Al-Risala · September 1977

اسپین میں کیا ہوا

Al-Risala, September 1977, pp. 35–41

By Maulana Wahiduddin Khan

سلیمان بن عبد الملک نے تخت خلافت پر بیٹھنے کے بعد پہلا کام یہ کیا کہ محض ایک ذاتی شکایت کی بنا پر موسیٰ بن نصیر گورنر افریقہ اور اس کے سپہ سالار طارق بن زیاد (فاتح اسپین) کو ان کے عہدوں سے معزول کر کے واپس بلا لیا۔ اور اول الذکر کو قید اور دوسرے کو نظر بند کر دیا۔ اس کے قدرتی نتیجہ کے طور پر اسپین کی مسلم حکومت اور مرکز خلافت کے درمیان آغاز ہی میں حریفانہ جذبات پیدا ہو گئے ۔ میں جب ایک خون آشام انقلاب کے بعد دمشق کی اموی سلطنت ختم ہوئی اور نئے دار الخلافہ بغداد میں عباسی خلافت قائم ہوئی تو اموی خاندان کا ایک لٹا ہوا شہزادہ عبد الرحمن الداخل اسپین پہنچا اور وہاں کے حالات سے فائدہ اٹھا کر اسپین میں اپنی حکومت قائم کرلی۔ بنوامیہ کے ایک فرد کی یہ کامیابی عیسائیوں کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ اس طرح اسپین اور مرکز خلافت کے درمیان رقابت کی ایک اور وجہ پیدا ہو گئی اور نتیجہ باہمی آویزشوں کا وہ لامتناہی سلسلہ چلا جو صرف اس وقت ختم ہوا جب اسپین میں خود مسلم سلطنت ختم ہو گئی۔

مرکز خلافت اور اسپین کی یہ رقابت یہاں تک بڑھی کہ جس خلافت نے طارق بن زیاد کو کھاری کمک دے کر اسپین کی مہم پر بھیجا تھا اسی خلافت نے فرانس کے بادشاہ شارلیمین کو اکسایا کہ وہ اسپین پر حملہ کرے نتیجہ یہ ہوا کہ اسپین میں ایک عام خانہ جنگی اور بغاوت کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ ہر علاقہ کا گورنر خود مختاری کا خواب دیکھنے لگا۔ امیر قرطبہ کے رشتہ داروں نے اس نازک وقت کو اسپین کے تاج و تخت کے لیے سازش کرنے کا سنہری موقع سمجھا۔ مقامی عباسیوں کو شہ ملی کہ وہ باغی مسلمانوں کو ساتھ لے کر ہر جگہ شورش پیدا اسپین کی اموی خلافت کے بعد اسپین کا ملک چھوٹی چھوٹی مسلم ریاستوں میں تقسیم ہو گیا جنھوں نے قرطبہ، اشبیلیہ، غرناطہ، بلنسیہ، طلیطلہ، القاو وغیرہ شہروں کو اپنا پناہ دار حکومت بنا لیا۔ طارق بن زیاد ۹۲ ھ (۷۱۱ء) میں اسپین میں داخل ہوا تھا اور ۱۳۸۹ ھ (۷۹۲ء) میں اسپین سے مسلم

اقتدار کا خاتمہ ہواا۔ آٹھ سو برس کی اس طویل مدت کا کوئی دن ایسا نہیں گزرا جو بغاوتوں اور شورشوں سے یہ حقیقت ہے کہ اسپین کو اکثر بہت لائق حکمراں ملے ۔ عدل وانصاف کے اعتبار سے بھی اور تمدن و سیاست کے اعتبار سے بھی۔ اور بلاشبہ انھوں نے مشکل حالات کے باوجود تمدن اور سیاست دانی کے اعتبار سے اسپین میں ایک عظیم تاریخ بنائی، مگر اندرونی حالات اور مرکز خلافت کی شہ کی بنا پر ملک کی عیسائی رعایا مسلسل بغاوتوں پر مائل رہتی تھی جس کی وجہ سے وہ ماحول نہ بن سکا جس میں اس اہم ترین کام کی بنیاد پڑتی جس کے لیے اسلام نے کشور کشائی اور جہاں بانی کے میدان میں قدم رکھا تھا۔ یعنی اشاعت دین کا کام۔ اور اطراف عرب کے اکثر ممالک جتنی مدت میں مکمل طور پر اسلامی آبادی کے ملک بن گئے اس سے بہت زیادہ مدت پانے کے باوجود اسپین اسلامی آبادی کا ملک نہ بن سکا۔

اسپین میں مسلم حکومت کی مثال تقریباً ویسی ہی ہے جیسے آزادی سے قبل ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت کی مثال۔ انگریزوں نے ہندوستان میں اپنے سو سالہ دور حکومت میں ملک کو زبردست تمدنی ترقیات سے مالا مال کیا۔ اگر چہ انھوں نے وہ غلطی نہیں کی جو اسپین کے مسلمانوں نے کی تھی۔ انھوں نے سارے ملک میں عیسائی مشنریوں کا جال بچھا دیا اور ان کو بے پناہ سہولتیں عطا کیں مگر مسیحی مذہب میں اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ اس ملک کی آبادی کو اپنا ہم عقیدہ بنا لیتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب ہندوستان سے انگریزوں کی ہوا کھڑی تو عالی شان عمارتیں اور بڑے بڑے پل ان کے کام نہ آسکے اور انھیں ہندوستان چھوڑ کر وطن واپس

طارق بن زیاد نے جس اسلامی جذبے کے تحت اسپین کی سرذہن پر قدم رکھا تھا اگر وہ جذبہ جاری رہتا اور وہاں مستحکم حکومت کی روایت قائم ہوسکتی تو اسپین میں مسلمانوں کے سوا کسی کا وجود نہ ہوتا۔ دریا پار کرنے کے بعد اپنی طویل دعا میں اس نے رب لا تذر علی الارض من الکافرین دیا را کی آیت بطور بد دعا نہیں دہرائی تھی۔ بلکہ یہ اپنے اس عزم کا اظہار تھا کہ وہ اس ملک کو کفر و شرک سے خالی کرکے اسلام کا گہوارہ بنا دینا چاہتا ہے۔ مسلم اسپین کی ابتدائی تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائی کثرت سے اسلام قبول کر رہے ہیں۔ مگر چند ہی برس بعد وہاں کی سیاست کا رخ اس طرح بدلا کہ تبلیغ دین کا کام پس پشت پڑ گیا۔ ۱۳۲ھ میں جب مرکز خلافت میں تبدیلی ہوئی اور بنوامیہ کی جگہ بنوعباس کی سلطنت قائم ہوئی تو اس زمین کو مزید تقویت ملی۔ کو جتنی دلچسپی تمدن اور علوم وفنون کی ترقی سے تھی اتنی دین کی اشاعت سے نہیں تھی۔ اس طرح بغداد کے اثر سے قرطبہ تمدن اور علوم وفنون کا مرکز تو بن گیا مگر وہ اشاعت دین کا مرکز نہ بن سکا۔ چنانچہ اسپین میں جب حالات بدلے تو وہاں کی مسلم اقلیت پر عیسائی اکثریت آناً فاناً غالب آگئی اور الحمرا کا بے مثال محل مسلمانوں کے کچھ کام نہ آسکا۔ چونکہ عام آبادی میں عیسائیوں کو غلبہ حاصل تھا اس لیے ۹۰۲ھ میں قرطبہ کو زیر کرنے کے بعد جب مسلمانوں کے خلاف دار دگیر شروع ہوئی تو ان کے لیے وہاں چھپنے کی

بھی کوئی جگہ نہیں تھی۔ عیسائیوں نے غالب آتے ہی تمام ملک میں اپنی مذہبی عدالتیں قائم کردیں جن میں ہر روز ہزاروں مسلمان گرفتار کر کے لائے جاتے اور طرح طرح کے جھوٹے الزامات لگا کر آگ میں جلا دیے جاتے ۔ میں ایک عام حکم جاری کیا گیا کہ ہر وہ شخص جو مسلمان ہے وہ دین مسیحی قبول کرلے ورنہ جہاں اس کو پایا جائے گا قتل کر دیا جائے گا۔ کچھ مسلمان جہازوں پر سوار ہو کر افریقہ کے لیے روانہ ہوئے مگر ان کو ساحل افریقہ تک۔ پہنچنے سے پہلے ہی سمندر میں غرق کر دیا گیا۔ آخر کار کوئی ایک بھی توحید پرست سرزمین اسپین میں باقی عیسائیوں نے سب کو یا تو تلوار کے گھاٹ اتار دیا۔ یا سمندر میں ڈبودیا۔ یا آگ میں جلا ڈالا۔

خلفائے اربعہ کے بعد اسلامی حکومت بنی امیہ کے ہاتھ میں چلی گئی جس کے بانی امیرمعاویہ( وفات۶۰ھ) تھے اس سلسلہ حکومت کا پانچواں فرماں روا عبد الملک بن مروان تھا۔ ۸۶ھ میں عبد الملک کا انتقال ہوا۔ انتقال سے پہلے اس نے اپنے دونوں بیٹوں ولید اور سلیمان کو ولی عہد مقرر کر دیا۔ اس نے تمام صوبوں کے گورنروں اور عاملوں کے نام فرامین جاری کیے کہ عید الفطر کے اجتماع میں یکم شوال ۸۶ ھ کو ولید و سلیمان کی ولی عہدی کے لیے بیعت لی جائے۔ چنانچہ تمام ممالک اسلامی میں تاریخ مقررہ پر ان دونوں کی ولی عہدی کے لیے بیعت یہی موقع ہے جب کہ مدینہ کے مشہور محدث سعید بن مسیب کو بیعت سے انکار کرنے پر درے لگائے گئے ۔ عبدالملک بن مروان (۸۶-۲۳ھ) کے انتقال کے بعد جب اس کا بڑا لڑکا ولید تخت پر بیٹھا تو اس نے یہ کوشش شروع کی کہ اپنے بعد تخت کی وراثت اپنے بھائی (سلیمان) کے بجائے اپنے بیٹے (عبدالعزیز) کی طرف ولید بن عبد الملک نے پہلے اپنے بھائی سلیمان کو لکھا کہ وہ از خود ولی عہدی سے دست بردار ہو جائے ۔ جب سلیمان اس کے لیے تیار نہ ہوا تو اس نے دوسری تدبیر کی۔ اس نے تمام والیان ملک اور ممتاز افراد کو اپنے حق میں ہموار کیا اور طے کیا کہ ایک روز کسی خاص اجتماع کے موقع پر تمام ممالک اسلامی میں سلیمان بن عبد الملک کی ولیعہدی کی منسوخی کا اعلان کر دیا جائے اور اس کے بجائے عبدالعزیز بن ولید کی پیدی پر لوگوں سے بیعت لے لی جائے ۔

مگر اس منصوبہ کی تکمیل سے پہلے ۱۵ جمادی الثانی ۹۶ ھ (فروری ۷۱۵ء) میں اس کا انتقال ہو گیا۔ بن عبدالملک کے انتقال کے بعد سلیمان بن عبدالملک تخت نشین ہوا تو قدرتی طور پر وہ ان سرداروں کا دشمن ہوگیا جنہوں نے اس کو تخت سے محروم کرنے کی سازش میں اس کے بھائی ولید کا ساتھ دیا تھا۔ اٹھیں میں سے ایک حجاج بن یوسف تھا جو مشرق کے اسلامی ممالک کا وائسرائے تھا اور مغربی ممالک کا واشرائے موسیٰ بن نصیر حجاج کا صدر مقام عراق تھا اور موسیٰ بن نصیر کا قیروان۔ ان دونوں نے ولید کے منصوبہ کی حمایت کی تھی اس لیے دونوں سلیمان کی نظر میں وہ بدترین دشمن تھے جن سے سب سے پہلے نمٹنا نئے حکمراں کے لیے ضروری تھا۔ حجاج، سلیمان بن عبد الملک کی تخت نشینی سے آٹھ ماہ پہلے شوال ۹۵ ھ میں انتقال کر گیا تھا۔

سلیمان اب حجاج بن یوسف کو نہیں پا سکتا تھا۔ تاہم حجاج کے رشتے دار اس کے انتقامی جذبات کی تسکین کے لیے موجود تھے جن میں سرفہرست حجاج کے ابن عم اور داماد محمد بن قاسم کا نام تھا جس نے سندھ (موجودہ پاکستان) میں غیر معمولی فاتحانہ کارنامے دکھا کر حجاج کی شہرت میں اضافہ کیا تھا۔ محمد بن قاسم نہایت اعلیٰ درجہ کی قابلیت رکھنے والا سپہ سالار تھا۔ ایک مورخ کے الفاظ میں، اس نے سندھ و ہند کی فتوحات میں ایک طرف اپنے آپ کو رستم واسکندر سے زیادہ بڑا بہادر ثابت کیا تو دوسری طرف نوشیروان عادل سے بڑھ کر عادل ورعا یا پرور ظاہر ہوا۔ یہ نوجوان فتح مند سردار سندھ و پنجاب میں اتنی تیزی سے گھس رہا تھا اور بستیوں کی بستیاں اس کے اثر سے اس طرح دائرہ اسلام میں داخل ہوتی چلی جارہی تھیں کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ عنقریب سارا علاقہ ایک اسلامی علاقہ بن جائے گا۔ ہندوستان کی مہم پر محمد بن قاسم کو حجاج ہی نے روانہ کیا تھا اس کے لیے حجاج نے کتنا اہتمام کیا تھا اس کا اندازہ چند مثالوں سے ہوگا۔

۱- حجاج نے دیگر تمام ساز وسامان کے علاوہ ۳۰ ہزار دینار خصوصی طور پر محمد بن قاسم کے ہمراہ کیے تاکہ ناگہانی ضرورت کے وقت کام آسکیں (عربی معصم) کہا جاتا ہے کہ فوج کشی کی اس مہم پر کل ۶ کروڑ درہم صرف

۲- فراہمی سامان کا حجاج کو اس قدر خیال تھا کہ اس نے سوچا کہ محمد بن قاسم کو عربوں کی عادت کی بنا پر پہ کھانے میں سرکہ کی ضرورت ہوگی۔ چنانچہ اس نے بہت سی روئی سرکہ میں تر کر کے خشک کرایا اور اس کو محمد بن قاسم کے پاس روانہ کیا اور لکھا کہ جب سرکہ کھانے کا جی چاہے تو اس کو پانی میں بھگو کر نچوڑ لیا کرنا پانچ یہ منجنیقیں جو بھاری ہونے کی وجہ سے خشکی کے راستے سے روانہ نہ ہو سکتی تھیں، ایک بڑے جہاز پر لاد کر ساحل سندھ کی طرف روانہ کیں۔ منجنیقیں اتنی بڑی تھیں کہ ان میں سے ہر ایک کو چلانے کے پانچ سو آدمیوں کی ضرورت ہوتی تھی اس پوری مہم کے دوران حجاج اور محمد بن قاسم کے درمیان ڈاک کا سلسلہ جاری رہا۔ حجاج بصرہ میں تھا اور محمد بن قاسم سندھ میں۔ مگر انتظام یہ تھا کہ ہر تیسرے روز ایک خط حجاج لکھتا تھا اور اسی طرح محمد بن قاسم بھی ساری مصروفیات کے باوجود ہر تیسرے روز حجاج کے نام مفصل حالات تحریر کرتا۔ ڈاک کی روانگی کے لیے ایسے خاص انتظامات کیے گئے تھے کہ اگر چہ دیبل (سندھ) اور بصرہ میں ہزاروں کوس کا فاصلہ تھا مگر برابر ساتویں روز بصرہ سے دیبل اور دیبل سے بصرہ دونوں کے خطوط پہنچ جاتے تھے۔

محمد بن قاسم نے ۹۳ھ میں ملتان فتح کیا۔ اب پورا سندھ اس کے قبضہ میں تھا۔ بحر عرب سے لے کر حدود کشمیر تک تمام راجاؤں اور سرداروں نے اسلام کی عظمت کو تسلیم کر لیا تھا۔ اب اس نے پورے برصغیر میں اسلام کی اشاعت کا منصوبہ بنایا اور قنوج کی طرف کوچ کرنا شروع کیا۔ اس کا خیال تھا کہ قنوج پر قبضہ کرنے کے بعد

بقیہ علاقں کی فتوحات کا دروازہ کھل جائے گا۔ مگر ۹۶ھ میں سلیمان بن عبدالملک تخت نشین ہوا۔ حجاج کے متعلقین سے حجاج کا بدلہ لینا تھا۔ اس نے ایک طرف حجاج کے بعد یزید بن مہلب کو عراق کا والی مقرر کیا اور ایک خارجی المذہب صالح بن عبدالرحمن کو خراج وصول کرنے کی خدمت سپرد کی۔ یہ دونوں حجاج کے بدترین دشمن تھے۔ چنانچہ سلیمان کے حکم کے مطابق ان دونوں نے نسل عقیل (خاندان حجاج) کے لوگوں کو طرح طرح سے ماخوذ کر کے قتل کرنا شروع کیا۔

دوسری طرف سلیمان نے محمد بن قاسم کو ولایت سندھ سے معزول کرنے کا حکم جاری کر دیا جس کا قصور اس کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ وہ حجاج کا ابن عم اور داماد تھا اور حجاج کا نامور عزیز ہونے کی بنا پر اس کو ہلاک کر کے سلیمان اپنے انتقامی جوش کو ٹھنڈا کر سکتا تھا۔ سلیمان نے محمد بن قاسم کی جگہ یزید بن ابی کبشہ کو سندھ کا حاکم مقرر کیا۔ نیا حاکم دربار خلافت کا حکم لے کر سندھ پہنچا۔ اس نے محمد بن قاسم کو گرفتار کیا اور مجرموں کی طرح اس کو ٹاٹ کے کپڑے پہنائے، ہاتھ پاؤں میں زنجیریں ڈالیں اور معاویہ بن مہلب کی حراست میں عراق روانہ یہ بھی محمد بن قاسم کی سعادت مندی تھی۔ ورنہ سندھ میں وہ اتنا مقبول تھا کہ وہ خلیفہ کے حکم سے بغاوت کر کے خود یزید اور مہلب کو گرفتار کر سکتا تھا۔

فتوح البلدان کے بیان کے مطابق عربی کا مشہور و شعراسی وقت محمد بن قاسم کی زبان پر جاری ہوا تھا: اضاعونی وای فتی اضاعوا ليوم كريهة وسداد ثغر لوگوں نے مجھے ضائع کر دیا اور کیسے جوان کو ضائع کیا۔ وہ جو مصیبت کے دن کام آئے اور سرحدوں کو محفوظ رکھے) اس کے بعد محمد بن قاسم کو دمشق لے جایا گیا۔ وہاں سلیمان کے حکم سے وہ واسط کے جیل خانہ میں قید کر دیا گیا۔ اس پر داروغہ جیل کی حیثیت سے صالح بن عبدالرحمن مسلط تھا جس نے اس کو جیل میں طرح طرح کی تکلیفیں دے کر مار ڈالا ایک مورخ ان واقعات کو بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے:

"اگر ولید بن عبدالملک کی زندگی کچھ روز اور وفا کرتی۔ یا سلیمان ہی عقل و ہوش سے کام لے کر محمد بن قاسم کو چھوڑ دیتا تو شاید ایشیا کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔

یہی مورخ مزید لکھتا ہے "محمد بن قاسم کے زمانہ میں خلقت خدا کثرت سے اسلام قبول کرتی جارہی تھی۔ دین کی جو سچی اور صحیح کوشش اس نے چند روز میں کر کے دکھادی۔ بعد کی بڑی بڑی سلطنتیں صدیوں میں بھی نہ کر سکیں۔ اس نو عمر سپہ سالار نے چند روز کی حکمرانی میں جو گہرا اثر ڈال دیا تھا۔ ویسا اثر پٹھانوں اور مغلوں کی سلطنتیں پانچ سو برس میں بھی ملک پر نہیں ڈال سکیں۔ سندھ کے علاوہ بقیہ ملک میں آج مسلمان تھوڑے ہیں اور ملک پر کوئی اثر نہیں رکھتے۔ کے سندھ میں سب سے بڑا غلبہ مسلمانوں کو حاصل ہے اور یہ صرف عربوں اور خاصہ محمد بن قاسم کی دین ہے۔

مولانا وحید الدین خاں صفحات ۴۲۰ ۔ قیمت مجلد مع پلاسٹک کور پندرہ روپے قیمت مجلد بغیر پلاسٹک کور تیرہ روپے دین کی حقیقت ، تعلیمات قرآن کی حکمتیں ، سیرت رسول کا انقلابی سبق موردہ زمانہ میں اسلام کے مسائل، دین کا تجدید و احیار امت مسلمہ کی تعمیر، دعوت اسلامی کے جدید امکانات ۔ ان موضوعات کے گہرے مطالعہ کے لئے " الاسلام " پڑھئے ۔ جدید سائنٹفک اسلوب میں ، نہایت دلچسپ اور معلومات سے بھر پور۔ اداروں، طالب علموں، نیز کم آمدنی والوں کے لئے غیر معمولی رعایت تاجروں اور ایجنٹوں کے لئے خصوصی کمیشن قیمت بذریعہ منی آرڈ بھیج کر طلب فرمائیں کتاب کی روانگی کا ڈاک خرچ ادارہ کے ذمہ ہوگا۔ بیرونی ممالک کے لئے تیس روپے یا اس کے مساوی رقم الدار العلمیہ، جمعیتہ بلڈنگ، قاسم جان اسٹریٹ، دہلی۔ AL-DARUL ILMIYYA, JAMIAT BUILDING, QASIMJAN STREET, DELHI 6 (India)

" الاسلام، اسلوب تحریر اور مواد و استدلالی دونوں کے اعتبار سے آج کی کامیاب ترین کتاب ہے۔ میں علماء سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس کا گہرا مطالعہ کریں، اور ایک درسی کتاب کی طرح اس سے فائدہ اٹھائیں" حضرت مولانا اخلاق حسین قاسمی دہلوی تحریر فرماتے ہیں:

Printed page