گھڑیالوں کی تجارتی اہمیت
Al-Risala, January 1977, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
شکار خور جانور نہ ہوں تو دنیا ہمارے لئے ناقابل رہائش بن جائے انسان کی قبریں ہم جگہ دیکھتے ہیں، مگر جانوروں بناتا رہے۔ شمالی ہند کے دریاؤں میں، جو لاشیں کا کوئی قبرستان ہمیں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ حالانکہ پھینکی جاتی ہیں، ان کو گھڑیال ہی ٹھکانے لگاتے ہیں انسان کے مقابلے میں جانوروں کی تعداد نا قابل قیاس ورنہ تھوڑے ہی دنوں میں تمام دریا زہریلے ہو کر رہ حد تک زیادہ ہے اور ان میں سے کم و بیش روز مرتے جائیں ۔ اسی طرح دریاؤں کو مردہ مچھلیوں کا تالاب بن بھی رہتے ہیں۔ اس کی وجہ جانوروں میں شکار خور جانے سے جو چیز بچاتی ہے وہ بڑی حد تک ان دریاؤں (Predators) کی موجودگی ہے۔ جانوروں میں میں گھڑیالوں کی موجودگی ہے۔ جمنا کے کنارے بیٹھے کر ایک بے شمار ایسے جانور ہیں جو اپنے دوسرے ہمسرے اپنائے جنس شخص نے اندازہ لگایا تو اس نے دو گھنٹے کے اندر 65 کو زندہ یا مردہ حالت میل اپنی خوراک بناتے رہتے ہیں، اس گھڑیال شمار کئے۔ مگر ان کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے۔ کی وجہ فضا کا توازن (Ecological Balance) گھڑیال تجارت کا ذریعہ بھی ہیں۔ چمڑے کی بین اقوامی برقرار رہتا ہے۔ اگر ایسے جانور دنیا میں نہ ہوں تو فقر مارکیٹ میں گھڑیال کی کھالوں کی مسلسل مانگ رہتی ہے چند دن میں خشکی اور سمندر دونوں جانوروں کی لاشوں 12 فٹ کے ایک گھڑیال کی کھال کی قیمت 1000 روپے ہے۔ سے بھر جائیں اور اس کی وجہ سے اتنا تعفن پھیلے کہ بالآخر گھڑیال کے چمڑے کا بنا ہوا ایک ہیینڈ بیگ پانچ ہزار انسانی نسل کا بھی خاتمہ ہو جائے ۔