روزہ
Al-Risala, September 1977, pp. 2–3
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے، روزہ یہ ہے کہ آدمی علائق دنیا سے اپنے آپ کو کاٹ لے۔ اس قسم کی روزہ داری سے کیا فائدہ حاصل کرنا ایک لفظ میں یہ کہ انسانی وجود کا مادی پہلو کمزور ہو اور اس کی روحانیت بڑھے تاکہ عالم قدس سے اس کا اتصال ممکن ہو سکے جسم کی مادی غذا کے مقابلہ میں روزہ کا مقصد روح کو معنوی غذا پہنچانا ہے۔
آدمی جب اپنے آپ کو مادی دنیا سے اٹھاتا ہے اور روحانی دنیا سے مربوط ہوتا ہے تو حیرت انگیز طور پر وہ محسوس کرتا ہے کہ علم حقیقت کا ایک نیا دروازہ اس کے سامنے کھل گیا ہے۔ وہ سارے واقعات جو مادی غلاف میں لپٹے ہونے کی وجہ سے اس کو دکھائی نہیں دیتے تھے، اب اسے نظر آنے لگتے ہیں۔ وہ اس بلندی پر پہنچ جاتا ہے جو انسان کی آخری معراج ہے۔ اسی راہ سلوک کا ایک مقام وہ ہے جب آدمی مادی غلاف سے اتنا زیادہ گزر جاتا ہے کہ عالم حقائق اس کو بالکل بے نقاب شکل میں دکھائی دینے لگتا ہے۔ روزہ کی یہی حکمت ہے جس کی بنا پر قرآن میں، حکم روزہ کے درمیان، یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ بندوں کے قریب ہے اور پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہے۔
قبر کا دروازہ ١ عمل کی مصنوعی سطح ۳ نبوت محمدی : ایک عظیم احسان ۴ خارجی ہدایت کی ضرورت ۵ فطرت میں توازن ۶ علوم اسلامی کی تدوین ۷ المركز الاسلامی ۸ ڈرواس سے جو وقت ہے آنے والا ۹ کام کی برتر سطح ۱۰ ستاروں کی دنیا ۱۱ حبش کی ہجرت ۱۲ تاریخ کا مطالعہ ۱۳ الاسلام : ایک رائے ۱۴ ایجنسی الرسالہ کی شرائط ۱۵ بلند فکری ۱۷ خلیج کے کنارے ۱۸ کائنات کی خاموش زبان ۱۹ تعارف و تبصرہ ۲۰ ڈاکٹر کی ضرورت نہیں جمعیتیہ بلڈنگ ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی - ۶
عمل کی حقیقی سطح پر آدمی ناکام رہتا ہے، اور مصنوعی سطح پر کامیابی کے جھنڈے لہرا رہا ہے امریکہ میں انسانی حقوق کے عنوان پر ایک بین اقوامی سمینار ہو، اس کے لئے آپ کے پاس دعوت نامہ آئے، آپ ہوائی جہاز سے اڑ کر امریکہ پہنچیں اور وہاں شان دار اسٹیج پر ایک تقریری ریکارڈ دہرائیں ۔ تو یہ خبر فوراً اخبار میں چھپ جائے گی ۔ اس کے برعکس اگر آپ کو آخرت کا ڈر ہے ۔ اور جہنم کے اندیشے کے تحت آپ لوگوں کے حقوق ادا کرتے ہیں تو یہ واقعہ کبھی اخبار کی سرخی نہیں بنے گا ۔ آخر الذکر ، عمل کی حقیقی سطح ہے ۔ اول الذکر ، عمل کی مصنوعی سطح ۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ہر شخص ، خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی ، عمل کی مصنوعی سطح پر زندگی گزار رہا ہے ۔ امور میں تو خوب کار نامہ دکھاتا ہے جن میں نیوز ویلو ہو ، جن سے اس کی امیج بنتی ہو، جن میں عزت و جاہ کے استقبالئے وصول ہوتے ہوں ، جن میں حق کی علم برداری کا عالمی کریڈٹ ملتا ہو، جو اس کو اخبار کی سرخیوں میں جگہ دینے والے ہوں ۔ مصنوعی سطح کی چمک دمک نے لوگوں کو اتنا زیادہ اپنی طرف کھینچ رکھا ہے کہ عمل کی حقیقی سطح کی طرف توجہ دینے کی کسی کو فرصت نہیں۔ دوسری طرف لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر ان سے کوئی معاملہ پڑ جائے تو وہ کچے ثابت ہوں، کسی سے اختلاف پیدا ہو تو انصاف پر قائم نہ رہ سکیں، ان کی غلطیاں روز روشن کی طرح واضح ہو جائیں جب بھی وہ اعتراف نہ کریں۔ ایک مظلوم ان سے بے لاگ فیصلہ کی امید نہ کر سکے۔ کھلی کھلی نشانیاں ظاہر ہوں مگر وہ عبرت نہ پکڑیں ۔ وہ اپنے دل کو حسد ، بغض ، کینہ ، نفرت ، عصبیت سے پاک نہ کریں۔ وہ طاقت کے آگے جھک جائیں ، مگر دلیل کے آگے جھکنے کے لئے تیار نہ ہوں۔ خدا کی آیتیں سن کر ان کے دل نہ دہلیں اور آخرت کی جواب دہی کے خوف سے ان کے جسم کے رونگٹے کھڑے نہ ہوں ۔
لوگ عمل کی مصنوعی سطح پر کامیابی کے جھنڈے لہرا رہے ہیں ۔ اور عمل کی جو حقیقی سطح ہے وہاں ناکامی کے گڑھے میں پڑے ہوئے ہیں۔ جلسوں اور کنونشنوں کی دھوم ہے، جہاد اور انقلاب کے نعرے لگ رہے ہیں۔ دوسری طرف خاموش تعمیری کام کا سارا میدان خالی پڑا ہوا ہے اور اس کے لئے کوئی نہیں اٹھتا۔