Al-Risala · January 1977

-Dr Karlis Oais, American

Al-Risala, January 1977, pp. 48–49

By Maulana Wahiduddin Khan

Society of Psychical Research, -Dr Elisabeth Kubler-Ross, (USA); -Dr Raymond A.Moody Jr.: Life After Life (USA, 1976); -"Life After Death", Newsweek, July 12, 1976; -Time, January 7, 1974. امریکی میگزین ٹائم (ے جنوری ۱۹۷۴) نے لکھا تھا: زندگی کا خاتمہ نہیں وہ اگلی زندگی میں داخلہ کا دروازہ “زیادہ دن نہیں گزرے، موت کے بارے میں بحث زیادہ تر ان مخصوص کتابوں کا موضوع ہوتی تھی جو یورپ میں تیار ہوتی تھیں اور وہاں سے امریکہ در آمد کی اچانک طور پر موت امریکہ کا بہت زیادہ مقبول موضوع بن گیا ہے۔ حتیٰ کہ وہ علمی اختصاص کا ایک منی سوٹا یونیورسٹی کو فخر ہے کہ اس نے موت کے مطالعہ کا ایک مرکز قائم کیا ہے۔ اپنے یہاں ایک لیبوریٹری قائم کی ہے جس کا مقصد زندگی کو نقصان پہنچانے والے حالات کا مطالعہ کرنا ہے۔ اجتماعات میں اب موت کا موضوع جنس اور سیاست جیسے سدا بہار موضوعات سے تجاوز کرنے لگا ہے ۔ کے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ کتابوں کی ایک نئی قسم وجود میں آئی ہے جس کو علم الموت کی کتابیں کہا جاتا ہے۔ دلی میں یا اس کے قریب ہمیں ایک ایسی جگہ کی ضرورت ہے جہاں اسلامی مرکز، الرسالہ اور رسالہ بک ڈپو کے دفاتر قائم کئے جا سکیں۔ اس سلسلہ میں جو لوگ کسی قسم کا تعاون کر سکتے ہوں، براہ کرم ہمیں مطلع فرمائیں ــــــــ الرسالہ

حادثات ہیرو بنا دیتے ہیں ۳۱ اگست ۱۹۷۷ کا واقعہ ہے۔ کے روزری اسکول (ندیریک ریڈیو کالونی) کے میدان میں لڑکے جمع تھے۔ اتنے میں ایک کالا سانپ نکلا اور ایک چھ سالہ بچے کو لپیٹ لیا۔ بچہ چیخنے لگا اس کے ساتھی بھی چیختے ہوئے بھاگے۔ چیخ پکار اسٹاف روم تک پہنچی اور اسکول کی استانیاں بچہ کی طرف مگر اس کا خوفناک حال دیکھ کر سب سہم گئیں۔ اتنے میں ایک استانی خاموشی کے ساتھ آگے بڑھی۔ اس کے ہاتھ میں صرف ایک اخبار تھا۔ اخبار کو سانپ کے منہ پر رکھا اور پوری طاقت سے اس کو پکڑ کر بچے کے پاؤں سے الگ کر دیا۔ فوراً قریب کے ہندوراؤ اسپتال میں لے جایا گیا ، جہاں وہ چند دن کے علاج سے اچھا ہو گیا۔ کو اسپتال کی لیبارٹری میں پہنچا دیا گیا جہاں وہ زندہ حالت میں موجود ہے ۔

استانی کا نام مسز جان ہے۔ اور بچہ کا نام

مسز جان نے اس سے پہلے کبھی سانپ نہیں دیکھا انھوں نے اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا: ”مجھے یقین نہیں آتا کہ میں نے اس موذی سانپ کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیا تھا۔ اب تو مجھے اس کو سوچ کر بھی ڈر لگتا ہے۔ یہ دراصل ’’حادثہ‘‘ تھا، جس نے مسز جان کو اس حیرت ناک بہادری کے لئے آمادہ کیا۔ حادثات آدمی کو ہیرو بنا دیتے ہیں۔

مولانا محمد علی (۱۹۳۱ء-۱۸۷۸ء) جب بیتول جیل میں نظر بند تھے ، ان کی اہلیہ جیل خانہ میں ان سے ملاقات کے لئے گئیں ۔ انھوں نے اپنے شوہر مولانا محمد علی سے کہا : "تم ہماری فکر نہ کرنا۔ خدا ہی پہلے بھی رازق تھا اور اب بھی وہی رازق ہے۔ تم صرف ایک واسطہ تھے۔ اور خدا بلا واسطہ بھی دے سکتا ہے اور دوسرا واسطہ بھی پیدا کر سکتا ہے"۔ اس کے بعد انھوں نے کہا" رہا تمہارا کام، سو اگر اجازت ہو تو میں اسے کرتی ہوں" مضامین محمد علی، جلد اول، صفحه ۴۸ - ۸۳ چنانچہ انھوں نے کام شروع کیا اور دو سال کے عرصے میں ۴۵ لاکھ روپے کا چندہ خلافت تحریک کے لئے جمع یہ ۴۵ سال پہلے کا واقعہ ہے جب کہ "لاکھ" کا مطلب اس سے بہت زیادہ تھا جو آج سمجھا جاتا ہے۔ الرسالہ کی خریداری محض ایک ماہنامہ کی خریداری نہیں ہے یہ تعمیر ملت اور احیائے اسلام کی مہم میں شریک ہونا ہے یہ اللہ کے خادموں میں اپنا نام لکھوانا ہے۔ اگر ابھی تک آپ کے نام سے خالی ہے تو فوراً اپنا نام اس فہرست میں لکھوائیے

Printed page