کائنات کے فاصلے
Al-Risala, September 1977, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
کائنات کے فاصلے اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو ان عام پیمانوں سے ناپا نہیں جاسکتا جن کو ہم زمینی فاصلوں کو بتانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، چنانچہ فلکیات دانوں نے اس کے لیے ایک خاص پیمانہ وضع کیا ہے جس کو نوری سال (LIGHT YEAR) روشنی ایک سیکنڈ میں .. ہمہ میل کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ ایک سال میں ۶۰ کھرب میل ۔ اسی فاصلہ کو فلکیات میں سال نور کہا جاتا ہے اور کائناتی فاصلوں کو ناپنے کے لیے اس کو استعمال کیا
سورج ہماری زمین سے روشنی کے آونٹ کے فاصلہ پر ہے۔ یعنی اس کی روشنی مذکورہ رفتار سے سفر کرکے ہم تک نو منٹ میں پہنچتی ہے۔ زمین سے سورج کا فاصلہ ۹۳ ملین میل ہے۔ سورج کے بعد دوسرا ستارہ جو زمین سے سب سے زیادہ قریب ہے وہ الفا سنٹوری (ALPHA CENTAURI) ہے، وہ ۱۳٫۴ رہم نوری سال دور ہے ۔ یعنی ۲۵۰ کھرب میل ۔ ہماری کہکشاں جس میں تقریباً ۱۰۰ ہزار ملین ستارے ہیں، ایک عظیم پلیٹ کی مانند ہے جس کی موٹائی دس ہزار نوری سال ہے اس کا قطر (DIAMETER) تقریباً ایک لاکھ سال نور سورج ہماری کہکشاں کے مرکز سے ۳۳۰۰۰ نوری سال دور ہے۔ اس قسم کی کہکشائیں بے شمار تعداد میں ساری کائنات میں پھیلی فلکیات دانوں کا خیال ہے کہ کائنات کا دائرہ (RADIUS) کم از کم ۱۰ہزار ملین سال اس وسیع کائنات میں فلکیات داں اپنی دوربینوں کے ذریعہ آٹھ ہزار ملین سال نور تک دیکھ چکے ہیں۔