عَلَيْهِمْ
Al-Risala, September 1977, pp. 18–20
By Maulana Wahiduddin Khan
مطلب یہ کہ یہودی فقیہوں نے اپنی قانونی موشگافیوں سے اور ان کے روحانی مقتداؤں نے اپنے تو رع کے مبالغوں سے ان کی زندگی کو جن بوجھوں کے نیچے دبارکھا ہے اور جن خود ساختہ بندشوں میں انھیں جکڑ رکھا ہے ، یہ پیغمبر ان سے انھیں آزاد کرتا ہے اور دین خدا وندی کو اس کی بے آمیز شکل میں ان کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ آج پیغمبر آخر الزماں کی امت خود انھیں ” اصرا و اغلال “ کے نیچے دب چکی ہے۔ ان کے فقہا رموشائخ نے اسلام میں وہ سارے اضافے کر ڈالے ہیں
جو یہودی فقیہوں اور فریسیوں نے شریعت موسوی میں کئے تھے۔ آج اسلام کی تجدید کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ اسلام کو ان تمام اضافوں سے پاک کر دیا جائے۔ جب تک یہ کام نہ ہو اسلام کو زندہ کرنے کی طرف کوئی اگلا قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔
خدا کے دین کو فن بنانا بظاہر ایک حسین یا کم از کم بے ضرر چیز معلوم ہوتا ہے۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے وہ نہایت یہ دلوں کے اندر قساوت پیدا کرتا ہے اور لطیف احساسات کو آدمی سے چھین لیتا ہے۔ قرآن و حدیث میں خدا کا دین جس زبان میں ہے، وہ انذار و تبشیر کی زبان ہے، وہ تذکیر و نصیحت کی زبان ہے۔ یہ دونوں انداز ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہیں اور بالکل مختلف قسم کے نتائج پیدا کرتے ہیں۔ قرآن و حدیث کا انداز آدمی کو حقائق و معانی کی طرف متوجہ کرتا ہے، جبکہ ہمارے فنّی علوم اس کو جزئیات میں مشغول کر دیتے ہیں۔ قرآن و حدیث کے انداز سے آدمی کے اندر تفکر و تدبر پیدا ہوتا ہے جب کہ فنّی علوم بحث و جدال کے لامتناہی دروازے کھول دیتے ہیں۔ حدیث کا انداز آدمی کے احساسات کو اس طرح جگاتا ہے کہ یوم الحساب کا مسئلہ اس کو سب سے بڑا مسئلہ نظر آنے لگتا اس کے برعکس فنی علوم آدمی کو لایعنی قسم کی منطقی موشگافیوں میں الجھا کر اس کو زندگی کے اصل سوالات سے دور کر دیتے ہیں۔ اس طرح یہ فنّی علوم ، بظاہر ہر جائزة علوم ہونے کے باوجود، باعتبار نتائج اس مقصد کے لئے قاتل بن گئے ہیں جس کے لئے اللہ نے قرآن اتارا اور اپنا رسول بھیجا تھا۔
اس صورت حال کی اصلاح کی کوئی بھی شکل اس کے سوا نہیں ہے کہ قرآن و حدیث کو حقیقی معنوں میں لوگوں کے لئے دین اخذ کرنے کا ذریعہ بنا دیا جائے، جس طرح اب وہ فنون کی کتابوں سے اپنا دین اخذ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر نماز کے بارے میں تمام بنیادی باتیں قرآن میں موجود ہیں۔ اس کے بعد اس کے ضروری مسائل حدیث اور آثار صحابہ میں مل جاتے ہیں۔ اب مسائل نماز پر ہماری جو کتاب لکھی جائے، وہ بس انھیں تینوں چیزوں (قرآن، سنت، آثار صحابہ) پر مشتمل ہو۔ اس کے سوا کسی بھی چیز کو نماز کے مسائل میں شمار نہ کیا جائے، حتی کہ ترجیح اور تفضیل کو بھی نہیں۔ کیونکہ صحابہ کے درمیان کسی مسئلہ میں اختلاف ہونا اس مسئلہ میں دینی توسع کو بتاتا ہے - نہ یہ کہ ایک صحیح ہے اور دوسرا غلط ، ایک، افضل ہے، دوسرا غیر افضل۔
ہمارے عربی کتب خانہ کی " امہات کتب " کا بیشتر حصہ وہ ہے جو اسی فنی زبان میں مرتب کیا گیا ہے۔ فن معقولات اور فن تصوف، بعد کو پیدا ہونے والے اسلامی لٹریچر پر اسی طرح چھائے ہوئے ہیں جس طرح ہالہ چاند کو گھیرے ہوئے ہوتا ہے۔ نتیجہ اگر چہ متنِ اسلام نہیں مگر عملی اور روایتی اسلام ٹھیک اسی طرح انسانی آمیزش کا شکار ہو گیا جس طرح دوسرے مذاہب اس کا شکار ہوئے تھے۔ جب تک یہ کتابیں علم دین کا ماخذ ہیں، کبھی یہ ممکن نہیں کہ صحیح تصویر دین لوگوں کے دماغوں میں جگہ پا سکے۔ صحیح دینی فکر پیدا کرنے کے لئے ناگز یرطور پر ضروری ہے کہ قرآن و حدیث اور آثار صحابہ کو علم دین کا ماخذ بنایا جائے نہ کہ ان کتابوں کو جو ہمارے دار العلوموں میں پڑھائی جاتی ہیں۔ اسلام کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے پہلا نا گزیر قدم یہ ہے کہ علوم قرآن، علوم حدیث اور آثار صحابہ کو از سر نو سادہ علمی انداز میں مرتب
کیا جائے اور فقہی اور معقولاتی اور متصوفانہ انداز کو ہمیشہ کے لئے ایک تاریخی چیز بنا دیا جائے۔ خدائی دین کو جب تک انسانی آمیزشوں سے پاک نہ کیا جائے ، اسلام کا احیاء نہیں ہو سکتا۔
اسلام کی تدوین کا کام ایک دو شخص کے کرنے کا نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی مجلس ہی کے ذریعہ انجام پا سکتا ہے جس میں معقول تعداد میں ایسے اہل علم جمع کئے جائیں جو نہ صرف قرآن وحدیث کو بخوبی جانتے ہوں بلکہ خالص علمی انداز سے مسائل کی تحقیق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس طرح کی ایک ٹیم ایک ادارہ میں اکٹھا ہو کر مسلسل کام کرے اور اُس کو اس مقصد کی تکمیل کے لئے ہر قسم کے وسائل با فراط حاصل ہوں تو انشاء اللہ دس برس میں وہ ذخیرہ کتب تیار ہو سکتا ہے جو اسلام کو از سر نو زندہ کرنے کی ایک حقیقی جد و جہد کے لئے فکری بنیاد کا کام دے۔ یہ امت اگر چاہتی ہے کہ قیامت میں اس کو امت محمدی کی حیثیت سے شمار کیا جائے تو اس کا پہلا لازمی فریضہ ہے کہ "ہدی محمدی" کو انسانی آمیزش سے پاک کر کے اس کی خالص شکل میں لوگوں کے سامنے رکھ دے۔ موجودہ حالت میں اگر ارادہ نہیں تو عملاً وہ کتمان حق کی مجرم بن رہی ہے اور اس بات کو اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ کسی حامل کتاب گروہ کے لئے کتمان حق کے ساتھ کوئی بھی عمل اللہ تعالی کے یہاں مقبول نہیں ہوتا۔
حکمت کا تقاضا ہے کہ اس کام کو اجتماعی اہتمام کے ساتھ انجام دیا جائے۔ وہ علوم جو اجتماعی اہمیت کے حامل ہوں ان کی تدوین اجتماعی سطح پر ہی ہونا چاہئے تاکہ پوری ملت کے اندر ان کو مستند مقام حاصل ہو اور سارے لوگ ان کو قبول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ کے زمانہ میں جب ریاست کے تحت قرآن کی جمع و ترتیب کا کام انجام دیا گیا اور اس کے بعد جو نسخے بچے ان کو جلا دیا گیا ، تو اس کے اندر یہی حکمت تھی۔ جمع قرآن کا کام اگر انفرادی شخصیتوں کے ذریعہ انجام پاتا تو سخت اختلاف ہو جاتا اور پھر قیامت تک ختم نہ ہوتا۔
حدیث کی جمع و تدوین کے لئے بھی حضرت عمر بن عبدالعزیز نے غالباً یہی منصوبہ بنایا تھا۔ انھوں نے مدینہ کے گورنر محمد بن عمر بن حزم اور دوسرے گورنروں کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث اور سنت ملے ان کو جمع کر کے ضبط تحریر میں لائیں۔ مگر ان کی جلد موت کی وجہ سے خلافت کی ماتحتی میں یہ کام انجام نہ پا سکا۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ لوگ "ثواب" کے جذبہ کے تحت انفرادی طور پر اس کو کرنے میں لگ گئے۔ بہتر طریقہ یہ تھا کہ محدثین ، خلفاء کے ذریعہ ، جوان کے بے حد عقیدت مند تھے ، سرکاری انتظام کے تحت ایک ادارہ قائم کراتے جس میں محدثین کی منتخب جماعت اکٹھا ہو کر حدیث کی جمع و ترتیب کے سلسلے میں وہی کرتی جو قرآن کے سلسلے میں زید بن ثابت انصاری اور ان کے ساتھیوں نے کیا تھا۔ آغاز ہی میں معتبر احادیث کا ایک مجموعہ تیار کر کے باقی تمام احادیث کو نذر آتش کر دیا جاتا ، تو امت بے شمار فتنوں سے بچ جاتی۔ فقہ کی تدوین کے سلسلے میں بھی صحیح طریقہ اسی اسوہ صدیقی پر عمل کرنا تھا ، بجائے اس کے کہ مختلف فقہاء الگ الگ اپنا مدرسہ فکر لے کر بیٹھ جائیں اور ایک خداوندی مذہب کو دس الگ الگ مذاہب میں تبدیل کر ڈالیں۔ طرح علوم اسلامی کی تدوین کا جو کام ہمارے ذمہ ہے اس کو انجام دینے کا بھی صحیح طریقہ یہ ہے کہ اہل علم کی ایک ٹیم مقرر کی جائے اور وہ اپنی اجتماعی جد و جہد سے کتابوں کا ایک سیٹ مرتب کرے۔ انفرادی طور پر اگر یہ کام کیا گیا تو اصل مدعا حاصل نہ ہوگا۔