Al-Risala · September 1977

جدید فلکیات

Al-Risala, September 1977, pp. 30–43

By Maulana Wahiduddin Khan

زمینی دوربینوں کی تصویری پلیٹ، ریڈیو ٹیلی اسکوپ کے ذریعہ وصول شدہ الیکٹرانکس سگنل، راکٹ اور مصنوعی سیاروں میں لگے ہوئے آلات وغیرہ کے ذریعہ معلوم ہوا ہے کہ خلاء میں ایسے اجسام بھی ہیں جن کی خصوصیات ان عام ستاروں سے بہت زیادہ مختلف ہیں جن کو اب تک انسان جانتا تھا۔

مثلاً وہ اجسام جن کو ملسا (PULSAR) زیادہ روشن ہے ۔ ان سے جو بے پناہ قوت حرارت نکل رہی ہے ، وہ علماء کے لیے حیرت استعجاب کا موضوع بنی ہوئی ہے ۔ اتنے دور فاصلوں پر ہیں کہ علماء کا خیال ہے کہ ان کے مطالعہ سے شاید وہ کائنات کے حدود کو دریافت کر سکیں ۔ اس طرح کی اور چیزیں ہیں مثلاً فلاٹسام (FLOTSAM) جس کے متعلق اندازہ ہے کہ دگیس اور گرد کے بادل کا نام دیا گیا ہے ۔ قیاس ہے کہ یہ وہ ستارے ہیں جو جل کر بجھ چکے ہیں ، یہ اتنی زیادہ کثیف (DENSE) حالت میں ہیں کہ ان کے ایک مربع انچ مادہ کا وزن ایک ہزار ملین ٹن کے وہ ناقابل قیاس رفتار سے خلا میں گردش کر رہے ہیں۔

اسی طرح ایسے اجسام ہیں جن کو بلیک (BLACK HOLE) کہا جاتا ہے۔ سے بھی زیادہ کثیف حالت میں ہیں بلیک ہول انسان کے لیے ناقابل مشاہدہ ہیں کیونکہ

ابھی حال تک سائنس داں آسمانی مشاہدوں کے لیے اسی قسم کی ٹکنیک پر بھروسہ کرتے تھے جو گلیلیونے سترہویں صدی میں استعمال کی تھی یعنی ستاروں سے آنے والی روشنیوں کو دوربینوں کے ذریعے دیکھنا۔ مگر تجربات کے دوران معلوم ہوا کہ قابلِ مشاہدہ روشنی اصل کائنات کا بہت تھوڑا حصہ ہے۔ الیکٹرانکس اور راکٹ سائنس کی ترقی نے فلکیات دانوں کو ایسے آلات دیے جو آسمان میں ان ہرس انسان کے لیے نا قابل فہم ہیں یہ ان کی کثافت کی وجہ سے ان کی قوت کشش رہتے ، طاقت ور ہوگئی ہو کہ روشنی بھی راہ میں رائے دینے پر آمادہ ہیں اس کا کی واقفیت کو زیادہ دور تک لے جا سکتے تھے، (۱۹۴۱ء میں رسائل میں شائع ہو کر) سکس اسي طاقت ور هوئی هي كه روثي هي ان سے باہر نکلنے نہیں پاتی اسی طرح کو یٔسار (Quasar) ہیں۔ یہ ستاروں کی مانند ہیں۔ وہ کائنات میں سب سے زیادہ دور فاصلوں پر واقع ہیں۔ ان میں سے ہر ایک ہزار ملین سورج سے ۱۹۳۱ء میں بیل لیبوریٹری کے ایک انجینئر جانسکی (CARL JANSKY) نے پایا کہ اس کا ریڈیو اینٹینا ایسے سگنل پکڑ رہا ہے جن کا کوئی ماخذ زمین میں نہیں ہے۔ معلوم کیا کہ یہ سگنل آسمانوں سے آ رہے ہیں اس طرح ریڈیائی فلکیات (RADIO ASTRONOMY)

وجود میں آئی جس کا مقصد تھا آسمانی اجسام سے آنے والی ریڈیائی لہروں کا مطالعہ کرنا۔ آج زمین پر متعدد ایسی رصد گاہیں وجود میں آچکی ہیں جہاں پلیٹ کی وضع کے بہت بڑے بڑے اینٹینا لگے ہوئے ہیں۔ عالم بالا سے آنے والی ریڈیائی لہروں کو وصول کیا جاتا ہے اور ان کا تجزیہ کیا جاتا

مزید مطالعہ کے بعد معلوم ہوا کہ ریڈی ایشن کی اور بھی قسمیں ہیں۔ ایکس ریز، الٹرا دائلٹ ریز، انفرا ریڈ ریز وغیرہ، یہ لہریں جو اوپر سے آتی ہیں، زمینی فضا میں جذب ہو جاتی ہیں، تاہم خلائی دور سے پہلے انسان کو اس کا علم نہ تھا۔ آج مصنوعی سیارے مختلف قسم کے آلات سے لیس ہو کر زمین کے گرد گھوم رہے ہیں اور اس قسم کی لہروں کو اخذ کر کے انسان کو ان سے باخبر کر رہے ہیں۔ نئے نئے ذیلی علوم وجود میں آرہے ہیں مثلاً ایکس رے اسٹرا نومی، الٹرا وائلٹ رے اسٹرا نومی موجودہ صدی کی تیسری دہائی میں امریکی فلکیات داں ہبل (EDWIN P. HUBBLE) نے ماؤنٹ ولسن (کیلی فورنیا) کی ایک سو انچ قطر کی دوربین کو استعمال کر کے دریافت کیا کہ کائنات پھیل رہی ہے جیسے کسی غبارے میں ہوا بھری جائے اور وہ پھیلتا چلا جائے فلکیاتی اصطلاح میں اس کو ریڈ شفٹ (RED SHIFT) کہا جاتا ہے۔

مگر اس پھیلنے کی وجہ کیا ہے۔ سائنسداں لیمائٹر (ABBE GEORGES LEMAITRE) نے ۱۹۲۷ء میں اس کا ایک اس نے کہا کہ بہت پہلے کائنات کی ابتداء میں پوری کائنات کا مادہ ایک نہایت منجمد ٹکڑے کی صورت میں تھا اس کو اس نے سپراٹیم (SUPERATOM) کا نام دیا۔ اس کے بعد یہ سپرائٹم پھٹا۔ اس کا مادہ چاروں طرف پھیلنا شروع ہوا۔ لمبے زمانوں کے بعد مادہ کا یہ طوفان کہکشاؤں، ستاروں اور سیاروں کی شکل میں جمع ہو گیا اس انفجار کو اب بگ بینگ (BIG BANG) کہا جاتا ہے۔ کائنات کا آخری انجام کیا ہے فلکیات داں قیاس کر رہے ہیں کہ کائنات کا پھیلاؤ دھیرے دھیرے کم ہو گا۔ اس کے بعد رک جائے گا اور اس کے بعد سکڑنا شروع ہو گا اس مفروضہ کے مطابق کائنات کا آخری انجام یہ ہو گا کہ وہ دوبارہ سمٹ کر ایک سپرائٹم کی صورت اختیار کر لے گی۔ اگر چہ ان دونوں عملوں میں اربوں ملین سال لگ جائیں گے۔

پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر و ہیلر (JOHN WHEELER) نے حساب لگایا ہے کہ کائنات بالآخر سکڑ کر بلیک ہول کی صورت

میں منجمد ہو جائے گی اور پھر پھٹ جائے گی۔ اور دوبارہ پھیلنے کا وہی عمل شروع ہو گا۔ آغاز میں اس کے ساتھ ہو چکا ہے۔

۱۹۷۴ء میں برطانی فلکیات دانوں نے اپنے مطالعہ کے دوران پایا کہ بالائی خلا میں انرجی کا انشقاق (BURSTS) ہورہا ہے۔ یہ انشقاق اتنا زیادہ معین وقت پر ہوتا تھا کہ انھوں نے قیاس کیا کہ کسی دوسری تہذیب (CIVILIZATION) کے ارادی عمل کا نتیجہ ہے جو خلا میں کسی مقام پر انسان کے علاوہ پائی جاتی ہے۔ ان سے جو ریڈیائی لہریں آرہی تھیں ان میں اتنی زیادہ صحت تھی کہ بلین کے بقدر ان سے گھڑی کو صحیح کیا جا سکتا تھا بعد کو علماء فلکیات نے یہ رائے قائم کی کہ یہ ریڈیائی لہریں ایک نئے قسم کے ستاروں سے آرہی تھیں جن کو نیو ٹران اسٹار کا نام دیا گیا۔ ستاروں کا دوسرا نام پلسار ہے۔

رابرٹ ایم جمیلنگ کا خیال ہے کہ بلیک ہول دراصل وائٹ ہول ہیں جو ہماری ایک پڑوسی کائنات (NEIGHBORING UNIVERSE) میں واقع ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ کائنات کے آخری انشقاق کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمام اجرام مل کر ایک کائناتی بلیک ہول کی صورت اختیار کر لیں گے اور پھیلاؤ اور انجماد اور انشقاق کا ایک نیا عمل شروع ہوگا۔

کو ٔیسار (QUASARS) کا معاملہ اس سے بھی زیادہ عجیب ہے۔ تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ اجرام تمام دوسرے ستاروں سے بہت زیادہ بعید فاصلے پر واقع ہیں۔ اس کے باوجود وہ دکھائی دیتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بہت بڑی تعداد میں روشنی خارج کر رہے امین ملین سورج کے برابر ۔ ۲۰۰ کو ٔیسار دریافت ہو چکے ہیں۔ ممکن ہے کہ زمین سے ان کا فاصلہ ۱۲ ہزار ملین سال نور ہو۔ اس سے مراد وہ فاصلہ ہے جو روشنی بارہ ہزار ملین سال میں طے کرے جب کہ وہ ۱۸۶۲۰۰ میل فی سکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہی ہو ! کا خیال ہے کہ کو ٔیسار شاید کائنات کا آخری کنارہ ہو اور شاید وہ سب سے قدیم آسمانی ہمارے معلوم طبیعی قوانین کے تحت ان ناقابل قیاس اجرام کی توجیہہ نہیں ہوتی۔ وہ کہتے ہیں کہ وقت آ گیا ہے کہ طبیعیات کے نئے قوانین دریافت کیے جائیں جو نئے دریافت شدہ حالات پر چسپاں ہو سکیں۔

کائناتی شواہد کی توجیہہ کے لیے نئے طبیعی قوانین کی ضرورت کا اظہار کر کے جدید سائنس داں دراصل اسی بات کو دہرا رہے ہیں جو اس سے پہلے نیوٹن نے کہی تھی : ” سیاروں کی گردش کی توجیہہ کے لیے صرف معلوم فلکیاتی قوانین کا حوالہ کافی نہیں

اس کے لیے ایک " خارجی بازو " کو ماننا بھی بعد نئے زمین و آسمان کی تخلیق ہوگی کائنات کی قانونی بہتر صورت اختیار کر لے گا) قرآن میں ضروری ہے ۔ آخر میں ایک امریکی میگزین کا اقتباس جو کچھ کہا گیا تھا سائنس کس قدر صحت کے ساتھ ملاحظہ ہو : اس کی تصدیق کر رہی ہے ! سائنس ما بعد الطبیعات سے قریب موجودہ زمانہ میں ایک نئی اصطلاح وجود میں آئی ہے جس کو (ETC) کہتے ہیں، یہ ایک انگریزی لفظ کا مخفف ہے کیا بلیک ہول کا انجام ہی کائنات کا بالائی تہذیب۔ موجودہ زمانہ کے سائنسی مطالعہ سے انسان کے علم میں ایسے واقعات آ رہے بلین سال میں ایسا ہوگا کہ کہکشائیں کھنچ کر ہیں جو اس کو یہ یقین کرنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ زمین کے علاوہ بھی خلا میں کہیں ذین ملنے سے ایک بڑا بلیک ہول تیار ہوگا، جہاں ہستیاں ہیں۔ مثلاً بالائی خلا سے نہایت محبت موجودہ کائنات قانونی " ٹوٹ نہیں جائے گا کے ساتھ سگنل موصول ہوتے ہیں جن کے مطالعہ بلکہ برتر صورت اختیار کر لے گا " یہ ویہلر کا کے لیے ایک مستقل فن ریڈیو اسٹرونومی وجود اس قسم کے نظریات کے بعد کائنات میں آئی ہے۔ جدید مشاہدات سے ثابت ہوا ہے کہ نظریہ ارتقا زمینی زندگیوں کی توجیہہ کے لیے بالکل ناکافی ہے۔ چنانچہ اب یہ قیاس کیا جارہا ہے کہ زمین پر زندگی کسی بالائی کره سے آئی ہے جہاں ہم سے زیادہ ترقی یافتہ تہذیب موجود ہے اس نظریہ کو پینس پریا کا نام دیا گیا ہے آج کل کثرت سے ایسے مضامین اور کتابیں چھپ رہی ہیں جن کا موضوع یہ ہوتا

ہے کہ کیا کائنات میں کسی دوسرے مقام پر بھی زندگی موجود ہے۔ ایک اخبار نے ایک مضمون چھاپا جس کا عنوان تھا ANYONE OUT THERE (کیا اوپر کوئی ہے) ایک ڈچ ریاضی داں (H. FREUDENTHAL) نے ۱۹۶۰ء میں ایک کائناتی زبان تجویز کی تھی جو خلائی باشندوں سے گفتگو میں کام آسکے اگرچہ ویں صدیو میں ہر سیارہ حتی کہ سورج بھی زندگی کا مسکن سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب کائنات کے دوسرے مقامات پر جس زندگی کا یقین کیا جا رہا ہے، وہ پہلے سے بہت مختلف اور معنی خیز ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے علوم اس کو دوبارہ خدا کے عقیدہ کی طرف لے جارہے ہیں۔ البتہ وہ "خدا" کا نام نہ لے کر "ترقی یافتہ تہذیب" کا نام لے رہا ہے۔ شاید تاریخ اپنے آپ کو دہرانے والی ہے۔ حبش کی ہجرت نبوت کے پانچویں سال مکہ میں مسلمانوں کے حالات بہت سخت ہو گئے مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر قریش نے ان کی حوصلہ شکنی کے لیے ایک نئی تحریک شروع کی۔ لوگوں سے کہنا شروع کیا کہ کوئی شخص مسلمانوں سے کوئی چیز نہ خریدے، نہ ان کے ہاتھ بیچے، نہ ان کی لڑکی سے نکاح کرے، نہ اپنی لڑکی ان کے نکاح میں

قدیم مکہ میں اس قسم کا معاشی اور سماجی بائیکاٹ زندگی کو مفلوج کر دینے کے ہم معنی تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو مشورہ دیا کہ حبش میں ایک انصاف پسند بادشاہ کی حکومت ہے تم لوگ وہاں چلے جاؤ مسلمان چھوٹی جماعتیں بنا کر حبشہ جانا شروع ہو گئے۔ کیونکہ اجتماعی شکل میں گھر سے نکلنے میں یہ اندیشہ تھا کہ قریش رکاوٹ ڈالیں گے۔ جدہ کے ساحل سے کرایہ کی کشتیوں میں سوار ہو کر ان لوگوں نے بحر قلزم پار کیا اور حبش میں اتر وہاں تجارت اور مزدوری کر کے گزر اوقات کہا جاتا ہے کہ مجموعی طور پر تقریباً ایک سو آدمی مکہ سے نکل کر حبش گئے تھے۔

قریش کو جب معلوم ہوا کہ مسلمان مکہ چھوڑ کر حبش چلے گئے ہیں تو انھوں نے اپنے دو آدمی عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید کو مقرر کیا کہ وہ حبش جائیں اور بادشاہ کو آمادہ کریں کہ وہ مسلمانوں کو قریش کے حوالے کر دے۔ قریش کا یہ وفد تحفہ تحائف لے کر حبش پہنچا اور شاہِ نجاشی کے سامنے اپنی درخواست پیش کی۔ بادشاہ نے مسلمانوں کو بلایا اور ان سے کہا کہ تمہارا اس سلسلہ میں کیا جواب ہے۔ جعفر بن ابی طالب مسلمانوں کے نمائندہ کی حیثیت سے بولے۔ اے بادشاہ مکہ یا عرب کے کسی دوسرے مقام پر ہم نے چوری نہیں کی ہے، نہ کسی کو قتل کیا ہے اور نہ کوئی دوسرا ظلم کیا ہے۔ " شاہِ حبش نے قریش کے وفد سے پوچھا۔ نے جواب دیا : ان کا کہنا صحیح ہے۔ انھوں نے چوری اور قتل جیسا کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ ہمارا الزام صرف یہ ہے کہ انھوں نے باپ دادا کے دین کو بدل ڈالا ہے۔

Printed page