خدا کا کلمہ ان کے حق میں پورا ہو کر رہا
Al-Risala, January 1977, pp. 5–13
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت موسیٰ علیہ السلام (۱۴۰۰۔ ۱۵۲۰ ق م) کی آمد سے ساڑھے تین ہزار برس پہلے یہ واقعہ ہوا کہ فلسطین اور شام کے علاقے کے کچھ عرب، جن کو عمالیق، کہا جاتا تھا، مصر میں داخل ہوئے اور وہاں کے مقامی حکمرانوں کے آپس کے اختلاف سے فائدہ اٹھا کر مصر کی سلطنت پر قابض ہو گئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام ۱۷۹۶- ۱۹۰۶ ق م) جب نوجوانی کی عمر میں فلسطین سے مصر پہنچے تو اس وقت مصر پر اُن کے ہم قوموں کی حکومت تھی ۔ ایک عورت کی پیدا کردہ بعض ابتدائی مشکلات کے بعد آپ کو مصر میں بڑی مقبولیت آپ ایک شان دار شخصیت کے مالک تھے اور آپ کے اندر غیر معمولی انتظامی صلاحیت تھی ۔ حکمرانوں کو نسلی قربت کی وجہ سے آپ کی صلاحیتوں کے اعتراف میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔ آپ کے زمانہ کے عرب بادشاہ اپوفیس نے آپ کے دین کو قبول نہ کرتے ہوئے بھی حکومت کا تمام کاروبار آپ کے سپرد کر دیا۔ بعد حضرت یوسف نے اپنے والد حضرت یعقوب (اسرائیل) اور دیگر اہل خاندان کو مصر بلالیا۔ یہ لوگ تقریباً چار سو سال تک مصر کی حکومت پر چھائے رہے۔ مصر کے آئینی حکمران اگر چہ اب بھی مشرک عمالیق تھے مگر حکومت پر عملاً بنی اسرائیل ہی کا قبضہ تھا۔
بنی اسرائیل ابتداء جب مصر آئے تو ان کو یہاں کی انتہائی زرخیز زمینوں میں بسایا گیا، اور حکومت کے اعلیٰ ترین مناصب ان کے لئے مخصوص رہے۔ مگر یہ اکثریت کے اوپر اقلیت کی حکومت تھی۔ بائبل کے مطابق یعقوب (اسرائیل) کا گھرانا جو ملک مصر منتقل ہوا، ان کی تعداد حضرت یوسف کو ملا کر ۷۰ تھی ۔ توالد و تناسل نیز تبلیغ کے ذریعے دور قدیم کے ان مسلمانوں ، کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ پانچ سو برس بعد جب حضرت موسیٰ نے مردم شماری کرائی تو صرف ان کے مردوں کی تعداد چھ لاکھ سے زیادہ ہو چکی تھی۔ اگرچہ اس زمانے کی مصری آبادی کے قطعی اعداد و شمار معلوم نہیں ہیں، تاہم تخمینی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مصر کی اس زمانے کی آبادی میں بنی اسرائیل کی تعداد تقریباً ۱۰فی صد ہوگی ۔ حضرت یوسف نے ۱۱۰ سال کی عمر پائی۔ آپ کے تین چار سو سال بعد مصر میں عرب حکمرانوں کے خلاف رد عمل ہوا لمبے خون خرابے کے بعد بالا خر قبطی غالب آئے۔ بیرونی حکمرانوں کو تخت سے بے دخل کر دیا گیا اور مصر پر ایک قبطی خاندان کی حکومت قائم ہو گئی جس کے حکمرانوں نے فرعون کا لقب اختیار کیا۔
قبطی حکومت کے قیام کے بعد اگر چہ ڈھائی لاکھ عربوں کو مصر سے نکال دیا گیا تھا۔ تاہم بنی اسرائیل اب بھی وہاں رکھے گئے تاکہ نئے حکمرانوں کے لئے بیگار کا کام دے سکیں۔ بائبل کے الفاظ میں: " مصریوں نے خدمت کروانے میں بنی اسرائیل پر سختی کی اور انھوں نے سخت محنت سے گارا اور اینٹ کا کام اور سب خدمت کھیت کی کروا کے ان کی زندگی تلخ کی۔ اور ان کی ساری خدمت جو وہ ان سے کراتے تھے مشقت کی تھیں ۔ خروج ۱: ۱۳-۱۴
حضرت موسیٰ تشریف لائے تو بنی اسرائیل اسی دورمشقت سے گزررہے تھے۔ آپ نے قبطی فرعونی تہذیب کے مقابلہ میں مغلوب حیثیت اختیار کرنے کے بجائے خود ان کے اوپر اقدام کا طریقہ اختیار کیا۔ آپ نے دعوت دینی شروع کی کہ دین خداوندی کو اختیار کرو، ورنہ تم سب کے سب تباہ کردیئے جاؤ گے۔ یہ چیز فرعون کے غصہ میں صرف اضافہ کرسکتی تھی۔ چنانچہ بنی اسرائیل کے لئے مصر کی زندگی آپ کے آنے کے بعد تلخ تر ہوگئی۔ حتیٰ کہ اس میں مزید یہ اضافہ ہوا کہ شاہی حکم کے تحت بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے بیٹوں کو قتل کیا جانے لگا تاکہ ان کی نسل دھیرے دھیرے مصر سے ختم ہوجائے۔ قدیم مصری آثار کی کھدائی کے دوران ۱۸۹۶ میں ایک کتبہ ملا ہے جس میں حضرت موسیٰ کے زمانہ کا فرعون منفتاح فخر کے ساتھ کہتا ہے ’’اور اسرائیل کو مٹا دیا گیا، اس کا بیج تک باقی نہیں‘‘ اس وقت بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے شکایت کی: ’’آپ کے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جارہے تھے اور اب آپ کے آنے کے بعد بھی ستائے جارہے ہیں‘‘ (اعراف - ۱۲۹)
اس انتہائی نازک مرحلہ میں بنی اسرائیل کو جو جواب دیا گیا ، وہ قرآن کے لفظوں میں یہ ہے : وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى وَأَخِيهِ أَنْ تَبَوَّءَا لِقَوْمِكُمَا او رب ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کو وحی کی کہ تم دونوں بِمِصْرَ بُيُوتًا وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً وَأَقِيمُوا اپنی قوم کو مصر میں ٹھہراؤ اور اپنے گھروں کو مرکز عمل الصَّلَاةَ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ ۔ ۸۷ بنا لو اور نماز قائم کرو اور مومنین کو بشارت دے دو اس آیت میں جو پروگرام دیا گیا ہے، اس کو حسب ذیل طریقے پر بیان کیا جا سکتا ہے ۔
جہاں ہو، وہاں جمے رہو۔ اپنے اندر خوف وانتشار کو جگہ مت دو۔ یہ وہی چیز ہے جس کو حضرت مسیح نے ان الفاظ میں کہا تھا: جب تک عالم بالا سے تم کو قوت کا لباس نہ ملے اس شہر میں ٹھہرے رہو (لوقا ۲۴ : ۴۹) اپنے گھر کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا لو، یعنی باہمی اتحاد، اندرونی استحکام ، آپس کے صبر و نصیحت اور ذاتی ذرائع پر انحصار، یہ وہ چیزیں ہیں جن پر تھیں موجودہ حالت میں اپنی توجهات کو مرتکب رکھنا چاہئے۔ نماز قائم کرو۔ یعنی اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرو، اس کی یاد، اس سے مانگنا ، اس کے آگے اپنے آپ کو بالکل جھکا دینا، ان صفات کو زیادہ سے زیادہ اپنے اندر پیدا کرو۔
یہی وہ طریق عمل ہے جس میں تمھارے لئے دنیا و آخرت کی تمام خوش خبریاں چھپی ہوئی ہیں۔ پوری یکسوئی کے ساتھ ان کی تکمیل میں لگ جاؤ ۔ اس سہ نکاتی پروگرام کو مختصر طور پر اس طرح کہہ سکتے ہیں ۔ استقامت' داخلی تعمیر تعلق باللہ ۔ اس پروگرام پر عمل کرنے کا بالا خرجو نتیجہ نکلا ، وہ قرآن کے الفاظ میں یہ ہے : اور جو لوگ کمزور کر دیئے گئے تھے، ہم نے ان کو زمین کے مشرق و مغرب کا مالک بنا دیا جس میں ہم نے برکت دی ہے۔ اور تمھارے رب کا بہترین کلمہ بنی اسرائیل کے لئے پورا ہوکر رہا۔ اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو اس کی صنعتوں اور اس کے فارموں کے ساتھ مشاکر رکھ دیا۔ لے تبوا لقومكما بمص بیوتا کا ترجمہ شاہ ولی اللہ صاحب نے ان الفاظ میں کیا ہے: ساکن کنید قوم خود را به شهر در خانها قبلہ کا لفظ قبل کا اسم نوع ہے۔ اس کا اصل مفہوم ہے " مرکز توجہ " کہتے ہیں قبلت الماشية الوادي: جانور وادی کی طرف متوجہ ہوئے
اراسی لیے ہم نے اسکولوں کے بورڈوں کو لکھا تھا کہ وہ اسکولوں میں تاریخوں کے پرچے کو لازمی نہ بنائیں لیکن بورڈوں نے ہماری اس تجویز پر کوئی توجہ نہیں دی ہم امید کرتے ہیں کہ جناب محترم وفاقی وزیر تعلیم ہماری اس تجویز پر ضرور غور فرمائیں گے۔
ظاہری حالات خواہ کتنے ہی سخت ہو جائیں ایک نئی زندگی کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے وہوالذي مرج البحرين هذا عذب فرات وهذا ملح اجاج وجعل بينهما برزخا و حجرًا محجوراً فرقان - ۵۳ اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا رکھا ہے۔ لذیذ و شیریں، دوسرا تلخ و شور، اور دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔ ایک رکاوٹ ہے جو انھیں گڈ مڈ ہونے سے روکے ہوئے ہے۔
یہ کیفیت ہر اس جگہ رونما ہوتی ہے جہاں کوئی بڑا دریا سمندر میں آکر گرتا ہے۔ اس کے علاوہ خود سمندر میں بھی مختلف مقامات پر میٹھے پانی کے چشمے پائے جاتے ہیں جن کا پانی سمندر کے نہایت تلخ پانی کے درمیان بھی اپنی مٹھاس پر قائم رہتا ہے۔ ترکی امیر البحر سیدی علی رئیس (كاتب رومی) اپنی کتاب مراة الممالک میں، جو سولھویں صدی عیسوی کی تصنیف ہے، خلیج فارس کے اندر ایسے ہی ایک مقام کی نشان دہی کرتا ہے۔ کرتا رہا ہوں۔ موجودہ زمانہ میں جب امریکن کمپنی نے سعودی عرب میں تیل نکالنے کا کام شروع کیا تو ابتدا ء وہ بھی خلیج فارس کے انھیں چشموں سے پانی حاصل کرتی بعد میں ظہران کے پاس کنویں کھود لئے گئے اور ان سے پانی لیا جانے لگا۔ بحرین کے قریب بھی سمندر کی تہ میں آب شیریں کے چشمے ہیں جن سے لوگ کچھ مدت پہلے تک پینے کا پانی حاصل کرتے رہے ہیں۔
یہ تو ہے آیت کا ظاہری مضمون، جو اللہ کی قدرت کے ایک کرشمے سے اس کے الہ واحد اور رب و واحد ہونے پر استدلال کر رہا ہے۔ مگر اس کے بین السطور سے بھی ایک لطیف اشارہ ایک دوسرے مضمون کی طرف نکلتا اور وہ یہ ہے کہ انسانی معاشرے کا سمندر خواہ کتناہی تلخ وشور ہوجائے، اللہ جب چاہے اس کی تہ سے ایک جماعت صالحہ کا چشمہ شیریں نکال سکتا ہے اور سمندر کے آب تلخ کی موجیں خواہ کتناہی زور مارلیں، لکھا ہے کہ وہاں آب شور کے نیچے آب شیریں کے چشمے ہیں جن سے میں خود اپنے بڑے کے لئے پینے کا پانی حاصل وہ اس چشمہ کو ہڑپ کر جانے میں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ تفہیم القرآن جلد ۳ ، صفحہ ۴۵۸
صحافت : ایک امکان جس سے ابھی تک ہم نے فائدہ نہیں اٹھایا غزوہ خندق (۴۲۶) کے موقع پر جب ابوسفیان کی سرداری میں مشرکین کی 10 ہزار فوج مدینہ کے قریب پہنچی اور وہاں دیکھا کہ شہر کے گرد تقریباً چھ کلو میٹر لمبی خندق کھدی ہوئی ہے جس کی گہرائی تقریباً ڈھائی میٹر اور چوڑائی تقریباً تین میٹر ہے۔ یہ منظر دیکھ کر ابوسفیان کی زبان سے نکلا:
واللہ ان هذا المكيدۃ ما كانت (العرب تكيدھا خدا کی قسم یہ ایک ایسی تدبیر ہے جس کو عربوں نے اب تک نہیں کیا تھا۔
اسلام کی ابتدائی ہزار سالہ تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ مسلمان جب زندہ تھے تو وہ نئی نئی تدابیر اختیار کرنے میں ساری دنیا سے آگے تھے: اور جب ان کو زوال ہوا تو یہ حال ہو رہا ہے کہ وہ طریقے جو سو برس پہلے دریافت ہو کر دنیا میں رائج ہو چکے ، مسلمان آج بھی ان کو استعمال کرنے سے محروم ہیں۔
محر ومیوں کی اسی فہرست میں ایک چیز یہ ہے جس کو صحافت کہتے ہیں۔ بظاہر ہمارے یہاں ہزاروں کی تعداد میں اخبار نکلتے ہیں مگر یہ سب شخصیتوں یا اداروں ان میں سے کسی کو بھی حقیقی معنوں میں اخبار نہیں کہا جا سکتا۔ جدید صحافت اللہ کی ایک عجیب نعمت ماضی میں اس کی ایک ہلکی سی مثال شاعرانہ قصائد میں پائی جاتی ہے۔ ایک معیاری قصیدہ میں مناظرِفطرت، رومان ، ادب، رجز، سماجی اور نفسیاتی اشارے غرض ہر چیز ہوتی ہے۔ ہر ذوق کا آدمی اس میں اپنی دل چسپی کا سامان پاسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں قصائد سب سے زیادہ لوگوں میں پھیلتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں صحافت اس کی زیادہ ترقی یافتہ علمی شکل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسا صحیفہ وجود میں لایا جائے، جو اپنے متنوع مضامین اور اپنے غیر جانب دارانہ انداز کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ لوگوں میں پڑھا جائے ۔ اس طرح ایک کثیر المطالعہ صحیفہ وجود میں لانے کے بعد اپنی بات کو اس کے بین السطور میں شامل کر دیا جدید صحافت مکمل طور پر ایک تبلیغ ہے مگر وہ مکمل طور عرب جاہلیت میں شعر کی حیثیت تقریباً وہی تھی جو موجودہ زمانے میں اخبار کی ہے۔ موزوں نے اس زمانے میں عام طور پر پسند کئے جاتے تھے۔ ایک شخص اگر دلچسپ واقعات اور پرجوش مضامین کو عمدہ عربی زبان میں نظم کر دیتا تو وہ فوراً لوگوں کی زبان پر رواں ہو جاتے اور عمومی مجالس میں پڑھے جانے لگتے۔ اس زمانہ میں کسی خیال کی اشاعت کا ایک ذریعہ تھا جس طرح موجودہ زمانہ میں اخبار ہے۔ کعب بن اشرف ایک شاعر تھا۔ بدر میں قریش کی شکست کے بعد اس نے پرجوش اشعار کہے جو قریش اور دوسرے لوگوں میں فوراً پھیل گئے۔ اسی طرح عبداللہ بن ابی وغیرہ اسلام کے خلاف اشعار لکھ کر عوام میں شائع کیا ان کے رد میں حسان بن ثابت نے نظمیں لکھیں جنھوں نے اس زمانہ میں گویا جوابی اخبار کا کام کیا اور مسلمانوں کے موقف کو عمومی مجالس تک پہنچانے کا ذریعہ بنے۔ سیرۃ بن ہشام اس قسم کے اشعار سے بھری ہوئی ہے۔ کارزار توں کا ایک ناپ تولہ مریم جوز یہ
پر اس تبلیغ سے مختلف ہے جو مناظر اور واعظین عموماً اختیار کرتے ہیں اور ہمارے اخبار جس کی ایک صحافتی نقل ہیں۔ ضرورت ہے کہ اعلیٰ معیار کا ایک ہفت روزہ اخبار اردو، ہندی، انگریزی اور دوسری زبانوں میں نکالا جائے ۔ اخبار میں جائزہ حدود کے اندر وہ سب کچھ ہو جو ایک عام ہندوستانی جاننا چاہتا ہے ۔ اس میں ہفتہ بھر کی عالمی خبروں کا خلاصہ ہو۔ ملک کی تعمیری سرگرمیوں کا مختصر جدید دنیا کے سبق آموز واقعات ہوں۔ عیسائی اور دوسرے فرقوں کی مذہبی سرگرمیوں کا تذکرہ اخلاقی اور سماجی اصلاح پر مختلف لوگوں کے خیالات سائنس اور زندگی کے دوسرے شعبوں میں انسانی ترقیات کا جائزہ ہو اور پھر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں وہ باتیں ہوں جو ہم مسلمانوں کی اصلاح اور دوسروں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے اخبار میں لانا چاہتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ بے لاگ انداز اور علمی اسلوب میں ہو، نہ کہ مناظرہ بازی اور قصیدہ نگاری کے انداز میں۔ اخبار کا انداز وہ ہو جو عمومی حلقہ مطالعہ حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے اور مقصد وہ ہو جس کو دعوت دین اور احیائے ملت کے الفاظ میں ظاہر کیا جاتا ہے۔
یہ کام اگر سو برس پہلے شروع ہو گیا ہوتا تو وہ چیز جس کو آج ہم "خبرنامہ" کے طور پر سوچ رہے ہیں، وہ شاید اب "انقلاب نامہ" بن چکا ہوتا۔ ضرورت ہے کہ اس مقصد کے لئے مشترک سرمایہ سے ایک ادارہ قائم کیا جائے اور اس کو تجارتی سطح پر چلایا جائے۔ اس قسم کا ایک اخبار تجارتی اور اصلاحی دونوں اعتبار سے صد فی صد کامیاب ہو سکتا ہے بشرطیکہ اس کو ضروری سرمایہ اور باصلاحیت افراد حاصل ہو جائیں۔
مریخ پر زندگی کی تلاش کی خبروں نے اتنی زیادہ شہرت پائی کہ دنیا بھر میں کوئی شخص بھی اس سے بے خبرنہ مگر ٹھیک انھیں دنوں (جولائی ۔ اسی قسم کی ایک اور گم نام کوشش میں سائنس دان مصروف یہ اسکاٹ لینڈ کی لائش نس (Loch Ness) نامی جھیل میں قدیم زمانہ کے ڈینوسار کی تلاش تھی۔ کا مقصد ایک تھا۔ زندگی کی پیدائش کے بارے میں علماءئے حیاتیات کے نظریہ کی تصدیق۔ جدید علما کا کہنا ہے کہ طبعی حالات کا ارتقاء خود اپنے اندرونی حالات کے تحت زندگی کو وجود دیتا ہے۔ اس مفروضہ کا تقاضا ہے کہ زمین کے علاوہ دوسرے مقامات پر بھی زندگی کی قسمیں موجود ہوں۔ سلسلے میں مریخ سائنس دانوں کی سب سے بڑی امید گاہ مگر وائکنگ اول اور دوم نے بالآخر جو چیز ثابت کی ہے وہ یہ کہ معلوم کائنات میں کوئی دوسرا مقام نہیں
اسکاٹ لینڈ کی جھیل میں نظریہ ارتقاء کے حیاتیاتی آثار کی تلاش کائنات "ارتقائی" تشریح کو قبول نہیں کرتی۔ اگرچہ سمندر کی تہوں سے لے کر خلائی کروں تک اس کے لئے بے شمار تحقیقات جاری ہیں۔ جہاں ہماری جیسی زندگی پائی جاتی ہو۔
اس نظریہ کے مفروضات میں سے ایک مفروضہ یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں بہت بڑے بڑے بے ہنگم جانور زمین پر پائے جاتے تھے جو بعد کو ختم ہوگئے، مگر ابھی تک اس مفروضہ کے ثبوت میں صرف متحجر ہڈیوں کے ٹکڑے ہی سائنسدانوں کو دستیاب ہو سکے ہیں۔ تاہم قیاس کیا جاتا ہے کہ اس اس رقم سے اس کے تمام اخراجات کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس ٹیم میں حصہ لینے کے لئے ماہرین نے رضا کارانہ طور پر اپنے اوقات دیئے تھے۔ اس کے علاوہ مہم کا اکثر سازو سامان عطیہ کے طور پر ملا تھا۔ ۸ نومبر ۷۹ ء کو بوسٹن سے جو آخری رپورٹ دی قدیم نسل کا کم از کم ایک فرد لاش نیس نامی جھیل میں موجود اس سلسلے میں ۱۹۷۲ اور ۱۹۷۵ء ۱۹ میں تحقیقاتی مہمیں جاتی رہی ہیں۔ ۱۹۷۶ میں امریکی انجینئروں اور سائنس دانوں کی ایک ٹیم زیادہ بڑے پیمانے پر سازوسامان سے لیس ہو کر اس جھیل پر پہنچی۔ اس ٹیم کو نیو یارک ٹائمزاور اکیڈیمی آف اپلائیڈ سائنس (بوسٹن) سے مالیاتی تعاون ملا اس پر تقریباً ۷۵، ہزار ڈالر خرچ ہوئے۔ گئی ہے، اس کے مطابق یہ ٹیم مفروضہ حیوان یا اس کے آثار دریافت کرنے میں ناکام رہی۔
اس مہم پر جو مشینی کشتیاں استعمال کی گئیں وہ جدید ترین سامانوں سے لیس تھیں۔ زیر آب کیمرا، پانی میں کام کرنے والا ٹیلی وژن، ٹیپ ریکارڈر، پانی کی تہوں میں دیکھنے والی دوربین وغیرہ۔ نیز ان کشتیوں کی مدد کے لئے فضا میں ہیلی کاپٹر بھی مسلسل موجود رہتے تھے ٭
دنیا کو کسی بتانے والے کا انتظار ہے جولائی ۷۹ء کی چھ تاریخ تھی اور شام ۶ بجے کا وقت۔ میں شہر کی ایک سڑک سے گزر رہا تھا۔ اتنے میں ایک اجنبی دکان دار نے آواز دے کر مجھے روکا۔ "مرنے کے بعد کیا آدمی پھر اسی جیون میں واپس آتا ہے،" اس نے پنجابی زبان میں سوال کیا ۔
"پھر کہاں جاتا ہے،"
"اپنے مالک کے پاس چلا جاتا ہے حساب دینے کے لئے۔
"اور اس کے بعد،"
"اس کے بعد نرک میں جاتا ہے یا سورگ میں۔ یہ جواب سن کر بوڑھے دکان دار نے اپنی سیٹ پر پہلو بدلا اور خاموش ہو گیا۔ اس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ کسی گہری سوچ میں پڑ گیا ہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ اب کچھ اور بولنا اس کی سوچ میں خلل ڈالنا ہوگا۔ منٹ تک اس کے اگلے سوال کا منتظر رہا اور اس کے بعد آگے بڑھ گیا ۔
اسی قسم کا ایک واقعہ مشہور امریکی مشنری بلی گراہم نے لکھا ہے۔ وہ اپنی کتاب" دی سیکرٹ آف ہیپی نس" میں لکھتا ہے کہ دنیا کے ایک عظیم سیاست داں نے ایک بار اس سے کہا:
I am an old man. Life has lost all meaning. I am ready to take a fateful leap into the unknown. Young man, can you give me a ray of hope. "میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔ زندگی نے اپنی تمام معنویت عنقریب میں نامعلوم دنیا کی طرف ایک فیصلہ کن چھلانگ لگانے والا ہوں، اے نوجوان شخص! کیا تم مجھے امید کی کوئی کرن دے سکتے ہو؟ یہ موت ہر آدمی کا پیچھا کر رہی ہے۔ جوانی کی عمر میں آدمی اسے بھولا رہتا ہے۔ تقدیری فیصلہ غالب آتا ہے۔ بڑھاپے میں جب اس کی طاقتیں گھٹ جاتی ہیں تب اسے محسوس ہوتا ہے کہ اب بہر حال کچھ دنوں کے بعد وہ مر جائے گا۔ وہ مجبور ہوتا ہے کہ سوچے کہ "مرنے کے بعد کیا ہونے والا ہے" اسے تلاش ہوتی ہے کہ وہ کوئی امید کی کرن پالے جو موت کے بعد آنے والے حالات میں اس کو روشنی
یہ زندگی کا اہم ترین سوال ہے، اس سے باخبر کرنے کے لئے اللہ نے اپنے تمام پیغمبر بھیجے۔ مگر آج جو لوگ پیغمبر کے وارث ہیں، وہ خود بھی شاید اس حقیقت کو بھول چکے ہیں۔ پھر ان سے کیا امید کی جائے کہ وہ دوسروں کو اس حقیقت سے باخبر کر سکیں گے۔ موت کے بعد انسان کے ساتھ کیا پیش آنا ہے اسی کو بتانے کے لئے قرآن بھیجا گیا ہے۔ حاملین قرآن کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ دنیا کو اس حقیقت سے اگر وہ اس کام کو نہ کریں تو قیامت کے دن جب قوموں کا حساب ہو گا وہ اس بات کے مجرم قرار پائیں گے کہ ان کے پاس انسانیت کے لئے اہم ترین خبر تھی مگر انہوں نے لوگوں کو اس سے آگاہ نہ کیا ۔
اگرچہ مسلمان اپنی دعوتی ذمہ داربوں سے مجرمانہ حد تک غافل ہیں، پھر بھی دین حق اپنے زور پر لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں تازہ ترین اہم خبر پچھلے دنوں افریقہ سے آئی، جہاں جمہوریہ وسطی افریقہ کے صدر جنرل بو کا سانے اپنے وزیر اعظم ، نائب صدر، خاندان اور کئی وزراء سمیت اسلام قبول کر لیا۔ ۲۵ شوال ۱۳۹۶ھ (۱۸ اکتوبر ۱۹۷۶) بروز دوشنبه صدر بو کا سانے اپنے ملک کے دارالسلطنت بانگی کی مسجد میں لیبیا کے صدر معمر قذافی کی موجودگی میں بوقت ظہر " لا اله الا الله محمد رسول الله" کے انقلاب انگیز کلمات پڑھ کر خاتم النبین کے دین کو قبول کر لیا۔ نے اپنا نام صلاح الدین احمد بو کا سا رکھا ہے ۔ ان کا قدیم نام جان بیڈل بو کا سا تھا ۔ لیبیا کے ممتاز عالم اور جمعیة الدعوة الاسلامية کے سکریٹری جنرل شیخ محمود صبحی نے صدر بو کا سا کو کلمہ شہادت پڑھایا اور وضو کا طریقہ اس کے بعد صدر قذافی نے صدر بو کا سا کو قرآن پاک کا ایک نسخہ پیش کیا اور انھیں نصیحت کی کہ وہ اس کو صبح و شام پڑھا کریں۔ دونوں سربراہوں نے ساتھ ہی نماز ظہر ادا کی اور " اللہ اکبر اللہ اکبر" کے نعروں کے درمیان بانگی کی سڑکوں سے گزرے۔ تاریخی واقعہ کے بعد جمہوریہ وسطی افریقہ کے ہزاروں باشندوں نے اسلام قبول کر لیا۔
صدر بو کا سا ۱۹۲۱ء میں پیدا ہوئے ۔ وسطی افریقہ کے صدر مملکت نے اسلام قبول کر لیا والد ریاست بو بانگی کے گورنر تھے۔ ان کی وفات بوکاسا کی ولادت کے چھ سال بعد ہی ہوگئی کچھ دنوں کے بعد ان کی والدہ بھی چل بسیں۔ یو کا سا کی پرورش ان کے دادا اور چچا نے کی۔ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کیتھولک اسکولوں میں حاصل کی۔ ہائی اسکول پاس کرنے کے بعد ۱۹۳۹ء میں فرانسیسی فوج میں بھرتی ہو گئے اور دوسری عالم گیر جنگ میں صدر ڈیگول کے تحت نازیوں کا مقابلہ کیا۔ فرانس میں بوکاسا نے وائرلیس (لاسلکی) کے خبیر (ایکسپرٹ) اور استاد کی حیثیت سے کام کیا۔ ۱۹۵۹ء میں وسطی افریقہ واپس آئے۔ ان کے چچا وسطی افریقہ کے آزاد ہونے کے بعد ملک کے پہلے صدر تھے، انھوں نے ۱۹۶۱ء میں بوکاسا، کو مسلح افواج کو وجود میں لانے کی ذمہ داری پر مامور کیا۔ ۱۹۶۳ء میں بوکاسا فوج کے رئیس الارکان (چیف آف سٹاف) بن گئے۔ ۱۹۶۶ء میں فوجی انقلاب لا کر بو کا سا نے صدارت وہ مغربی نفوذ کے سخت مخالف ہیں۔
ان کی تعلیم عیسائی اسکولوں میں ہوئی، وہ فرانس کی فوج میں شامل ہوئے انھوں نے غیر اسلامی نظام کے تحت اقتدار کی کرسی کو قبول کیا مگر کوئی چیز بھی ان کے لئے حق کی قبولیت میں مانع نہ بن سکی۔ السیر صلاح الدین احمد بوگاسا اسی لئے اگست ۱۹۷۲ء میں انھوں نے اپنے ملک میں تمام سینما گھر بند کر دیئے۔ کیونکہ مغربی فلمیں عوام کے اخلاق کو برباد کر رہی تھیں۔ انھیں دنوں انھوں نے چوروں کی سزا ہاتھ کاٹنا مقرر کیا۔ اسرائیل کے سلسلہ میں ان کا موقف بہت سخت ہے۔ اکتوبر ۱۹۷۳ء میں انھوں نے اپنے ملک کے تعلقات اسرائیل سے ختم کر دیئے تھے۔ صدر بو کا سا کا ملک جمہوریہ وسطی افریقہ اپنے نام کے مطابق بالکل افریقہ کے وسط میں واقع ہے۔ نقشہ میں اس کو چاڈ ، کانگو، سوڈان اور کا میرون کے درمیان دیکھا جا سکتا ہے الخبر الذی أهملناه !
صدر بوکاسا اگر چہ مشرف باسلام ہوئے ہیں، لیکن برسوں سے خود اپنی فطرت کے تحت وہ بعض اسلامی احکام تک پہنچ گئے تھے ۔ ۱۹۷۱ء میں صدر موصوف نے اپنے ملک میں کئی ایسی سزائیں رائج کیں جو کہ اسلامی "حدود" سے بڑی حد تک مشابہ تھیں ۔ کو عالمی صحافت نے "قدیم دور وحشت کی طرف واپسی" کا نام دیا تھا، اور مسلم ملکوں کی صحافت نے اسے اہمیت کے قابل ہی نہیں سمجھا۔ متاثر ہو کر راقم الحروف نے مصر کے روز نامہ "الاخبار" میں "الخبر الذی أهملناه" (جس خبر سے ہم نے اعراض برتا) کے عنوان سے مضمون شائع کیا تھا۔ مضمون میں صدر بوکاسا کی رائج کردہ سزاؤں کی تفصیلات دیتے ہوئے میں نے لکھا تھا جب کہ اہل اسلام خود اسلامی حدود جاری کرتے ہوئے شرماتے ہیں، دوسرے لوگ اپنی عقل سلیم سے اسلامی تعلیمات تک پہنچ رہے ہیں۔