Al-Risala · September 1977

مینیجر

Al-Risala, September 1977, pp. 6–9

By Maulana Wahiduddin Khan

جب مادی حالات کے اندر بھی روحانی دعائیں نکلنے لگیں حضرت موسیٰ پر قتل کا الزام عائد کر کے جب مصری سرداروں نے مشورہ کیا کہ انھیں ہلاک کر دیں، تو آنجناب مصر سے مدین چلے گئے۔ مدین اس زمانہ میں، خلیج عقبہ کے مشرقی اور مغربی کناروں پر واقع علاقہ کو کہا جاتا تھا جہاں بنی مدین آباد تھے۔ یہ مقام فرعون مصر کی سلطنت سے باہر تھا۔ اس لئے حضرت موسیٰ نے مصر سے نکل کر مدین کا رخ کیا۔

قرآن پاک میں ہے کہ جب آپ خوف اور اندیشہ کی حالت میں سفر کر رہے تھے تو اللہ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی زبان سے یہ کلمہ نکلا :

عَسَى رَبِّي أَنْ يَهْدِيَنِي سَوَاءَ السَّبِيل (قصص ۲۲)

اُمید ہے کہ میرا رب مجھے ٹھیک راستہ کی طرف رہنمائی کرے گا۔

بعض مفسرین قرآن نے اس کو محض راستہ کی تلاش کے معنی میں لیا ہے۔ ایک مفسر اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "یعنی ایسے راستہ پر جس سے میں بخیر یت مدین پہنچ جاؤں"

یہ الفاظ اس کیفیت کی ترجمانی کے لئے بہت ناقص ہیں جو حضرت موسیٰ کے دل میں پیدا ہوئی تھی، یہ ایک مومنانہ کلمہ ہے نہ کہ عام معنوں میں محض ایک راستہ کے مسافر کی دعا۔ حضرت موسیٰ کو اگر چہ مادی حالات نے مصر سے نکال کر مدین کے راستہ پر ڈالا تھا، مگر بندہ مومن کا یہ حال ہوتا ہے کہ مادی واقعات کے اندر بھی اس کی زبان سے روحانی دعائیں نکلتی ہیں۔ بظاہر وہ اسی زمین میں راستہ تلاش کر رہا ہوتا ہے مگر زمین میں راستہ کی تلاش اس کے لئے دوسری دنیا کی یاد دہانی بن جاتی ہے، وہ اس کے ذہن کو آخرت کی وادیوں میں پہنچا دیتی ہے۔ اس کے قدم دنیوی منزل کی طرف چل رہے ہوتے ہیں، مگر اس کے اندر کا طوفان پکار رہا ہوتا ہے ـــــــ "خدایا ! مجھے وہاں پہنچا دے جہاں میں تجھ کو پا سکوں۔ کیوں کہ انسان کی حقیقی منزل وہی ہے"

حضرت موسیٰ کا یہ کلمہ ایک نازک ایمانی کیفیت کا کلمہ ہے، اس کو سفر اور جغرافیہ کے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

جو لوگ حقیقی معنوں میں اپنے رب کو پالیں، ان کے جینے کی سطح بالکل دوسری ہو جاتی ہے۔ وہ موجودہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی آخرت کی فضاؤں میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہ آج کی لذتوں اور تکلیفوں کو دیکھتے ہوئے کل کے جنت اور جہنم کو یاد کرنے مومن حقیقت میں وہی ہے جو دنیا میں آخرت کے عالم کو دیکھ لے۔ جو حالت غیب میں رہتے ہوئے حالت شہود میں پہنچ جائے۔ غیر مومن پر بھی وہ دن آئے گا جب کہ وہ عالم آخرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ مگر یہ اس وقت ہو گا جب کہ غیب و شہود کا فرق مٹ چکا ہو گا۔ جب قیامت کی چنگھاڑ سارے پردوں کو پھاڑ دے گی۔ مگر اس وقت کا دیکھنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیونکہ وہ بدلہ پانے کا وقت ہو گا نہ کہ ایمان و یقین کا ثبوت دینے کا۔

پیغمبر اسلام نے جب حق کو بے آمیز شکل میں پیش کیا تو آپ کے معاصرین کو محسوس ہوا کہ آپ ان کے بزرگوں کی تحقیر کر رہے ہیں۔ ان کے لئے یہ یقین کرنا مشکل ہو گیا کہ قبیلہ قریش کا ایک معمولی آدمی ایسی سچائی کا جاننے والا ہو سکتا ہے جو ان شخصیتوں کو حاصل نہیں ہوئی جن کو اپنے روایتی اعتقاد کے مطابق وہ اونچا مذہبی مقام دیے ہوئے تھے۔

عمرو بن مرہ الجہنی رضی اللہ عنہ نے مدنی دور میں اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد وہ اپنے قبیلہ جہینہ میں واپس آئے اور ان کو اسلام کی طرف دعوت دی۔ ابن عساکر کی روایت کے مطابق اس کے بعد قبیلہ کا ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا:

یا عمروبن مرق ! امر اللہ عیشلث ، انا مرنا برفض الهتنا وان تفرق جمعنا وان تخالف دین آبائنا الشيم العلیٰ ۔ الى مايدعونا اليه هذا القرشى من اهل تهامة ؟ لاحباولا كرامة ، ثم انشأ : ان ابن مرة قد اتى بمقالة لیست مقالة من يريد صلاحا انی لاحسب قوله و فعاله يوما وان طال الزمان ذ باجا ليسفه الاشياخ ممن قد مضى من رام ذلك لا اصاب فلاحا اے عمرو بن مرہ ! خدا تیری زندگی تلخ کر دے، کیا تو ہم کو ہمارے معبودوں کو چھوڑنے کا حکم دے رہا ہے ۔ اور یہ کہ ہم اپنی جمعیت کو منتشر کر دیں اور اپنے باپ دادا کے دین کی مخالفت کریں جو اعلیٰ اخلاق پر تھے۔ یہ تہامہ کا رہنے والا قریشی ہمیں کس چیز کی طرف بلاتا ہے ، اس میں نہ کوئی شرافت ہے نہ کراہت ـــــــ پھر اس نے یہ اشعار پڑھے:۔

عمرو بن مرہ ایک ایسی بات لے کر آیا ہے جو صلاح پسند لوگوں جیسی بات نہیں۔ میرا یقین ہے کہ اس کا قول و فعل ایک دن مہلک ثابت ہوگا خواہ اس میں کچھ دیر لگ جائے۔ وہ ہمارے گزرے ہوئے اسلاف کو احمق ثابت کرنا چاہتا ہے اور جس کا ایسا ارادہ ہو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ Scanned with CamScanner

Islamic World Enforces Shariat To Fight Crime & Uphold Morality شریعت کے نفاذ کا نیا رجحان الجزائر کے مشہور عالم اور مفکر مالک بن نبی (۱۹۰۵ء-۱۹۷۳ء) کی تمام تصنیفات فرانسیسی زبان میں ہیں کیوں کہ وہ اپنی مادری زبان (عربی) میں عمدہ اظہار خیال پر قادر نہ تھے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پچھلی صدیوں میں مسلم ممالک پر مغربی قوموں کے غلبہ نے کس طرح حالات کو بدل ڈالا تھا۔ سترھویں صدی میں پرتگالی عالم اسلام کے ساحلی علاقوں پر قابض ہوگئے۔ ہالینڈ نے جزائر شرق الہند پر غلبہ حاصل کر لیا۔ انیسویں صدی تک تقریبا تمام اسلامی دنیا مغربی قوموں کے قبضہ میں جاچکی تھی۔ ۲۰ ویں صدی کے آغاز میں عثمانی خلافت کے سقوط کے بعد یہ عمل اپنی آخری انتہا کو پہنچ گیا۔

عالم اسلام پر مغرب کا یہ غلبہ ایک ہمہ گیر غلبہ تھا جس نے زبان، تہذیب، طرزِمعیشت ہر چیز کو بدلنا شروع کر دیا۔ اس کی زد قانون پر بھی پڑی۔ میں ۷۱ء تک چور کا ہاتھ کاٹا جاتا تھا۔ مگر انگریزوں نے اولاً متوازی عدالتیں قائم کیں اور بالآخر انیسویں صدی کے وسط تک تمام سابق قوانین کو بدل دیا گیا۔ صرف نکاح د طلاق جیسے معاملات شخصی قانون کی حیثیت سے باقی رہ گئے ۔ اسی طرح مصر میں ابتداء " المحاكم المختلطة " قائم کی گئیں۔ ۱۸۸۲ء میں جب انگریز مصر کے اندر قابض ہوئے تو بہت جلد انھوں نے شخصی احوال کو چھوڑ کر تمام امور میں مغربی قانون کو رائج کر دیا۔ یہی صورت کم و بیش دوسرے مسلم ممالک میں پیش آئی۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد مغرب کا سیاسی اقتدار تاہم صورت حال میں کوئی خاص فرق واقع کیونکہ مغرب کا اقتصادی غلبہ شدید تر شکل میں مسلم ملکوں کے اوپر موجود تھا، جو اگر براہ راست نہیں تو بالواسطہ طور پر، اسلامی شریعت کے احیا میں مانع تھا۔ پچھلے دس برسوں میں صورت حال میں غیر معمولی تبدیلی آئی ہے۔ پٹرول کی قدرتی دولت نے اکثر مسلم ملکوں کو اس حد تک مالا مال کر دیا ہے کہ اب انھیں کسی کے چشم و ابرو کی طرف دیکھنے ضرورت نہیں ہے۔ مغربی دنیا اپنی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے مسلم ملکوں کی محتاج ہو گئی ہے۔ اس صورت حال نے مسلم اقوام میں خود اعتمادی کا نیا رجحان پیدا کر دیا وہ دبائو اور مرعوبیت کے دور سے نکل کرنے بھر بھروسہ کے ساتھ اپنے مذہب اور تہذیب کی طرف دیکھنے لگے ہیں۔ اس نئی صورت حال کے نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ ہے کہ اسلامی شریعت کے حامیوں میں نیا حوصلہ پیدا ہو گیا ہے۔ اکثر ملکوں میں اسلامی قانون کو دوبارہ زندہ کرنے کے چرچے ہو رہے ہیں۔ قانون کے نفاذ کی خبریں عالمی اخبارات کی سرخیوں میں جگہ پانے لگی ہیں۔ ایک امریکی میگزین (ٹائم) نے سعودتی عرب کی ایک تصویر چھاپی ہے جس میں چوری کے جرم میں ایک شخص کا ہاتھ کاٹا جا رہا ہے۔ قطع ید کے قرآنی حکم کو

نقل کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے :

THIS STERN INJUNCTION WAS ENUNCIA- TED BY THE PROPHET MOHAMMAD SOME 1,300 YEARS AGO TO HIS FOLLOWERS IN A PRIMITIVE DESERT SOCIETY. NOW AFTER CENTURIES OF BEING SUPERCE- DED BY WESTERN LAW THE EXACTING CODE OF THE KOPAN IS ONCE MORE GAI- NING STRENGTH AND SUPPORT IN A NUM- BER OF COUNTRIES. Time, July 25, 1977 یہ سخت حکم پیغمبر اسلام نے ۱۳ سو سال پہلے اپنے پیرووں کے سامنے ایک ابتدائی صحرائی سماج میں پیش کیا تھا۔ اب، صدیوں تک مغربی قانون سے دبے رہنے کے بعد، قرآن کا قانون دوبارہ مختلف اسلامی ملکوں میں زور پکڑ رہا ہے۔

اسی طرح رائٹر نے ایک خبر نشر کرتے ہوئے کہا ہے : A TREND IS GROWING IN THE ISLAMIC WORLD TOWARDS TIGHTENING MORALITY AND DISCOURAGING CRIME BY THE RE- INFORCEMENT OF THE SHARIAT FORMU- LATED 1,400 YEARS AGO. Times of India, August 15, 1977 اسلامی ملکوں میں یہ رجحان بڑھ رہا ہے کہ ۱۴ سو سالہ شریعت کے قانون کو نافذ کرکے جرائم کا خاتمہ کیا جائے اور اخلاقی فضا پیدا کی جائے۔

کہ اسلام کی بنیاد پر ایک نیا قانون مرتب کرے۔ مطابق، دوسرے جرائم کے ساتھ، ارتداد کی سزا قتل الاہرام نے خبر دی ہے کہ عنقریب مصر میں قطلع ید کی سزا نافذ ہو جائے گی۔ پاکستان کی فوجی حکومت نے بھی اپنے ملک میں متعدد شرعی قوانین نافذ کئے ہیں جس میں ہاتھ کاٹنا اور سر عام کوڑے مارنا کی سزا بھی شامل ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے کہا ہے کہ ہاتھ کاٹنے کے لئے سن کرنے والی دوائیں استعمال ہوں گی۔ ٹائم لکھتا ہے: THE THREAT WAS APPARENTLY SUFFI- CIENT TO CAUSE A SHARP DROP IN CRIME اس قسم کی سزاوں کا اندیشہ بظاہر جرائم میں زبردست کمی کرنے کے لئے بالکل کافی ہے۔

پاکستان کی طرح کویت اور عرب امارات متحدہ میں بھی قانون اسلامی کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ سور کے گوشت کی تجارت بالکل بند کر دی ہے۔ زور پکڑ رہا ہے کہ کویت یونیورسٹی میں مخلوط تعلیم کا سلسلہ ختم کر دیا جائے۔ سعودی عرب میں نماز کے وقت دکان دار اپنی دکانیں کھلی چھوڑ کر مسجد میں نماز ادا کرنے عرب ریاستوں یا پانچ عرب ریاستوں، سعودی عرب، کے لیے چلے جاتے ہیں، مگر کوئی شخص دکان کی کوئی چیز قطر، عمان، لیبیا، شمالی یمین کے قانون کی بنیاد قرآن مصر، جہاں مغربی تہذیب کا غلبہ ہے، وہاں بھی ایک پارلیمینٹری کمیشن اس مقصد کے لئے مقرر کیا گیا ہے اُٹھانے کی ہمت نہیں کرتا۔ کیونکہ اس کی قیمت بہت مہنگی ہے ۔ اپنے ہاتھ سے ہمیشہ کے لئے محرومی ۔ سعودی عرب میں جرائم کی شرح سب سے کم ہے ۔ کتے کی کتا جب کسی کو تنہا دیکھتا ہے تو بھونکتا ہے اور جب دیکھتا ہے خصلت کہ اس کے ہاتھ میں لاٹھی ہے تو دم دبا کر بھاگ جاتا ہے ۔

Printed page