مقاصد
Al-Risala, September 1977, pp. 23–27
By Maulana Wahiduddin Khan
عربی، انگریزی، اردو اور دوسری زبانوں میں رسائل کا اجراء جس کے ذریعے مسلمانوں کو ان کی دعوتی ذمہ داری کی طرف متوجہ کیا جا سکے اور اسلام کو جدید اسلوب اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق مدلل کیا جائے۔ قرآن کے ترجمے دنیا کی تمام زبانوں میں شائع کرنا اور ان کو رعایتی قیمت کے ساتھ لوگوں تک پہنچانا۔ قرآنی علوم کی تدوین اور اسلامی انسائیکلو پیڈیا
حدیث، سیرت، حالات صحابہ، تاریخ اسلام اور تاریخ فتوحات پر سادہ، واقعاتی انداز میں کتابوں کی تیاری اور ان کو مختلف زبانوں میں شائع کرنا۔
ایسی درس گاہ کا قیام جس میں قرآن، حدیث، سیرت تقابلی مذہب، عربی زبان اور دوسری زبانوں کی تعلیم کا انتظام ہو۔
اسلامیات اور مختلف مذاہب کے مطالعہ کے لئے ایک مکمل لائبریری کا قیام۔
مختلف علاقوں اور ملکوں میں تبلیغی وفود بھیجنے کا انتظام۔ اسلام کے تاریخی آثار اور دستاویزات کا میوزیم قائم کرنا۔ علمی طرز فکر اور حقیقت پسندانہ مزاج پیدا کرنا۔ جدید طرز کے پریس کا قیام جہاں مختلف زبانوں میں اعلیٰ چھپائی ہو سکے۔
ایسے ادارہ کی تشکیل جہاں تمام ضروری دینی شعبے قائم ہوں اور غیر مسلم وہاں آکر اسلام کو سمجھ سکیں۔ ضرورت ہے کہ اسلام کو دنیوی مہم کے بجائے اخروی مہم کے طور پر سامنے لایا جائے دعوتِ اسلامی ہی ایک ایسا کام ہے جس پر تمام مسلمانوں متحد کیا جا سکتا ہے
تعداد کی کثرت اور تحریکوں کے ہجوم کے باوجود مسلمان کیوں نا کام ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ وہ اپنے اصل فریضہ منصبی کو ادا نہیں کر رہے ہیں۔ مسلمان کے ساتھ خدا کے تمام اجتماعی وعدے اس شرط پر ہیں کہ وہ دنیا میں اُس اجتماعی کام کو انجام دیں جس کے لئے اُنھیں چنا گیا ہے۔ اگر وہ اِس کام کے لئے نہ اٹھیں تو وہ خدا کی نظر میں مجرم ہیں۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ یہ کام کیا ہے ۔ یہ کہ وہ تمام انسانوں کو اللہ کا پیغام رسانی کا یہ کام کوئی قومی کام نہیں ہے، نہ اس کا سیاسی اور اقتصادی مفادات سے کوئی براہ راست تعلق ہے۔ یہ ایک خالص خدائی اور اخروی کام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو امتحان کے لئے پیدا کیا ہے۔ دنیا میں ایک وقت تک زندگی کا موقع دینے کے بعد وہ تمام انسانوں کو آخرت میں حاضر
کرے گا اور وہاں ان کے عمل کے مطابق ان کے لئے دائمی جنت یا دائمی جہنم کا فیصلہ کرے گا۔
خدا اگرچہ اپنے بندوں کے احوال سے خوب واقف ہے مگر اس نے اپنی اس عدالت کے لئے جو طریقہ مقرر کیا ہے، وہ یہ ہے کہ ہر زمانہ میں خود انسانوں میں ایسے لوگ اٹھیں جو خدا کی طرف سے لوگوں کو آنے والے یوم الحساب سے باخبر کریں، یہ لوگ جو دنیا میں قوموں کو خدا کا پیغام پہنچائیں گے، یہی آخرت میں ان کے اوپر خدا کے گواہ بنیں گے. وہ آخرت کی عدالت میں کھڑے ہو کر کہیں گے کہ کس نے پیغام خداوندی کو مانا اور کس نے اس کا انکار یہ خدا دا خزانہ اگر ظاہر نہ ہوا ہوتا تو مسلمان، حالیہ کیا، ان کی گواہی کے مطابق خدا ہر ایک کے اوپر اپنا فیصلہ صادر کرے گا۔
مسلمانوں کا اصل جرم یہ ہے کہ وہ اپنی اس حیثیت کو بھول گئے ہیں۔ وہ قوموں کے اوپر خدا کے گواہ بن کر ہو سکتی تھیں۔
پیٹرول کی طاقت ؑسے مسلمانوں کو نہ صرف اقتصادی اور سیاسی سہارا دیا ہے بلکہ وہ اعلانِ حق اور دعوتِ دین کے کام میں بھی مددگار ہو رہا ہے۔ دو بلین پٹرول ڈالر (۱۸۰ کروڑ روپے) کے خرچ سے ۱۹۷۶ میں لندن میں جو ورلڈ آف اسلام فیسٹیول (مہر جان العالمى الاسلامی) ہوا، اس کو دیکھ کر سیکڑوں یورپی باشندے مسلمان ہو گئے۔ ایک برطانوی اخبار نے اس مہر جان کی رپورٹ دیتے ہوئے اس کو یورپ کے اوپر اسلام کا حملہ قرار دیا تھا۔ ویکلی ۱۸ جولائی ۱۹۷۶):
THE ISLAMIC INVASION IS UPON US پٹرول کی اقتصادی قوت نے آج مسلم قوموں کو نئی اہمیت دے دی ہے۔ ساری دنیا میں عربی زبان کو فروغ حاصل ہو رہا ہے ۔ یورپ اور امریکہ میں جگہ جگہ اسلامی مراکز کھل رہے ہیں۔ اسلامی لٹریچر کی اشاعت کا کام بہت بڑھ گیا ہے۔ دنیا بھر میں اسلامی شخصیتوں اور اسلامی اداروں کو پٹرول کے جادو نے نئی زندگی عطا کر دی ہے ۔ بین الاقوامی اسلامی اجتماعات اتنی زیادہ تعداد میں ہو رہے ہیں جن کا چند سال پہلے تصور نہیں کیا جاسکتا افریقہ میں نہ صرف عوام میں اسلام پھیل رہا ہے بلکہ حالیہ برسوں میں دو عیسائی حکمران اسلام قبول کر چکے ہیں یہ اور اس طرح کے دوسرے اسلامی اہمیت کے واقعات جو آج ساری دنیا میں ہو رہے ہیں وہ تمام تر اس دولت کے کرشمے ہیں جو خدا داد پٹرول کے ذریعہ اچانک خلیج فارس کے مسلم ملکوں کو حاصل ہو گئی ہے حتیٰ کہ حالیہ برسوں میں مسلم قوموں کے اپنے مغربی آقاؤں کے مقابلہ میں جو جرأتِ اختلاف پیدا ہوئی ہے، وہ بھی تمام تر پٹرول کی خدا داد طاقت کا کرشمہ ہے، مثلاً ترکی ، سعودی عرب اور پاکستان کا امریکہ کے مقابلہ میں ، اور مصر کا روس کے مقابلہ میں ۔
مگر ان باتوں میں ہمارے لئے بہت زیادہ خوشی کا پہلو نہیں ہے، کیوں کہ انسان“ کا کام پٹرول انجام دینے لگے تو یہ خدا کی طرف سے انسان کے خلاف عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ جب خدائی آواز بلند کرنے کے لئے انسانوں کی زبانیں بند ہو جاتی ہیں ، اس وقت دابۃ ارضی ( ۴-۲) زمین سے نکل کر امر حق کا اعلان کرتا ہے۔ مگر جب دابۃ الارض کی زبان سے خدا اپنا اعلان کرانے لگے تو یہ خوشی کا نہیں غم کا وقت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کے بعد زمین و آسمان کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے۔ زمین کا سر سبز کرہ چھین لیا جاتا ہے اور اس کو دھوئیں اور آگ کی دنیا کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے جہاں وہ ابدی طور پر روتا اور دانت پیستا رہے ۔
مسیح نے یروشلم کے یہودی علماء نے کہا کہ اپنے شاگردوں کو منع کر دو کہ وہ ہمارے اوپر تبلیغ نہ کیا کریں ۔ مسیح نے جواب دیا :
اقول لكم انه ان سكت هؤلاء فالجحارة تصرخ میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر یہ چپ ہو جائیں تو پتھر چلا اٹھیں گے (لوقا : ۱۹ : ۴۰)
مطلب یہ ہے کہ خدا کے پیغام کو بہر حال بلند ہونا ہے ۔ اگر وہ انسانوں کی زبان سے بلند نہیں ہو گا تو درخت اور پتھر چلا کر اسے لوگوں کو سنائیں گے ، مگر جب درخت اور پتھر چلانے لگیں تو یہ انسانوں کے لئے موت کا وقت ہوتا ہے ، کیوں کہ اس کے بعد عمل کی مہلت ختم ہو جاتی ہے اس کے بعد دو ہی چیزیں باقی رہتی ہیں یا جنت یا جہنم۔ امتحان کی کاپی چھین لینے کا وقت ہوتا ہے نہ کہ پرچہ حل کرنے کا۔
برتن سطح سے تر کرنے کا کام ذھن کا ذهن پیدا کیا هےے کسی شہر میں کپڑے کی دوکان نہ ہو تو ہر شخص جانتا ہے کہ یہ ایک سنہری موقع ہے جس کو استعمال کرکے کوئی شخص شہر میں ایک کامیاب دوکان کا مالک بن سکتا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں ایک اس سے بھی زیادہ بڑا خلا ہے جس کو ابھی تک کسی نے استعمال نہیں ہمارے ملک کے بھرے ہوئے دفاتر اور ہمارے پر رونق بازار جہاں ہر وقت خرید و فروخت کے ہنگامے جاری رہتے ہیں اپنی ساری ہما ہمی کے باوجود ابھی تک خالی ہیں۔
آپ بازار سے کوئی ملک کی بنی ہوئی چیز خریدیں، چند ہی روز کے تجربے کے بعد آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ کو اپنی پسند کی چیز نہیں ملی۔ کام کے لیے ملازم رکھیں، بہت جلد آپ محسوس کریں گے کہ آپ جیسا کارکن چاہتے ہیں ، آپ کا ملازم ان اوصاف میں پورا نہیں اترتا اس کا مطلب یہ ہے کہ بازار اگر چہ سامانوں سے پٹے ہوئے ہیں مگر وہ ان چیزوں سے خالی ہیں، جو حقیقتاً گاہک کو مطمئن کرنے والی ہوں، اسی طرح وہ جگہیں جہاں آدمی کو کام ملتا ہے اگرچہ بظاہر بھری ہوئی ہیں۔ مگر انہیں اب بھی ایسے کارکنوں کا انتظار ہے جو ان کی مرضی کے مطابق ان کا کام پورا کر سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آج سارا ملک ایک عظیم خلاسے اور یہ خلا اعلیٰ مصنوعات اور بہتر کارکردگی کا خلا ہے۔ اگر کوئی گروہ ہو جو محنت اور عملی دیانت داری میں اعلیٰ معیار دکھا سکے، جو مثال کے طور پر جرمنی اور کارکردگی کا خلاء پُر کر کے آپ اپنے لئے جگہ حاصل کر سکتے ھیں۔
جاپان میں نظر آتا ہے، تو وہ آناً فاناً ملک کی اقتصادیات پر چھا جائے گا اور جو گروہ اقتصادیات پر قابض ہو جائے وہ لازمی نتیجہ کے طور پر دوسرے شعبوں پر بھی قابض ہو کر رہتا ہے۔
دنیا میں اپنی جگہ بنانے کی دو صورتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ ________ جس آسامی کے لیے بی اے کی قابلیت کی شرط ہو اور بی اے والوں نے درخواستیں دے رکھی ہوں۔ وہاں آپ بھی اپنی بی اے کی ڈگری لے کر پہنچ جائیں اور جب آپ کو نہ لیا جائے تو بحث کریں کہ کیوں آپ کے مقابلے میں دوسرے امیدوار کو ترجیح دی گئی جبکہ دونوں یکساں طور پر گریجویٹ تھے دوسری شکل یہ ہے کہ جہاں لوگ بی اے کی سندیں پیش کر رہے ہوں وہاں آپ ماسٹر ڈگری لے کر پہنچیں جہاں لوگ مطابق شرائط قابلیت کی بنیاد پر اپنا حق مانگ رہے ہوں وہاں آپ برتر از شرائط قابلیت دکھا کر اپنا حق تسلیم کرائیں۔
یہی دوسرا طریقہ زندگی کا اصل طریقہ ہے۔ بڑی ترقیاں اور کامیابیاں انھیں کے لیے مقدر ہیں جو اس دوسرے طریقے کے مطابق کام کرنے کے لیے تیار ہوں ـــــ