دعا یا کرتب
Al-Risala, September 1977, p. 2
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک شخص حکومت کے کسی شعبہ میں جگہ حاصل کرنے کے لئے ملازمت کا فارم بھرے تو اس کا نام اس کے برعکس اگر وہ ایسا کرے کہ اپنے گھر میں سر نیچے اور پاؤں اوپر کر کے کھڑا ہو جائے اور یہ یقین کرے کہ اسی حال میں ستار دن رہوں گا تو مجھ کو ملازمت مل جائے گی، تو یہ کرتب ہے، درخواست دینا ایک بالکل معقول مگر کرتب اتنی ہی بے معنی چیز ہے۔ اسی طرح خدا سے مانگنے میں بھی ایک دعا کا طریقہ ہے اور دوسرا کرتب کا طریقہ۔ دعا یہ ہے کہ آدمی اپنے حاجات و مسائل میں خدا کی طرف رجوع کرے، اس سے روئے گڑگڑائے، اس سے حاجت روائی کی درخواست کرے۔ یہ عین مطلوب حدیث میں ہے کہ جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اس کو بھی خدا سے مانگو۔
مگر کچھ لوگوں نے اسی کے ساتھ کرتب کے کچھ طریقے نکال رکھے ہیں فلاں لفظ اتنی بار دہرا دو تو بلائی جائے گی، فلاں وقت میں فلاں عمل کر لو تو حاجات پوری ہو جائیں گی۔ کاغذ پر لکھ کر اتنے دن تک باندھے رہو تو دشمن ختم ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کرتب ہیں۔ دعا (اللہ کو پکارنا) جتنا با معنی ہے، کرتب (عملیات) کے طریقے اتنے ہی بے معنی ہیں۔ پہلا عین اسلامی ہے اور دوسرا قطعا غیر اسلامی۔
۲ دعا یا کرتوت ۔
۴ منفی تدبیروں سے مثبت نتیجہ نہیں نکلتا ۔ ۶ جب مادی حالات کے اندر روحانی دعائیں نکلنے لگیں ۷ حق بے آمیز شکل میں ۸ شریعت کے نفاذ کا نیا رجحان ۱۰ موجودہ مسیحی مذہب ۱۱ معلومات نہیں، ذہنی رجحان ۱۲ کیسا ہیبت ناک دن ۱۳ خدا انسانی فطرت کی آواز ۱۴ ناموافق حالات ترقی کا زینہ ۱۷ قرآن کا مطلوب انسان ۲۸ صنعتی نظام کا تضاد ۲۹ نادانی کی چھلانگ ۳۰ تاریخ کو انتظار ہے ۳۳ نصرت الہی کا اصول (الاسلام)
۳۵ آدم سے مسیح تک ۳۸ نبوت محمدی کا ظہور ۴۱ بائبل کی پیشین گوئیاں ۴۹ ڈاکٹر تارا چند ۵۰ خاتونِ اسلام ۵۱ کام میں انہماک ۵۲ آپ بیتی ۵۳ جب ذہن الٹی طرف کام کرنے لگیں ۵۴ حال کے اندر مستقبل کو دیکھیئے ۵۵ رو دادِ سفر ۵۸ تعارف و تبصرہ