روداد سفر
Al-Risala, March 1977, pp. 52–53
By Maulana Wahiduddin Khan
عمر آباد ریاست تامل ناڈو کی ایک چھوٹی سی بستی ہے جو دہلی سے تقریباً ۴۲ سو کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ جامعہ دارالسلام کے نام سے ایک دینی اور عربی مدرسہ ہے جو ۱۹۲۴ میں قائم ہوا تھا۔ ۱۷ ، ۱۸ اپریل ۱۹۷۷ کو اس کی گولڈن جوبلی "بین اقوامی سطح پر منائی گئی۔ خصوصی دعوت پر راقم الحروف کو اس میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ پہاڑوں اور درختوں کے درمیان مدرسہ کی بستی ایسا منظر پیش کرتی ہے جیسے وہ قدرت کی گود میں داغ ابتداء اس مدرسہ کا قیام ایک فرد کے شخصی حوصلہ کا کا حاجی محمد عمر (م ۱۹۷۲) اس علاقہ کے ایک غریب آدمی تھے۔ مگر نہایت دیانت دار اور باصلاحیت تھے۔ انھوں نے چمڑے کا کاروبار شروع کیا اور نیت کی کہ اللہ ان کے کاروبار کو ترقی دے تو وہ ایک مدرسہ قائم کریں گے۔ حالات نے مساعدت کی اور ان کی "روشن کمپنی" نے اتنی ترقی کی کہ وہ چمڑے کی تجارت کے "بادشاہ" کہے جانے لگے۔ ملک میں ان کی تقریباً ۰ شاہیں قائم ہو گئیں اور چمڑے کی برآمد سے انھوں نے بہت پیسہ کمایا۔
اب انھوں نے اپنی نیت پوری کی اور ۱۹۲۴ میں اپنے گاؤں کے قریب ایک زمین خرید کر موجودہ مدرسہ تعمیر کیا ہے ابتداء کا کا خاندان ہی بڑی حد تک اس کا کفیل رہا۔ اطراف کے لوگوں نے زمینیں، باغات اور مکانات اس پر کا کا حاجی محمد عمر صاحب کے بعد ان کے لڑکے کا کا محمد سمئیل (م ۱۹۵۹) اس کی سرپرستی کرتے رہے۔ اب بانی جامعہ کے پوتے کا کا محمد عمر اور کا کا سعید احمد بحیثیت سکریٹری اور جوائنٹ سکریٹری اس کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ۱۹۵۵ سے یہ مدرسہ ایک رجسٹرڈ کمیٹی کے تحت ہے، اوقات کی آمدنی، مقامی تاجروں کے تعاون اور حکومت کی گرانٹ کے ذریعہ اس کا خرچ پورا کیا جاتا ہے ۔
جامعہ دار السلام عمر آباد جس تعلیمی تصور کے تحت کام کرنا چاہتی ہے، اس کو جامعہ کے معتمد عمومی نے اپنے مختصر مقالہ میں ان لفظوں میں بیان کیا :
"- عصری درس گاہوں اور مذہبی درس گاہوں کے طلبہ کو ایک دوسرے سے قریب کرنا، کیونکہ اس تفریق سے بڑی نفرتیں اور دوری پیدا ہوتی جارہی ہے صرف طلبہ ہی کے درمیان نہیں اساتذہ کے درمیان بھی کوئی کسی کو سمجھنے یا قریب ہونے کی کوشش نہیں کرتے ایک دوسرے کو عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں جس میں اجنبیت کے ساتھ تحقیر بھی ہوتی ہے ۔
۲- نصاب تعلیم میں ایسی تبدیلیاں پیدا کرنا کہ طالب علم کا ذہن علمی اور تطبیقی بن جائے کیونکہ ایک دراز مدت گزار کر بھی دینی مدرسے کے طالب علم اپنے علم و عمل اور افکار و نظریات میں ہم آہنگی نہیں پیدا کر پاتا ۔ ۳- ایسے فارغین پیدا کئے جائیں جن کے پاس اجتہادی صلاحیتیں ہوں اور وہ تہذیب و تمدن اور ترقی یافتہ دنیا کو بتا دیں کہ اسلامی نظام ہر دور ہر ملک اور ہر حالت کے لئے موزوں اور سازگار ہے۔
ایسے داعی اور مبلغ نکالیں جو اسلام کا پیغام مشرق سے مغرب تک بڑی حکمت اور دانائی سے عام کرسکیں، اور دنیا کے آگے یہ ثابت کر کے رکھ دیں آج کا فکی انسان اسلامی تعلیمات کا جس قدر محتاج ہے شاید ہی پہلے رہا ہو۔ دنیا کا کھویا ہوا سکون واطمینان صرف اسلام ہی میں نصیب ہوسکتا ہے تھکی ہوئی بیٹھ
کو مذہب اسلام کی دیوار ہی سہارا دے سکتی ہے۔ ایک نیا نصاب تعلیم جس کی بدولت طالب علم دنیا کے تمام مذاہب، تحریکوں، تخریبی کوششوں اور غلط رجحانوں سے مکمل واقفیت حاصل کر سکے۔ یہ نصاب طالب علم کے لئے باعزت اور خوش حال زندگی کی ضمانت دے۔ اگر وہ سیکولر اسٹیٹ میں بھی دعوتِ دین کا کام کرنا چاہے!
گولڈن جبلی (المهدجان الذهبی) میں چند قسم کے پروگرام رکھے گئے تھے :
(۱) تعلیمی کانفرنس جس میں تعلیم کی اہمیت اور مسائل پر تقریریں ہوئیں (۲) مرکز تحقیقات اسلامی و تخصص فی الدعوة کا افتتاح۔ اس سلسلہ میں تقریریں ہوئیں اور مرکز کی مجوزہ عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ اسلامی نمائش جس میں اسلامی تاریخ اور تعلیمات ۳- جدید یا قدیم تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تصنیف و تالیف کی تربیت دینا۔
ہر چان میں شریک ہونے والوں کا ابتدائی اندازہ تین چار ہزار کا تھا۔ مگر آنے والوں کی تعداد تقریباً دس ہزار ہو گئی۔ ہندوستان کے علاوہ جن ملکوں کے وفود اس موقع پر شریک ہوئے، ان کے نام یہ ہیں: سعودی عرب، مصر، قطر، کویت، لیبیا ، اردن ، بحرین ، یمین، امارات عربیہ متحدہ ، زنجبار، سری لنکا، نیز مختلف عرب سفارت خانوں کے نمائندے۔ مجموعی طور پر بیرونی مہمانوں کی تعداد ۵۴ تھی ۔
ارباب جامعہ کی کوششوں سے پہلے ہی مدراس یونیورسٹی سے اس کا الحاق کرایا گیا تھا تاکہ " اس کے فارغین معاشی اعتبار سے قوم پر بوجھ نہ بنیں بلکہ خود کفیل رہ کر دین کی خدمت کریں ۔ " اپ مدینہ کی جامعہ اسلامیہ سے بھی کو چارٹوں کے ذریعہ نمایاں کیا گیا تھا۔ ایک سیٹھ صاحب کو یہ نمائش اتنی پسند آئی کہ اس کو دیکھنے کے بعد انھوں نے اعلان کیا: نمائش کے تمام اخراجات میں تنہا اپنی جیب سے ادا کرنے کے لئے تیار ہوں۔
جامعہ دارالسلام عمر آباد کا قدیم منصوبہ یہ تھا کہ وہ اپنے یہاں تصنیف و تالیف کا ادارہ قائم کرے، جہاں اسلام کا تحقیقی کام ہو۔ اب جشن طلائی کے موقع پر اس کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ اس ادارہ کے مقاصد یہ ہوں گے: ۱- جدید اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کرنا۔ جدید اسلامی موضوعات پر جو لٹریچر اردو یا عربی میں موجود ہے، اس کا انگریزی اور جنوبی ہند کی زبانوں (تیلگو، کنٹری، ملیالم، تمل) میں ترجمہ کرنا۔ اس کا الحاق ہو گیا ہے۔ سعودی عرب اور قطر وغیرہ سے آنے والے تعلیمی ذمہ داروں نے جشن طلائی کے موقع پر اعلان کیا کہ وہ جامعہ کے فارغین کو اپنے یہاں کی درسگاہوں میں مزید تعلیم کے لئے خوشی کے ساتھ قبول کریں گے۔ میں اس وقت طلبہ کی تعداد تقریباً دو سو ہے جن میں کچھ طلبہ سیلون، ملئشیا، مالدیپ اور نیپال کے بھی ہیں ۔ جنوبی ہند وہ مقام ہے جہاں تیرہ سو سال پہلے عرب تاجر اترے اور یہاں اسلام پھیلایا ۔ عرب دنیا میں پٹرول کی دولت ظاہر ہو کر عربوں کو دوبارہ نئی شکل میں یہ موقع دے رہی ہے کہ وہ دوسرے خطوں میں کام کرنے والے اسلامی اداروں کی تقویت کا باعث بن سکیں یہی وجہ ہے کہ آج کل ہندستان کا ہر مسلم ادارہ اپنے شعبہ نشر و اشاعت میں " عربوں سے روابط " کو خاص اہمیت دینے لگا ہے
ان کی زبردست کوشش رہتی ہے کہ اپنے اجتماعات کو عرب مہمانوں کے ذریعہ پر رونق بنا سکیں جو نہ صرف اپنی قرآنی زبان اور عربی لباس کی وجہ سے مسلم حاضرین کے لئے دل چسپی کا باعث ہوتے ہیں بلکہ تالیوں کی گونج میں اپنے ملکوں کی طرف سے گراں قدر مالی عطیات کا اعلان بھی اگرچہ دینی اداروں کے ان عطیات سے کہیں زیادہ مقدار ان کی ان فیاضیوں کی ہے جو وہ ساری دنیا میں سیکولر مقاصد کے تحت کام کرنے والے اداروں کو دے رہے ہیں۔
آج کل یہ صورت حال ہے کہ ہر مسلم ادارہ اپنے "ڈانس" پر عرب شخصیتوں کو بٹھانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ اور اگر کسی ادارہ کی دعوت پر کوئی عرب شخصیت ملک میں آگئی تو دوسرے تمام ادارے دوڑ دھوپ شروع کر دیتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس کو اڑا کر اپنے ادارہ میں لے جائیں اور وہاں اس کو شان دار استقبالیہ دے سکیں — "عرب پٹرول" نے نہ صرف دنیا کے اقتصادی نظریات کو متاثر کیا ہے بلکہ شاید خود ہماری دینی قدروں کو بھی بدل ڈالا ہے !
گولڈن جوبلی کے سہ روزہ پروگرام میں ملکی شخصیتوں کے علاوہ عرب مہمان بھی مسلسل شریک رہے جو مختلف عرب ممالک سے آئے تھے۔ ان کی رعایت سے تمام کارروائی عربی زبان میں ہوئی ۔ عربی تقریروں کے اردو ترجمے ہوتے تھے تاہم اس میں ایک خوشی کا پہلو بھی ہے۔ کیوں کہ اس سے قرآن کی زبان کو فروغ ملتا ہے اور ایسے لوگوں کی تعداد بڑھتی ہے جو خدا کی کتاب کو اس کی اصل زبان میں سمجھ سکیں۔ قرآن اپنی اصل زبان میں ایک حیرت ناک قسم کا طوفانی کلام ہے جو آدمی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے جب کہ ترجمہ کی زبان میں اس کا زور باقی نہیں رہتا۔
اس موقع پر جو تقریریں ہوئیں وہ عام طور پر رسمی اور سرسری قسم کی تھیں۔ کسی تقریر میں اگر کوئی قیمتی نکتہ آیا تو وہ بھی اکثر برجستہ ترجمہ میں چھوٹ گیا۔ مثال کے طور پر ایک عرب مقرر نے اپنی تقریر میں یہ آیت پڑھی: قُلْ ہٰذِہِ سَبِیْلِیْ اَدْعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِیْ۔ نے اس سے استنباط کیا کہ دعوت الی اللہ کی فرضیت جس طرح پیغمبر پر ہے اسی طرح آپ کے متبعین پر بھی ہے۔ قیمتی نکتہ اردو ترجمہ میں نہ آسکا۔
ایک عرب مقرر نے کہا کہ اسلام سے قبل یمن کے حبشی گورنر ابرہہ نے مکہ پر حملہ کیا۔ اس وقت وہاں کے مقامی عرب مکہ چھوڑ کر پہاڑوں میں بھاگ گئے۔ مگر یہی عرب صرف ۵۰ سال بعد روم اور فارس کی شہنشاہیتوں سے لڑ گئے، جو اس زمانہ میں ویسی ہی تھیں، جیسی آج کل امریکہ اور روس۔ آج کوئی بھی چھوٹی قوم، جیسے کہ اس زمانہ میں عرب تھے، روس اور امریکہ سے متصادم ہونے کی جرات نہیں کر سکتی۔ پھر عربوں کو کس چیز نے یہ حوصلہ اور یقین عطا کیا۔ مقرر نے کہا اور اردو تقریر میں عربی م ترجمہ کی جاتی تھیں۔ یہ رجحان کہ یہ الرمان اور اعتماد علی تھا جن سو سال سے گلی گلی اور اردو تقریری عربی میں ترجمہ کی جاتی ہے۔ ابھی حال ہی میں ہمارے مسلم اداروں میں پیدا ہوا ہے، ہندوستان میں ہونے والی کسی کانفرنس میں عربی زبان کے غلبہ کا محرک اگر چہ زیادہ تر وہی ہوتا ہے جس کے تحت اس سے پہلے مغل دور میں فارسی اور برطانوی دور میں انگریزی کا رواج کہ یہ ایمان اور احمدی اندھا بس کے دو سال کے درمیانی مدت میں ایک قوم کی کایا پلٹ دی۔
ایک عرب مقرر نے اپنی تقریر میں مسلمانوں کو مشورہ دیا: عليهم ان يهتموا بالحقائق لا بالشكليات ان کو چاہیے کہ حقیقت اور معنویت میں اپنے کو لگائیں نہ کہ
اشکال اور ظواہر ہیں ۔ مگر مہر جان کار نگار نگ ماحول اور رسمیّات کا اہتمام زبان حال سے کہہ رہا تھا کہ پرجوش مقرر شکلم ، اس نکتۂ خطابت کے لئے حاضرین سے کوئی داد پانے کی امید کر سکتے ہیں۔
جشن سیمین کی تقریبات کی ایک نشست میں مرکزی وزیر پیٹرولیم مسٹر ہیم دتی نندن ہو گنا بھی شریک ہوئے ۔ عربوں کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اپنی تقریر کا آغاز السلام علیکم در رحمتہ اللہ وبرکاتہ سے کرتے ہیں۔ مسٹر ہو گنا کی موجودگی میں اس قسم کی متعدد تقریریں ہوئیں۔ بعد کو جب وہ اسٹیج پر آئے تو انھوں نے بھی اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا " السلام علیکم " شری ہو گنا کی زبان سے اسلام علیکم سن کر سارا مجمع جھوم اٹھا اور دیر تک تالیاں بجتی رہیں پھر انھوں نے کہا کہ بھارت اور عربوں کے درمیان کوئی مال دولت کا رشتہ نہیں ہے، یہ ایمان کا رشتہ ہے۔ مال دولت کے رشتے ٹوٹ سکتے ہیں ۔ مگر ایمان کا رشتہ کبھی نہیں ٹوٹتا"۔ اس پر بھی خوب تالیاں بجیں ۔ کی کثرت کو دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہو گا کہ مسٹر ہو گنا کی تقریر سب سے زیادہ عوام پسند ثابت ہوئی، کئی عرب ملکوں کے نمائندوں نے اپنی تقریر کے بعد جامعہ دارالسلام کے لئے ڈالر اور پونڈ کے عطیات کا اعلان کیا تھا مسٹر ہو گنا نے کہا کہ ہندوستان ایک غریب ملک ہے، اس لئے میں آپ کی جامعہ کے لئے اس قسم کے کسی عطیہ کا اعلان نہیں البتہ ہم اپنی نیک خواہشات آپ کے لئے پیش
راقم الحروف نے اس موقع کے لئے ایک مقالہ تیار کیا تھا جس کا عنوان تھا :