مراسلات
Al-Risala, September 1977, pp. 43–44
By Maulana Wahiduddin Khan
الرسالہ کے سلسلے میں قارئین کے تعریفی خطوط موصول ہوتے رہتے ہیں۔ یہاں ہم ایک قاری کا خط نقل کر رہے ہیں جو اس سے پہلے ہم سے سخت قسم کا فکری اختلاف رکھتے تھے۔ الرسالہ کے مسلسل مطالعہ کے بعد انھوں نے اپنے احساسات مندرجہ ذیل الفاظ میں تحریر فرمائے ہیں۔
خدا آپ کے سہون واطمینان کو بحال رکھنے کے لیے آپ کو ہر پریشانی سے محفوظ رکھے تا کہ اللہ کی منشا کی بات آپ بہتر سے بہتر طور پر بندگان خدا کے سامنے رکھ سکیں خدا آپ کی خوب سے خوب تر واقعی آپ نے میرا دل جیت لیا ہے اب میں آپ سے بہت خوش ہوں۔ کل آپ سے ناراضی کی بنیاد سوائے اس کے اور کچھ نہیں تھی جس کی بنیاد پر اب خوش ہوں۔ خدا اپنا کرم کرے۔ کی باتیں مضامین کی شکل میں ایسی لگ رہی ہیں جیسے حقیقت کا خزانہ یہی ہیں۔ اللہ آپ کی مدد کرے اور ہر برائی کے اندیشے سے محفوظ رکھے۔ آپ نے دل جیت لیا کا مطلب ان معنوں میں نہیں ہے کہ کسی مخالف کے ساتھ اچھا برتاؤ کر کے اپنا بنا لیں ۔ یہ واقعہ ہے کہ میں آپ کی باتوں کا بغور مطالعہ کر کے اس میں حقیقت کی روشنی پا رہا ہوں اور میرا یہ یقین بن چکا ہے کہ اسی طریقہ کو اپنا کر اسلام کو صحیح معنوں میں غالب کیا جا سکتا ہے۔ مگر بہت کم لوگ اس مشکل راستے کو اپنا سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ مجھ سے اکثر ناراض رہے ہیں اور اب تو اور بھی اس میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔ جہاں معقولیت نام کو جذباتیت اور خود پسندی کا وہاں معقولیت کی امیدعبث اللہ آپ کی مدد کرے ۔ میرے دل کی گہرائیوں سے دعا نکلتی رہتی ہے۔ اللہ تعالی نے آپ کو بہت اچھی سمجھ دی ہے۔ پس اللہ تعالٰی کی مدد سے اس کو سنبھال رکھیے، ورنہ بہت سے شیطان پسندی کا شکار ہو گئے ہیں۔ اسی لیے اپنی پسند سے آگے جانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اللہ تعالی ایسے آدمی سے اپنے دین کو بچائے۔ اللہ تعالیٰ الرسالہ کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا کرے۔ کاش کہ لوگ سمجھیں ۔ الرسالہ میری نظر میں ایمان و اسلام کا خزانہ لیے ہوئے ہوتا ہے بلکہ خدا پسندی کا لافانی سامان لیے ہوتا میں جب بھی پڑھتا ہوں تو میرا دل بے ساختہ آپ کو دعائیں دیے بغیر نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر تازہ شمارہ کا انتظار قریبی ڈاکخانہ سے شروع ہو جاتا ہے۔ اللہ آپ کو اس کا خوب بدلہ عطا کرے۔ اور اس کو ہر بندہ خدا تک پہنچنے کا سامان اور مخالفین کو سوچنے کی توفیق عطا کرے۔ سب سے بڑا اعتماد خدا پر اعتماد ہے۔ " یہ مضمون پڑھنے کے بعد مجھے اپنی لکھی بات مناسب نہیں معلوم ہوئی کہ ایسے لوگوں سے نصیحت کی بات کروں جو خود ایسی گمراہ کن باتیں
آج آپ کا یہ مضمون پڑھ کر دل سے بہت دعائیں دیں : " دعوت اسلامی کے جید یاہرہ کائنات" ایک ایک سطر کئی بار پڑھا۔ اور بڑی خوشی ہوئی مضمون بہت اچھا لگا۔ اللہ آپ کی مدد کرے ۔
"الاسلام‘‘ واقعی آپ کا ایک غیر معمولی کارنامہ ہے اور خدائے تعالیٰ اس کو قبولیت کا درجہ عطا فرمائے (اپنی بارگاہ میں) میں اس کی باتوں سے متفق ہی بنیں اس کے عام ہونے کا خواہشمند انشاء اللہ آج نہیں تو کل یہ مقبول عام ہو کر رہے گی ۔ اور اسلام کو سر بلندی اسی طریقے سے مل سکتی ہے ۔ اگر یہ کتاب میں پہلے دیکھتا تو آپ کا میرا اختلاف کبھی نہیں ہوتا ۔ میں آپ کا پہلے سے بھی شخصی طور پر بہت قدردان ہوں لیکن میرے ذہن میں آپ کی طرف سے یہ بات بہت کھٹکتی تھی کہ "خدا پسند حکومت کے قیام کی ضرورت نہیں جبکہ میرے خیال میں خدا ہی اس زمین کا خالق اور مالک ہے تو پھر اس زمین پر دوسروں کی مرضی کیسے ؟ پھر ایک اچھی حکومت کے بغیر انسانی حقوق کا تحفظ بھی ممکن نہیں ۔ مگر اب یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ کہ آپ خدا پسند حکومت کے مخالف نہیں بلکہ اس طریقہ کے مخالف ہیں جس سے وہ کبھی قائم نہیں ہو سکتی اور موجودہ واقعات بھی آپ ہی کی بات کی تصدیق کرتے ہیں ۔ مجھے آپ کی بات پوری طرح پٹ گئی ہے یعنی میں نے اس کو پوری طرح تسلیم کر لیا ہے۔ کتاب الاسلام کے بارے میں میرا خیال ہے کہ دین پہنچانے کی ذمہ داری کے تحت الاسلام ہی کو پیش کر دینا کافی ہے ۔ "حرف آخر‘‘ بھی بہت معقول اب تو واقعی الرسالہ کے بعد کوئی پرچہ اچھا اس کی وجہ یہی ہے کہ آج ہماری سب سے اہم ضرورت یہی ہے کہ ہم مسلمان نہیں اور مسلمانی کو عام کریں۔