Al-Risala · September 1977

خلیج کے کنارے

Al-Risala, September 1977, pp. 45–46

By Maulana Wahiduddin Khan

متحدہ عرب امارات سمندر کے اس حصہ کے شمال مشرقی سرے پر واقع ہیں جس کو عرب خلیج عرب کہتے ہیں اور ایرانی خلیج فارس سات ریاستوں پر مشتمل اس وفاق کا یہ نام ۱۹۷۱ء سے لیا جانے لگا۔ اس سے پہلے اس وفاق کا ہر حصہ اپنی الگ الگ امارت کے نام سے موسوم تھا، انہی سات ریاستوں میں سے ایک ابوظہبی ہے جس کے امیر شیخ زاید بن سلطان الہیان متحدہ عرب امارات کے صدر ہیں۔ ۱۹۶۶ء میں وہ ابوظہبی کے حکمراں مقرر ہوئے

ایران اور عمان کی طرح متحدہ عرب امارات کے غوطہ خور قدیم زمانہ میں سمندر سے موتی نکالنے کا کام کرتے تھے۔ آج بھی اس علاقہ میں آپ کو کوئی نہ کوئی ایسا شخص ملے گا جو فخر کے ساتھ آپ کو بتائے گا کہ اس کا کس نے کا نکالا ہوا کون سا موتی کس تاج دار یا تاجر کی کلاہ کی زینت بن چکا ہے۔ موتی نکالنے کا یہ قیمتی پیشہ ختم ہو چکا ہے۔ میں پالش شدہ مصنوعی موتیوں کی صنعت نے جنم لیا اور ۱۹۳۹ء سے اس نے دنیا کی موتی کی منڈیوں کو پاٹنا شروع کر دیا۔ کے ان مصنوعی موتیوں نے خلیج کے موتیوں کی صنعت کو بالکل ختم کر دیا کچھ عرصہ تک یہ علاقہ سخت بیروزگاری کا شکار رہا کیونکہ یہاں موتی اور ماہی گیری کے سوا کسی قسم کی کوئی صنعت یا تجارت نہ تھی۔ مگر اس کے بعد اس علاقہ میں تیل کی دولت نکل آئی جس نے اس علاقہ کو پہلے سے ہزاروں گنا زیادہ مالا مال کر دیا۔ آج عرب امارات میں تعلیم اور علاج مکمل طور پر مفت ہے۔ اور معذوروں کو مستقل وظیفے دیے جاتے ہیں اور بے شمار طریقوں سے حکومت اپنے شہریوں کی مدد کرتی ہے۔ اسی کے ساتھ ماہی گیری ، زراعت، جہاز رانی کو جدید ڈھنگ سے ترقی دی جا رہی ہے۔ وہ علاقہ جو پہلے ہر قسم کی زرعی پیداوار کے لیے مکمل طور پر درآمدات کا آج کئی قسم کی سبزیاں اور پھل برآمد کرنے کے قابل ہو گیا ہے۔ بندرگاہیں، کارخانے، اسپتال، جدید طرز کے شہر ہر روز اس پھیل میدان سے ابھر رہے ہیں۔ لوگوں کے پاس سننے والے کان ہوں تو سچائی کو بتانے کے لیے کسی اعلان کی ضرورت نہیں؛ کائنات کی خاموش زبان ہر آن سچائی کو اس سے زیادہ بہتر طور پر نشر کر رہی ہے جو کوئی انسان اپنی تحریر و تقریر کے ذریعہ کر سکتا ہے۔

تعارف و تبصرہ عمدۃ اللبیب شرح شم الحبیب تالیف: مولانا نیاز محمد صاحب صفحات ۲۱۰، قیمت آٹھ روپے شامل رسورت کا مضمون عربی میں ہے اور الفاظ زیر نظر کتاب اپنی مفصل تعلیقات کے ساتھ محض نسیم الحبیب کی شرح نہیں ہے بلکہ اس میں جگہ جگہ مختلف علوم سے متعلق قیمتی نکتے بیان ہوتے چلے گئے ہیں۔ مثلاً صفحہ ۴۰۔ ۳۸ پر حضرت حسن کے بارے میں مفید تاریخی معلومات درج ہیں ۔ موضوع کا بہت احاطہ کرنا بہت امکان ضرور ہے ، سے بارے ہیں۔ یہ مفید معلومات درج ہیں ۔ متقدمین نے اس پر کثرت سے کتابیں لکھی ہیں جن میں امام ابو عیسیٰ ترمذی (م (۲۷۹ھ) کی کتاب سب سے زیادہ کامیاب سمجھی جاتی ہے۔ مفتی الہی بخش کاندھلوی (م ۱۲۷۵ھ- ۱۲۱۲ھ) کی شمائل نبوی پر ایک مختصر کتاب ہے جس کا نام ہے شیم الحبیب۔ زیر نظر تالیف اسی عربی کتاب کی عربی شرح ہے۔ یہ کتاب، مختصر ہونے کے باوجود نہایت جامع اور نافع ہے اسی طرح مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ہشاش بشاش رہتے تھے ردائم البشر) دوسری طرف حدیث یہ بتاتی ہے کہ آپ مسلسل غمگین رہتے تھے۔ کوئی چیز آپ کی راحت کا باعث نہیں ہوتی تھی (کان متواصل الاحزان لیس لہ راحة) اس کی تشریح صاحب کتاب نے نہایت فطری انداز میں کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ دونوں میں کوئی تضاد نہیں، احساسِ درد کا جو آپ ہو کے باوجود اپنے موضوع پر کافی جامع ہے اور فاضل شارح کی مفصل تعلیقات نے اس کو مکمل بنادیا ہے۔ مولانا کی محنت اور تحقیق کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ موصوف نے شمائل نبوت پر بعض ایسی حدیثیں بھی تلاش کر کے نقل کی ہیں جو عام شرحوں میں نہیں پائی جاتیں ۔ مولانا نیاز محمد صاحب (پیدائش 1919ء) علاقہ میوات کے مشہور علماء میں سے ہیں۔ (ضلع گڑگاؤں) میں ایک عربی مدرسہ کامیابی کے ساتھ چلا رہے ہیں۔ زیر نظر شرح کے علاوہ آپ نے اور بھی متعدد کتابیں تالیف کی ہیں جو یا یوں کہیے جب آپ ملاقاتیں کرتے اور لوگوں کے درمیان ہوتے تو آپ ہشاش بشاش چہرہ کے ساتھ ان سے جب آپ تنہا ہوتے تو اس وقت آپ پر ذمہ داری کا احساس غالب رہتا اور آپ غم میں ڈوب جاتے۔

Printed page