دعوتِ اسلامی کے جدید امکانات
Al-Risala, March 1977, pp. 53–56
By Maulana Wahiduddin Khan
اس مقالہ کو تقریری شکل میں ملخصاً ۷راپریل کی شام کی نشست میں پیش کیا گیا۔ الرسالہ کی پہلی اشاعت میں یہ پورا مقالہ شائع ہو چکا ہے ۔
کئی درجن عرب مہمان جو مختلف ملکوں سے اس مہر جان میں آئے تھے، ان میں سے شاید کوئی مجھ کو شکل سے نہیں مگر غائبانہ طور پر تقریباً سبھی مجھ کو بخوبی جانتے تھے بلکہ میری عربی کتابیں پڑھے ہوئے تھے ۔ ایک دن شام کو ڈرائنس پر میری کرسی ایک یقینی عرب شیخ احمد عبدہ ناشر کے قریب ہوگئی۔ میں نے ادا سے کہا: ہل سمعت عن الکاتب الہندی بدیع الدین خان اس نے جواب دیا " کیا الاسلام تتحدی کے مولف"۔ میں نے کہا ہاں۔ پھر اس نے کہا، کیا آپ ہی وہ ہیں؟ نے مسکرا کر کہا شاید ۔ یہ سنتے ہی وہ بے قرار ہو گیا۔ نے کہا، میں نے آپ کی کتاب پڑھی ہے۔ بڑی عظیم کتاب ہے۔ پھر وہ عرب انداز میں مجھ سے اظہار محبت کرنے لگا۔ نے اپنے یہاں کے ایک ممتاز عالم کا پتہ دیا اور کہا کہ وہ آپ سے بہت متاثر ہیں، ان سے خط و کتابت کیجئے : الشیخ عبد المجید الزندانی رئیس مکتب التوجیہہ والارشاد العام صنعاء، الجمهورية العربية اليمنية اس کے بعد اس نے قریب کے دوسرے عربوں سے کہا " دیکھو یہاں شیخ وحید الدین ہیں" آپ دوسرے عرب حیرت کے ساتھ مجھ سے ملنے لگے۔
جنوبی ہند کے ایک بزرگ نے میرا نام پوچھا۔
نے کہا "عبد اللہ"۔ مگر یہ تو یہ کام نہ آسکا ۔ بعد ہی انھوں نے میرا اصل نام دریافت کر لیا اور اس کے بعد باصرار اپنی رہائش گاہ پر لے گئے ۔ جنوبی ہند کا علاقہ ہر اعتبار سے شمالی ہند سے اتنا مختلف ہے کہ بالکل دوسرا ملک معلوم ہوتا ہے۔ تاہم ان میں کثیر تعداد میری جاننے والی تھی خصوصاً اہل علم تو تقریباً سبھی جانتے تھے ۔ کسی اجتماع میں یہ صورت حال کبھی میرے لئے پسندیدہ نہیں ہوتی ۔ میری گوشہ گیر اور خلوت پسند طبیعت کو قلم نامی سب سے زیادہ محبوب ہے ۔ مگر یہ قلم بھی شاید ایک فتنہ ہے جو آدمی کو "تنہا" نہیں ہونے دیتا۔ حالاں کہ تنہائی سے زیادہ قیمتی کوئی چیز انسان کیلئے نہیں۔ عمر آباد میں میں نے ایک شخص سے کہا: میرا جی چاہتا ہے کہ میں "قلم" کا مشغلہ ترک کر دوں اور کسی مسجد میں معتکف ہو کر قرآن اور نماز میں مشغول ہو جاؤں۔ انھوں نے کہا، کیا آپ اس بات کو لکھ کر شائع کر سکتے ہیں ۔ میں نے جواب خصوصیت سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے ، وہ یہاں کی بے تعصبی ہے۔ یہاں مختلف فرقوں کے درمیان کسی قسم کی کوئی کش مکش نہیں۔ مذہب کے نام پر جھگڑے کا یہاں کوئی وجود نہیں۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کی معاشرت ، شمالی ہند کے برعکس ، یہاں تقریباً ایک ہی قسم کی ہے ۔ اس کی وجہ سے یہاں دونوں فرقوں کے درمیان قریبی کوئی اس مذہب کو مانتا ہے یا اُس مذہب کو، یہاں اس قسم کے سوالات پر کوئی اپنا دماغ نہیں خراب کرتا ۔
ان حالات نے جنوبی ہند کو دعوت حق کے کام کے لئے ایک آئیڈیل خطہ بنادیا ہے۔ یہاں نہایت عمدہ طور پر وہ کام ہوسکتا ہے جس کے لئے دوسرے مقامات پر طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ مواقع کی اس فراوانی نے مسلمانوں کو کوئی سبق سارے جنوبی ہند میں ، شمالی ہند ہی کی طرح ، دیا، کیوں نہیں۔ جو بات میرے دل میں ہے، اس کو چھپانے میں مجھ پر کیا عذر ہو سکتا ہے۔
اگرچہ قرآن میں عَلَّمَ بِالْقَلَمِ اور وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ جیسی آیتیں شامل ہیں۔ مگر ۷۲ برس تک قلم کا تجربہ کرنے کے بعد اب میری آخری تمنا یہ ہے کہ کسی سنسان مسجد میں روپوش ہو جاؤں۔ وہاں گم نامی کی زندگی گزاروں، نماز پڑھوں اور قرآن و حدیث میں مشغول رہوں اور اسی حال میں دنیا سے چلا جاؤں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میری یہ تمنا پوری ہو گی یا نہیں۔ کیونکہ دو چیزیں ہر وقت آدمی کا پیچھا کر رہی ہیں۔ ایک، ذمہ داری کا احساس،
شمالی ہند کے ایک مسافر کے لئے جنوبی ہند کی جو کوئی ایک بھی قابل ذکر جماعت نہیں جو دین کو پھیلانے اور دوسری اقوام میں اس کو متعارف کرنے کا کام کر رہی جس خطہ نے ہزار برس پہلے عرب تاجروں کا استقبال دین حق کے مبلغ کی حیثیت سے کیا تھا، آج وہ انہی عربوں کا استقبال اس حیثیت سے کرنے میں مسابقت دکھارہا ہے کہ وہ اپنے "پیٹرو ڈالر" کے خزائن کا کوئی جزو اس کی طرف بھی پھینک دیں۔ ہندوستان کے تمام دینی ادارے عربوں کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کوئی کلمات استغفار کی تلاوت کرتے ہوئے اس مقدس طواف میں مشغول ہے اور کوئی تکلف کو برطرف کرکے سیدھے سیدھے اس سنہری حوض میں داخل ہو جانا چاہتا ہے۔
جامعہ دارالسلام کے معتمد عمومی نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں یاد دلایا کہ جنوبی سندھ کا خطہ وہ مقام ہے جہاں عرب تاجر سب سے پہلے اترے اور اسلام کو پھیلایا : "آج ہماری چشم تمنا دعا کے ہاتھ پھیلائے منتظر ہے کہ عرب کی ارض مقدس سے پھر کوئی قافلہ تجارت رواں دواں ہوجس کے کچھ انوار و آثار بھی دکھائی دے رہے ہیں جو اپنے ہمراہ قدرت کے عطا کردہ دنیوی مال تجارت کے ساتھ اخروی تجارت کا سرمایۂ نجات بھی رکھتا ہو اور اس طرح اور ایک بار دکھی انسانیت اسلام کی روحانی و اخلاقی فتوحات کا نظارہ کر سکے اور پوری دنیا اسلام کے نور سے جگمگا اٹھے۔
۲۱ اپریل کو جب کہ میں تامل ناڈو سیر فاسٹ ایکسپریس سے واپس آرہا تھا، چیئر کار میں میری نظر سامنے کی پلیٹ پر پڑی۔ لکھا ہوا تھا:
PLEASE DO NOT PLAY RADIO EXCEPT WITH AN EARPHONE یعنی ریڈیو مت بجائیے۔ اگر بجانا چاہیں تو بالکل آہستہ بجاکر کان کے آلہ کے ذریعہ خود سن لیجئے ۔
تاہم یہ ضابطہ صرف مسافروں کے لئے تھا۔ خود ریلوے کو گویا یہ لائسنس ملا ہوا تھا کہ وہ اپنے اہتمام میں پرشور طور پر ٹیلی وژن چلائے اور اپنے نظام کے تحت بجائے ہوئے ریڈیو کے جب ٹیلی وژن چلتا تو ساری نگاہیں اس کے شیشہ پر لگ ایک سردار جی نے گلاس میں شراب کے ساتھ برف اور کو کا کولا ملایا اور لطف لے کر پینے لگے۔ کچھ لوگ اپنے بیوی بچوں میں مشغول تھے اور کچھ کھانے پینے میں۔ کچھ تاش کے ذریعہ وقت گزاری کر رہا تھا۔ کوئی ناول اور افسانہ کا مطالعہ کر رہا تھا۔ ایک طرف بند ڈبہ کے اندر یہ مشاغل جاری تھے۔ طرف ڈبہ کے باہر قدرت کی دنیا اپنی ساری رعنایوں کے ساتھ سپر فاسٹ ایکسپریس ہندوستان کے سر سبز میدانوں اور پہاڑیوں سے گزرتے ہوئے گویا فطرت کی لامتناہی ریل ہمارے سامنے کھول رہی تھی۔ ہرے بھرے درختوں کے سلسلے، پھیلا ہوا آسمان، بادلوں کے آفاقی مناظر، سورج کی ضیا پاشیاں، یہ ساری چیزیں ایک عظیم کائناتی شو کی طرح مسلسل آنکھوں کے سامنے سے گزر رہی تھیں۔ زندگی، عظمت، حسن اور معنویت کی جو اتھاہ کہانی اس خاموش کائناتی ٹیلی وژن سے نشر ہو رہی تھی اس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ کو ڈبے کے اندر کے کھلونوں سے فرصت نہیں تھی کہ وہ باہر کی عالمی رونقوں کو دیکھ سکیں۔ ہر ایک نے اپنے قریب ایک مشغلہ تلاش کر لیا تھا اور اسی میں وہ مشغول تھا۔ سوچا: لوگ کہتے ہیں کہ خدا ہے تو وہ ہم کو نظر کیوں نہیں آتا۔ وہ لوگ جو سامنے کی کثیف کائنات کو دیکھنے کی نگاہ بھی کے تھے پردوں پر جور رہتے۔ ایر کنڈیشنڈ بوگی ہمارے اور باہر کے شور کے درمیان حائل تھی مسافروں کے ممکنہ شور سے بھی ہم بچے ہوئے تھے، مگر ریلوے کے اوپر کون قدغن لگا سکتا تھا جو "نوائز پلیوشن" کا لامحدود حق اپنے لئے محفوظ کئے اگر لوگ اپنے لئے بھی وہی پسند کرنے لگیں جس یہ رہتے ہوں، دُعا اس سے بے پناہ تیف خدا کی ہی کا مشاہدہ کس طرح کر سکتے ہیں۔ خالق کو دیکھنے کے لئے مخلوق کو دیکھنے کی نظر پیدا کرنی پڑتی ہے۔ جو مخلوق کو نہ دیکھ سکے، وہ خدا کو بھی نہیں دیکھ سکتا۔ خالق نے اپنی صنعت کا شاہکار ہمارے سامنے رکھ دیا ہے جو لوگ اس کی بے قدری کریں کی تلقین وہ دوسروں کو کرتے ہیں تو دنیا کے کم از کم آدھے مسئلے یک لخت حل ہو جائیں۔
وہ جیسے توقع کرتے ہیں کہ خدا اپنی تجلیات لوان کے اوپر ظاہر کرے گا۔
تھی اپنی کامل عوریاں شکل میں صرف آخرت ہی ظاہر ہوگا۔ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے یہاں کے لئے اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ یہاں وہ حق کو مشتبہ اور ملتبس شکل میں سامنے لے آتا ہے (انعام۔ ۹) وہ حق کے علم بردار کو فرشتہ کی صورت میں کھڑا بلکہ اس کے اوپر بشریت کا لباس اوڑھاتا ہے ۔ تاکہ لوگوں کو وہ اپنے ہی جیسا ایک انسان دکھائی دے :
"نبی نے جب اپنی قوم کو حق کا پیغام دیا تو انکار کرنے والوں نے کہا، ہم تو دیکھ رہے ہیں کہ تم ہمارے ہی جیسے ایک آدمی ہو اور ہم دیکھتے ہیں کہ تمھارا ساتھ صرف ان تھوڑے سے لوگوں نے دیا ہے جو ہم میں پست ہیں اور جن کی سمجھ بھی کم ہے۔ اور تمھارے اندر ہم کو اپنے مقابلہ میں کوئی بڑائی بھی دکھائی نہیں دیتی۔ ہمارا تو خیال ہے کہ تم خدا کے نمائندے نہیں ہو، تم صرف جھوٹا دعویٰ کر رہے ہو۔ مومن اور غیر مومن کی تعریف اگر حقیقت کی زبان میں کی جائے تو یہ ہو گی :
مومن وہ ہے جو دلیل اور معقولیت کے الفاظ میں بات کو سمجھ لے۔ غیر مومن وہ ہے جو بات کو صرف اس وقت سنے گا جب کہ خدا کی چنگھاڑ بلند ہو، اگر چہ اس وقت کا سننا کسی کے کچھ کام نہ