علوم اسلامی کی تدوین
Al-Risala, September 1977, pp. 15–18
By Maulana Wahiduddin Khan
عقبہ بن نافع تابعی (۶۲ھ) یزید بن معاویہ کی خلافت کے زمانہ میں افریقہ میں اسلامی فوجوں کے سپہ سالار وہ مغربی افریقہ کے ملکوں کو فتح کرتے ہوئے اٹلانٹک کے ساحل تک پہنچ گئے۔ شہرِ اسفی ان کی آخری منزل تھی۔ وہاں انھوں نے اپنا گھوڑا سمندر میں ڈال دیا اور اس کے پانی میں کھڑے ہو کر کہا:
اللهم انى لو اعلم وراء هذ البحر بلد الخضته الیه خدایا، اگر میں جانتا کہ اس سمندر کے اُس پار بھی کوئی ملک حتى لا يعبد احد دونك ہے تو میں سمندر میں گھس کر وہاں جاتا یہاں تک کہ تیرے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔
وہ لوگ جو دورِ اول میں قرآن پر ایمان لائے، اور جنھوں نے براہ راست پیغمبر خدا سے تربیت حاصل کی تھی، ان کے اندر سب سے زیادہ ابھرا ہوا جذبہ یہی تھا کہ وہ خدا کے پیغام کو خدا کے تمام بندوں تک پہنچا دیں۔ ان کا یہ جذبہ اس وقت تک تھمتا ہوا نظر نہ آتا تھا جب تک سارے جہان کے لوگوں کو اللہ کا بندہ نہ بنالیں۔ بعد کی صدیوں میں اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کرنے والا انتہائی حیرت کے ساتھ دیکھتا ہے کہ یہ جذبہ دھیرے دھیرے ختم ہوگیا۔ قریبی صدیوں میں جب اسلام کو زوال ہوا تو اس کو از سر نو زندہ کرنے کے لئے کتنی ہی عالی شان تحریکیں اٹھیں۔ مگر کوئی بھی قابلِ ذکر تحریک دعوت الی اللہ کے مقصد کو لے کر اٹھنے والی نہیں ملتی۔
جو قرآن صحابہ و تابعین نے پڑھا تھا، وہی قرآن بعد کے لوگوں نے بھی پڑھا، پھر کیا وجہ ہے کہ جس قرآن نے اپنے اولین مخاطبین کے اندر دعوتِ اسلام کی آگ لگا دی تھی وہی قرآن بعد کے لوگوں کو دعوت کے عنوان پر کھڑا کرنے کا باعث نہ بن سکا۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ صدر اوّل میں قرآن براہِ راست طور پر لوگوں کے لئے علم دین کا ماخذ تھا۔ جب کہ بعد کے دور میں وہ انسانوں کے پیدا کردہ علوم کے ہالہ میں چھپ گیا۔
قرآن ایک اساسی کتاب ہے جس میں دین کے تمام بنیادی مسائل بتائے گئے ہیں ۔ اب ضرورت ہے کہ ان اساسات کی بنیاد پر اس کی مزید تعیین (مخل - ۴م) کر کے اس کو لوگوں کے لیے میسر الفہم بنا دیا جائے ۔ اس تعیین کا واضح نمونہ سنت رسول اللہ میں موجود تھا۔ مگر بعد کے دور میں قرآن کی تعیین و تفصیل تر سنت کے سادہ طریقے کے بجائے فنی طریقہ اختیار کر لیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیدھے سادے دین محمدی کے بجائے ایک پیچیدہ قسم کا متوازی دین وجود میں آ گیا جس کا تانا بانا فقہی اصطلاحات ، متکلمانہ موشگافیوں اور تصوفانہ اسرار و رموز سے تیار ہوا تھا ۔ نے اصحاب رسول سے دین کو پایا تھا، انھوں نے دین کو اس طرح فن بنانے پر سخت احتجاج کیا۔ ان کے نزدیک یہ یہود و نصاری کی نقل تھی نہ کہ سنت محمدی کی پیروی ۔ مگر عوام اور حکمران چونکہ کیفیات دین سے خالی ہو چکے تھے ، اس لئے مشکل دین ان کے زیادہ حسب حال تھا ، ان کی تائید کے زور پر وہ بڑھتا رہا ۔ تاریخ کا تجربہ ہے کہ جب طویل مدت گزر جائے تو ماضی
کی ہر چیز مقدّس بن جاتی ہے۔ چنانچہ وقت گزرنے کے ساتھ اس متوازی دین میں تقدّس کا عنصر بھی شامل ہوتا چلا گیا۔ حتیٰ کہ اب کوئی شخص یہ سوچ یں سکتا کہ فقہ کی کتابوں میں کوئی مسئلہ ایسا بھی ہو سکتا ہے جو قرآن وسنت کی منشا کے مطابق نہ ہو۔ صوفیا کے ملفوظات اور قصّوں میں کسی غلطی کا بھی امکان ہے۔ یا مروّجہ معقولات میں بھی کوئی چیز ایسی ہوسکتی ہے جس کو غیر معقول کہا جائے ــــــــ اس کے بعد قرآن کو جہاں جگہ مل سکتی تھی، وہ صرف برکت کا خانہ تھا۔ برکت کی حیثیت سے کتاب تلاوت بن کر رہ گیا۔ حتیٰ کہ جن لوگوں نے قرآن کی تفسیریں لکھیں، ان کے سامنے بھی یا تو ’’ثواب‘‘، حاصل کرنا تھا یا یہ تھا کہ فقہ، تصوّف یا معقولات میں اپنے مخصوص نقطہ نظر کو خدا کی کتاب سے ثابت کر دکھائیں۔ الا ماشاء اللہ۔
یہ کہنا صحیح ہوگا کہ فقہ اور تصوّف اور علم کلام کی شکل میں جو اضافے اسلام میں ہوئے، ان کا سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ قرآن کا سرا امت کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ ان اضافوں نے دین کو ایک قسم کا فن بنا دیا۔ کتاب الہیٰ میں جو چیز سادہ اور فطری انداز میں بتائی گئی تھی، اس میں اپنی طرف سے موشگافیاں کر کے نئے نئے مسئلے پیدا کئے اور بطور خود بے شمار اصطلاحات وضع کیں تاکہ ان کو فنی انداز میں بیان کیا جاسکے۔ اس طرح دین خداوند ی ایسے احکام ومسائل کا مجموعہ بن گیا۔ جو صرف فنی کتابوں کے مطالعہ سے جانا جاسکتا ہو۔ کتاب الہیٰ کے ذریعہ اس کو معلوم کرنا ممکن نہ ہو۔ آج کسی کو نماز کے ’’مسائل‘‘ جاننا ہوں تو اس کے حاشیہ خیال میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ وہ اس مقصد کے لئے قرآن کا مطالعہ کرے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نماز کے مسائل تو فقہ کی کتابوں میں ملیں گے۔ کسی کو روحانی ترقی مطلوب ہو تو اس کو بھی یہ خیال نہیں آئے گا کہ خدا کی کتاب لے کر بیٹھے اور اس میں روحانی سلوک کے طریقے تلاش کرے۔ یہ کرتا ہے کہ کسی ’’بزرگ‘‘، کے پاس پہنچ جاتا ہے، کیونکہ اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ فنِ روحانیت کے آداب تو فنِ روحانیت کے کسی ماہر ہی سے معلوم کئے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح کسی کو یہ شوق ہو کہ وہ اسلام کی دعوت کو عقلی طور پر مدلّل کرے تو وہ قرآن میں اس کے نکتے نہیں ڈھونڈے گا بلکہ معقولات میں غرق ہو جائے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس فن کی باریکیاں صرف معقولات کی کتابوں سے حاصل کی جاسکتی ہیں ــــــــ قرآن اس لئے اتارا گیا تھا کہ لوگ اس میں ۲۹) کرکے اپنے لئے رہنمائی حاصل کریں ۔ مگر قرآنی تعلیمات کو فن بنانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن، کتاب تدبّر نہ رکا، کتاب تلاوت بن گیا جس کا آخری استعمال یہ تھا کہ اس کو ہر روز یا ہر ہفتہ بس ’’ختم‘‘ کر لیا جایا کرے لوگ اپنے دین کو اپنے احبار و رہبان سے اخذ کرنے لگے اور قرآن کو برکت کی حیثیت سے جزو دان میں لپیٹ کر رکھ دیا۔ ایسا ہونا بالکل فطری تھا، کیوں کہ جن نکتوں اور موشگافیوں کو انھوں نے دین سمجھ رکھا تھا، وہ قرآن کے اندر موجود ہی نہ تھے۔ خدا کی کتاب سے محرومی کا یہ معاملہ اسی حد پر نہ رہا بلکہ وہ ہماری پوری زندگی پر چھا گیا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے تمام ضروری امور کی تفصیل بیان کر دی ہے (اسرار۔ ۱۳) وہ ہر معاملہ میں مومن کی ذہنی غذا ہے۔ مگر مذکورہ عمل کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ ذہن ہی ختم ہو گیا کہ اسلام اور ملّت اسلام کے تمام مسائل کو ہم قرآن میں تلاش کریں، قرآن کو خالی الذ ہن ہوکر دیکھئے تو بلا اشتباہ نظر آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں انسان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نہ وہ اس بات کو جانے کہ مرنے کے بعد اسے
اپنے رب کے سامنے حساب کے لئے کھڑا ہونا ہے۔ اس آنے والے دن سے تمام قوموں کو باخبر کرنا ہی امت محمدی کا اصل مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس دور میں اٹھنے والی بے شمار تحریکوں میں سے کوئی بھی قابلِ ذکر تحریک ایسی نہیں جو اس خاص مقصد کو لے کر اٹھی ہو۔
موجودہ زمانہ میں جو لوگ احیائے اسلام کے لئے اٹھے، وہ اگرچہ عالم تھے اور قرآن کو پڑھتے تھے مگر ان کا شاکلہ فقہ اور تصوف اور علمِ کلام نے بنایا تھا۔ یہی چیز ہے جس نے قرآن کی صراطِ مستقیم سے لوگوں کو ہٹا دیا۔ ان میں سے جن کے اوپر کلامیات کا غلبہ تھا، اس کے ذہن میں خدمتِ دین کے شوق نے مناظرہ کی صورت اختیار کرلی، جو لوگ متصوفانہ ذہن رکھتے تھے، وہ خانقاہی طرز کی تعلیم و تربیت میں ملت کا مستقبل تلاش کرنے لگے۔ اسی طرح جن کا ذہن فقہ کے سانچے میں بنا تھا، وہ اسلام کو بطور ایک ”نظام“ کے دیکھنے لگے، جس کو بروئے کار لانے کی واحد شکل یہ تھی کہ حکومتِ الہیہ قائم کرکے اسلام کے دیوانی اور فوجداری قوانین کو نافذ کیا جائے۔ یہ نقطہ نظر عوام تک میں اس طرح سرایت کرگیا کہ اسلام کے اصل کام کے لئے ان کے اندر کوئی اپیل نہیں رہی۔ ان کی فہرست میں صرف دو کام ثواب کے کام کی حیثیت سے باقی رہ گئے۔ مسجدوں اور مدرسوں کی تعمیر کے لئے چندے دینا، یا ”بزرگوں“ کی خدمت میں نذرانہ پیش کرنا۔ ان کے سوا کوئی اور کام انھیں دینی کام نظر نہیں آتا، اس لئے اس میں ان سے تعاون کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔
ایک خالی الذہن شخص ہمارے اسلامی کتب خانہ کو دیکھے تو وہ حیرت انگیز طور پر ایک اختلاف کا مشاہدہ کرے گا۔ یہ دین منزّل اور دین مدون کا اختلاف ہے جو بہت بڑے پیمانے پر اسلام کے اندر پیدا ہوگیا ہے۔ خدا کا دین قرآن و حدیث میں ایک سادہ اور فطری چیز نظر آتا ہے۔ وہ دلوں کو گرما تاہے اور عقل میں جلا پیدا کرتا ہے۔ مگر یہی الہی علوم جب انسانی کتابوں میں مدون ہوکر ہمارے سامنے آتے ہیں تو اچانک وہ ایک ایسی شکل اختیار کرلیتے ہیں جس میں خشک بحثوں کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ ان میں نہ دلوں کے لئے گرمی ہے اور نہ عقل کے لئے روشنی۔ قرآن میں بھی فقہ ہے مگر وہ کنز الدقائق (ابو البرکات نسفی) کی فقہ سے مختلف ہے۔ قرآن میں بھی تصوف ہے مگر ضیاء القلوب (حاجی امداد اللہ مہاجر مکی) کے تصوف سے اس کو کوئی مشابہت نہیں۔ اسی طرح قرآن میں بھی معقولات ہیں مگر شمس بازغہ (ملا جیون جونپوری) کی معقولات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ علوم اسلامی کی تدوین بذاتِ خود کوئی غیر مطلوب چیز تھی ۔ وہ بلا شبہ مطلوب تھی۔ اس نے بعد کی صدیوں میں جو رخ اختیار کر لیا وہ صحیح نہ تھا۔ اسلامی علوم کی تدوینِ تذکیری طرز پر مطلوب تھی نہ کہ فنی طرز پر جیسا کہ عملاً وقوع میں آیا۔ دین کو ذکر و نصیحت کی خاطر آسان (قمر۔ ۱۷) بنایا گیا تھا۔ مگر ہم نے اپنی پیچیدہ بحثوں سے اس کو مشکل بنا دیا۔
قرآن کو ذکر یعنی نصیحت (یٰس - ۶۹) کہا گیا ہے۔ قرآن میں غور و فکر (ص۔ ۲۹) اور علمی اضافہ (ز مر - ۳۹) وہی مطلوب ہے جس سے ذکر اور نصیحت حاصل ہو۔ مزید یہ کہ علوم قرآنی کی تفصیل و تبیین کس طرح کی جائے، اس کا بھی واضح نمونہ سنتِ رسول میں موجود تھا کیونکہ آپ اس کے لئے خدا کی طرف سے مامور تھے (نحل - -۴۴) اور آپ نے اس کو
انتہائی مکمل شکل میں انجام دیا۔ یہ تمام چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ علوم اسلامی کی تدوین کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس میں فنی اضافہ کیا جائے یا اللہ اور رسول نے جو احکام دئے ہیں ، ان میں مزید استخراج کر کے نئے نئے مسائل وضع کئے جائیں اور قرآن ، جس میں امام غزالی کے نزدیک صرف پانچ سو احکام ہیں، اس کو پانچ سو ہزار احکام کا مجموعہ بنا دیا جائے۔ علوم اسلامی کی تدوین کا مطلب صرف یہ ہے کہ اس میں بطور تمہین و تفصیل وہ چیزیں شامل کی جائیں جن میں ذکر اور نصیحت کا سامان ہو۔ قرآن میں ہم کو جو باتیں بتائی گئی ہیں ، ان کے بارے میں جہاں یہ ہے کہ ان کو مضبوطی سے پکڑو، اسی کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ قرآن کے بیانات پر غور اور تدبر کرو (ص۔ ۲۹) قرآن میں تفصیلات اور معانی کی تلاش بجائے خود ایک پسندیدہ چیز ہے۔ مگر یہ تلاش تذکیر و نصیحت کے اجزاء تلاش کرنے کے لئے ہونا چاہئے نہ کہ فنی تعینات اور قانونی فروعات ڈھونڈنے کے لئے۔
آج اگر کسی بستی کے لوگ دار الافتاء کو یہ مسئلہ لکھ کر بھیجیں کہ ہماری مسجد کا مسقف حصہ نمازیوں کی بڑھی ہوئی تعداد کے لئے تنگ ہورہا تھا اور مسجد کے موجودہ رقبہ میں اضافہ کی صورت نہ تھی۔ اس لئے ہم نے مسجد کے پورے صحن پر چھت اب مشکل یہ پیش آگئی کہ مسجد میں صحن باقی نہ رہا۔ ایسی حالت میں کیا موسمی ضرورتوں کے تحت مسجد کی کھلی چھت کو نماز کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے ، تو ہمارا مفتی فوراً ایک شرعی مسئلہ کی حیثیت سے اس کا جواب دینے بیٹھ جائے گا اور لکھے گا کہ فلاں فلاں شرطوں کے ساتھ مسجد کی چھت کو نماز کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حالاں کہ ہر چیز کو ”شرعی مسئلہ بنانا قطعاً اسلام کے خلاف ہے۔ یہ تو وہ یہودیت ہے جس کو مٹانے کے لئے نبی آخر الزماں کو مبعوث کیا گیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے زمانے میں یہ حال تھا کہ جب اس قسم کا کوئی سوال کیا جاتا تو سائل کو کوئی متعین جواب نہ دیا جاتا بلکہ یہ کہا جاتا کہ یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے۔ اپنے حالات کے لحاظ سے جیسا مناسب سمجھو وہ ایسا کرلو۔ احادیث و سیر کی کتابوں میں کثرت سے اس قسم کی مثالیں ملتی ہیں کہ کسی سوال کے جواب میں ”مسئلہ “ بتانے کے بجائے خود سوال کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ مگر آج کے فقیہہ اور مفتی کے یہاں اس قسم کا کوئی خانہ نہیں۔ اس کے یہاں ہر چیز ایک شرعی مسئلہ ہے اور ہر بات کے جواب میں وہ اپنی فقہ کی کتابوں سے کوئی نہ کوئی جزئیہ دریافت کر لیتا ہے جس کی روشنی میں وہ سائل کو مسئلہ کی شرعی صورت بتا سکے۔
نزولِ قرآن کے وقت یہود سے کہا گیا تھا :
وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ یہ نبی ان پر سے وہ بوجھ اُتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔
(اعراف - ۱۵۷)