روپے تک فروخت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا
Al-Risala, January 1977, pp. 50–57
By Maulana Wahiduddin Khan
گھڑیال بھی انہی شکار خور جانوروں میں سے گوشت، اس کی چربی، اور اس کے جسم کے بعض اجزار قدیم زمانہ میں گھڑیال کو "مردم خور سمجھا بھی اچھی قیمتوں پر فروخت ہوتے ہیں۔ مگر زیادہ صحیح لفظوں میں وہ ایک ایسا جانور حکومت ہند نے گھڑیالوں کے پالنے کے لئے خصوصی ہے جس کا کام یہ ہے کہ انسان دشمنوں کو اپنی خوراک اسکیم بنائی ہے۔ پایا گیا ہے کہ وہ ایسے مقامات پر زیادہ
بہتر طور سے پرورش پاتے ہیں جہاں کم سردی پڑتی ہے۔ حکومت کا پہلا مرکزی گھڑیال فارم اُڑیسہ میں بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مدراس اسنیک پارک ٹرسٹ نے ایک ’’کروکوڈائل بنک‘‘ مہا بلی پورم (تامل ناڈو) میں بنایا دنیا کا سب سے بڑا گھڑیال فارم سموتا کان (SAMUTAKAN) تھائی لینڈ میں ہے۔ ذخیرہ آب میں ۶ ہزار گھڑیال ہیں، حکومت تھائی لینڈ ان کے تیار شدہ چمڑوں کو فروخت کرتی ہے اور یہ اس کے لئے زرمبادلہ حاصل کرنے کا ایک مستقل ذریعہ ہے اندازہ کیا گیا ہے کہ فطری حالات میں گھڑیال کے صرف ایک فی صد انڈوں سے بچہ حاصل ہوتا ہے کیونکہ ان کے انڈوں اور بچوں کو مختلف قسم کے جانور مچھلیاں اور چڑیاں کھا جاتی ہیں۔ گھڑیال کے انڈے انسانوں کی خوراک بھی بنتے ہیں۔ انڈمان کے بازار میں ان انڈوں کی بہت مانگ ہے۔
گھڑیال کے فارم میں انڈوں کا تحفظ ممکن ہو جاتا ہے اور اس طرح گھڑیال کی نسل کو بہت بڑھایا جا سکتا گھڑیال کے چمڑوں کو تیار کرنے کے لئے اسمال اسکیل انڈسٹری قائم کی جا سکتی ہے۔ اس قسم کے فارم ہر اس ریاست میں قائم کئے جا سکتے ہیں جہاں پانی کے بڑے ذخیرے، جھیلیں اور تالاب ہوں۔ سیاحوں کی دل چسپی کا مرکز بھی بن سکتے ہیں۔ اور راجستھان کے بعض ذخائرِ آب میں گھڑیالوں کی موجودگی نے ان مقامات کو سیاحوں کے لئے پرکشش بنا یہی کام اگر سائن ٹفک طریقوں سے کیا جائے تو یہ فائدہ زیادہ بڑے پیمانہ پر حاصل کیا جا سکے گا
جب خدا کے دین کو دنیا دارانہ زندگی میں ڈھال لیا جائے اسلام کا مطلب یہ ہے کہ زندگی خدا اور آخرت کی یاد میں ڈھل جائے یہاں بندہ اپنے رب سے روحانی سطح پر ملاقات کرتا ہے۔ مگر جب اسلام کے ماننے والوں کو زوال ہوتا ہے تو اسلام کی روح غائب ہو جاتی ہے اور صرف اس کے دنیوی پہلو باقی رہ جاتے ہیں، اسلام اپنی سطح سے اتر کر ماننے والوں کی سطح پر آ جاتا ہے ___ نظر نہ آنے والے خدا سے خوف و محبت کا جذبہ سرد پڑ جاتا ہے، البتہ نظر آنے والے خداؤں (احبار و رہبان) کی تقدیس و تحمید زوروں پر شروع ہو جاتی ہے۔ خدا کے لئے تنہائیوں میں رونا اور خاموشیوں میں اس سے گڑگڑانا باقی نہیں رہتا، البتہ لاؤڈ اسپیکر کے اوپر قرآن وا سلام کے ہنگامے خوب ترقی کرتے ہیں۔ نماز لوگوں کے دلوں کو روشن نہیں کرتی، البتہ مسجدوں کی روشنیاں پورے شباب پر پہنچ جاتی ہیں۔ روزہ سے صبر اور پر ہیز گاری نکل جاتی ہے البتہ افطار و سحر کی دھوم خوب بڑھ جاتی ہے۔ عید میں شکر اور سجدہ کی روح نہیں ہوتی، البتہ کپڑے اور میلے کے تماشے خوب رونق پکڑتے ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ خدا کے دین کو اپنی دنیا دارانہ زندگی میں ڈھال لیا جاتا ہے
عربوں کی قبل از اسلام تاریخ کو جاننے کا زیادہ قابل اعتماد ذریعہ قرآن ہے نہ کہ قدیم جاہلی ادب والوں کا یہ گمان باطل غلط ثابت کرتی ہے کہ عرب قوم دنیا سے بے تعلق قوم تھی۔ آپ نے دیکھا کہ قرآن کس طرح ان لوگوں کی روم و ایران کی سیاست میں دلچسپی لینے کا تذکرہ کرتا ہے ۔
سورہ قریش میں بیرونی دنیا سے عربوں کے اقتصادی تعلقات کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ دونوں سفر ڈاکٹر طہ حسین مصری (۱۹۷۳- ۱۸۸۹) نے عربوں کے جاہلی ادب پر ایک کتاب لکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قدیم عربوں کی زندگی کو جاننے کا زیادہ بہتر ذریعہ قرآن ہے نہ کہ جاہلی ادب، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا یہاں ان کے خیالات کا خلاصہ نقل کیا جاتا ہے۔ میں عرب جاہلیت پر تحقیق کرنے بیٹھوں گا تو امرؤ القیس، نابغہ، اعشی، زہیر، قس بن ساعدہ و اکثم بن صیفی کے اشعار کی راہ ہرگز اختیار نہ کروں گا۔ جاہلی زندگی کو قرآن میں تلاش کروں گا۔ کیوں کہ اس سے زیادہ سچا نقشہ زمانہ جاہلیت کا اور کوئی نہیں پیش کر سکتا۔ ہمارے پاس جاہلیت کے اشعار کا جو ذخیرہ موجود ہے، اس سے عربوں کی ایک ایسی زندگی کی تصویر ملتی ہے جو خاموش، بے بنیاد، کھوکھلی، مذہبی احساس سے یکسر اگر ایسا نہیں تو امرؤ القیس، طرفہ اور عنترہ کی شاعری میں یہ جذبہ کیوں نظر نہیں آتا۔ قرآن بالکل دوسرا نقشہ پیش کرتا ہے۔ نے روم اور ایران کے درمیان لڑائی کا ذکر نہیں کیا ہے، جس نے عرب قوم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ ایک روم کی خیر خواہی کا دم بھرتا تھا۔ دوسرا ایران کی طرف داری کرتا تھا۔ یہ چیز موجودہ جاہلی ادب کے ماننے بیرونی دنیا کی طرف ہی ہوتے تھے۔ ایک شام کی طرف، دو سرایمن، ایران اور حبشہ کی طرف۔ رسول عربی کی سیرت بھی ہمیں بتاتی ہے کہ عرب قوم نے آبنائے باب المندب سے ہو کر ملک حبش کی طرف ہجرت کی تھی یہی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ یہ قوم حیرہ ہوتی ہوئی بلاد ایران تک ایک طرف اور شام و فلسطین ہوتی ہوئی مصر تک دوسری طرف پہنچ گئی تھی۔
امرؤالقیس کا کلام پڑھیے یا کسی اور شاعر کا، آپ جاہلی ادب کا سارا انبار الٹ ڈالئے، عربوں کی اقتصادی زندگی پر ایک لفظ ایسا نہیں ملے گا جو ان کے اقتصادی تعلقات کے بارے میں رہ نمائی کر سکے۔ قرآن نے عربی قوم کو دو طبقوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک سرمایہ داروں کا طبقہ جو دولت پر نثار ا ور سود خواری میں منہمک ہے۔ دوسرا تہی دستوں کا۔ لفظوں میں دوسرے طبقہ کی پشت پناہی کرتا ہے اور سود خوار طبقہ سے کہتا ہے کہ خدا اور رسول سے جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ۔ یہ بات صراحتہً اس فساد کا پتہ دیتی ہے جو عربوں کی اقتصادی زندگی میں موجود تھا۔ کی نظم و نثر میں وہ کون سی جگہ ہے جہاں غریبوں اور امیروں کے درمیان طبقاتی مکش کش کی کوئی جھلک نظر وہ ادب کیسا ادب ہوگا جوان تکلیفوں کی
عکاسی نہ کرے جو غریبوں کو اپنی غریبی کی وجہ سے برداشت کرنا پڑتی تھیں۔ جو اپنے زمانے کی تمدنی، اجتماعی اور اقتصادی زندگی کی ترجمانی سے معذور ہو۔
قرآن میں ہم بار بار بخل اور طمع کی مذمت دیکھتے اس قسم کی آیتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت کے عرب دولت کو حقیر سمجھنے والے اور روپیہ کوٹ نہ کرنے والے نہ تھے، جیسا کہ جاہلیت کی شاعری سے ظاہر ہوتا ہے۔ بلکہ ان میں اگر فیاض لوگ تھے تو بخیل بھی تھے، دولت لٹانے والے تھے تو لالچی بھی تھے۔ اور حق یہ ہے کہ عربوں کی زندگی واقعہ ایسی ہی تھی۔ کیونکہ مکہ اور مدینہ کی زندگی کی اصل بنیاد تجارت تھی۔ اور قدیم قوموں میں جہاں کہیں بھی تجارت کا ذکر ہے، اسی کے ساتھ سود، بخل، لالچ، ظلم کا بھی ذکر ہے۔ یہ نقائص مال کے جمع کرنے سے وابستہ ہیں۔ درآں حالیکہ جاہلی ادب میں ان کا کوئی ذکر نہیں۔ قرآن ناقابل تردید انداز میں مکہ، مدینہ اور طائف کی وہی تصویر پیش کرتا ہے جو دوسرے پرانے شہروں ایتھنز، روم اور کارتھیج (قرطاجنہ) کی تصویروں سے ملتی جلتی ہے۔
جاہلی ادب کے نام سے جو چیز ہمارے پاس موجود ہے وہ صرف صحرا اور بادیہ کی عربی زندگی کا ذکر کرتی ہے اور وہ بھی نا مکمل ۔ ہم زمانہ جاہلیت کے اشعار میں کہیں بھی نہ تو سمندر کا ذکر پاتے ہیں، نہ اس کی طرف کوئی اشارہ۔ گویا کہ زمانہ جاہلیت میں عرب قوم سمندر کے علم سے ناواقف تھی اور ان کو سمندر سے کبھی سابقہ نہیں پڑا تھا۔ مگر قرآن عربوں پر یہ احسان رکھتا ہے کہ " خدا نے تمھارے لئے سمندر کو مسخر کر دیا ہے اور تمھارے لئے سمندر میں منافع ہیں"۔ طرح قرآن احسان رکھتا ہے کہ ”سمندر سے تم تازہ گوشت حاصل کرتے ہو۔ “ یہ کھلا ہوا ثبوت ہے کہ عرب ان چیزوں سے واقف تھے۔ جاہلیت کے اشعار میں یہ چیز کہاں مل سکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایام جاہلیت کی صحیح تصویر اس بے نتیجہ ادب میں، جس کو لوگ جاہلی ادب کہتے ہیں، ڈھونڈنے کے بجائے قرآن میں تلاش کرنا چاہئے۔ (الادب الجاہلی) - مرزا غالب - ۱۸۶۹ء) جس مکان میں رہتے تھے، اس مکان میں چھت کے اوپر ایک کمرہ تھا اور اس کمرہ سے ملی ہوئی ایک تنگ و تاریک چھوٹی سی کوٹھری تھی۔ گرمی کے موسم میں وہ ٹھنڈی رہتی تھی۔ سخت موسم میں مرزا اسی کوٹھری میں بیٹھتے تھے۔ ایک بار رمضان کا مہینہ تھا، سہ پہر کے وقت مرزا غالب اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ اس کوٹھری میں بیٹھے ہوئے چوسر کھیل رہے تھے اور تفریح کر رہے اتنے میں مفتی صدر الدین خاں آزردہ وہاں آگئے۔ کوٹھری میں لہو و لعب کا منظر دیکھ کر انھوں نے مرزا سے کہا: ہم نے حدیث میں پڑھا تھا کہ رمضان کے مہینے میں شیطان کو قید کر دیا جاتا ہے۔ حدیث کی صحت پر شبہ ہو گیا۔
مرزا غالب فوراً بولے: "مولانا! بات یہ ہے کہ شیطان جہاں قید کیا جاتا ہے وہ یہی کوٹھری ہے۔
مذکورہ عربی اخبار کے دو صفحات میں سے ایک صفحہ کا جزوی عکس یہاں دیا جا رہا ہے برنامه جديد يطرح الفكر المحدي ومن العين خافی بعد ست سنوات من الفكر والخطط لإنشاء المركز الإسلامي العالمي للدعوة ، انشيء في الشهر الماضي ( المركز الإسلامي للدعوة والبحوث ) بدليهي بإشراف المفكر الهندسي المعروف الاستاذ وحيد الدين خان - كمؤسسة رسمية غير سياسية لنشر الدعوة في أنحاء العالم ومواجهة الغزو الفكري الإلحادي والسرى المستهدف للشعوب الإسلامية . وقد أقدم المركز بإمكانات متواضعة، إلا أن الفكر الواضح والهدف الام في الذي أدفع من اجله جدير كل الجدارة بأن نهب لتقدينه ونصرته، ليتمكن من أداء واجبه على النحو المطلوب . العالمي يظهر للوجود في احسن صوره العملية . ولم يكن غريبا علينا هذا الصوت لانه يصدر من نفس تكن الاعماق التي صدر منها صوت جمال الدين الافغاني ومحمد عبده ومحمد اقبال ذلكم هو المفكر الهندي المسلم وحيد الدين خان ، رئيس تحرير مجلة ( الرسالة ) الشهيرة بدهلي وصاحب المؤلفات الاسلامية العلمية الحية من مثل : الإسلام يتحدى » و الدين في مواجهة العلم . و حكمة الدين » . و « الاسلام والعصر الحاضر » وغيرها من الكتب التي لم تترجم بعيد الى اللغة العربية. وهو مؤسس مدرسة اسلامية فكرية محددة تؤمن : اقتصادیاتها كتمهيد لابد منه لاية نهضة اسلامية وهو يدعو المسلمين الى الانتباه لوجوبهم الحقيقى في هذه الدنيا والذي يتركز - أولا : في الاصلاح الذاتي . وثانيا : في القيام بالشهادة على الناس (الدعوة) ، لأن الامة المحمدية مكملة بعد النبي الكريم ببلاغ الرسالة الى الشعوب الأخرى والا أصبح انتماؤها الى النبي العربي ( صلى الله عليه وسلم ) نفسه مشكوكا فيه لو تخلت عن الواجب الملقى على عاتقها . والاستاذ وحيد الدين خان يؤمن بأنه لابد من بدء مفهوم (الفكرى) وهو يضع ، بالتالي ، اختيارا محددا امام المسلمين : اما ان نعول وفق الفعالية الحضارية المطلوبة أو نظل قاصرين عن تحقيق النهضة الحضارية المنشودة والرسالة الانفا الذكر « نحو بعث اسلامي » تنفى اوضاع المسلمين الأخلاقية والدينية والاقتصادية بعد المجد الذي عاشوه طيلة القرون الماضية ، وتقول ان السبب في «انتكاستنا الحالية هو : اننا ضعفاء في عالم اليوم الضعيف الخطير الذى طرأ على منهاج القوة منذ انتقلت من المقاييس العضوية الى القوة الآلية القائمة على التقنية الحديثة . وقدم المدا الهندي المسلم تحليلا شاملا للظاهرة اليابانية في الاستفادة من امكانات العصر وتسخيرها للنهضة الوطنية وذلك بتركيزها على التعاون والصناعة والثقافة ، وهو يقول :
الرسالة کا ذکر عید اخبارات میں آواز پھیل رہی ہے طرابلس (لیبیا) کے کثیرالاشاعت اخبار الفجر الجدید نے اپنے ہفتہ وار ایڈیشن میں اسلامی مرکز اور اس کے ترجمان ماہنامہ الرسالة کا تعارف شائع کیا ہے۔ بڑے سائز کے دو مکمل صفحات میں شائع شدہ اس تعارف میں "الرسالہ" کی بابت تحریر ہے :
قد صدرت بدلهی مجلة (الرسالة) الشهرية باللغة الاردية وستلحقها مجلات بالعربية والإنجليزية عما قريب (اسلامی مرکز کے آرگن کے طور پر) دہلی سے ماہنامہ الرسالة جاری ہوا ہے۔ عنقریب عربی اور انگریزی جرائد بھی جاری کئے جائیں گے تبصرہ میں مختلف قسم کی تفصیلات دیتے ہوئے آخر میں کہا گیا ہے :
ان مناصرة المركز الاسلامى لا يهتم بها فقط الشعور الاسلامى المشترك بل هي واجب ملقى على عاتق الأمة العربية قبل غيرها لانها مسئولة عن الدعوة وتبليغ الرسالة بالدرجة الأولى و نصرة الله لها لن يتحقق الابأديتها والأمانة والرسالة على خير وجه ومن هنا فان مناصرة المركز الإسلام للدعوة والبحوث هو عين الجهاد في سبيل الله اسلامی مرکز کی مدد کرنا صرف مشترک اسلامی جذبہ ہی کا تقاضا نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا فریضہ ہے جو امت عربیہ کے کاندھوں پر دوسروں سے پہلے عائد ہوتا ہے۔ کیونکہ دین کی دعوت و تبلیغ کے لئے وہ بدرجہ اولیٰ ذمہ دار ہے۔ اللہ کی نصرت کا استحقاق اس کے لئے اس وقت تک نہیں ہوسکا جب تک وہ اس امانت کو بہتر طریق پر لوگوں تک نہ پہنچادے۔ اسلامی مرکز کی اعانت اللہ کی راہ میں اعانت ہے"
الفجر الجدید کے ہفتہ وار ایڈیشن میں شائع شدہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلامی مرکز کا قیام پچھلے چھ سال کے غور و فکر اور منصوبہ بندی کے بعد عمل میں آیا یہ مرکز فی الحال معمولی وسائل سے شروع کیا گیا ہے۔ حتی کہ اس کے پاس اپنی مستقل عمارت بھی نہیں ہے۔ مگر اس کے پیش نظر جو عظیم مقصد ہے، اس کا حق ہے کہ اس کو امت کا ہر قسم کا تعاون ملے تا کہ وہ اپنے پرو گرام کی تکمیل کر سکے ۔
ساتویں صدی میں جب اللہ نے اپنے نبی کو بھیجا تو زندگی کا نظام شرک کی بنیاد پر قائم تھا۔ قرآن نے اپنے معجزانہ ادب اور علمی استدلال کے ذریعہ اس بنیاد کو منہدم اس کے بعد ہی یہ ممکن ہو سکتا کہ خدا کا دین ایک بر تر نظام کی حیثیت سے دنیا میں اپنی جگہ پا سکے ۔
موجودہ زمانہ میں ایک نیا انقلاب آیا ہے جس نے زندگی کے نقشہ کو دو چار بدل ڈالا ہے۔ قدیم زمانہ میں انسانی فکر کی بنیاد اگر شرک تھی تو موجودہ زمانہ میں الحاد ہے۔ اس ملحدانہ فکری بنیاد کو منہدم نہ کیا جائے، خدائی بنیاد پر زندگی کی نئی تعمیر نہیں کی جا سکتی ۔ اسلامی مرکز اور الرسالہ کا مقصد اسی فکری مہم کی منصوبہ بندی کرنا اور اس کو موثر انداز پر چلانا ہے
نائجیر یا کا سبق سیاست کے ساتھ دینی خدمت کا کام نہیں کیا جاسکتا "میری کوششوں کی وجہ سے دسمبر ۱۹۶۳ سے لے کر مارچ ۱۹۶۵ تک تقریباً دو لاکھ (۱۸۶۹۳۰) مشرکوں نئے اسلام قبول کیا۔ ان میں سے بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو سماجی زندگی میں نمایاں مقام رکھتے ہیں" یہ نائجیریا کے سابق وزیرِ اعظم الحاج احمد و بلو - ۱۹۶۶ء) کے الفاظ ہیں جو انھوں نے ۱۴؍ محرم (۱۹۶۳ء) کی موتمر اسلامی (قاہرہ) میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ افریقہ کی لگ بھگ ۲۲ کروڑ آبادی میں دس کروڑ ۸۰ لاکھ مسلمان ہیں۔
اگر مسلم ملکوں کی مدد شامل حال ہو تو افریقہ کے مشرک قبائل میں تیزی سے اسلام پھیل سکتا ہے۔ اس کا ثبوت خود میری وہ کامیابیاں ہیں جن کا میں نے ابھی حوالہ دیا"
احمد و بلو کو اسلام کی خدمت کا یہ جذبہ اپنے دادا عثمان ڈان فوڈیو سے ملا تھا۔ ۱۹ ویں صدی میں جب پرتگال، فرانس اور برطانیہ نے افریقہ کے علاقوں میں گھسنا شروع کیا تو افریقہ میں اس کے رد عمل کے تحت بہت سے مصلحین اٹھ کھڑے ہوئے۔ انھیں میں سے ایک عثمان ڈان فوڈیو بھی تھے۔ انھوں نے گزشتہ صدی میں مسلمانوں کی اصلاح اور استعماری طاقتوں کے خلاف جہاد کی زبردست تحریک چلائی۔ دریائے نائجیریا کے کنارے کنارے دور تک انھوں نے اسلام کا جھنڈا لہرا دیا تھا۔ ۱۸۳۳ء میں ان کے انتقال کے بعد ان کے جانشینوں نے یہ مہم جاری رکھی۔ نائجیریا کی راجدھانی لاگوس سے لے کر شمال میں لکھوثوشہر تک مقابلے جاری تھے۔ فیصلہ انگریزوں کے حق میں ہوا۔ انھوں نے ۱۸۸۶ میں سلطان محمد طاہر اور ان کے ساتھیوں کو شکست دے کر نائجیریا پر قبضہ کر لیا۔
احمد و بلو اھمیں روایات کے درمیان موجودہ صدی کے آغاز میں پیدا ہوئے۔ ان کے باپ سو کو تو کے امیر قبیلہ تھے۔ ابھی وہ دس سال کے تھے کہ باپ کا انتقال ہو گیا ۔ ان کی ماں ایک دیندار خاتون تھیں ۔ قدیم رواج کے مطابق پہلے انھیں قرآن حفظ کرایا گیا۔ اس کے بعد انھوں نے عربی مدرسہ میں داخلہ لیا اور ۲۱ سال کی عمر تک دینی تعلیم سے فراغت حاصل کر لی ۔ میں مغربی تعلیم کے لئے کاستینا کالج میں داخل ہوئے اور انگریزی زبان اور ریاضیات کی تعلیم مکمل کی۔ وراثت کے تحت ان کو سکوتو کا امیر بنایا گیا۔ سلطان حسن نے ان کو شہر رباح کا گورنر مقرر کیا۔ ۱۹۳۸ میں جب سلطان حسن کا انتقال ہوا تو نے سلطان ابو بکر نے احمدو بلو کو سو کو تو کے ”سار و فنا“ کے منصب پر سرفراز کیا۔ ۱۹۴۹ میں انھوں نے لندن کا سفر کیا اور آزادی کے مسائل پر حکومت برطانیہ سے گفتگو کی ۔ ۱۹۶۳ کی مردم شماری کے مطابق نائجیریا میں ۳۱ ملین مسلمان ہیں، عیسائی 9 ملین اور دوسرے قبائل ۱۰ ملین ہیں۔ شمالی نائیجیریا میں زیادہ تر مسلمان آباد ہیں اور جنوبی نائیجیریا میں زیادہ تر عیسائی ۔ احمد و بلبو شمالی نائیجیریا کے لیڈر تھے ۔ وہ مغربی استعمار کے خلاف جنگ میں پیش پیش ہے ۔ ۱۹۶۰ میں نائیجیریا آزاد ہو تو وہاں ایک فیڈرل گورنمنٹ بنی ۔ اس حکومت کے فیڈرل پرائم منسٹر
سرابو بکر تفارا بلیمو (۱۹۶۶-۱۹۱۲) تھے۔ شمالی نائجیریا کے وزیر اعظم مقرر ہوئے۔ یہ ایک مخلوط حکومت تھی جس میں مختلف پارٹیوں کے نمائندے اور اور مسلمان اور عیسائی دونوں شریک تھے۔ نے مسلمانوں کی اصلاح و تعمیر اور عیسائیوں میں اسلام کی اشاعت کا کام پوری توجہ سے شروع کیا۔ نتائج بھی نکلنے شروع ہوئے۔ مگر انھیں زیادہ کام کرنے کا موقع نہیں ملا۔ ۱۵ جنوری ۱۹۶۶ء کو ۲۵ فوجی افسروں نے مل کر بغاوت کر دی۔ اس بغاوت میں ابو بکر تفار ا بلموا احمد بلو اور بہت سے مسلمان اور عیسائی مارے گئے۔ اس کے بعد نائجیریا میں فوجی حکومت قائم ہوگئی جس کے سربراہ جنرل ارونسی تھے مگر انھیں بھی صرف چھ ماہ حکومت کرنے کا موقع ملا۔ ۲۹ جولائی ۱۹۶۶ء کو دوسری فوجی بغاوت ہوئی اور وہ بھی ختم کر دیے گئے۔ نائجیریا میں دو مسئایم-اے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کی تعداد ستر فی صد ہے۔ مگر تعلیم ، اقتصادیات اور تنظیم میں پیچھے ہونے کی وجہ سے اکثر شعبوں پر عیسائی چھائے ہوئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ انھیں تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے بلند کیا جائے تاکہ وہ ملک میں اپنا جائز مقام پاسکیں۔ کام یہاں کے عیسائیوں اور خاص طور پر۔ لاطینی مشتر قابل میں اسلام کی اشاعت ہے۔ یہ دونوں کام احمد بلو نے شروع کر دیے تھے۔ مگر ان کی شہادت سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ کہ تعمیر و تبلیغ کا کام سیاست کو لے کر نہیں کیا جاسکتا احمد بلو اگر سیاست سے الگ ہو کر یہ کام کر رہے ہوتے تو وہ ۲۰- ۲۵ برس میں نائجیریا کی تاریخ بدل دیتے۔ ست کے خار زار نے انھیں بھی ختم کر دیا اور ان کے ملی اور اسلامی کام کو بھی ۔